کل سے سوشل میڈیا پر مختلف باتیں دیکھ رہا ہوں کہ مشتاق غنی نے عمران خان کی رہائی کی تحریک کا اعلان کیا اور اب خود بیمار ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے وضاحت ضروری ہے کہ میں ابھی بیمار نہیں ہوا بلکہ تقریباً ڈھائی سے تین ہفتے قبل گرنے کے باعث سینے پر پتھر لگا، جس سے پھیپھڑوں پر دباؤ پڑا اور اندرونی چوٹیں آئیں۔ اس دوران اٹھنے، بیٹھنے اور بات کرنے تک میں شدید تکلیف رہی، تاہم الحمدللہ اب ریکوری ہو رہی ہے۔
جہاں تک عمران خان کی رہائی کی تحریک کا تعلق ہے، میں آج بھی اپنی بات پر قائم اور اپنے قائد کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہوں۔ ان شاء اللہ 27 ستمبر کو حالت جیسی بھی ہو، میں اپنے قائد عمران خان کے لیے نکلوں گا اور ہمیشہ کی طرح ایبٹ آباد سے فرنٹ لائن پر موجود ہوں گا۔
جب بھی احتجاج، لانگ مارچ یا اسٹریٹ موومنٹ کی کال آئی، میں فرنٹ لائن پر موجود رہا ہوں۔ گزشتہ اگست کے مارچ سے لے کر 26 نومبر تک اسلام آباد میں موجود رہا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی اسٹریٹ موومنٹ ہو یا علیمہ آپا کی کال، ہر موقع پر فرنٹ لائن پر کھڑا رہا ہوں۔ ان شاء اللہ 27 ستمبر کو بھی اپنے قائد کے لیے فرنٹ لائن پر موجود رہوں گا۔
نون کے پیرول پر کچھ نام نہاد صحافی اور کچھ لوگ میری تقریر کو غلط رنگ دے رہے ہیں۔ ہم پُرامن تھے، ہیں اور رہیں گے۔ سومنات کا حوالہ میں نے بار بار آنے کے لیے استعمال کیا۔ ہم نے پہلے بھی لاشیں اٹھائیں، لیکن پُرامن رہے اور اب بھی رہیں گے۔ جو پُرامن نہیں ہوگا، وہ عمران خان کا سپاہی نہیں ہوگا۔
ہماری جدوجہد پُرامن اور آئین کے دائرے میں ہوگی۔ کارکنان احتجاج کے دوران ایسے لوگوں پر نظر رکھیں جو تحریک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔
عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ یہ ملک بھی میرا ہے، یہ فوج بھی میری ہے۔ اللہ پاک اس ملک کی حفاظت کرے، ہمیں امن دے اور عقل دے، اور قانون کی حکمرانی نصیب کرے۔
ایک بات یاد رکھیں واپسی کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں رکھنا ہے۔
لانگ مارچ عمران خان کی اسپتال منتقلی اور رہائی کے لئیے ہے،
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ لانگ مارچ شروع کریں اور وہ عمران خان کو اسپتال منتقل کر دیں، آپ کو کہا جائے لانگ مارچ ختم کریں اور آپ گھروں کو چلے جائیں، تو وہ عمران خان کو پھر اڈیالہ لے جائیں اور قیدِ تنہائی میں ڈال دیں،
وہ دھوکہ دیتے آرہے ہیں اب بھی دے سکتے ہیں ، جیسا اُس رات ہوا،
عمران خان کو پمز لے جا کر واپس اڈیالہ بھیج دیا گیا اور سپریم کورٹ کے آرڈر کو رَدی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔
تو کرنا کیا ہے،
کرنا یہ ہے کہ کوئی بھی گرفتار ہو جائے، کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئئے، سب نے لانگ مارچ کے لئیے نکلنا ہے،
کارکناں نے اپنے تمام اختلافات بھُلا کر ایک ساتھ مل کر ایک دوسرے کی طاقت بن کر پرامن لانگ مارچ کرنا ہے۔
جب تک عمران خان کو اسپتال منتقل نا کیا جائے جب تک عمران خان کو رہا نا کیا جائے، یا عمران خان خود نا کہ دیں کہ لانگ مارچ ختم کرو تب تک کسی کی نہیں سننی۔
واپسی کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں رکھنا ہے۔
عمران خان سے کم اب کسی کی نہیں سننی۔
سپیکر خیبر پختونخوا بابر سلیم سواتی کا قابل فخر کارنامہ اور شرمناک عمل
کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس سائوتھ افریقہ میں سپیکر بابر سلیم سواتی نے ’’اکوالٹی اینڈ ڈائورسٹی ایوارڈ‘‘ جیت لیا
یہ ایوارڈ خیبر پختونخوا اسمبلی میں ادارہ جاتی اصلاحات اورتنوع لانے کے اعتراف میں دیا گیا
خواتین،بچوں ، اقلیتوں اور واٹر اینڈ سینی ٹیشن کیلئے پارلیمانی کاکس قائم کیا گیا جو ایشیا میں اپنی نوعیت کی پہلی کاکس ہے
لیکن
یہ ایوارڈ وصول کرنے کیلئے بابر سلیم سواتی سائوتھ افریقہ نہ جا سکے
بابر سلیم سواتی کا پاسپورٹ بلاک ہے اور وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتے
"ہماری سپریم کورٹ سے آج استدعا تھی کہ آپ کے اٹھارہ اگست کے حکم پر عمل نہیں ہوا اس کی توہین ہو چکی ہے توہیں کرنے والوں کو عدالت طلب کرکے ان کے خلاف کاروائی کی جائے، ان کو نہ صرف سزا دے بلکے اپنا حکم منوائے اور یقینی بنایا جائے کہ عمران خان کی بہنوں اور وکلاء کی ملاقات یقینی بنایا جائے۔ ایک شخص کو سینکڑوں عدالتوں میں آپ نے معتوب کیا ہوا ہے لیکن اس کو وکلاء سے ملنے کی اجازت نہیں،عمران خان کے حقوق کو معطل کردیا گیا ہے آج اٹارنی جنرل کی عدالت نے تین ہفتے موخر کی استدعا مان لی ہے، اس پر ہمیں بہت افسوس ہوا ہے، پاکستان قوم جان لے ہم ایک جنگل میں جی رہے ہیں ہمیں اپنے آئین قانون،اپنی بقا کی جنگ سڑکوں پر لڑنی ہوگی"۔ @salmanAraja
بریکینگ نیوز 🚨
شاہد خٹک کا بڑا فیصلہ 👏🔥
"پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں سینیٹر زرقہ سہروردی کی شرکت پر شاہد خٹک سیخ پا ، بولے کہ آپ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کیوں آئی ہے؟ آپ نے 26ویں ترمیم میں ووٹ بیچا ہے آپ پی ٹی آئی کا حصہ نہیں ، اپ نے ضمیر کا سودا کیا ہے میں آپکے ساتھ ہر گز نہیں بیٹھوں گا،شاہد خٹک نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں یا تو سینیٹر زرقہ ہوگی یا میں،ہم یہاں کانفیڈنشل باتیں کرتے ہیں یہ لوگ یہاں نہیں ہونے چاہئے،جن لوگوں نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ہے انکا فیصلہ بانی چیئرمین کرینگے ،یہ ہمارے بیچ نہیں بیٹھ سکتے ہیں
تحریک انصاف نے کراچی میں ایک جلسہ کرنا تھا وہ بھی مزار قائد پر ۔ پھر کوئی " شٹ اپ کال " آئی۔ اسکے بعد جو ہوا وہ کافی عرصے تک کافی لوگوں کو پریشان کیے رکھے گا