جس کے ہاتھ میں مائیک آ جاتا ہے وہ یہاں کا سب سے بڑا بدمعاش ہے۔ دوسرے کے منہ میں ہی گھسیڑ دیتے ہیں ان کو بیسک ایتھکس بھی نہیں۔ ناسور ہیں ۔ ٹریفک چالان کرنا ہے ٹریفک پولیس نے۔ ان مائیک والوں نے علیحدہ ہی بہن پیش کی ہوتی۔
@AzharKhan اب شاید بجٹ کی حیثیت وہ نہیں رہی جو پہلے تھی کہ اب تو ٹیکس بڑھانے اور بڑھائی جانے کو منی بجٹ بھی نہیں کہتے۔ خاموشی سے چپکے سے ہر ہفتے بنیادی ضرورت کی قیمتیں بڑھاتے جس پر ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی
کیا ان سب واقعات میں ایک بات (جو سب جانتے ہیں) مشترک نہیں؟ جو اس بار (امید ہی ظاہر کی سکتی ہے) نہیں ہے اور نہیں ہو گی، کہ چاچو وہ سب ویسے ہی مان جاتے جو کروانے کے لئے دوسروں کو زبردستی کرنا پڑتی
یاد پڑتا ہے ابصار عالم صاحب/عائشہ ہارون صاحبہ نے میر ظفراللہ جمالی صاحب کا 2004 میں انٹرویو دی نیشن کے لیے کیا تھا۔ انہوں نے بھی فرمایا تھا وہ کہیں نہیں جارہے۔
چند دن کے بعد وہ اکیلے پنڈی ریلوے اسٹیشن پر بلوچستان اپنے آبائی گھر جانے کے لیے ٹرین کا انتظار کررہے تھے۔ کابینہ کا کوئی وزیر الوداع کرنے بھی نہیں آیا تھا۔ سب وزیر ایف 8 سیکٹر میں نئے نگران وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین کے گھر کے باہر قطار میں لگ کر اندر داخل ہونے کا انتظار کررہے تھے۔
ہاں اس وقت دی نیشن کے رپورٹر عمر چیمہ وہاں رپورٹ کرنے کے لیے اسٹیشن پر موجود تھے کہ پتہ کر سکیں کون کون آیا اپنے سابق وزیراعظم کو رخصت کرنے۔
اس سے پہلے 1988 میں محمد خان جونیجو بیرون ملک دورے سے لوٹے تو پریس کانفرنس کرنے سے چند لحمے پہلے انہیں بتایا گیا، سر اب آپ گھر جائیں گے وزیراعظم ہاوس نہیں۔
بینظیر بھٹو کو بھی یہی بتایا گیا تھا وہ کہیں نہیں جارہیں۔ عارف نظامی کی اس صبح خبر تھی کہ آج ان کی حکومت توڑ دی جائے گی اور شام تک ٹوٹ گئی تھی۔
صدر فاروق لغاری نے بھی یہی یقین آفتاب شیرپائو کو دلایا تھا کہ محترمہ کو جا کر کہیں غیرآئینی قدم نہیں لوں گا۔
نواز شریف صاحب تو ایک چھوڑیں، دو چھوڑیں، الٹا تین دفعہ اس خوش فہمی میں رہے۔۔
کہتے ہیں بھٹو صاحب نے بھی کرسی پر ہاتھ مار کر کچھ اس طرح ملتے جلتے الفاظ کہے تھے کہ یہ بہت مضبوط ہے۔
قبلہ محسن نقوی کی اس یقین دہانی کو اس ماضی کے تناظر میں پڑھا جائے یا اس دفعہ تاریخ تھک ہار کر دوبارہ دہرائے جانے کو تیار نہیں ہے اور وہ تاریخ کا بے رحم پہیہ موڑ دیں گے؟ 😊