خیبر پختونخواہ کی پولیس کو غیر سیاسی رکھنا ہمارا فخر تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں ہماری پولیس نے دیں۔ پختونخواہ کے عوام آج بھی اپنی پولیس کی سر کٹی لاشیں، خودکش دھماکوں کے بعد بجلی کے کھمبوں سے ان کے یونیفارم کے ٹکڑے اور اپنی سڑکوں سے ان کے گوشت کے لوتھڑے جمع کرنے کے مناظر بھولے نہیں۔ قابض مافیہ نے جب خیبر پختونخواہ کو دوبارہ آگ میں جھونکنے کا فیصلہ کیا تو ہماری قوم نے اپنی ملک سعد اور صفوت غیور کی وارث پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کے اس ناپاک منصوبے کو خاک میں ملایا تھا۔ آج عاصم منیر اور اس کی کٹ پتلیوں نے دہشت گردی کا بہانہ استعمال کرکے اپنے ناجائز استعمار کو تقویت دینے کے لیے پولیس کو اپنی عوام کے مقابل کھڑا کر تو دیا ہے۔ مگر اس کا خمیازہ اسی پولیس کو بھگتنا پڑیگا جو ذاتی فوائد، ترقیوں اور تنخواہ کے لیے ان غیر آئینی قوتوں کی آلہ کار بن رہی ہیں۔ کل کو جب ان کے لائے ہوئے دہشت گرد آپ کو اپنی کاروائیوں کا نشانہ بنائیں گے اور عاصم منیر کی فوج ہمیشہ کیطرح آپ کو canon fodder بنائے گی، ایسے میں جب آپ کی پشت پر یہ قوم نہیں ہوگی تو آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کی تنخواہیں اور ترقیوں کی کوئ وقعت نہیں۔ باڑہ میں نہتے مظاہرین کس بات پر احتجاج کررہے ہیں جو وہ واجب القتل ہوگئے؟ ان کا منتخب نمائندہ، تمام عمر سے محروم علاقے کا پہلا وزیر اعلی گذشتہ تین دن سے غاصبوں کے ہاتھوں لاپتہ ہے۔ اُس کا جرم اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکار۔۔
آپ میں رتی برابر غیرت ہوتی تو سوال پوچھتے، کسی کی ہمت کیسے ہوئ آپ کی عملدآری میں آ کے آپ کے چار کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو کو اغوا کرنے کی؟ آپ کی آنکھوں کے سامنے اور آپ سمیت جن کو ایک نئی آگ میں جھونکنے کی سبیل کردی گئی ہے وہ اپنی زندگی کا سوال بھی نا کریں؟ خاموشی سے بے گھری، بے بسی کی موت قبول کرلیں؟
افسوس صد افسوس۔ عاصم منیر اور اس کے حواری تو اپنی طاقت کے لیے ملک کو بیچ چکے۔ آپ کا ہمارا تو جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے آپ کی اس بے ضمیری کا انجام ہم نے اکیلے نہیں بھگتنا۔ مریں گے آپ بھی ہمارے ساتھ۔ جنازے آپ کے گھروں سے بھی اٹھیں گے۔ یتیم آپ کی اولادیں بھی ہونگی۔ تب اپنے افسران کا گریبان مت پکڑنا۔ خود سے سوال کرنا کہ جن پر آج بندوقیں تھامے کھڑے ہو وہ کس کے حق کا سوال کررہے تھے۔
Multiple PTI workers have been injured—several in critical condition—after Khyber Bara police fired directly at peaceful protesters.
Asim Munir’s military-backed regime and its handlers are using live ammunition against peaceful demonstrations to protect their power. For four years since the regime change, anyone taking to the streets in peaceful protest has been met with direct gunfire.
Never in Pakistan’s history have live bullets been fired directly at peaceful demonstrators within their own country. The violent crackdown is a war for personal power that comes at the direct expense of the nation.
#FascismUnderAsimLaw
@amnesty@BBCWorld@UN@SkyNews@AJEnglish@UNHumanRights
امریکہ نے دنیا بھر سے ریئر ارتھ منرلز نکالنے کی کوششیں اور معاہدے کئے۔ کہیں قانون نے روک دیا کہیں عوام سامنے آگئی اور کہیں سیاستدان، NGOs اور حکومتیں ڈٹ گئیں۔ وجہ یہ منرلز نکالتے وقت پھیلنے والی خوفناک تابکاری ہے جسے روکنے کا کوئی طریقہ ابتک دریافت نہیں ہوا۔
ایسے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے منرلز کا بکسہ پیش کیا اور منرلز نکالنے کے لیے دربدر امریکی کمپنیوں کو ٹرمپ لے زریعے اپنا وطن پیش کردیا۔ اور امریکی آنکھ کا تارہ بننے کی پوزیشن میں آگئے۔
اب قبائلی علاقوں سے معدنیات نکالنے کے لیے فیلڈ مارشل کو ایکسٹینشن اور استثنیٰ مل چکا۔ عملدرآمد کے راستے کی آخری رکاوٹ صوبائی حکومت کو بھی گرا دیا گیا۔ کام شروع ہوا تو تابکاری پھیلے گی اور قبائلی بدترین مسائل اور دردناک خاموش موت کا شکار ہوں گے۔
امریکی کمپنیاں صرف منافع چاہتی ہیں اس لیے وہ کبھی بھی عالمی سٹینڈرڈز کا خیال نہیں رکھیں گی اور نہ ہی ان پر یہاں ایسا کوئی دباؤ ہوگا۔ ویسے بھی مہنگے پروٹوکولز بھی کچھ حد تک ہی تابکاری سے بچا سکتے ہیں اسکی تباہی کو روک نہیں سکتے۔ اگر روکنے کا کوئی طریقہ ہوتا تو امریکہ اپنے ملک، یورپ اور دیگر ممالک سے یہی منرلز نکال رہا ہوتا۔
افسوس فیلڈ مارشل کے زاتی مفاد پر مبنی ایک فیصلے نے لاکھوں قبائلیوں اور انکی نسلوں کو خطرے میں ڈال دیا۔
اب پاکستانیوں خصوصاً قبائلیوں کے پاس کیا آپشنز ہیں۔ اس غیر انسانی اور قاتل مائیننگ کے خلاف لڑنا ہوگا یا ہمیشہ کے لیے اپنے علاقوں کو چھوڑ کر کہیں بہت دور نئے گھر بنانے ہوں گے۔ یا پھر تابکاری کے ہاتھوں سسک سسک کر اپنی اور اپنے پیاروں کی جانیں دینی ہوں گی۔
میں ایک فوجی کا بیٹا ہوں، احسن ابدال کیڈٹ کالج سے پڑھا ہوں، مجھے اپنے ملک کی فوج کیوجہ سے اب شرم آتی ہے میرا ملک اس نہج پر اس فوج کیوجہ سے پہنچا ہے
ہمارے جرنیل دنیا کے امیر ترین جرنیل ہیں آپ اپنی تنخواہ سے اتنے امیر کیسے ہو سکتے ہیں
جس طرح اس وقت کے ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ نے شیخ مجیب کا مینڈیٹ چوری کیا تھا بلکل ویسے ہی عاصم منیر نے عمران خان کا مینڈیٹ چوری کیا ہے ۔۔!!
#گورنر_راج_نامنظور
قاسم خان 🚨
وہ کھلم کھلا وہاں عمران خان کی جان لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ انہیں بس زیادہ سے زیادہ وقت اندر قید رکھنا چاہتے ہیں تاکہ کسی طرح ان کو خاموش کرایا جا سکے۔
ان کے منہ کو خون لگ چکا ہے اپنے شہریوں پر گولیاں چلانے کی لت پڑ چکی ہے۔ ایک طرف تھوڑ پھوڑ اغوا کا سلسلہ جاری ہے دوسری طرف نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں اسی مقصد کے لیے ایمرجنسی لگائی نا کہ انہیں بادشاہ سلامت کی غلامی قبول نہیں تو کچل ڈالو، کرش کر دو۔ دہشت گردوں کو بسانے والے پر امن شہریوں پر ہی گولیاں برسا سکتے ہیں۔ اسی خیبر میں جب صوبائی اسمبلی کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ منعقد ہوا اور امن کے لیے پورا صوبہ سیاسی مذہبی برداری کی تقسیم سے بالاتر ہوکر متحد ہوا تو اگلے دن تم نے ہیلی کاپٹرز بھر کر اینکرز روانہ کیے، خیبر کو دہشت گردی کا مرکز اور پاکستان کے مسائل کا جڑ بنا کر پیش کیا، بیانیہ بنا کر عوام کو نکالنے کا حکم جاری کیا۔ صرف اس لیے کہ اس حلقے سے منتخب پہلا قبائلی وزیراعلی بدنام ہو۔ پورے خیبر نے چیخ چیخ کر کہا کہ برف باری میں کون سا آپریشن، کیوں بے گھر کر رہے ہو، کہاں جائیں گے ہم؟ پھر جب وہ اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوکر کہنے لگا کہ اب جب تم نے بندوق کی زور پر میری قوم کو نکالا ہے تو میں انہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ جواباً تم نے پریس کانفرنس کرکے سینہ ٹوک کے کہا، یہ کہتے رہیں کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے، آپریشن تو ہو رہے ہیں۔
پھر کیا ہوا؟ وہی۔ سردیوں میں آپریشن ہونا نہیں تھا، نہیں ہوا۔ عوام بے گھر ہوگئے پھر جب صوبائ حکومت نے زبردستی بے گھر افراد کو ریلیف دیا تو اسی کی لسٹ جاری کرکے کہا کہ صوبائ حکومت نے آپریشن کی حمایت کرلی۔ ان کو بے گھر، برف باری میں بغیر ٹینٹ، بغیر کھانے کے چھوڑ دیتے؟ تم سے ظالم ہیں کیا؟
آج دیکھ لو وہی خیبر عمران خان کے لیے کھڑا ہے تمہارے خلاف اور تم وطن فروش، ضمیر فروش۔ دہشت گردوں کے بجائے اس قوم پر گولیاں برسا رہے ہو۔ کتنے مکار ہو، عیار ہو، غدار ہو تم!
مبارک ہو پاکستانیوں! پاکستان میں $7 trillion تک کے معدنیات ہیں! کہاں ہیں: خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں! تو لو مبارک ہو خیبر کی ایمرجنسی! اب سمجھ ہی دھشت گردی کی یا ابھی بھی نہیں آئی؟
پہلے طالبان کو واپس لائے۔ پھر دہشت گردی کروائی۔ پھر اس کے بہانے حکومت پر قبضہ۔ اب جنرلز اصل کام کی طرف آئیں گے۔ لائے ہوئے دشت گرد اب دہشت گردی کم کر دیں۔ جنرلز معدنیات نکال کر بیچیں گے۔ اور کہیں گے دیکھو صوبے میں امن ہو گیا۔
اس انٹرویو میں امریکی عہدیدار پاکستان سے منرلز نکالنے کی بات کر رہی ہے۔ انکی پوری سٹڈی اور تیاری ہے۔
اب یہ کونسے منرلز نکالنا چاہتے ہیں یہ سمجھنے کے لیے آپ اس انٹرویو کا 40 سیکنڈ بعد والا حصہ سنیے۔
یہاں یہ خاتون ایک نیا ایکو سسٹم ڈویلپ اور تربیت یافتہ ورکرز اور ٹریننگ کی بات کر رہی ہیں۔ یہ چیزیں صاف بتاتی ہیں کہ اب امریکی کمپنیاں پاکستان سے ریئر ارتھ منرلز نکالنا چاہتی ہیں جن کو نکالنے سے بدترین تابکاری پیدا ہوتی ہے اور پورا ایکو سسٹم حتیٰ کہ پورا ماحول اور نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ امریکہ نے دنیا کے کئی ملکوں سے یہ منرلز نکالنے کو کوشش کی مگر وہاں کی عوام اور عالمی تنظیمیں راستے میں آگئیں۔ اب انکی نظر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود منرلز پر ہے۔ ایک بات یاد رہے کہ امریکہ کو سپر پاور برقرار رہنے کے لیے یہ منرلز ہر حال میں چاہئیں اور یہی منرلز امریکہ میں وافر مقدار میں موجود ہونے کے باوجود وہاں سے تابکاری خطرات کی وجہ سے نہیں نکالے جا رہے۔ امریکی عوام اسکی شدید مخالف ہے۔ مگر پاکستان میں اب یہ بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے باقی تفصیلات وی لاگ میں۔۔۔
Now, as Pakistanis have taken to the streets to protest my father’s release, Asim Munir’s regime imposes emergency rule in Khyber Pakhtunkhwa (my father’s political stronghold).
Having failed to secure Balochistan or Azad Kashmir, Munir once again invokes terrorism to justify another military operation in Pashtun lands. Yet again sacrificing lives in an attempt to cling on to power.
Khyber Pakhtunkhwa’s democratic mandate must be restored. My father, our detained family members, PTI representatives and all political prisoners must be released immediately. The people’s right to peaceful protest must be respected.
Pakistan belongs to its people, not its military.
عمران خان گرفتار
بشری بی بی گرفتار
علیمہ خان گرفتار
نورین نیازی گرفتار
ڈاکٹر عظمی خان گرفتار
حسان نیازی گرفتار
قاسم زمان گرفتار
شرجیل نیازی گرفتار
شاہ محمود قریشی گرفتار
ڈاکٹر یاسمین راشد گرفتار
عالیہ حمزہ گرفتار
حماد اظہر گرفتار
میاں محمود الرشید گرفتار
اعجاز چوہدری گرفتار
عمر سرفراز چیمہ گرفتار
وزیر اعلی سہیل آفریدی گرفتار
شاہد خٹک گرفتار
جنید اکبر گرفتار
خالد خورشید گرفتار
عبداللطیف چترالی گرفتار
صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی اغوا
صوبائی وزیر فضل شکور اغوا
صاحبزادہ حامد رضا گرفتار
فردوس رائے گرفتار
صنم جاوید گرفتار
فلک جاوید گرفتار
عبدالسلام آفریدی گرفتار
محمد ریاضُ گرفتار
سلطان روم گرفتار
یامین خان گرفتار
محمد اعظم خان گرفتار
فتح الملک ناصر گرفتار
داوڑ کنڈی گرفتار
بابر سلیم سواتی گرفتار
1500 کارکنان ایک دن
اور 1000 کارکنان ایک دن میں گرفتار
14* کارکنان 26 نومبر کو شہید
25 کارکنان 9 مئی کو شہید
8 کارکنان جیل میں علاج نا ہونے کے سبب شہید
1200 کارکن زندگی موت کی کشمکش میں ہیں تاحال مختلف انجریوں کا شکار ہیں
قاسم سوری جلا وطن
ڈاکٹر شہباز جلاوطن
ہمارے جیسے کئی لوگ جلاوطن
کئی کے رشتے ٹوٹ گئے
کئی تاحال لاپتہ
سلمان اور جہانگیر دوبئی میں گرفتار
سینکڑوں پاسپورٹ بلاک
سینکڑوں شناختی کارڈ بلاک
سینکڑوں کاروبار تباہ
بس کر دو یار ہزاروں گھر اجڑ گئے ہیں لوگوں کی زندگیاں آسان کرو ایک جماعت سے ایسا سلوک کیوں کر رہے ہو پاکستان پر رحم کرو
بانی چئیرمین عمران خان کے ٹیلی گراف میں چھپنے والے آرٹیکل کا اے آئی ورژن
“میں یہ بات واضح طور پر کہہ چکا ہوں کہ اگر مجھے یا میری اہلیہ کو کچھ ہوا تو جنرل عاصم منیر اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ لیکن مجھے کوئی خوف نہیں کیونکہ میرا ایمان مضبوط ہے۔ میں غلامی پر موت کو ترجیح دوں گا“
آج واقعی بھٹو زندہ ہو گیا، مگر یہ بھٹو 1973 کے آئین والا بھٹو نہیں ہے یہ 1970 والا بھٹو ہے جس کے اوپر الزام ہے کہ اس نے بنگلہ دیش کی عوام کا مینڈیٹ مسترد کیا مینڈیٹ کو چوری کرکے وہاں پہ فوجی آپریشن کی حمایت کی اور اسکے بعد پھر ملک ٹوٹ گیا۔ مطیع اللہ جان
بائیس گریڈ کے ذہنی مریض نے پاکستان کا امن، معیشت، حق آزادی رائے، عدلیہ، جمہوریت، آئین اور اخلاقیات کو صرف اپنی طاقت اور اقتدار کے لیے تباہ کر دیا ہے۔۔۔!!
#ذہنی_مریض_نامنظور
آج کچھ دیر قبل قوم سے کیا گیا میرا مکمل خطاب!
پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ سے ایک پرامن اور جمہوری جماعت ہے۔ میں نے کئی ایک واقعات کا حوالہ دیا ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے تصادم کی راہ روکنے کیلئےمسلسل صبر و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے بار بار پرامن راستے کا انتخاب کیا اگرچہ مجھے اور میری جماعت کو اس کی سیاسی قیمت ہی کیوں نہ اٹھانا پڑی۔
میرا حکّام سے مطالبہ ہے کہ سرکاری عمارتوں پر کئے جانے والے کسی بھی حملے کی شفاف تحقیق کریں؛ میرا اعتقاد ہے کہ یہ سب تحریک انصاف کو پھانسنے کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔
اس کے ساتھ ہی میں پولیس سے کہتا ہوں کہ زبردستی گھسنے اور افراتفری پھیلانے کی بجائے باقاعدہ سرچ وارنٹس کے ساتھ میری رہائشگاہ پر آئیں اور ان مبیّنہ دہشتگردوں کو (بقول ان کے) جو یہاں چھپے ہوئے ہیں گرفتار کرلیں۔