@abidhussayn@BBCUrdu Sir, I have a potentially important human-rights story from Pattan, Muzaffarabad, involving a disabled shopkeeper whose livelihood has been shut down for months. I have documents and evidence and would like to share the details privately. May I DM you?
جیفری ایپسٹین اور دیسی سیکولرز کی بزدلانہ خاموشی:
دیسی س��کولرز کا جیفری ایپسٹین کے معاملے پر مکمل طور پر خاموش ہو جانا بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن ہو سکتا ہے، مگر مجھے اس میں کچھ بھی غیر متوقع نظر نہیں آتا۔ یہ خاموشی کوئی اچانک پیدا ہونے والا رویہ نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری تضاد کا منطقی نتیجہ ہے۔
یہ وہی طبقہ ہے جو برسوں سے مغرب کو عقل، اخلاق اور تہذیب کا حتمی معیار بنا کر ہمارے سامنے پیش کرتا رہا ہے، اور اسی معیار کی بنیاد پر پاکستانی معاشرے اور اسلام کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ مگر جب اسی مغرب کے اندر سے ایسے کردار بے نقاب ہوتے ہیں جو انسانیت کے بدترین جرائم سے جڑے ہوں، تو اچانک زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔
اس سے پہلے بھی یہی منظر دیکھا جا چکا ہے۔ جب ان کے سامنے ہیلمٹ کینٹلار جیسے کردار کا ذکر آیا—جس نے مقامی حکومتوں کی مدد سے ایک ایسا منصوبہ چلایا جہاں معصوم بچوں کو پیڈوفائلز کی نگرانی میں دہائیوں تک رکھا گیا—تو نہ صرف پاکستان بلکہ جرمنی میں بیٹھے دیسی سیکولرز تک خاموش ہو گئے۔ یہ خاموشی لاعلمی کی نہیں تھی، بلکہ بے بسی کی تھی۔
اسی طرح پاکستان میں ٹرانسجینڈر ازم کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر بھی یہی طبقہ نہ صرف خاموش ہے بلکہ انسانی حقوق کے نعروں کے تحت اس پورے نظام کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں بچوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے، وہ بعض پہلوؤں سے ایپسٹین کے جزیروں سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ وہاں بچوں کو جنسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جو بذات خود انسانیت سوز جرم ہے، مگر یہاں بچوں کو باقاعدہ سیکس ورک کے لی�� تیار کیا جاتا ہے، بیچا جاتا ہے، اور ایک سپلائی چین کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس پر کوئی احتجاج نہیں، کوئی تجزیہ نہیں، کوئی اخلاقی سوال نہیں۔
تو پھر ایسے ماحول میں صرف جیفری ایپسٹین پر بات کیوں کی جائے؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ طبقہ ہمیشہ کسی نہ کسی مغربی مشہور ہستی کو اپنا فکری امام بنا کر اسلام اور پاکستانی معاشرے کے خلاف زہر افشانی کرتا رہا ہے۔ کسی کی پروفائل تصویر پر رچرڈ ڈاکنز ہے، کسی پر کرسٹوفر ہیچنز، کسی پر کوئی اور “بابا”۔ اب سب ایک خوف زدہ خاموشی میں بیٹھے ہیں کہ کہیں اگلا انکشاف ان ہی کے بابے کے بارے میں نہ ہو جائے۔
یہ خاموشی محض مجرمانہ نہیں، یہ بزدلانہ ہے۔ یہ اس خوف کی علامت ہے کہ جن بتوں کو اسلام کے مقابلے میں کھڑا کیا گیا تھا، وہ سب خطرے کا شکار ہو گئے ہیں۔
اور یہی خوف ان کی اصل فکری دیوالیہ پن کو بے نقاب کر دیتا ہے!
عالمی دنیا کے نزدیک افغانستان سب سے کمزور ملک ہے جہاں امارت اسلامیہ کے 150 ہیلی کاپٹر اپنی عوام کو ریسکیو کرنے کے لیے دن رات آپریشن کر رہے ہیں
ہمارے ہیلی کاپٹرز نواز شریف کے لیے ناشتہ لے کر جانے کے لیئے,عمران خان کی بہن کو ریسکیو کرنے کے لیے,آئی ایس پی آر کے گانوں کی شوٹنگ کیلے
@MaryamNSharif اگر یہ آئین نواز شریف کا ذاتی ہے اور مشرف صرف نواز شریف کا ذاتی مجرم تھا تو ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ بھی نواز شریف کی اپنی ذات کے لئے تھا اور ہے افسوس کے سیاستدان وزیراعظم کے منصب کو عوام کامنصب سمجھنے کے بجائے ذاتی کوںٔی چیز سمجھتے ہیں۔
ایک بچے کی خواہش پوری کرنے پہ خان کی تعریفوں کے پل باندھنے والے ان تین بچوں کے بارے میں بھی ذرا سا سوچ لیں جن کے والدین کے قاتل کو خان صاحب نے قطر سے واپسی پہ پکڑنا تھا
لیکن ہوا کیا۔؟
آج آپکو وہ باتیں بتاتا ہوں جسکا آپ میں سے شاید کسی کو بھی پتا نہیں ہو گا
جن بدبختوں نے کل مسجد نبوی ﷺ کے تقدس کو پامال کیا، ان کی سب سے بڑی سزا سعودیہ سے ریڈ سٹیمپ کے ساتھ مستقل بے دخلی ہے تاکہ یہ بدنصیب اور ناپاک لوگ دوبارہ اس پاک جگہ پر اپنے ناپاک قدم نہ رکھ سکیں #توہین_مسجد_نبوی_نامنظور
کسی سیانے نے ایک مرتبہ کہا تھا:
تم نے جنگ سے بچنے کیلئے ذلت ورسوائی کا راسطہ اختیار کیا، مگر اب تمہارے نصیب میں جنگ بھی ہے اور ذلت و رسوائی بھی...،،
#سپریم_کورٹ
میں آج بھی اپنی بات پر قائم ہوں کہ عمران خان کا سیاست میں آنا اور یہاں تک پہنچنا ہی اصل بیرونی سازش ہے ۔۔ ڈاکٹر اسرار احمد اور حکیم سعید جیسے معتبر لوگوں نے اس فتنے کی بروقت نشاندھی کی تھی لیکن عالم کی بات اثر کرنے کے لئے بھی قوم کو کچھ بنیادی شعوری تربیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔
اسلامی تاریخ کا تلخ ترین الوداع!
”اے معاذ! ہو سکتا ہے کہ اگلے سال (جب تم یمن سے لوٹو) تو مجھے مل نہ سکو ، اور شاید تم میری مسجد اور میری قبر کے پاس سے گزرو ...“
(مسند أحمد : ٢٢٠٥٤ ،)
فیس بک ڈاؤن ہونے سے تحریکِ انصاف کے تمام ترقیاتی منصوبے رُک گئے۔ اور واٹس ایپ ڈاؤن ہونے سے عدالتی نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔ زرائع
#FacebookWhatsappDown
دنیا ہمیں برداشت کرنا سیکھے۔
ہم نے کسی کے گھر پر حملہ نہیں کیا۔
تمام ممالک سے سفارتی تعلقات چاہتے ہیں، لیکن اپنے ریاستی و مذہبی معاملات میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔
ہم کسی کے جبر یا کسی ہتھیار کے سامنے ہار ماننے والے نہیں ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد، ترجمان طالبان