’’جب زندگی سب کچھ چھیننے پہ آ جائے تو کیا کرنا چاہیے؟‘‘ شاید پہلی دفعہ اس نے کوئی سوال پوچھا تھا۔
’’دعا....‘‘ وہ ہلکا سا بولے۔
’’دعا کیا کرتی ہے؟‘‘ سلاخوں سے سر ٹکا کر وہ ان کو دیکھتے کہیں اور گم تھی۔
’’آنے والی مصیبت کو روکتی ہے۔ اور جو مصیبت اتر چکی ‘ اس کو ہلکا کرتی ہے۔
وہ لحظے بھر کو رکے۔ حنہ نے ان کی آواز سننے کو مزید کان سلاخوں کے قریب کیا۔’’مگر قبولیتِ دعا کا اصل راز دعا مانگنے والے کا طریقہ ہو تا ہے۔ وہ کیسے مانگتا ہے‘ اور کتنی شدت سے مانگتا ہے۔‘‘
’’اور اس کے بعد دعائیں قبول ہو جاتی ہیں؟‘‘