مرتضیٰؑ کی یہ صدا آتی تھی شاباش حسینؑ
ماں ؑ تکلم بھی کہے جاتی تھی شاباش حسینؑ
جدﷺ کا پیغام ہوا لاتی تھی شاباش حسینؑ
ذاتِ واجب بھی یہ فرماتی تھی شاباش حسینؑ
داد دیتے تیرے اجداد بھی ایسا لڑتا
میں بدن رکھتا تو بالکل تیرے جیسا لڑتا
نہر بھی کہتی تھی یہ بات یہی صح��ا بھی
خوف کے مارے ہوئے کہتے رہے اعدا بھی
زندہ تو زندہ صدا دیتا تھا یہ مردا بھی
تیغ بھیحیدرؑ قرار کی ہے بیٹا بھی
اِس سے بچنے کی تمنا ہے تو لللہ پڑھ لو
جتنے زندہ ہو علی ولی اللہ پڑھ لو
دیکھ کر شہہؑ کا غضب بولے فرشتے پیہم
ہونے والی ہے خدائی ابھی درہم برہم
بولے جبرائیلؑ نہ گھبراو فرشتو اِس دم
خالقِ عرض و سماہے یہی خالق کی قسم
کیا ہوا آج خدائی جو مٹا دینگے حسینؑ
پھر سے دنیا نئی کُن کہہ کے بنا دیں گے حسینؑ