#قومی_زبان
گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا
اللہ تعالی کا فرمان ہے :
فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم تحیۃ من عند اللہ مبارکۃ طیبۃ ۔
ترجمہ : اور جب گھروں میں جایا کروتو اپنے (گھروالوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے ۔
یعنی ایک دوسرے کوسلام کرو۔ حضرت جابربن عبداللہ کا کہناہے کہ جب تم اپنے گھرمیں داخل ہوتوان کوسلام کرو یہ اللہ کی طرف سے بہترین تحفہ ہے ۔ ابن جریج نے کہاکہ میں نے عطاء سے پوچھا: جب کوئی گھرسے نکلے اورپھرداخل ہوتو کیا ان پر سلام کرنا واجب ہے ؟ انہوں نے جوابا کہاکہ نہیں ۔ اور نہ ہی کسی کےلئے اس کے وجوب کو ترجیح دیتاہوں لیکن یہ میرے نزدیک پسندیدہ ہے ۔ اور قتادہ نے کہا: جب تم اپنے گھر میں داخل ہواوراہل موجود ہوں تو ان کو سلام کرواور گھرمیں کوئی نہ ہوتوتم کہو : السلام علینا وعلی عباداللہ الصالحین۔ کیونکہ وہ اس بات کا حکم دئے گئے تھے ۔ اور انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ فرشتے اس کا جواب دیتے ہیں ۔
اورحضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہاکہ نبی ﷺ نے ہمیں پانچ صفتوں کی وصیت کی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے انس مکمل طورپر وضو کروتمہاری عمر میں زیادتی ہوگی ، اورمیری امت کے جس فردسے ملاقات ہوسلام کروتمہاری نیکی بڑھ جائے گی اورجب تم گھر میں داخل ہوتوتم گھروالوں کو سلام کروتمہارے گھر میں برکت بڑھ جائے گی ۔اورچاشت کی نماز پڑھوکیونکہ یہ تم سے پہلوں کی صلاۃ الاوابین ہے ۔ اے انس چھوٹوں پر رحم کرواور بڑوں کی توقیر کروتم قیامت کے دن میرے ساتھیوں میں سے ہوجاؤگے ۔
(اس کو حافظ بزار نے انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کیاہے )
یہ ہے پاکستان کی سب سے خوبصورت موٹروے، عبدالحکیم موٹروے،یہ موٹروے آخری ہے جو میاں نوازشریف نے بنائی،انکے جانے کے بعد سکھر حیدر آباد موٹروے اور مانسہرہ سے گلگت تک بننے والی موٹرویز کے کام 8 سال سے سٹک ہیں۔اب دوبارہ ان دو موٹروے پر نوازشریف کے کہنے پر ہی کام شروع ہورہا ہے۔
جب حکومت نے بجلی کی قیمتوں کو ظالمانہ حد تک مہنگا کردیا تو بات صرف سولر تک محدود نہیں رہی
بلکہ مارکیٹ میں مسلسل ایسی پراڈکٹ آ رہی ہیں جو بہت کم بجلی استعمال کرتی ہیں 12 واٹ کا بلب، 30 واٹ کا پنکھا 300 واٹ کی استری اور 12 وولٹ کی بیٹری پر چلنے والا ائر کولر
اب ہمارے بجلی کے وزیر کس طرح مجبور کریں گے لوگوں کو کے وہ زیادہ بجلی استعمال کرکے زیادہ بل ادا کریں
تاریخی چھترول
نون لیگ ہمت کرے بلدیاتی الیکشن کروائے، جیسے کے سندھ میں بہترین بلدیاتی نظام ھے۔
بلاول زرداری
جی جناب سپیکر بلدیاتی انتخابات لازمی کروائیں تاکہ آپ لوگ بھی کالا سوٹ پہنیں اور بالوں میں جل لگائیں۔ فاروق ستار
یہ مجھ پر ذاتی اٹیک کیا گیا ہے آپ نوٹس لیں جناب سپیکر،
بلاول زرداری
مجھے تو سمجھ نہیں آئی اس اٹیک کی، فاروق صاحب پہلے تعریف کریں ہمیں بھی سمجھائیں کیا طنز تھا اور پھر معافی مانگیں،
سپیکر ایاز صادق
جناب سپیکر فاروق صاحب کو چھوڑیں میں بتاتا ہوں۔۔ سندھ میں بہترین بلدیاتی نظام قائم ہے اور اس کے ثمرات ہیں کہ کراچی میں پانی تک نہیں آتا اس لیے لوگ کالے کپڑے پہنتے تاکہ گندے نا ہوں، اور بالوں کو اس لئے جل لگاتے تاکہ پانی کی کمی کیوجہ سے روزانہ نہانا نا پڑے،
سمجھا میں نے دیا ہے، معافی اب فاروق صاحب مانگ لیں،
مصطفیٰ کمال 😂
پورا ہال قہقہوں سے گونج پڑا اور بلاول کے چہرے پر شرمندگی نمایاں تھی۔
کراچی میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اوپر سے نیچے تک حرام خوروں کا گڑھ بن چکے ہیں!
عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ بڑھتی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ ریاست کا فیلئیر ہے۔
چاہے کاروباری حضرات ہوں یا کوئی عام آدمی، یہ حرام خور اوپر سے نیچے تک سب کو نوچنے میں لگے ہیں! شرم کا مقام ہے
﷽
السلام علیکم ورحمت الله وبرکاتہ
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلِ
اور ہم نے انسانوں کی بھلائی کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی حکمت کی باتیں طرح طرح سے بیان کی ہیں
شب بخیر ❣️
پاکستانی گلوکارہ ثریا ملتانیکر کی زندگی کے چند ان سنے حقائق : پہلی شادی اس شخص سے کی جو ان سے عشق کرتا تھا اور رات کو انکے دروازے پر آکر سو جاتا تھا ، صبح جب ثریا دروازہ کھولتی تو وہ باہر پڑا ہوتا ، اسکی محبت اور خلوص ایک دن رنگ لائی اور ثریا نے اسے اندر بلا لیا ، اسکو باقاعدہ شادی کا پیغام لانے کو کہا اور پھر یہ ہوا کہ ثریا کو بھی ان سے عشق ہو گیا دونوں نے شادی کرلی ، اس شادی سے ثریا ملتانیکر کے 7 بچے پیدا ہوئے ، یہ ساتھ 11 سال رہا اور انکے شوہر کی وفات ہو گئی اسکے بعد ثریا ملتانیکر نے غلطی کی جسے وہ کھلے دل سے تسلیم کرتی ہیں ، انہوں نے 7 بچوں کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کر لی ، مگر اب پچھتاتی ہیں کاش میں یہ غلطی نہ کرتی ، جلد احساس ہوا تو اس شخص سے طلاق لے لی ۔۔۔ ثریا ملتانیکر کے بقول : میں نے زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ، ایک وقت تھا 1000 ، 2000 روپے ادھار مانگنا پڑتے ، ملتان کے لوگوں نے مجھے بہت محبت دی ، میں پیدل گلیوں بازاروں میں چلی جاتی ، پیسے پاس نہ ہوتے مگر جو شے ضرورت ہوتی لے آتی ، دکاندار کہتے : ثریا مائی : جو تمہارا دل کرے لے جاؤ ، پیسوں کی فکر نہ کرو ، سبزی والا کہتا : ثریا مائی : گھن ونج تیڈی اپنٹری ریڑھی اے ۔۔۔۔ جب میں انہیں کہتی پیسے ایک دو روز بعد دونگی تو وہ میرے سامنے ہاتھ باندھ لیتے ۔۔۔ ان لوگوں کا پیار مجھے مرتے دم تک یاد رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ثریا ملتانیکر کے ساتوں بچے اعلیٰ تعلیمافتہ ہیں بیٹیاں بیاہی ہوئی اپنے گھروں میں خوش اور بیٹے بھی زبردست زندگی گزار رہے ہیں ۔دعا ہے اللہ کریم ثریا ملتانیکر کو صحت اور خوشیوں بھری زندگی عطا کرے
🔴🇦🇪 مشروع السكك الحديدية (Etihad Rail) يُعد من أكبر مشاريع البنية التحتية في تاريخ دولة الإمارات، وهو أول شبكة قطارات وطنية متكاملة لنقل الركاب والبضائع في الدولة.
• طول الشبكة: نحو 900 كيلومتر(مرحلة أولى)
• سرعة قطارات الركاب: تصل إلى 200 كم/ساعة.
او جی ڈی سی ایل کی بڑی کامیابی، گیس دریافت کے صرف 2 ماہ بعد کنویں سے پیداوار کا آغاز کردیا گیا، کنویں سے 60 لاکھ اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس یومیہ نکل رہی ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق سندھ میں سہیتو ون گیس کا کنواں 26 مارچ کو دریافت ہوا تھا، کنویں سے 60 لاکھ اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس یومیہ نکل رہی ہے جس میں مستقبل میں مزید اضافے کا قوی امکان ہے۔
او جی ڈی سی ایل کا کہنا ہے کہ سہیتو ون گیس کنویں کو 5 کلو میٹر پائپ لائن ڈال کر سنجھورو پلانٹ سے منسلک کردیا گیا ہے۔
احمد پور شرقیہ کے قریب ایک ٹرک ھوٹل پر رات گئے ایک مکئی سے لوڈ ٹرک رُکتا ھے
ڈرائیور باپ ھوتا ھے اور ھیلپر 18 سالہ بیٹا ھوتا ھے
دونوں کھانا کھاتے ھیں اور باپ ٹرک کے اندر سیٹ پر سو جاتا ھے جبکہ بیٹا باپ کو بتا کر ٹرک کی چھت پر مکئی کے اُوپر بستر لگا کر سو جاتا ھے
صبح سورج نکلتا ھے تو بیٹا اُس کی تپش اور دھوپ سے بچنے کے لئے اُٹھ کر ٹرک کے نیچے بستر لگا کر سو جاتا ھے
نا بیٹا باپ کو اپنی تبدیل کی گئی پوزیشن سے آگاہ کرتا ھے اور نا باپ اُٹھ کر بیٹے کو دیکھنے کی کوشش کرتا ھے کہ وہ چھت پر ھی ھے یا نیچے اُتر گیا ھے
باپ گاڑی کے کیبن سے نیند سےجاگتا ھے اور یہی سمجھتا ھے بیٹا ٹرک کی چھت پر سویا ھو گا ...کیا جگانا ...سو لے تھوڑا مزید
باپ ٹرک سٹارٹ کرتا ھے ...گئیر ڈالتا ھے ...تھوڑااگے بڑھاتا ھے تو شور مچ جاتا ھے ...کہ ٹرک کے نیچے کوئی سویا تھا وہ ٹرک کے ٹائر تلے کُچلا گیا ھے
باپ ڈرائیور گھبرا کر نیچے اُتر کر دیکھتا ھے ...تو اپنا ھی بیٹا اپنے ٹرک کے نیچے آپ ھی کُچل دیا ھے
ساری زندگی روئے گا اب
🛑
سمجھدار ھیوی ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور کبھی بھی گاڑی کے نیچے ایک ٹائر کے آگے پیچھے دیکھ کر مکمل تسلی کر لینے کے بغیر کھڑی گاڑی کو آگے نہیں بڑھاتے
اور سمجھدار ڈرائیور اپنے عملے کی پوزیشن جانے بغیر کبھی سفر کا آغاز نہیں کرتا
اللہ صبر دے
😢🚶🚶
جن کے گھر میں سولر سسٹم لگا ہوا ہے انکے لئے یہ سستا سا الیکٹرک چولھا کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔
اور اگر وہ تھوڑا سا ٹائم صحیح طریقے سے منیج کر لیں یعنی شام کا کھانا بھی اسی کے اوپر بنا لیں تو گیس کے اخراجات میں اچھی خاصی کمی کی جا سکتی ہے۔
نوٹ: یہ چولھا پینتیس سو واٹ (جو چولھے پہ لکھا ہوا آتا) پہ چلانے پہ تقریباً آٹھ ایمپئیر لیتا ہے۔
یعنی ایک گھنٹہ میں لگ بھگ دو یونٹ کے قریب قریب لیتا ہے۔
دوسرا اسکے اوپر برتن فلیٹ یا ہموار پیندے والے صحیح آتے ہیں۔
پکانے کے لیے ہم نے اس میں ہر سالن یعنی وڈا گوشت چھوٹا گوشت پلاؤ بریانی اور چائے وغیرہ بنائی ہے۔
اور قیمت تقریباً چھ ہزار کے آس پاس ہے۔
اچھی کمپنی کا کچھ مہنگا ملے گا۔
اس طرح کا ایک انڈکشن چولھا بھی ہوتا۔
جو کہ مہنگا بھی ہے اور اسکے برتن بھی سپیشل ہیں۔
لیکن وہ جلدی چیزیں ٹھنڈی گرم کر دیتا ہے۔
لیکن اسکی قیمت اور برتن الگ سے حساب دینا پڑتا۔
ایسے ہی پیپلز پارٹی کی ترقی سے پناہ نہیں مانگتے ۔۔۔ایک کام کرکے چار بگاڑتے ہیں ۔
عظیم پورہ پریشر میں جلدی جلدی بن تو گیا ۔۔۔جہالوں نے ناچ گانا بھی کرلیا اب جو تباہی گندگی اطراف کے علاقوں میں پھیلائی ہے اسکو کون ٹھیک کرے گا؟؟
انسانی تخلیق:م - قرآن کا بیان اور جدید سائنس
انسان وجود میں کیسے آیا؟
یہ سوال ہر دور میں انسان کے ذہن میں رہا ہے- اور یہ ھی وہ سوال ہے جس کا جواب انسان صدیوں سے ڈھونڈتا رہا… مگر حیرت یہ ہے کہ قرآن نے یہ سوال بہت پہلے ایک غیر معمولی سادگی اور گہرائی کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔
قرآن انسانی پیدائش کے اولین مرحلے کو ایک انتہائی خصوصی مرحلہ قرار دیتا ھے کہ پہلے انسان کا وجود کیسے مادے سے وجود میں آیا
قرآن اس عمل کو اس طرح بیان کرتا ھے
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ
(سورۃ المؤمنون 23:12–14)
"اور بے شک ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا…"
یعنی اولین انسان کو اللہ نے اسی زمین کی مٹی سے تخلیق کیا اور پھر اسی انسان کے وجود سے انسانی افزائش کو اگے بٹھایا
قرآن ھمیں بتاتا ھے کہ انسانوں کی پیدائش کوئی اچانک واقعہ نہیں بلکہ ایک تدریجی نظام ہے۔
جدید سائنس انسانی وجود کی پیدائش کا جواب “Embryology” کی شکل میں دیا،
مگر قرآن نے یہ سوال صدیوں پہلے ایک مختلف انداز میں اٹھایا۔
قرآن کہتا ہے:
ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ--
ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ ۚ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ --
پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ (رحم) میں نطفہ بنا کر رکھا۔ پھر ہم نے نطفے کو علقہ بنایا، پھر علقہ کو مضغہ بنایا، پھر مضغہ سے ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اسے ایک نئی تخلیق بنا کر پیدا کیا۔ پس بڑا بابرکت ہے اللہ، جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔
(سورۃ المؤمنون ایت 13-14)
قرآن تخلیق انسانی کو ایک مسلسل عمل کے طور پر بیان کرتا ہے- اور اسی انسانی تخلیق کو 1400 سال پہلے چند الفاظ میں سمیٹ دیا
نطفہ
علقہ
مضغہ
ہڈیاں
گوشت
۔۔۔ پھر ایک نئی مخلوق
یہاں تین بنیادی مراحل سامنے آتے ہیں:
نطفہ (ابتدائی مادہ)
علقہ (چمٹنے والا/معلق مرحلہ)
مضغہ (چبائے ہوئے گوشت جیسا ابتدائی ڈھانچہ)
اور پھر ایک مکمل انسانی وجود
یہ الفاظ محض شاعرانہ بیان نہیں… بلکہ انسانی تخلیق کے ایک مسلسل اور مرحلہ وار سفر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید علمِ جنین (Embryology) بھی یہی بتاتا ہے کہ انسانی وجود ایک جامد شکل میں نہیں بنتا، بلکہ مسلسل تبدیلی کے مراحل سے گزرتا ہے - جہاں خلیات ایک حالت سے دوسری حالت اختیار کرتے ہیں، حتیٰ کہ مکمل انسانی جسم وجود میں آتا ہے۔
سوال یہ ہے
کیا 1400 سال پہلے، بغیر کسی لیبارٹری اور خوردبین کے، اس طرح کا مرحلہ وار بیان ایک عام انسانی مشاہدہ تھا… یا غور کرنے کے لیے ایک گہرا اشارہ؟
ظاھر ھے کہ قرآن اپنی اصل میں سائنس کی کتاب نہیں، مگر وہ انسان کو اپنی تخلیق، اپنی حقیقت اور اپنے وجود پر سوچنے پر مجبور ضرور کرتا ہے۔
اور یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے
کیا قرآن کے یہ الفاظ محض ادبی انداز تھے، یا انسانی تخلیق کے ایک گہرے حقیقت پسندانہ مشاہدے کی طرف اشارہ؟
جو بھی رائے ہو، ایک بات طے ہے
یہ آیات انسان کو اپنی تخلیق پر غور کرنے اور سوال کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔
@MaidahMuhammad
جناب چڑی مار بتا رہے ہیں بھٹو کیسے زندہ رکھا جاتا ہے۔
آزاد کشمیر میں الیکش کا اعلان ہوتے ہی ڈیڑھ لاکھ ایڈ ہاک ملازمین کو مستقل کردیا گیا، انکی تنخواہیں اور سارا پیسہ پاکستان کو دینا ہے۔