افسوس کی بات ہےکہ عوام کی جیب پر اتنا بڑا ڈاکہ پڑ رہا ہے اور اپوزیشن اس معاملےپر خاموش ہے، اپوزیشن پارٹیز اور تمام جماعتوں کے کارکنان اس عوامی جدوجہد میں شامل ہوں اور حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ عوام کو ریلیف دیں
@NaeemRehmanEngr
No More Bhatta Levy
Bhatta Levy NaManzoor
#بھتہ_لیوی_ختم_کرنا_پڑے_گا
یہ جو انت حساب سے پیٹرول اور بجلی مہنگی کر رہے ہیں وہ سارا پیسہ یہ اکھٹا کر کے نجی بجلی گھروں کو اس بجلی کا دیتے جو پیدا ہی نہی ہوتی ہے گیارہ مہینوں میں تین ہزار ارب کی رقم نجی بجلی گھروں کو دی ہماری ساری فوج کا ایک سال کا خرچہ 24 کھرب ہے جبکہ فوج کے بجٹ سے پانچ سو ارب زیادہ یہ نجی بجلی گھر لے جاتے ہیں
حافظ نعیم الرحمان، امیر جماعت اسلامی
اس وقت جو سود پر پالیسی ریٹ ساڑھے گیارہ روپے دیا ہوا ہے اسے اگر 3 ارب روپے کم کریں تو 1500 ارب روپے قرضوں کی مد میں کم ہو جائے گا۔ ہم نے بتایا کہ کہاں کہاں اخراجات کم کر سکتے ہیں۔ محمد علی جونیجو نے 1000 سی سی گاڑی کی حد مختص کر دی تھی، آپ سرکاری ملازمین پر 1300 سی سی گاڑی کی حد لگا دیں۔۔ بڑی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھا دیں، آئل پر کسٹم ڈیوٹی ختم کریں۔۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد کئی شعبے صوبوں کے پاس گئے، صوبوں نے آگے انہیں فنڈ نہیں کیا۔۔ 18 شعبے ایسے ہیں جن کے ادارے صوبوں کے پاس بھی ہیں اور وفاق کے پاس بھی آپ انہیں ضم کر کے ختم کر دیں تاکہ آپ کو پیسہ بچے۔ کئی معاہدے ایسے کیے ہوئے ہیں جن پر فوری نظر ثانی کی ضرورت ہے،، کیوں پیسے دے رہے ہیں۔ پی ایس ڈی پی میں بڑے منصوبے کریں، ایم این ایز کو پیسہ کیوں دے رہے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام صوبوں کو کیوں نہیں دے رہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں میرا دعوی ہے 30 فیصد کرپشن ہے۔ @NaeemRehmanEngr
#FaislaAapKa TEAM | Hum News
شرمناک ! جب ملک میں بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت 49 ہزار میگاواٹ ہے اور استعمال صرف 20 سے 22 ہزار میگاواٹ ہے تو پھر 4 ہزار میگاواٹ شارٹ فال کے کیا معنی ہیں؟؟ اگر شارٹ فال ہے تو پھر آئی پی پیز کو سیکڑوں ارب سالانہ کی
Capacity Payment
کس بات کی ہورہی ہے؟
واضح رہےکہ کیپیسٹی پیمنٹ سے مراد وہ رقم ہے جو بجلی نہ بنانے کی مد میں حکومت عوام کے جیبوں سے نکال کر آئی پی پیز کو ادا کرتی ہے۔
ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، جو حکومت کی نااہلی اور بیڈ گورننس کا شاہکار ہے
پاکستان میں شوگر مافیا کی حکومت ہے صدر وزیراعظم وزیروں سب کی شوگر ملیں ہیں اور یہی شوگر کی پالیسی بناتے ہیں ایک سال کے اندر اندر شوگر مافیا نے اس حکومت کے دوران کیسے چینی کا چکر چلا کر اربوں کمایا یہ شاہزیب خانزادہ کی زبانی سن لیجئے
پاکستان میں انقلاب نہ آنے کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے جب بھی عوام کی مختصر تعداد بھی بنیادی مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر آتی ہے تو عوام کی اکثریت چیخ اٹھتی ہے کہ یہ احتجاج کا کون سا طریقہ ہے جس سے ٹریفک جام ہورہا ہے اس قوم کو سڑکوں کی بدترین صورتحال پر گھنٹوں ٹریفک جام رہنے پر کوئی پریشانی نہیں ہے گھر میں پانی نہیں آرہا ، بجلی نہیں ہے بجلی کے بل تنخواہوں سے زیادہ ہیں ادارے برباد ہوگئے ہیں دو فیصد اشرافیہ نے 98 فیصد عوام کو غلام بناکر غلاموں پر عذاب مسلط کرنے کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں مگر قوم کے اطمینان کا لیول آسمانوں کو چھورہا ہے اگر پریشانی ہے صرف اس بات کی ہے سڑکوں پر احتجاج کرکے سڑک بلاک مت کرو
یہ قوم ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر انقلاب لانا چاہتی ہے
فیصل حسین
#BhattaLevyKhatamKro
پیٹرولیم لیوی کے خلاف ہماری پٹیشن پر ڈھائی ماہ بعد بھی ہمیں صرف نمبر ملا ہے اور ججز چھٹی پر ہیں، جس ملک میں انصاف چھٹی پر چلا جائے اس کا نظام کیسے چلے گا
@NaeemRehmanEngr
JI Dharna
Petrol Levy Khatam Kro
#BhattaLevyKhatamKro
نواز شریف جب وزیرِاعظم تھے، شہباز شریف وزیرِاعلیٰ پنجاب اور خواجہ آصف وزیرِ پانی و بجلی تھے، تب انہوں نے اپنے چہیتے سلمان شہباز کو پاکستانی بینک سے 650 کروڑ روپے کا قرض لے کر پاور پلانٹ لگوا کر دیا، جس کی نہ صرف ادائیگیاں پاکستانی قوم نے کرنی تھیں بلکہ 30 سال کا ایسا معاہدہ بھی کیا گیا کہ بجلی ملے یا نہ ملے، پیسہ تو سلمان شہباز کو جاتا رہے گا۔
اگر کرپشن کا کوئی شیطان ہوتا تو وہ سلمان شہباز ہوتا۔
کاروبار خاندان کا، قرض عوام نے دیا، ادائیگیاں عوام نے کرنی ہیں، اور فائدہ خاندان کا!
آخر میں اس پورے کھیل کا خمیازہ کون بھگتے گا؟
پاکستانی قوم!
حکومت نے بجلی کے شعبے میں کیپسٹی پیمنٹس کے لیے 1,800 ارب روپے مختص کر رکھے ہیں، جبکہ 6 پاور پلانٹس مکمل طور پر بند پڑے ہیں۔ معاہدوں کی ایسی شرائط ہیں کہ پلانٹ چلیں یا نہ چلیں، انہیں فیول کی ادائیگی سمیت مختلف مد میں رقم دینی پڑتی ہے۔ چنانچہ پلانٹس بند رکھو، مگر ادائیگیاں جاری رکھو!رؤف کلاسرا۔
اس میں سے زیادہ تر پاور پلانٹس شریف فیملی کے ہیں۔
راجن پور- امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی اپیل پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافے، مہنگائی اور لیوی بھتہ ٹیکس کے خلاف فاضل پور میں پٹرولیم لیوی اور عوام پر بڑھتے معاشی بوجھ کے خلاف احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
#JIProtestAgainstBhattaLevy
پیغام سب کے لیے ہے؛ بھتیجی بھی سن لے، چچا بھی سن لیں، ابا بھی سن لیں، اور ابا کے ابا بھی سن لیں۔
Hafiz Naeem
Jamaat e Islami
Bhatta Levy NaManzoor
#JIProtestAgainstBhattaLevy
محسن نقوی صاحب نے سسٹم کی کسمپرسی پہ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میں ذاتی طور پہ ان خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتا ھوں ۔ نقوی صاحب تو ماشا ءاللہ خود ایک پاور ھاؤس ھیں میں بھی بحثیت ایک سیاسی ورکر شدت سے محسوس کرتا ھوں سسٹم کا ارتقائ عمل یا evolution کا پراسیس دہائیوں سے گروہی و ذاتی مفادات کے تابع ھے ۔ اور اسکو آزاد کرنے کی ضرورت ھے۔
میری کچھ گذارشات ھیں ۔ اگر سسٹم میں مضبوط کرنا ھے اور بنیادی تبدیلی لانی ھے تو اسکا فورم پارلیمنٹ ھے جسکے نقوی صاحب رکن ھیں یا اسکو کابینہ میں بھی بھی زیر بحث لایا جا سکتا ھے اس سے یہ ادارے اور سسٹم مضبوط ھو گا اور تبدیلی آئینی عمل سے گزرے گی۔ محترم کابینہ کے نہایت اور معتبر رکن ھے۔ اتفاق ھے نقوی صاحب ان دونوں اداروں یعنی پارلیمنٹ اور کابینہ کا اجلاس کبھی کبھار ایٹنڈ کرتے ھیں ۔
ان اداروں کو irrelevant کرکے ملک کے مایہ ناز اور قابل احترام تاجروں کو انوائٹ کرکے captive audience کے آگے اتنی بڑی بات کرنی میری دانست میں وہ اثر نہیں رکھتی جتنا relevant constitutional forums بات کرنے سے پزیرائی ملتی۔
نقوی صاحب اس نظام کے انتہائ طاقتور عہدوں پہ ساڑھے تین سال سے فائز ھیں اگر وہ چاہتے تو نظام کی تبدیلی کی بات یا پیش رفت اس عرصے میں کرسکتے تھے۔ چلیں دیر آید درست آید
کل DGISPR نے NATIONAL ACTION PLAN کے 13نکات یا پوائنٹ کا ذکر کیا ۔ ایک پوائنٹ پہ عمل درآمد جوھماری افواج کے ذمہ تھا اس پہ
عملدرآمد اور تکمیل جانوں کی قربانیوں سے ھو رہا ھے۔ باقی 12 پوائنٹ وزارت داخلہ کی ذمہ داری ھے جن پہ عملدرآمد نہیں ھوا۔ نقوی صاحب سسٹمُ کی تبدیلی کا آغاز National Action plan پہ عملدرآمد سے کریں ۔ سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں ۔ صرف ھماری قابل احترام تاجر برادری ھی نہیں پوری قوم آپکے ساتھ ھے۔ 🤲
محسن نقوی کا بیان اعتراف جرم ہے کہ جن لوگوں کو فارم 47 کی بنیاد پر مسلط کیا گیا ہے ، وہ ناکام ہو گئے ہیں ، جو سیٹیں پی پی کو کراچی میں دی گئی ہیں بلاول بھٹو اُن 7 سیٹوں کے فارم 45 پیش کریں
@NaeemRehmanEngr
شہباز شریف کی حکومت کی کارکردگی آپ بجلی کے بلوں سے دیکھ لیں جب اپریل 2022میں نون کی حکومت آئی اس وقت 201یونٹ کا بل تقریباً 2,600 روپے تھا اور آج 201 یونٹس کا بل تقریباً 1200 سے تیرہ ہزار ہے مطلب صرف بجلی کے بل میں دس ہزار کا اضافہ ہے اور یہ ایک غریب بندے پر اضافہ ہے
دس ہزار ہر بندے سے بجلی کا اضافی بل لے کر بھی بجلی کا محکمہ خسارے میں اس میں گردشی قرضہ بڑھ چکا ہے
بس یہ ہے وہ کارکردگی جس بارے دعوے کہ نون کا متبادل کون ہے اور نون ہی سنبھال سکتی ہے