چشمِ فلک نے شاید یہ منظر بھی دیکھنا تھا کہ کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کرنا اور کشمیر کا پرچم اٹھانا بھی جرم بن جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی مظلوم قوم کے حق میں آواز اٹھانا اور اس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا بھی قابلِ گرفت عمل ہے، تو پھر آزادیِ اظہار اور جمہوری اقدار کی حقیقت کہاں باقی رہ جاتی ہے؟ اختلافِ رائے کا جواب گرفتاری نہیں، دلیل اور مکالمہ ہونا چاہیے۔
🚨عدالتوں سے ہمیں امید نہیں چیف جسٹس اتنا موقع مل گیا کہ وہ یہاں سے چند کلومیٹر دور چوکیوں کا دورہ کرنے پہنچ گئے
مگر عمران خان کہ ارڈر تین دن گزر گئے دستخط شدہ ارڈر ابھی تک نہیں ملا یہاں کون سی عدالتیں ہیں اور کون سی قوانین صرف چار لائنیں تھیں،
مصطفی نواز کھوکر
اگر انیس ستی کی شہادت کا مذاق نہ اڑایا جاتا۔ اگر عاصمہ شیزرازی صاحبہ اور ساتھی اس وقت لاشوں کو نہ جھٹلاتے۔ تو آج اسامہ جمیل زندہ ہوتے۔
صرف بندوق چلانے والا نہیں۔ اس پورے سسٹم کا ہر سہولتکار ان نوجوانوان کا قاتل ہے۔
پہلے ایک مجسٹریٹ کی رہائش گاہ میں گھسنا، اب اٹارنی جنرل صاحب کے گھر پر پولیس کا چھاپہ قابل مذمت ہے،ایسی شکایات آئے روز عام شہریوں جانب سے کی جاتی ہیں۔سمجھنا ضروری ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ صرف چند لوگوں کو آئین کا تحفظ حاصل ہو،ہر کسی کے آئینی حقوق کا تحفظ ہوگا تو سب محفوظ ہونگے۔
لاہور میں PTI کے نام پر شہری کے گھر پر پولیس کا چھاپہ،، شہری دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا۔ پولیس نے چھوٹی بچی پر پسٹل تان دیا - اہلخانہ کے انکشافات
نظام تباہ ہو گیا ،
اللہ الحق ہے یہ بات عمران خان کرتا تھا کہ یہ نظام ڈنڈے کے زور سے نہیں چل سکتا ،جہوریت ،قانون ،انصاف ہو تو ملک ترقی کرے ،محسن نقوی کا بیان ان کے اپنے خلاف چارج شیٹ ہے ،یہ ناکام ہیں .
صحافی یاسر حسین، ضعیم لغاری، اسد طور، معید پیرزادہ کے بعد شہباز گل بھی عمران خان کی صحت کے متعلق خوفناک خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔حکومت کو قیادت اور فیملی کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ ملک خوفناک بحرانوں میں ہے ایسے میں قومی لیڈر کی صحت کے ساتھ کھیلنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
ہمارے ہاں ویسا احتجاج کیوں نہیں ہوا جیسا بھارت میں دیکھنے کو ملا؟ اس کی ایک واضح وجہ ہے۔ اگر یہاں کاکروچ جنتا پارٹی کا چیئرمین مال روڈ پر آ کر احتجاج کرے تو رات کو اس کی بوڑھی ماں کا دوپٹہ اتارا جائے گا، اس کی بہن کو اغوا کر لیا جائے گا
بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی