جن لائٹوں کے آگے ڈرائیور حضرات خود ایک منٹ نہیں کھڑے ہوسکتے، وہی لائٹیں یہ دوسروں کی آنکھوں میں مار کر اندھا کررہے ہوتے ہیں..!
سبق سکھانے کا اچھا طریقہ ہے ویسے 🔥
@saleemspeaks2 اس میں کیا غلطی ھے ۔ شوہر کے فوت ہونے کے بعد عورت نے دوسری شادی شوہر کے بھائی سے کر لی یہ تو بہت عام طریقہ ھے اس میں کسی قسم کی کوئی قباحت نہیں ھے
آج ہماری فیملی میں ایک خاتون کا وٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہو گیا۔ ہیکر نے تمام contacts سے پیسے مانگ لیئے۔ دو بندوں نے پیسے بھیج بھی دیئے۔ مزے کی بات ھے بھیجنے والے خود بہت غریب ہیں۔
تمام دوستوں سے اپیل ھے کہ اگر آپ کو کسی کا پیسے مانگنے کا میسج آئے تو سب سے پہلے نارمل نمبر سے بات کر کے تسلی کریں۔ورنہ پیسے نہ بھیجیں۔
کیا کوئی دوست بتا سکتا ھے کہ اس طرح کے ہیکر کے خلاف کوئی کاروائی ہو سکتی ھے ؟
کبھی خود کو خاموشی میں observe کرو…
شاید تمہیں احساس ھو کہ تمہیں دنیا سے زیادہ اپنے دل کی مرمت کی ضرورت ھے۔
ھم اپنی توجہ باھر کی دنیا پر رکھتے ھیں کہ
لوگ کیا کر رھے ھیں؟
کون کیا کہہ رھا ھے؟
زندگی میں آگے کیسے بڑھنا ھے؟
مگر بہت کم لوگ رک کر اپنے اندر جھانکتے ھیں۔
کبھی کچھ لمحے خاموشی میں بیٹھ جاؤ۔۔ جہاں نہ موبائل ھو۔۔ نہ شور، نہ مصروفیت۔۔۔ اور پھر اپنے دل سے پوچھو۔۔۔
میں واقعی کیسا ھوں؟
کیا میں تھک چکا ھوں؟
کیا کوئی پرانا دکھ ابھی بھی میرے اندر زندہ ھے؟
کیا میں خود سے دور ھوتا جا رھا ھوں؟
*سچ سرجری کی طرح ہے۔۔۔*
*تکلیف تو ہوتی ہے*
*لیکن شفا ہو جاتی ہے۔۔۔*
*اور جھوٹ پین کلر کی طرح ہیں۔۔۔*
*تھوڑی دیر کے لئے مسئلہ تو حل ہوجاتا ہے۔۔۔*
*لیکن اس کے سائیڈ افیکٹ اور نقصانات بہت ہیں۔۔۔!!!*
۔ . *🌻☕*_"
پاکستان میں اس کی Awareness کی بہت ضرورت ہے۔ آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔ یوکے کے مسلمانوں میں اس کی بہت سمجھ ہے اور ہم ہر چیز دیکھ سمجھ کر خریدتے ہیں ۔ یہاں قانون اور اصول بھی اچھے ہیں اور کیونکہ 25%آبادی ویسے بھی vegan یا vegetarian ہوچکی ہے یہاں کاسمیٹک بھی اچھی برانڈ کا جانور کی چربی یا کسی بھی چیز سے نہیں بنایا جاتا۔ مگر ہر چیز دیکھ کر خریدنی چاہیے ۔ میں نے پاکستان میں لوگوں کو وہ بیوٹی پراڈکٹس استمال کرتے دیکھا ہے جو ہم یہاں نہیں خریدتے ۔
چین میں گدھے کی جلد اور بالوں سے چربی نکال کر کاسمیٹک بنائے جاتے ہیں ۔اس لیے وہاں بھی احتیاط کی سخت ضرورت ہے۔ کوریا کے کاسمیٹک سے بھی احتیاط کریں ۔
🚨 بریکنگ | جنوبی بلوچستان
سیکیورٹی فورسز نے دشت میرانی میں انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی۔
کارروائی کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 58 غیر قانونی افغان باشندے گرفتار کر لیے گئے۔
تمام گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
#Balochistan #SecureBalochistanBorders #FCBalochistanSouth
*سور چربی کی تاریخ*
*ڈاکٹر ایم امجد خان*
*ہر مسلمان کے لئے یہ پڑھنا بہت ضروری ہے*
*یورپ سمیت تقریبا تمام امریکی ممالک میں گوشت کے لئے بنیادی انتخاب سور ہے۔ اس جانور کو پالنے کے لئے ان ممالک میں بہت سے فارم ہیں۔ صرف فرانس میں ، پگ فارمز کا حصہ 42،000 سے زیادہ ہے*۔
*کسی بھی جانور کے مقابلے میں سور میں زیادہ مقدار میں FAT ہوتی ہے۔ لیکن یورپی و امریکی اس مہلک چربی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔*
*اس چربی کو ٹھکانے لگانا ان ممالک کے محکمہ خوراک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس چربی کو ختم کرنا محکمہ خوراک کا بہت بڑا سردرد تھا۔*
*اسے ختم کرنے کے لیئے باضابطہ طور پر اسے جلایا گیا، لگ بھگ 60 سال بعد انہوں نے پھر اس کے استعمال کے بارے میں سوچا تاکہ پیسے بھی کمائے جا سکیں۔ صابن بنانے میں اس کا تجربہ کامیاب رہا۔*
*شروع میں سور کی چربی سے بنی مصنوعات پر contents کی تفصیل میں pig fat واضح طور پر لیبل پر درج کیا جاتا تھا۔*
*چونکہ ان کی مصنوعات کے بڑے خرہدار مسلمان ممالک ہیں اور ان ممالک کی طرف سے ان مصنوعات پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے ان کو تجارتی خسارہ ہوا۔ 1857 میں اس وقت رائفل کی یورپ میں بنی گولیوں کو برصغیر میں سمندر کے راستے پہنچایا گیا۔ سمندر کی نمی کی وجہ سے اس میں موجود گن پاؤڈر خراب ہوگیا اور گولیاں ضایع ہو گئیں۔*
*اس کے بعد وہ سور کی چربی کی پرت گولیاں پر لگانے لگے۔ گولیوں کو استعمال کرنے سے پہلے دانتوں سے اس چربی کی پرت کو نوچنا پڑتا تھا۔ جب یہ بات پھیل گئی کہ ان گولیوں میں سور کی چربی کا استعمال ہوا ہے تو فوجیوں نے جن میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ سبزی خور ہندو تھے نے لڑنے سے انکار کردیا ، جو آخر کار خانہ جنگی کا باعث بنا۔ یورپی باشندوں نے ان *حقائق کو پہچان لیا اور PIG FAT لکھنے کے بجائےانہوں نے FIM لکھنا شروع کر دیا*
*1970کے بعد سے یورپ میں رہنے والے تمام لوگ حقیقت کو جانتے ہیں کہ جب ان کمپنیوں سے مسلمان ممالک نے پوچھا کہ یہ کیا ان اشیا کی تیاری میں جانوروں کی چربی استعمال کی گئی ھے اور اگر ھے تو کون سی ہے...؟* *تو انہیں بتایا گیا کہ ان میں گائے اور بھیڑ کی چربی ہے۔ یہاں پھر ایک اور سوال اٹھایا گیا ، کہ اگر یہ گائے یا بھیڑ کی چربی ہے تو پھر بھی یہ مسلمانوں کے لئے حرام ہے، کیونکہ ان جانوروں کو اسلامی حلال طریقے سے ذبح نہیں کیا گیا تھا۔*
*اس طرح ان پر دوبارہ پابندی عائد کردی گئی۔ اب ان کثیر القومی کمپنیوں کو ایک بار پھر کا نقصان کاسامنا کرنا پڑا۔۔۔!*
*آخر کار انہوں نے کوڈڈ زبان استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ، تاکہ صرف ان کے اپنےمحکمہ فوڈ کی ایڈمنسٹریشن کو ہی پتہ چل سکے کہ وہ کیا* *استعمال کر رہے ہیں اور عام آدمی اندھیرے میں ہی رہے۔ اس طرح انہوں نے ای کوڈز کا آغاز کیا۔ یوں اجکل یہ E-INGREDIENTS کی شکل میں کثیر القومی کمپنیوں کی مصنوعات پر لیبل کے اوپر لکھی جاتی ہیں*،
*ان مصنوعات میں*
*دانتوں کی پیسٹ، ببل گم، چاکلیٹ، ہر قسم کی سوئٹس ، بسکٹ،کارن فلاکس،ٹافیاں*
*کینڈیڈ فوڈز ملٹی وٹامنز اور بہت سی ادویات شامل ہیں* *چونکہ یہ سارا سامان تمام مسلمان ممالک میں اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے۔*
*سور کے اجزاء کے استعمال سے ہمارے معاشرے میں بے شرمی، بے رحمی اور جنسی استحصال کے رحجان میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ھے۔*
*لہذا تمام مسلمانوں اور سور کے گوشت سے اجتناب کرنے والوں سے درخواست ھے کہ وہ روزانہ استعمال ہونے والے ITEMS کی خریداری کرتے وقت ان کے content کی* *فہرست کو لازمی چیک کرلیا کریں اور ای کوڈز کی مندرجہ ذیل فہرست کے ساتھ ملائیں۔ اگر نیچے دیئے گئے اجزاء میں سے کوئی بھی پایا جاتا ہو تو پھر اس سے یقینی طور پر بچیں،* *کیونکہ اس میں سور کی چربی کسی نہ کسی حالت میں شامل ہے۔*
*E100 ، E110 ، E120 ، E140 ، E141 ، E153 ، E210 ، E213 ، E214 ، E216 ، E234 ، E252 ، E270 ، E280 ، E325 ، E326 ، E 327 ، E334 ، E335 ، E336 ، E337 ، E422 ، E41 ، E431 ، E432 ، E433 ، E434 ، E435 ، E436 ، E440 ، E470 ، E471 ، E472 ، E473 ، E474 ، E475 ، E476 ، E477 ، E478 ، E481 ، E482 ، E483 ، E491 ، E492 ، E493 ، E494 ، E549 ، E542 E572 ، E621 ، E631 ، E635 ، E904*
*ڈاکٹر ایم امجد خان*
*میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ*
*👈براہ کرم اس وقت تک شیئر کرتے رہیں جب تک کہ وہ بلائنس آف مسملز ورلڈ وائڈ پر نہ آجائیں*۔
*یاد رھے کہ شیئرنگ صدقة جاريه میں گردانی جا سکتی ھے*
Copy
اگر آپ کی جیب میں دس روپے بھی نہ ہوں تو دس روپے دینے والا بھی نہیں ملتا۔
اور اگر آپ کی جیب میں لاکھ روپیہ ھے تو لاکھ دینے والے کئی مل جائیں گے۔ یہ دنیا ضرورت کے مطابق نہیں آپ کی حیثیت کے مطابق سلوک کرتی ھے ۔