جج چُھٹی پر ہے
یہ اسلام آباد کی ضلع کچہری میں ایک سول جج کی عدالت کے باہر کا منظر ہے جہاں ایک شہری مقدمات کی فہرست میں اپنے کیس کا نمبر دیکھ رہا ہے۔
اس فہرست میں 131 مقدمات ہیں جو آج ایک سول جج نے سُننے ہیں۔ اِن مقدمات میں جو ملزم ضمانت ہر ہیں اُن کی عدالت میں حاضری لازم ہے۔ اُن کے وکلا بھی حاضر ہیں۔
کچھ مقدمات میں شواہد پیش کیے جانے ہیں، بعض میں گواہ حاضر ہیں۔ دوسری طرف کے وکلا بھی آئے ہوئے ہیں۔ اس طرح ایک عدالت کے اندر اور باہر لگ بھگ 200 لوگ موجود ہیں۔
اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ جج چھٹی پر ہیں۔
سرکار، اُس کے محکموں، اور اُن کے پراسیکیوٹر/وکلا کو فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ بھی حاضر نہیں۔
جج نے چھٹی نظام سے ہی لینا ہوتی ہے تو نظام چلانے والوں کو پہلے ہی معلوم ہوتا ہے۔
فرق تو اُس عام شہری کو پڑتا ہے جو اپنے تمام کام چھوڑ کر بطور مدعی، ملزم، یا گواہ عدالت آتا ہے۔
پاک سرزمین کا نظام
@CM_MaryamNawaz@CMPunjab@GovtofPakistan you should have basic knowledge that eid ul adha is for 3 days not for 2 days as mentioned in your today's notification below. Let's suppose if govt employee/offices are already having Friday off then what about the private sector???
اس بچے کو یہ بھی کہا جا سکتا تھا کہ اپنی مشین اٹھاو اور یہاں سے چلتے بنو مگر حکومت وقت نے اسے توڑنا مناسب سمجھا۔۔۔۔۔۔۔!!
یہ کچھ غلط نہیں کر رہے غربت ختم کر رہے ہیں چونکہ غربت ختم کرنے کے لیے نوکریاں اور وسائل فراہم کرنا ان کے بس کی بات نہیں تو اب انکا سارا زور غریب مکاو پروگرام پر ہے۔۔۔۔۔۔۔!!
نا جلے گا کسی کے گھر کا چولہا اور نا کوئی غریب بچے گا تو غربت اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔!!
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ
انتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ عالمِ اسلام کی معروف، روشن اور باعمل شخصیت،
محبوبُ العلماء و الصلحاء، پیرِ طریقت
حضرت مولانا *پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ علیہ* آج بروز اتوار خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
حضرت شیخؒ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ اصلاحِ قلوب، تزکیۂ نفس اور بندگانِ خدا کو اللہ تعالیٰ سے قربت کے پیغام کے لیے وقف فرما رکھی تھی۔
اللہ تعالیٰ حضرت جیؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنتُ الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ہمیں، ان کے اہلِ خانہ، متعلقین اور تمام عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ان کی دینی، اصلاحی اور روحانی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
آمین یا ربّ العالمین۔
حضرت جی ؒ کے آفیشل وٹس ایپ چینل سے
Janab apka knowledge bahut hi limited hai, thora dil ku waseeh rakh k studies krein gay tu huzoor (S.A.W) AUR hazrat ali karam ul wajhu, k darmiyan bhi hastian hain jinn se ap bad-diyanti kr k makhsos tolay ya shyed apka ham khayal tabqa se views aur wah wah sametna chahtay hain,
علمائے حق کون تھے :
سب سے بڑے عالم خود نبی کریم ﷺ ،
پھر مولا علی علیہ السلام ،
حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ، حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ ، حضرت ابن عربی ، حضرت مولانا رومی ، حضرت داتا گنج بخش ، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ، حضرت پیر مہر علی شاہ ، حضرت علامہ اقبال رحمہمُ اللہ اجمعین ،
ان کا اور ان جیسے سب علماء کرام کا کردار و اخلاق پڑھیں :
اور پھر اپنے آس پاس پائے جانے والے فرقہ پرست مولویوں سے ان کا موازنہ کریں
تاکہ آپ کو سمجھ آئے کہ یہ سارے مولوی رانگ نمبر ہیں ، ان کا دین اسلام و علم و ادب سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے
بلکہ یہ ملا، اسلام و انسانیت کے بدترین دشمن ہیں
#دین_اسلام
1952ء رات کے وقت 12 بجے لاھور سے ملتان جانے والی بس دیپالپور چوک اوکاڑہ پر رکی اور ایک بارعب چہرہ , اور خوبصورت شخصیت کا مالک نوجوان اترا،
اسے سول ریسٹ ہاؤس جانا تھا اس نے آس پاس دیکھا تو کوئی سواری نظر نہ آئی مگر ایک تانگہ جو کہ چلنے کو تیار تھا نوجوان نے اسے آواز دے کر کہا کہ اسے بھی سول ریسٹ ھاؤس تک لیتے جائیں مگر کوچوان نے صاف انکار کر دیا،
نوجوان نے التجائیہ الفاظ میں کوچوان سے کہا تو اس نے سخت لہجے میں یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ آگے پھاٹک پر ایک سنتری کھڑا ھے وہ مجھے نہیں بخشے گا، لہذا میں چار سواریوں سے زیادہ نہیں بٹھا سکتا،
تانگے میں بیٹھی سواریوں نے جب نوجوان کو بے بس دیکھا تو کوچوان سے کہا کہ ہم سب مل کر اس نوجوان کی سفارش کریں گے لہذا اسے بھی ساتھ بٹھا لیں,
کوچوان نے نہ چاہتے ھوۓ بھی نوجوان کو سوار کر لیا، جب پھاٹک آیا تو پولیس والے نے سیٹی بجا کر تانگہ روک لیا اور کوچوان پر برس پڑا کہ اس نے 4 سے زیادہ سواریوں کو تانگے میں کیوں بٹھایا ؟
کوچوان نے 5 ویں سواری کی مجبوری بیان کی مگر پولیس والےکا لہجہ تلخ سے تلخ ھوتا گیا۔
نوجوان نے 5 روپے کا نوٹ کوچوان کو دیا کہ سنتری کو دے کر جان چھڑاؤ ۔ مگر جب سنتری نے 5 روپے دیکھے تو وہ اور بھی زیادہ غصے میں آ گیا، اس نے کوچوان سے کہا کہ تم نے مجھے رشوت کی پیش کش کی ھے جو کہ ایک جرم ھے لہذا اب تمہارا لازمی چالان ھو گا، سنتری نے کہا کہ اگر یہی سب کچھ کرنا تھا تو پاکستان ہی کیوں بنایا ؟
یہ کہہ کر اس نے کوچوان کا چالان کر دیا , تانگہ چلا گیا ۔ سول ریسٹ ھاؤس کے قریب نوجوان اترا تو اس نے کوچوان سے کہا کہ یہ میرا کارڈ رکھ لو اور کل نو بجے ادھر آجانا میں تمہارا جرمانہ خود ادا کروں گا ۔
اگلی صبح 9 بجے کوچوان سول ریسٹ ھاؤس پہنچا تو پولیس کے جوانوں نے اگے بڑھ کر کوچوان کو خوش آمدید کہا اور پوچھا کہ گورنر صاحب سے ملنے آۓ ھو؟ کوچوان کی جانے بلا کہ گورنر کیا ھوتا ھے ۔
پولیس کے جوان کوچوان کو دفتر کے اندر لے گئے ۔ رات والے نوجوان نے کوچوان سے اٹھ مصافحہ کیا اور بیٹھنے کو کہا پھر اپنے پاس بیٹھے ڈی سی او کو رات والا واقعہ سنایا ، نوجوان نے رات والے سنتری کو فورا طلب کیا اور ڈی سی او کو حکم دیا کہ اس ایماندار پولیس والے جوان کو فورا ترقی دے کر تھانہ صدر گوگیرہ کا ایس ایچ او تعینات کرو ۔ اور کوچوان کا جرمانہ بھی اپنی جیب سے ادا کیا ۔
اپنی جیب سے جرمانہ ادا کرنے والا وہ نوجوان سردار عبدالرب نشتر گورنر پنجاب تھے، جنہوں نے پاکستان کے لیے بے شمار خدمات سر انجام دیں، وہ جناح کے دست راست اور ایمانداری کی اعلی مثال سمجھے جاتے تھے۔اور محترمہ ثانیہ نشتر انہی کی پوتی ہیں جن کو عمران خان نے احساس پروگرام اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا چئر پرسن لگایاتھا۔
کنفرم منقول :
No job?
No worries.
Google can pay you $1,500 a day.
All you need is a phone, internet, and 5 minutes a day.
I made a simple guide to help you start. ✅
Like and Repost.
Comment “Google”
📷,(Must follow me) to get DM. FREE for 24.
کولمبو اسٹیڈیم کے باہر تامل فائرنگ کر رہے تھے اور اسٹیڈیم میں پاکستان میچ کھیل رہا تھا اور انڈین حمایت یافتہ تامل چھاپہ مار کے خلاف ہماری فوج پوری طرح سری لنکا کی مدد کی اور انکو ختم کر دیا۔
آج معلوم ہوا کہ ہر ملک افغانستان کی طرح نمک حرام نہیں ہوتا۔ کچھ ملک احسان یاد رکھتے ہیں۔
تصویر لینے والا کہتا ہے میں نے لڑکے کو کہا اپنے والد کا نمبر دو میں کال کر دیتا ہوں وہ آ کے لے جائے گا کیونکہ اسکول کی چھٹی کو کافی وقت ہوگیا تھا
لڑکا کہنے لگا مجھے اپنے والد کا نمبر یاد نہیں ہے
میں نے کہا اپنی بہن کو کہو وہ لکھوا دے شاید اسے یاد ہو
لڑکا کہنے لگا یہ میری بہن نہیں ہے
میرا گھر تو پاس ہے پانچ منٹ میں پہنچ جاؤں گا مگر اس لڑکی کا گھر دور ہے
اس کو لے جانے والا نہیں آیا تو میں نے لڑکی کو اکیلا چھوڑنا مناسب نہ سمجھا اور پاس بیٹھ گیا تاکہ اس کی حفاظت کروں
جب تک اس کا سرپرست نہیں آتا میں یہیں بیٹھا ہوں!
بچوں میں ایسی صفات گھر کے ماحول اور ماں باپ کی تربیت اور وراثتی بھی ہوتی ہیں!
🔴 ایک انفلوئنسر نے ویڈیو بنانے کے لیے ٹھنڈے مشروب کی بوتل ہائی وے پر پھینک دی — وہ بھی ایسی سڑک پر جہاں گاڑیاں 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے گزر رہی تھیں۔