میر رضا کے قتل کے خلاف 26 دن سے پُرامن احتجاج کرنے والے 100 لوگوں پر فیروزآباد میں خود سرکاری مدعیت میں پولیس نے یہ کہہ کر مقدمہ درج کروایا ہے کہ احتجاجیوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے، بینرز پر نعرے لکھے تھے اور پولیس کے سمجھانے کے باوجود انہوں نے احتجاج ختم نہیں کیا۔
یہ وہی پولیس ہے جو میر رضا کے قتل کو خودکشی ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی, اب یہ پرامن احتجاج کو فسادی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پھر یہ کہتے ہیں عوام ہم پر بھروسہ کریں؟
میر رضا کے قتل کے خلاف 26 دن سے پُرامن احتجاج کرنے والے 100 لوگوں پر فیروزآباد میں خود سرکاری مدعیت میں پولیس نے یہ کہہ کر مقدمہ درج کروایا ہے کہ احتجاجیوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے، بینرز پر نعرے لکھے تھے اور پولیس کے سمجھانے کے باوجود انہوں نے احتجاج ختم نہیں کیا۔
یہ وہی پولیس ہے جو میر رضا کے قتل کو خودکشی ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی, اب یہ پرامن احتجاج کو فسادی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پھر یہ کہتے ہیں عوام ہم پر بھروسہ کریں؟
سندھ حکومت کےاپنے اعدادو و شمار کے مطابق سال 2023 اور 2024 میں نواب شاہ کی سڑکوں اور سیوریج پر دس ارب روپے خرچ ہوئے جبکہ لوکل گورنمنٹ کا کروڑوں کا بجٹ الگ ہے ۔ بلاشبہ سندھ کا ہر حلقہ چیخ چیخ کے کہہ رہا ہے نئے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں
#PIMS
Sindh police have registered a case against around 75 to 80 people protesting for justice for slain businessman Mir Raza, accusing them of obstructing traffic, resisting police officials and causing a disturbance during a late-night protest in Karachi.
Read More: https://t.co/DRKYFViWTA
#TOKAlert #Karachi #Police #MirRaza #FIR #Sindh
No action till date by Sindh Govt against police officers who tried to cover-up murder of #ShaheedMirRaza as suicide but takes action against ordinary citizens for exercising their democratic right of protest. Strongly condemn the FIR. Available to represent protestors for bail.
A usual day in the life of Karachiites;
A citizen getting snatched at the corner of the road outside Zamzama Park. We are scared of even waiting for a conveyance on the road. That’s how terrible our lives have become.
CCTV, police…everything is useless.
بریکنگ: کراچی پولیس میر رضا علی کے قاتلوں کا تو سراغ نہ لگا سکی، لیکن قاتلوں کی گرفتاری کے لیے مظاہرہ کرنے والے سو کے قریب نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
میر رضا کے قتل کے خلاف 26 دن سے پُرامن احتجاج کرنے والے 100 لوگوں پر فیروزآباد میں خود سرکاری مدعیت میں پولیس نے یہ کہہ کر مقدمہ درج کروایا ہے کہ احتجاجیوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے، بینرز پر نعرے لکھے تھے اور پولیس کے سمجھانے کے باوجود انہوں نے احتجاج ختم نہیں کیا۔
یہ وہی پولیس ہے جو میر رضا کے قتل کو خودکشی ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی, اب یہ پرامن احتجاج کو فسادی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پھر یہ کہتے ہیں عوام ہم پر بھروسہ کریں؟
میر رضا کے قتل کے خلاف 26 دن سے پُرامن احتجاج کرنے والے 100 لوگوں پر فیروزآباد میں خود سرکاری مدعیت میں پولیس نے یہ کہہ کر مقدمہ درج کروایا ہے کہ احتجاجیوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے، بینرز پر نعرے لکھے تھے اور پولیس کے سمجھانے کے باوجود انہوں نے احتجاج ختم نہیں کیا۔
یہ وہی پولیس ہے جو میر رضا کے قتل کو خودکشی ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی, اب یہ پرامن احتجاج کو فسادی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پھر یہ کہتے ہیں عوام ہم پر بھروسہ کریں؟
میر رضا کے قتل کے خلاف 26 دن سے پُرامن احتجاج کرنے والے 100 لوگوں پر فیروزآباد میں خود سرکاری مدعیت میں پولیس نے یہ کہہ کر مقدمہ درج کروایا ہے کہ احتجاجیوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے، بینرز پر نعرے لکھے تھے اور پولیس کے سمجھانے کے باوجود انہوں نے احتجاج ختم نہیں کیا۔
یہ وہی پولیس ہے جو میر رضا کے قتل کو خودکشی ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی, اب یہ پرامن احتجاج کو فسادی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پھر یہ کہتے ہیں عوام ہم پر بھروسہ کریں؟
میر رضا کے قتل کے خلاف 26 دن سے پُرامن احتجاج کرنے والے 100 لوگوں پر فیروزآباد میں خود سرکاری مدعیت میں پولیس نے یہ کہہ کر مقدمہ درج کروایا ہے کہ احتجاجیوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے، بینرز پر نعرے لکھے تھے اور پولیس کے سمجھانے کے باوجود انہوں نے احتجاج ختم نہیں کیا۔
یہ وہی پولیس ہے جو میر رضا کے قتل کو خودکشی ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی, اب یہ پرامن احتجاج کو فسادی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پھر یہ کہتے ہیں عوام ہم پر بھروسہ کریں؟
میر رضا کے قتل کے خلاف 26 دن سے پُرامن احتجاج کرنے والے 100 لوگوں پر فیروزآباد میں خود سرکاری مدعیت میں پولیس نے یہ کہہ کر مقدمہ درج کروایا ہے کہ احتجاجیوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے، بینرز پر نعرے لکھے تھے اور پولیس کے سمجھانے کے باوجود انہوں نے احتجاج ختم نہیں کیا۔
یہ وہی پولیس ہے جو میر رضا کے قتل کو خودکشی ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی, اب یہ پرامن احتجاج کو فسادی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پھر یہ کہتے ہیں عوام ہم پر بھروسہ کریں؟
🚨 BREAKING
Karachi police have registered an FIR against around 100 protesters after a demonstration on Shahrah-e-Faisal near Nursery Bus Stop. Protesters were carrying banners demanding the arrest of slain businessman Mir Raza Ali’s killers.
The 25-year-old IBA graduate was found dead in Gulistan-e-Jauhar shortly after going missing. Murder charges were formally added after an exhumation and second autopsy revealed a gunshot wound to his back and signs of torture. The victim's family has repeatedly expressed mistrust toward the initial police investigation, accusing officers of attempting to push a suicide narrative and harassing them rather than identifying the killers.
A judicial commission is currently reviewing the case.
میر رضا کے قتل کے خلاف 26 دن سے پُرامن احتجاج کرنے والے 100 لوگوں پر فیروزآباد میں خود سرکاری مدعیت میں پولیس نے یہ کہہ کر مقدمہ درج کروایا ہے کہ احتجاجیوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے، بینرز پر نعرے لکھے تھے اور پولیس کے سمجھانے کے باوجود انہوں نے احتجاج ختم نہیں کیا۔
یہ وہی پولیس ہے جو میر رضا کے قتل کو خودکشی ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی, اب یہ پرامن احتجاج کو فسادی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پھر یہ کہتے ہیں عوام ہم پر بھروسہ کریں؟
میر رضا کے قتل کے خلاف 26 دن سے پُرامن احتجاج کرنے والے 100 لوگوں پر فیروزآباد میں خود سرکاری مدعیت میں پولیس نے یہ کہہ کر مقدمہ درج کروایا ہے کہ احتجاجیوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے، بینرز پر نعرے لکھے تھے اور پولیس کے سمجھانے کے باوجود انہوں نے احتجاج ختم نہیں کیا۔
یہ وہی پولیس ہے جو میر رضا کے قتل کو خودکشی ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی, اب یہ پرامن احتجاج کو فسادی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پھر یہ کہتے ہیں عوام ہم پر بھروسہ کریں؟
عاصمہ شیرازی: 👈آپ کے ذمے اسلام آباد کے دو اسپتال ہیں جن کو آپ مینیج نہیں کر پا رہے۔
مصطفی کمال: 👈آپ بعد میں میرے ساتھ پروگرام کر لیں میں آپ کو بتا دوں گا کہ میرے پاس لوگوں کو ہٹانے لگانے کا کتنا اختیار ہے۔۔
عاصمہ شیرازی👈آپ جیسا شخص کہہ رہا ہے اختیار نہیں تو گھر چلے جانا بہتر نہیں ہے کیا؟
مصطفی کمال 👈سرکار کو اسپتال چلانے ہی نہیں چاہئیں، آپ یونیورسل ہیلتھ سروسز دیں، مافیاز بیٹھے ہیں، کوئی بڑا چور ہے کوئی چھوٹا چور ہے۔ میں اس سسٹم سے دوستی کر سکتا تھا اور مزے کر رہا ہوتا۔۔ میں پارٹ آف پرابلم نہیں ہوں۔ ۔ میرے چودہ ماہ کا کام سابقہ 30 سالوں کے کاموں سے زیادہ ہیں۔۔ مگر سب کچھ آئیڈیل نہیں ہو گیا۔۔ ہم نے 18 نئے اسپتال اسلام آباد میں قائم کر دیے ہیں۔ اسلام آباد کو میئر کے نیچے ہونا چاہیے تب یہاں کا نظام ٹھیک چلے گا۔ باقی سندھ کی کیا بات کریں وہ ہمیں درست گنتے بھی نہیں۔
@KamalMQM
#FaislaAapKa TEAM | Hum News
اب یہ استعفی دیں یا نہیں فرق نہیں پڑتا لیکن ان سے اب صوبوں کی بات کروانا شہری سندھ کی عوام سے زیادتی ہو گی ، کیونکہ انکی کریڈیبلیٹی تو اب منفی ہو گئی ہے ،یہ استعفی دیں تو نا اہل ہیں اور نہیں دیں گے تو پیپلز پارٹی کی بی کاپی ہیں کہ نااہلی کے باوجود استعفی نہیں دیتے
ماشاءاللہ
کالعدم تنظیم سندھو دیش کی ریلی سندھ سرکار کی منشا سے سندھ پولیس کی گاڑی پر
پیپلز پارٹی ہر جگہ انتشار کو سپورٹ کرتی ملے گی
تمام آگ پیپلز پارٹی کے ہاتھوں لگائی جا رہی ہے ملک بھر میں