عمران خان کی بہن عظمیٰ خان اور ڈاکٹر فیصل سلطان کی پریس کانفرنس توہینِ عدالت ہے یا نہیں؟ تفصیلات پڑھئیے
میری رائے کے مطابق عمران خان کی بہن عظمیٰ خان اور ڈاکٹر فیصل سلطان کی پریس کانفرنس قطعی طور پر توہینِ عدالت کے زمرے میں نہیں آتی. اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں واضح طور پر لکھا تھا کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے جہاں اُن کا میڈیکل چیک اَپ اور علاج کیا جائے اور چیک اَپ اور علاج کی پوری مدت کے دوران سیکیورٹی کے موزوں انتظامات بھی کیے جائیں.
یعنی سپریم کورٹ کے اُس حکم کا عملی آغاز ہی اُس وقت ہونا تھا جب عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جاتا وہاں میڈیکل بورڈ تشکیل پاتا اور پھر اُن کا طبی معائنہ اور علاج شروع ہوتا.
لیکن جب عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل ہی نہیں کیا گیا تو آرڈر کے صفحہ نمبر 6 پر پیراگراف نمبر 13 کی شق 8 میں دی گئی ہدایت کا اطلاق کیسے ہو سکتا ہے؟ اس شق میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سماعت تک عمران خان کی فیملی، سیاسی جماعت یا وکلاء اُن کی صحت کی حالت یا میڈیکل رپورٹس کی تفصیلات میڈیا یا عوام کے سامنے نہیں رکھیں گے.
اسی طرح جب عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل ہی نہیں کیا گیا تو پیراگراف 14 کی شق (a) کا اطلاق بھی نہیں ہوتا جس میں عمران خان کی سیاسی جماعت اور فیملی کو یہ یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے احاطے میں کوئی عوامی اجتماع نہ ہو.
پیراگراف 14 کی شق (b) میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان سے متعلق کوئی بھی شخص اُن کی میڈیکل رپورٹس یا صحت کی حالت کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال نہیں کرے گا لیکن جب شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کا طبی معائنہ اور علاج ہی شروع نہیں ہوا تو یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس مخصوص شق کا اطلاق کس مرحلے پر اور کس بنیاد پر کیا جائے گا؟
مزید یہ کہ آرڈر میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ اگر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو اس آرڈر کے تحت فراہم کی گئی تمام سہولیات فوری طور پر واپس لے لی جائیں گی جبکہ دونوں فریقین کو یہ حق بھی دیا گیا تھا کہ اگر کوئی ایک فریق عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرے تو دوسرا فریق عدالت سے رجوع کر سکتا ہے.
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ جب عدالتی حکم پر عمل درآمد کا بنیادی اور ابتدائی مرحلہ ہی شروع نہیں ہوا یعنی عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل ہی نہیں کیا گیا تو اُس پہلے اقدام کے بعد عائد کیے گئے حفاظتی اور انتظامی اقدامات کا اطلاق کس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟
جب ہمیں پمز پہنچایا گیا تو میں نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر تو شفا انٹرنیشنل کا تھا ، تو مجھے کہا گیا کہ عمران خان کا فالو اپ چیک اپ ہونا تھا ، اس لیے یہاں لائے، مکمل اندھیرا تھا ، ہمارے پاس موبائل نہیں تھا کیونکہ جیل میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، پندرہ منٹ گاڑی میں مجھے بٹھائے رکھا ، پھر کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ آجائیں، مکمل اندھیرا تھا ، موبائل ٹارچ پر راستہ دکھاتے ہوئے او پی ڈی کے راستے مجھے ایک آفس لے جایا گیا اور وہاں بٹھایا گیا۔
اس کے بعد مجھے اوپر ایک کمرے میں لے گئے ، عمران خان بھی حیران تھے ، عمران خان مجھے ملے پیار کیا اور کہا کہ میں دس ماہ بعد اپنی بہن سے مل رہا ہوں، میں نے عمران خان کو بتایا کہ یہاں فالو اپ چیک اپ کے بعد ہم شفا انٹرنیشنل جائیں گے، وہاں آپ کے مکمل ٹیسٹ ہوں گے ، پھر ہمیں ایک دفتر لے گئے ، جہاں ڈاکٹر عارف نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا ، آفس میں چیک اپ کیا ، آئی ڈراپس کا پوچھا کہ کونسی ڈال رہے ہیں؟ عمران خان نے کہا مجھے نام یاد نہیں، میں نے ڈاکٹرز سے کہا کہ آپ کو نام نہیں معلوم کہ آپ نے کونسے لکھ کے دیے ہیں؟ پریسکپن نہیں ہے آپ کے پاس ؟ ڈاکٹر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ، ڈاکٹر عظمیٰ خان
حیران کُن صورتحال: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 4 مئی کو آرڈر کیا کہ 5 مئی کو بشریٰ بی بی کی بیٹی کا موقف سُن کر فیملی اور ذاتی معالج کی ملاقات کی درخواست پر فیصلہ کریں اور 6 مئی کو یعنی آج عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہو کر آگاہ کریں لیکن حیران کُن صورتحال ہے کہ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے نہ تو بشریٰ بی بی کی بیٹی کو ذاتی طور پر بلا کر سُنا اور نہ ہی آج عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس ارباب محمد طاہر نے اب ایک بار پھر موقع دیتے ہوئے سپریٹنڈنٹ جیل کو دوبارہ بشریٰ بی بی کی بیٹی کو 11 مئی کو جیل بلا اور موقف سن کر ریپریزنٹیشن پر فیصلہ کرنے اور 12 مئی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے
🚀 Validating data on decentralized storage network & earning rewards! Join me for airdrop + more from DeNet’s storage clients!
📲 Get the free app: https://t.co/M7IPB3v3T0
#DeNet#WatcherNode
تابش ہاشمی ، ابرار الحق اور ایک ن لیگی ورکر کا دلچسپ مکالمہ
ن لیگی ورکر کا ابرار الحق سے سوال ، پارٹی کیوں چھوڑی ؟
جبکہ میں 1987 سے ن لیگ کے ساتھ ہوں پارٹی نہیں چھوڑی
تابش ہاشمی کا جواب سنیں 👌🤣🔥
صرف دو ہزار کی وجہ سے بکری نامی شخص 27 مہینے جیل میں رہا ۔ سہراب برکت
جبکہ مریم نواز سیر سپاٹے کیلیے 11 اور جرنل عاصم منیر بائیس ارب کا جہاز خریدے۔
ایسے نظام اور اسے نافذ کرنے والوں کو انکی آل اولاد کو یا اللہ تباہ و برباد کردے ۔آمین