رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ
سورہ التوبہ: 100
(اللہ کی رضا کی سند) اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا کہ وہ ان تمام لوگوں ؓ سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے خوش ہیں
ہم لوگ صحابہ ؓ کے قصیدوں کےگوئیے
ہم سے تو کسی ایک کا انکار نہ ہووے
ہر ایک ؓ ہے آنکھوں کا تارا ہمیں عزیز
کسی ایک ؓ پہ بھی دل کو بیزار نہ ہووے
ابوبکرؓ و عمرؓ، عثمانؓ و علیؓ سب ہمارے
ان میں سے کسی سےبھی انکار نہ ہووے
وہ بدر کے ساتھی، وہ اُحد کے مجاہد
ان جیسے کسی کا بھی کردار نہ ہووے
امریکیوں اوراسرئیلیوں نے تو یہی سوچ رکھا تھا کہ یکدم بمباری کے نتیجہ میں قیامت برپا ھو گی ایرنی قیادت کی ٹارگٹ کلنگ کےبعدایرانی جان بچاتے نظرآئیں گے مگرایرانیوں کی جرات واستقامت نےتو نئی تاریخ رقم کر دی ذراسی لغزش نھیں دکھائی گھٹنے نھیں ٹیک رھا جم کرکھڑاھے مگرامت کوشرم دلا رھاھے؟
دور عمران جب یوتھیے امریکہ خلاف نعرے لگانے لگے تو امت مسلمہ کے واحد گیدڑ نے فورا انھیں امریکہ خلاف نعرے لگانے سے روک دیا،،،
آج یوتھیے کہتے ہیں یہ گیڈر باہر ہوتا تو امریکہ کو بھی فتح کر لیتا 😂
نام جنت کا تم نے سنا ہے میں نے اس کا نظارا کیا ہے
میں یہاں سے تمہیں کیا بتا دوں انﷺ کی نگری کی گلیوں میں کیا ہے
سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقاﷺ کا منصب جدا ہے
وہﷺ امامِ صفِ انبیاؑ ء ہیں انﷺ کا رتبہ بڑوں سے بڑا ہے
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّـٰهِ وَخَاتَـمَ النَّبِيِّيْنَ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمًاسورۃ الاحزاب 40محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور سب نبیوں کے خاتمےپرہیں اوراللہ ہر بات جانتا ہے
میرے بچپن میں جب رمضان المبارک میں مسجدوں کے میناروں پر لگے اسپیکروں سے آوازیں گونجتی تھیں۔ سحری کے وقت محلے کے نعت خواں وقفے وقفے سے سحری کے ختم ہونے کا اعلان کرتے اور ساتھ ساتھ نعتیں پڑھتے تھے ۔ جو بچپن کی حسین یادیں ہیں ۔اب وقت بدل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شان صحابہ ؓ زندہ باد
اصحاب ؓ جیسے تابندہ ستاروں سے ملا ہے
اسلام تو سرکارﷺ کے یاروں ؓ سے ملا ہے
روشن یہ ؓ ہوئے نور نبوت ﷺ کی ضیاء سے
اصحاب پیمبر ؓ ہوں یا آقاﷺ کے نواسے ؓ
اللہ نے پکارا ہے انہیں ؓ خوب ادا سے
راضی ہے خدا ان ؓ سے تو یہ ؓ راضی خدا سے
کبھی مایوس مت ہونا،اندھیرا کتنا گہرا ہو
سحر کی راہ میں حائل،کبھی بھی ہو نہیں سکتا
سویرا ہوکے رہتا ہے،کبھی مایوس مت ہونا
امیدوں کے سمندر میں،تلاطم آتے رہتے ہیں
سفینے ڈوبتےبھی ہیں،سفر لیکن نہیں رکتا
مسافر ٹوٹ جاتے ہیں،مگر مانجھی نہیں تھکتا
سفر طے ہو کے رہتا ہے،کبھی مایوس مت ہونا
اس ملی نغمے کا ہر بند باہم اتفاق،محبت اور مل جل کے رہنے کا درس دیتا ہے۔ان دوستوں کے لئے میری طرف سے صبح صبح یہ پیغام
اس چمن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے
اس زمیں کا ہر ذرہ آفتاب تم سے ہے
یہ فضا تمہاری ہے، بحر و بر تمہارے ہیں
کہکشاں کے یہ جالے، رہ گزر تمہارے ہیں
یہ وطن تمہارا ہے