ملک کا نظام ٹھیک ہو سکتا ہے مگر اشرافیہ کی اجارہ داعی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ یہ عوام کو لوکل لیول پر اختیار دے نہی سکتی کیونکہ یہ ان کی موت ہے۔ ورنہ دنیا بھر میں بلدیات ہی ترقی کرواتے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا ہے کہ یہ سسٹم برباد ( collapse ) ہوچکا ہے
قومُ یہ فقرہ پہلی دفعہ نہیں سن رہی ۔ جنرل ایوب نے اکتوبر 1958, جنرلُ یحییٰ نے مارچ 1968جنرل ضیاء نے جولائی 1977 اور جنرل مشرف نے اکتوبر 1999 میں قوم سے یہی کہا کہ یہ سسٹم برباد collapse ہوچکا اورپھر ہر ایک نے اس ملک کی عمارت کو گرانے میں اپنا حصہ ڈالا اور آج اسکی چھت گر چکی ہے اور یہ قوم ننگے آسمان تلے پڑی ہے
محسن نقوی نے جو بیان دیا ہے نظام کے متعلق،وہ ٹرک کی بتی ہو یا جو کچھ مرضی کہہ لیں لیکن آن ریکارڈ اس طرح کا بیان جب ا جاتا ہے تو اس نظام کے تحت کئے گئے فیصلے تاریخ میں بدنما دھبے کے طور پر لکھے جائیں گے۔
جب مجھے پتا چلا میرا بیٹا شہید ہو گیا ہے تو کیں نے پوچھا بتاؤ اس نے گولی کدھر کھائی ہے جب مجھے بتایا گیا کہ اس نے گولی سینے پر کھائی ہے تو میں مطمعن ہو گیا
جو اپنے حقوق کے لیے جنگ لڑتے ہوۓ جان دیتا ہے وہ شہید ہوتا ہے مجھے اپنے بچے کی شہادت پر فخر ہے
شہید رزاق کے والد کے جذبات
محسن نقوی پاکستان کے بڑے ہمدرد بن رہے ہیں۔ بندہ پوچھے آپکا کرکٹ کا کونسا تجربہ تھا جو کرکٹ بورڈ کے سربراہ بن گئے، صرف اس لیے کہ پی سی بی پاکستان کا واحد مالدار ادارہ تھا؟ اپنے اس چکر میں کرکٹ کا بیڑا غرق کردیا۔ آج یہ قوم کی سکولنگ کررہے ہیں۔ حد ہے !
آرمی چیف نے 2023 میں تاجروں کو یقین دہانی کروائی تھی کہ SIFC کے تحت عرب ممالک سے 75 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے
وہ 75 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری تو نہیں البتہ اب سسٹم کے Collapse ہونے کو تسلیم کرلیا گیا ہے ، اعتراف نااہلی !!
"ایک وزیراعظم تین سال سے منصفانہ ٹرائل کے انتظار میں قید ہے، سترہ سترہ سال کی سزائیں سنا رہے ہیں، 25 کروڑ لوگوں کو دیوار سے لگا کر مافیاز کے حوالے کر دیا گیا ہے کہ عوام کیساتھ جو کر سکتے ہو کرو، ہمیں مودی جیسے دہشتگرد سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہاں وزیراعظم کے گھر کے باہر بھی دھرنا دینے کی اجازت دی گئی، غربت گھٹن اور لاقانونیت بڑھ رہی ہے، عوام کو کہا جا رہا ہے کہ پیٹ پر پتھر باندھو لیکن خود دستر خوان پر قومی خزانے سے 22 ،22 کھانے کھلائے جا رہے ہیں"
سینئر صحافی @Shirazi_68@DRTPakistan
https://t.co/xqrN9SPveg
صبح عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست ان چیمبر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سننے والے ہیں۔ ایسے میں سیاسی قیادت کو بیک ڈور دباؤ ڈال کر راستہ نکالنا چاہئے۔ عدالت حکم اسی وقت دے گی جب حکم ہو گا۔
پورے ملک میں عمران خان وہ آخری بندہ ہے جسے رہا کرنے کی اسٹیبلشمنٹ غلطی کرے گی، جس روز عمران خان باہر آگیا اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کا بچنا ناممکن ہے، کئی کلومیٹر تک اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکیں گے نہ عوام ایسا ہونے دے گی، اس لیے وہ کبھی بھی خان کو رہا نہیں کریں گے۔ عمران خان کی رہائی اس وقت ہوگی جب پورا ملک راکھ کا ڈھیر بن جائے گا تب عمران خان کے ساتھ سنجیدہ بات چیت اور رہائی ہوگی
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کی درخواست پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے اعتراضات کا معاملہ
عمران خان کی رجسٹرار سپریم کورٹ اعتراضات کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر
چیف جسٹس یحیحی آفریدی کل چیمبر میں اپیل پر سماعت کریں گے
رجسٹرار آفس نے وکالت نامہ پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دستخط نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا تھا
اعتراض کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قانونی ٹیم نے دستخط شدہ وکالت نامہ جمع کروا دیا گیا ہے