Thank you @DrAliceJEdwards, @UN Special Rapporteur on #Torture, for once again raising your voice and concern regarding the inhumane treatment of Imran Khan.
He has been kept in complete isolation with no meetings whatsoever for over 8 months now. Both he & his wife have a fundamental right to a fair trial and to the protection of basic prisoners’ rights. The situation is deeply concerning and dire for both of them.
We appreciate your continued attention to this matter and expect your good office to keep raising these concerns with the current Pakistan regime. @JaredGenser@Kasim_Khan_1999@UN@UNHumanRights@UN_HRC
Mbappé is 27 years old.
Haaland is 25 years old.
Kane is 32 years old.
Lionel Messi is 39 years old.
A friendly reminder: at the 2022 World Cup, Messi won the Silver Boot, while Ronaldo scored only one goal in the entire tournament.
If Ronaldo fans are using Mbappé, Haaland, and Kane's Golden Boot race with Messi to banter him, that alone should be enough for you to see Messi's greatness and the huge gap between him and Ronaldo. No 39 year old player at the 2026 World Cup would be able to go toe to toe with the younger generation if it weren't for Lionel Andrés Messi.
اج اپ سب لوگوں کے ٹائم لائن پر یہ تصویر نظر انی چاہیے جن کو خان صاحب کی کامیابیوں سے ۔۔۔ان کے چہرے سے تکلیف ہے۔۔ ان کو ان کی اوقات دکھائیں
#FreeImranKhan
June is the only window available to PTI to build sufficient pressure to end Imran Khan’s isolation and ensure he is transferred to Shifa International Hospital for proper medical treatment in the presence of his family and personal doctors.
جنرل صاحب ! آپ نے چند دن افغانستان کے مختلف شہروں پر بمباری کی۔ خوف کی ایک فضاء قائم کی۔ کچھ دن کے لیے اچھے نتائج برآمد ہوئے۔ رواں سیزن میں ٹی ٹی پی نے معمول سے کم کاروائیاں کیں۔ آپ اپنی چھوٹی سوچ اور تنگ پتلون میں خوش ہوئے ہوں گے۔ میدان مار لیا ، ڈرا دیا۔ اب ادھر ٹی ٹی پی کوئی کاروائی کرے گی ، ادھر ہم بمباری کریں گے۔ ہسپتال ہو یا سکول ، بارات ہو یا گھر ہمیں پرواہ نہیں۔
جنرل صاحب ! اب افغانستان نے روس سے دفاعی نظام خرید لیا ہے۔ وق�� بتائے گا کہ یہ سو فیصد کارگر ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔ البتہ آپ کی فضائی برتری کو چیلنج ضرور کردیا گیا ہے۔ یقیننا یہ ائیر ڈیفینس ہر شہر میں تو نہیں ہوگا۔ کابل ، قندھار وغیرہ میں کچھ بیٹریز م��جود ہوں گی۔ آپ کی اوقات ہمیں معلوم ہے۔ آپ آئندہ افغانستان پر فضائی حملے کا رسک نہیں لیں گے۔ آپ زیادہ سے زیادہ دولت اسلامیہ کو تھاپڑا مار کر رکھیں گے۔ افغان طالبان کے سامنے وہ نہیں ٹھہر سکتے۔ ٹی ٹی پی مضبوط ہوگی۔ دہشتگردی کی کاروائیوں میں اضافہ ہوگا۔
جنرل صاحب ! آپ کو کیا ملا؟ بابا جی کا ٹھلو ۔ افغانستان کو اپنا دشمن بنا لیا۔ سنٹرل ایشیا سے تجارت کا رستہ بند کرلیا۔ ٹی ٹی پی اور شدت پسندی وہیں کی وہیں اور آپ کا کھوتا بوڑھ کے نیچے۔ آپ کی ساری پالیسیاں ایسی ہی ہیں۔ ایک کاغذ کے ٹکڑے پر ایس آئی ایف سی تشکیل دی اور فرض کرلیا سو ارب ڈالر آئیں گے۔ ٹکہ نہیں آیا۔ لوٹ کھسوٹ سے ��ستحکام لانے کا سوچا نہیں آیا۔ ڈانگ دیکر ملک اور معیشت چلانے کی کوشش کی نہیں چلی۔ ایک تھانیدار کی مار آپ کی پھدووانہ سوچ کی م��راج تھی۔ بلوچ علیحدگی پسند ایک ہی ٹرین کو بار بار نشانہ بناتے ہیں۔ یعنی کہہ کر لیتے ہیں۔ آپ کو شرم نہیں آتی۔
جنرل صاحب ! آپ کے کل کے منصوبے ناکام۔ آپ کے آج کے منصوبے ناکام۔ آپ کے آنے والے کل کے منصوبے ناکام۔ آپ کی معاشی پالیسی ناکام۔ آپ کی دفاعی پالیسی ناکام۔ آپ کی سفارتی پالیسی ناکام۔ یاد آگیا۔ آپ نے اپنے پھدو دماغ کو استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب اور امارات کو ایسے چکر دیے کہ آپ کو وہ سارے چکر واپس آگئے۔ آج امارات سے عملا تعلقات تاریخ کی کمزور ترین سطح پر ہیں۔ ہزاروں فوجی بغیر کسی سعودی سرمایہ کاری یا لمبے چوڑے پیکج کے سعودی عرب تعینات ہیں۔ آپ نے جس چیز کو ہاتھ لگایا وہ پاخانہ بن گئی۔
جنرل صاحب ! آپ کی ایک ایک ناکامی کی جانب وقت سے پہلے اشارہ کیا۔ آپ کے ایک ایک فعل کا نتیجہ بتایا جو کچھ خاص مختلف نہیں نکلا۔ جنرل صاحب ان سب ناکامیوں کا مشترکہ بوجھ بھی ایک دن گرے گا۔ آپ پر گرے گا۔ آپ سے بعد میں آنے والوں پر گرے گا۔ ہم تو پہلے ہی اس بوجھ کے نیچے ہیں۔ جنرل صاحب انتظار فرمائیے۔
کلمہ پڑھ کر کہتا ہوں 40 سال نواز شریف کو ووٹ دیا ہے، اب نہیں دینا، عوام کیلئے کچھ نہیں کیا، یہاں 100 لوگ کھڑے ہیں کسی کی روٹی پوری نہیں ہوتی۔ لاہور کے شہری کی رائے
ایک بار پھر ثابت ہوا کہ امریکہ عمران حکومت سے خوش نہیں تھا،ایک بار پھر ثابت ہوا کہ امریکہ عمران خان کے دورہ روس سے خوش نہیں تھا،ایک بار پھر ثابت ہوا کہ ڈونلڈ لو نے کہا تھا کہ “اگر عمران خان کےخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو امریکہ سب کچھ معاف کردے گا ورنہ۔۔۔ایک بار پھر ثابت ہوا کہ امریکہ نے کھلم کھلا سنگین مداخلت کی اور ایک بار پھر ثابت ہوا کہ سائفر ایک حقیقت ہے۔۔