शाहरुख सलमान आमिर अमिताभ कोहली तुमसे तो अच्छे ये निकली हिम्मत तो रखती है सिस्टम की आंख में आंख डालने की . तुम लोग तो यार ED VD से डरे हुए हो . पूनम well done
مولانا کی تقریر پر اتنا ہی کہوں گا کہ آؤٹ کلاس ، یہ دلیل کی ایک معراج تھی دلیل کے ہتھیار کا جس طریقے سے استعمال کیا گیا اور جس طرح سیاسی زبان میں غیر سیاسی لوگوں کو سمجھایا ہے اس سے ایک بات واضح ہو گئی کہ اس ملک کا مستقبل سیاستدانوں کے ہاتھ میں ہے مولانا نے دلیل کے ہتھیار سے اس غلیل کو پاش پاش کر دیا جس سے انہیں نشانہ بنایا جا رہا تھا ! مطیع اللہ جان ۔۔
رنگ نہیں کتاب دیکھو ۔۔
چودہ سو سال پرانے رشتے سائن بورڈوں پر رنگ پھیرنے سے ختم نہیں ہو سکتے ۔
اگر حقیقت جاننی ہے تو بازار میں رنگ و برش تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اپنی ہی کتابیں کھولنے کی ضرورت ہے تمھاری اپنی کتب گواہی دیتی ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے داماد تھے۔
رنگ پھیرنے سے بندہ رنگ باز تو لگتا ھے مگر صاحب دلیل نہیں
پہرہ جاری رہے گا ان شاءاللہ
✍️ مفتی ابو محمد عفی عنہ
8 فروری 2024 کے انتخابات میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے بیٹے، اسد محمود، تقریباً 5 ہزار ووٹوں کی برتری سے جیت رہے تھے، مگر فارم 47 کے ذریعے انہیں ہرا کر یہ نشست تحریک انصاف کے امیدوار کو دے دی گئی۔
وہ شخص کون تھا جس نے مولانا کے بیٹے کی جیتی ہوئی نشست تحریکِ انصاف کے ہارے ہوئے امیدوار کو دی؟ اس شخص کو قوم کے سامنے لاناچاہئے
خیبر پختونخوا میں کئی ایسی نشستیں تھیں جہاں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدوار جیت رہے تھے، مگر مبینہ بدترین دھاندلی کے ذریعے وہ نشستیں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو دے دی گئیں
نوٹ 2018 اور 2024 کے الیکشن نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ کے بھی بدترین الیکشن تھے اس طرح کے الیکشن ہوتے رہے تو اگلے 78 سال بھی پاکستان IMF اور عرب ممالک کے قرضوں کے سہارے چلے گا
جب تک عوام کے فیصلوں کا احترام نہیں کیا جاتا یہ ملک کبھی آگے نہیں جا سکتا
تم نے پہلےبھی میرےخلاف جھوٹے پراپیگنڈے کیےکہ میں نے ڈیزل پرمٹ لیے ہیں پلازےبنائے ہیں، آج تک کوئی ایک دستاویز سامنے نہیں لاسکے۔ ایک اعلی ترین عہدیدار سے ملاقات میں جب شواہد پوچھےتو انہوں نے سر جھکاکر کہا “میں concerned quarters کو کہہ دونگا آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان
گل ودھ گئی اے مُختاریا ۔۔۔۔
جمیعت وکلاء کنونشن اسلام آباد خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مُجھے معافی مانگنے کا کہنے کی بجائے میرے خلاف اپنے دفتر سے پروپیگنڈہ لیڈ کرنے والا جرنیل مُجھ سے معافی مانگنے ! 👇
اب تک یہ مجھ سے رابطے بھی کرتے تھے لیکن جس دن انہوں نے کہا جی ہم آپ کے پاس آئے ہیں بلوچستان حکومت میں تو کم از کم ہمارے ساتھ شرکت کر لو، میں نے مولانا عبدالواسع کو ساری صورتحال بتائی اور میں نے کہا کہ اپنی جماعت سے مشورہ کر لو، انہوں نے جماعت سے مشورہ کیا اور جماعت نے کہا نہیں ہم کبھی اس حکومت میں شامل نہیں ہوں گے، مولانا فضل الرحمن
ہندوستان کے ساتھ سرحد بند ہے، افغانستان کی سرحد بند ہے، چین آپکے ساتھ کاروبار کے لیے تیار نہیں۔ انڈیا کے خلاف جنگ اور امریکا ایران کی جنگ بندی میں ہم نے آپکی حمایت کی۔ آپکو ٹرمپ نے تھپکی دی، پاکستان کے جھنڈوں کے نیچے آبنائے ہرمز سے اپنے جہاز گزارے، آپ واپس پہنچے تو اس نے دوبارہ ایران پر حملہ کردیا۔ مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کا ایک پرانا انٹرویو جس میں انہوں بتایا تھا کہ الیکشن میں خفیہ اداروں کی مداخلت کا پتہ چلنے پر جے یو آئی نے انتخابی سیاست سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تو خفیہ اداروں نے رابطہ کیا اور معذرت کرتے ہوئے درخواست کی آپ فیصلہ واپس لیں ہم آئندہ مداخلت نہیں کرینگے ۔۔۔۔
مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست سے میں ہمیشہ اختلاف کرتا رہا ہوں، اور ہمیشہ ان سے سوالات بھی کرتا رہا ہوں، خاص طور پر افغانستان کے حوالے سے ان کی پالیسی پر۔ اس لیے میں ان کا ناقد رہا ہوں۔
میں اس تقریر کے میرٹس پر بات کروں گا۔ میں نے پوری تقریر بار بار سنی، مگر مجھے اس میں کہیں بھی شہداء کی توہین نظر نہیں آئی۔
مولانا صاحب نے صرف ذمہ داری (Responsibility) کی بات کی ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ "ہم تو شہداء دیتے ہیں"، تو مولانا صاحب نے کہا کہ دہشت گردی، داخلی سیکیورٹی (Internal Security)، خارجی سیکیورٹی (External Security)، داخلی خطرات (Internal Threats) اور خارجی خطرات (External Threats) سے نمٹنا کس کی ذمہ داری ہے؟ یہ فوج کی ذمہ داری ہے، اور یہ ذمہ داری آئین و قانون کے تحت اسی ادارے کو سونپی گئی ہے۔
یہ تو ایسے نہیں ہو سکتا کہ کوئی سرکاری ملازم یا واپڈا کا ملازم کہے کہ "میں یہ میٹر نہیں لگاؤں گا، کیونکہ میرے لوگ مرتے ہیں۔"
میرے خیال میں مولانا صاحب کی تقریر میں شہداء کی توہین والی کوئی بات نہیں آتی۔ اگر آپ واقعی مولانا صاحب کو شہداء کی توہین کا مرتکب قرار دینا چاہتے ہیں، تو پھر تاریخ کا بھی حساب کریں۔
پاکستان کے اپنے جرنیلوں نے کتابیں لکھی ہیں۔
سینئر صحافی عبداللہ مہمند کی گفتگو
#حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
#سلیکشن_مافیا_نامنظور
#آئین_شکن_مقدس_گائے
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
#معافی_مائی_فٹ
#مولانا_شان_پاکستان