ایک بائیکر کی کہانی ٹویٹ کی ہے پلیز وزیراعلی صاحب اس پر ایکشن لے ٹورزم کو خراب کررہے🤬
لواری ٹنل میں بائیکر کے ساتھ زیادتی بند کرو اور یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں کہ کوئی برگیڈر جنرل کرنل موٹرسائیکل سے اتا جاتا ہوگا حالانکہ اتنے بڑے رینک کا ارمی افسر موٹرسائیکل تھوڑی استعمال کرے گا اور میرے پاس ویڈیو موجود ہے ثبوت کے ساتھ کہ مقامی لوگ موٹر سائیکلوں کے ساتھ اتے جاتے ہیں اگلے پوسٹ میں وہ لگاؤں گا ہم لوگ سیاحت کو فروخت دیتے ہیں اور دور دراز علاقوں میں جا کر امن کا پیغام پھیلاتے ہیں لیکن اج کل لواری ٹنر پر ایک انتہائی تذلیل امیز اور تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں لواری ٹرن میں باکرز کو اپنی موٹرسائیکل خود چلا کر لے جانی کی بالکل اجازت نہیں دی جا رہی قانون اور سیفٹی کے نام پر بائیکرز کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی قیمتی اور شوق سے تیار کی گئی 22 کو وہاں موجود کٹارا لوڈر گاڑیوں پر لاد کر ٹرنل پارک کریں یہ بائکر کے ساتھ سراسر زیادتی اور ناانصافی ہیں ان کٹارا لوڈر گاڑیوں والے بائکر سے من مانی اور باری کرائے وصول کرتے ہیں جو کہ سراسر لوٹ مار ہے موٹر سائیکل کا نقصان لوڈنگ اور ان لوڈنگ کے دوران بائک پر سکریچ اتے ہیں اور قیمتی پارٹس کو نقصان پہنچتا ہے یہ کوئی 70 موٹر سائیکل نہیں کہ جس کے پرزے 50 روپے میں مل جاتے ہیں اور یہاں پر گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہ کسی کلب کا نہیں بلکہ ہم سب کا مسئلہ ہے نہ کسی مخصوص شہر کا بلکہ یہ پاکستان بھر کے ہر اس بائیکر کا مسئلہ ہے جو سڑک پر نکلتا ہے۔ میری اپیل ہے حکومت پاکستان لوکل انتظامیہ اور نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ بائیکرز کو مخصوص حفاظتی اقدامات جیسے ہیلمٹ لائٹس ریفلیکٹرز کے ساتھ لواری ٹنل سے خود بائک چلا کر گزرنے کے اجازت دی جائے اگر کوئی سیکیورٹی یا تکنیکی مسئلہ ہے تو بائیکر کے لیے سرکاری سطح پر باعزت اور مفت رعایتی ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے نہ کہ انہیں پرائیویٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑا جائے تمام بائیکرز بھائیوں سے گزارش ہیں کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور اپنی اواز اٹھائیں اس زیادتی کے خلاف یکجا ہو جائیں جب تک ہم ایک نہیں ہوں گے ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے
🚨ایسٹیبلشمنٹ میں بیٹھے ہویے بغیر سوچ اور دماغ کے لوگ ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے کر جا رہے ہیں ڈاکٹر یاسمین راشدہ جنکی ایسی ویڈیو ثبوت موجود ہیں کہ وہ لوگوں کو کور کمانڈر گھر کی جانب جانے سے منع کر رہی ہیں اس سے بڑا ثبوت دنیا میں کوئی نھی بے گناہی کا
ماہر قانون دان اعتزاز احسن
چینی سیکنڈل کے بعد کوکنگ آئل سکینڈل بھی منظرعام پر۔۔ عالمی مارکیٹ میں کوکنگ آئل کی قیمتوں میں 24فیصد کمی لیکن پاکستان میں کوکنگ آئل کی قیمتیں مزید 4.5 فیصد بڑھ گئیں، جس سے صارفین فی لیٹر 150 روپے زائد ادا کرنے پر مجبور ۔۔پاکستان ملائیشیا اور انڈونیشیا سے رعایتی ڈیوٹی پر کوکنگ آئل درآمد کرتا ہے، لیکن اس سہولت کا فائدہ عوام تک پہنچنے نہیں دیا گیا۔
https://t.co/GGx67vKFNW