حال ہی میں ہند کے کونے کونے سے لاکھوں لوگ جنتر منتر اکٹھے ہوتے ہیں ان کی ایک ہی مانگ ہوتی ہے کہ ہند کا وزیرتعلیم مستعفی ہو۔ جمہور کے آگے مودی حکومت گھٹنے ٹیک جاتی ہے اور وزیر تعلیم کو استعفیٰ دے کر گھر جانا پڑتا ہے جبکہ ہمارے ہاں بھی ایک تحریک کا اعلان کر رکھا ہے ابھی تحریک شروع ہی نہیں ہوئی ہم نے دیکھا کہ کے پی وزراء کو دن دیہاڑے سورج کی روشنی میں نقاب پوش اُٹھا لیتے ہیں اور تو اور پارلیمنٹ لاجز سے پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو بھی اُٹھا لیا جاتا ہے جن کا کوئی اتہ پتہ نہیں ان کے لواحقین عدالتوں میں رٹ دائر کرتے پھر رہے ہیں کہ ان تک رسائی دی جائے۔ جمہوریت میں فرق جان کر جیو
سہیل آفریدی پشاور میں موجود ہیں، جبکہ اسلام آباد کو کنٹینرز لگا کر مکمل بند کر رکھا ہے۔ مزید بر آں موٹروے پولیس کے مطابق کل سے M-1، M-14 اور جی ٹی روڈ N-5 اٹک کے متعدد مقامات پر ہر قسم کی ٹریفک بند رہے گی، جبکہ ہکلہ سے کنڈل تک M-14 دونوں اطراف سے بند ہوگی۔
سوال یہ ہے: اگر حکمران عوام کا سامنا کرنے سے نہیں ڈرتے تو پھر دارالحکومت کو کنٹینرز کے پیچھے کیوں چھپایا جا رہا ہے؟
@SohailAfridiISF
کتا جی !!! پاکستان کسی ایک زبان ، ایک قومیت ، ایک نسل کا ملک نہیں ہے۔ ایک مذہب کی اکثریت ضرور ہے لیکن اس میں بھی آدھے ملک کی باقی آدھے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ کتا جی !!! اتنے ڈائیورس ملک کو آئین اور قانون یکجا رکھ سکتا ہے بندوق نہیں۔ کتا جی !!! آپ کو یہ سبق مشرقی پاکستان سے ملا۔ اب بلوچستان سے مل رہا ہے لیکن آپ سمجھ کیوں نہیں رہے کتا جی؟
آج چند لوگوں کی سوشل میڈیا پر رائے نظر سے گزری جس میں مشورہ دیا جارہا تھا کہ تحریکِ انصاف اگر حکمتِ عملی کے تحت لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھا دے تو جعلی حکومت اور اُنکے ہینڈلرز تھک جائیں گے
میں نے تھوڑی ری سرچ کی اس متعلق، اور مجھے یہ مشورہ بڑا پسند آیا
تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کیلئے لاکھوں کنٹینرز لگائے گئے ہیں
صرف اسلام آباد کے اندر اس وقت 1 ہزار کنٹینر کھڑا ہے
ایک کنٹینر کو یومیہ 20 ہزار روپے دیئے جارہے ہیں
یعنی روزانہ 2 کروڑ روپے صرف اسلام آباد میں کھڑے کنٹینرز کو دیئے جارہے ہیں
اسلام آباد کے علاوہ اٹک پل، جہلم پل اور مختلف شاہراہوں پر کھڑے کنٹینرز بھی ہیں جن کا استعمال راستے بند کرنے کیلئے کیاگیا ہے
تو ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 25 سے 30 کروڑ روپے یومیہ کے حساب سے جعلی حکومت اور اُنکے ہینڈلرز کو نقصان ہو رہا ہے
انکے پاس اس وقت لے دیکر سعودیـہ کی جانب سے دی گئی بھیـک ہی ہے، باقی معیشت تو چل نہیں رہی، امپورٹ ایکسپورٹ صفر ہے، تو یہ زیادہ دن ایسے برداشت بھی نہیں کرپائیں گے
تحریکِ انصاف کو مارچ کی تاریخ ایک ہفتہ آگے کر دینی چاہئے، اسی طرح تھکا تھکا کر اِن کی منجھی ٹھوکنی چاہئے 💀
بشکریہ ڈاکٹر حمنہ
بڑا عجیب طیش ہے پلٹن میدان کی کھوتیوں کا۔ پارٹی عہدیدار گوہر ہے قید بہنیں کر دی ہیں جن کا پارٹی سے تعلق ہی نہیں۔
اوہ ، یاد آیا وہ “تابعدار” نہیں ہیں۔ ٹھیک ہوگیا۔
عمران خان کے کزن قاسم خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ خانم صبح 8 بجے گھر سے نجی کام کے لیے نکلتی ہیں اور معمول کے مطابق دوپہر 12 بجے گھر واپس آتی ہیں جس روز انھیں اُٹھایا گیا وہ گھر واپس نہیں آتی سوشل میڈیا کے توسط سے ان کی گاڑی کی ویڈیو ہم تک پہنچتی ہیں پھر ہمیں بتایا جاتا ہے کہ گاڑی تھانہ مزنگ لاہور میں موجود ہے ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ واقعہ کیا ہوا پھر دو بجے ان کے تھری ایم پی او آرڈر جاری کر دئے گئے ہمیں دو بجے تک معلوم ہی نہیں تھا کہ علیمہ کہاں ہیں اور انھیں کس تھانے میں کس جرم میں رکھا گیا اسی شام 6 بجے پولیس نے عظمی خانم اور علیمہ کے گھروں کا پولیس گھیراؤ کرتی ہے اور رات 8 بجے تک گھر محاصرے میں رہے کسی شخص کو گھر سے باہر اور اندر آنے کی اجازت نہیں تھی رات ڈیڑھ بجتا ہے پولیس اعظمی خانم اور نورین کو گرفتار کر کے لے گئی پولیس گھر میں گھستی ہے اور ایک ایک کمرے کی تلاشی لیتی ہے توڑ پھوڑ اور بدتمیزی کرتی ہے اسی اثناء میں پولیس علیمہ خانم کے دونوں بیٹوں کو بھی بکتر بند گاڑی میں لے جاتی ہے ہمارے گھروں پر اب بھی چھاپے مارے جاتے ہیں
محسن نقوی کو غلط فہمی ہوئی ہے !!
محسن نقوی کہتا ہے کہ بات اس حد تک چلی گئی ہے کہ لوگ جنازہ میں بھی نہیں آتے !
بات اس سے بہت آگے بڑھ چکی، اور کب کی بڑھ چکی !
خود اسٹیبلشمنٹ کے لوگ کہتے پھرتے ہیں کہ لاوا کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
نفرت کا ایک طوفان ہے، جو آنے کو بے تاب ہے !!
غیر سیاسی افسانہ
ہمارے پاس ایک کھوتی ہوتی تھی۔ ساوے رنگ کی ، بڑے جوان آدمی کے مونڈھے مونڈھے۔ صحت مند پلی سوتری ۔ وہ چھ مہینے کی تھی جب ہم اسے امین پور بنگلے والی منڈی سے لیکر آئے تھے۔ کھوتی کا بچہ ہو ، ساوے سے رنگ کا ہو اور چھ مہینے کا ہو تو وہ بہت پیارا لگتا ہے۔ اس کا نام منٹھار رکھ دیا۔ اس سے پچھلی کھوتی کا نام شالیمار تھا۔ کیونکہ یہ دو ہی بسیں ہمارے گاؤں کے قریب سے گزرتی تھیں۔ منٹھار کوچ اور شالیمار کوچ۔ تو پھر ہم متاثر کیوں نہ ہوتے؟
خیر کھوتی جوان ہوئی۔ اسکا لادو نکالا۔ اسے وزن ڈھونے کا عادی بنایا۔ انہی ایام میں ہم بھی بنیرے بنیرے پھرتے تھے کہ شہتیر نا ٹوٹ جائے۔ یعنی جوانی آرہی تھی ۔ جس شیڈ کو جمپ لگا لگا کر ہاتھ لگاتے تھے اب اسکے نیچے سر جھکا کر گزرنے کی ایکٹنگ کرتے۔ کیونکہ سر ابھی پہنچا نہیں تھا لیکن ہمیں دکھانا تھا کہ ہم بہت لمبے ہیں۔ تب پڑھائی سے دل اکتاتا تھا۔ کالج کا پہلا سال تھا تو ہم جوابی ہوگئے کہ بس جی بہت پڑھ لیے۔
اللہ بخشے ابا جی جہاندیدہ آدمی تھے۔ بالکل نہیں سمجھایا کہ پتر پڑھ لے ، پتر مستقبل بنا لے ، پتر محنت کرلے۔ جس دوپہر ہم نے کالج سے واپسی پر فیصلہ سنایا کہ ہم اور تعلیم اب جدا جدا اسی رات ابا جی نے مال ڈنگر کی ذمہ داری کو ہم سے باہم کردیا بتایا دیا کہ صبح جوار تم لاؤ گے انکو جانوروں کے آگے تم ڈالو گے دودھ نکالنا بھی تمہاری ذمہ داری۔ اسکے بعد ابا جی نے ایک گہری سی خاموشی اپنے اوپر طاری کرلی۔
کاشتکاروں کے سکول جاتے بچوں کا سب سے بڑا خواب ہی یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح پڑھائی سے جان چھوٹے اور یہ مال ڈنگر سنبھالنا کیا مشکل؟ اتنے ٹیٹنے کھوتی نا مارے جتنے ہمارے خوشی سے نکلیں۔ منٹھار بھی نئی نئی کام پر لگی تھی۔ درانتی کچھے لگائی منٹھار کو رسی سے پکڑا اور ببر شیر کھیت میں پہنچ گیا۔ دو تین کلاوے بنائی اٹھا کر منٹھار کے اوپر رکھی اور واپسی شروع۔
رستے میں ایک کھال پڑتا تھا وہاں جا کر منٹھار رک گئی کہ نا میاں ہم تو یہاں سے آگے نا جائیں۔ میں کبھی اسکی رسی پکڑ کر کھینچوں، کبھی اسکے جوار کے ٹانڈے سے ماروں لیکن منٹھار ٹس سے مس نا ہو۔ بالآخر میں نے غصے سے درانتی کی نوک منٹھار کی ٹانگ پر چبھوئی۔ منٹھار نے جمپ لگایا جوار ساری نیچے آدھی کھال کے اندر آدھی کھال کے باہر۔ رسی ہاتھ سے چھڑا کر منٹھار غائب۔ خیر طویل مشقت کے بعد جوار بھی گھر پہنچی ، منٹھار بھی اورہم بھی۔ ابا جی نے دور سے بھی سب کچھ دیکھا اور خاومشی سے پاس سے بھی گزر گئے۔ پہلا دن اور اتنی ذلالت؟
اگلے دن سوچا منٹھار ایسے نہیں جائے گی۔ جھل ، پلانا ، واہنا سب کچھ منٹھار کے اوپر کس دیا کہ قابو میں رہے گی۔ واپسی پر منٹھار کھال پر پہنچی پہنچتے ہی تربھک کر جمپ لگایا ، واہنا پلانا جھلاں جوار ہر شئے تھلے اور منٹھار فرار۔ پھر اذیت کرکے سب کچھ گھر پہنچایا۔ باقی دن کی روداد بھی کچھ ایسی ہی۔ ابا جی دیکھتے رہے۔ خاموش رہے۔
تیسرے دن ایک عزیز سے ریہڑی مانگی۔ اس کی کاٹھی مانگی ۔ منٹھار کو اس میں جکڑ دیا اور خود ریہڑی کے اوپر بیٹھ گیا، پاس ہی ابا جی خاموشی سے سب کچھ دیکھتے رہے۔ اس مرتبہ منٹھار نے جاتے سمے ہی اپنا کرتب دکھا دیا۔ جیسے ہی کھال پر پہنچی سرپٹ بھاگنا شروع کردیا۔ میں نے پہلے اپنا آپ بیلنس کرنے کی کوشش کی۔ لیکن تھوڑا سا آگے جا کر گر گیا۔ ریہڑی کو لیکر بھاگنا مصیبت ہوتا ہے۔ منٹھار بھی تھوڑا آگے جاکر رک گئی۔
میں کپڑے جھاڑتے ہوئے لنگڑاتا ہوا چھیلی کہنیوں کیساتھ کھڑا ہوا کہ کسی نے دیکھا تو نہیں۔ دیکھا بھی تو کس نے ؟ اباجی ، کہیں قریب ہی تھے۔ آرام سے آئے لمبا سا ایک ڈنڈا ان کے ہاتھ میں تھا ، منٹھار کو ریہڑی سے کھولا ساز اتارا۔ منٹھار کو رسی سے پکڑا کھال کی طرف کھینچا منٹھار نے نینو سیکنڈ کے برابر معمولی سی اڑی کی ابا جی نے ڈنڈا گھما کر اسکی کمر پر دیا۔ منٹھار چل سو چل۔ ایک دفعہ ادھر سے گزارا پھر ادھر پھر ادھر۔ میں اپنی جگہ پر ساکن۔ میرے پاس آئے اور تین روزہ چپ کا روزہ توڑتے ہوئے نہایت بلند آواز سے آنکھوں سے شعلے برساتے ہوئے فرمایا یہ کھوتا مال ہے۔ یہ ڈنڈے کی زبان سمجھتا ہے۔ تم کھوتے ہو تو تمہیں بھی ڈنڈے کی زبان سے سمجھاؤں؟
اب میں کھوتا تو تھا نہیں سمجھ گیا کہ بابا کتھوں بولدا۔ دوپہر کو اعلان کردیا کہ شہر والا کالج مجھے پسند نہیں آیا یہاں تعلیم کا معیار اچھا نہیں ہے اس لیے میں اب لاہور جاکر داخلہ لوں گا اور دل لگا کر خوب محنت سے پڑھوں گا اور یوں میں پھر اعلی تعلیم حاصل کرنے لاہور تشریف لے آیا۔ باقی جو سیکھا اس نے ساری زندگی ساتھ دیا۔ لیکن ضیاء کے دور سے دیکھنا شروع کیا ، بیگ دیکھا ، مشرف دیکھا ، کیانی دیکھا ، باجوہ دیکھا اب یہ والا سائیں لوک دیکھا جب جب دیکھا ابا جی کی آواز کانوں میں پڑی کہ یہ کھوتا مال ہے۔ یہ ڈنڈے کی زبان سمجھتا ہے۔
یہ بھی کھوتے نا ہوتے سمجھ جاتے
جس طرح کپتان حق پر کھڑے ہیں، جس طرح آج آپ حق پر کھڑے ہیں، کل کو سلیمان سہیل جیسے نوجوان ہی آپ کی جگہ لیں گے۔
آج اگر آپ سلیمان سہیل کے لئے آواز اٹھائیں گے تو اِس نوجوان لاڈلے کی حوصلہ افزائی ہوگی، سلیمان سہیل پاکستان کا مستقبل ہے، مستقبل کو بچاؤ!
#WhereIsSulemanSohail