⚠️ BE AWARE ⚠️
"It is possible that the Indian Prime Minister Modi, who is currently in Israel, flies from Israel in his plane, and Israel destroys it and gets Modi killed, then blames it on Iran and starts a war between India and Iran
#IranvsUSA#Khamenei#IsraelTerroristState
یہاں تنہا دل حیدر وہاں لاکھوں جفا پیکر
یہاں بس خاتم نیزہ وہاں تیغ و سینہ خنجر
یہاں سوکھا ہے مشکیزہ وہاں سیراب ہے لشکر
یہاں شوق شہادت ہے وہاں شوقین مال و ذر
مقابل مرحب و كے صاحب کردار آتا ہے
علم بردار آتا ہے
ایرانی صدر نے 55 ہیجڑوں کے منہ پر تھپڑ مارا🚨
دنیائے اسلام کی سب سے بڑی مصیبت کہ وہ قران سے دور ہو چکے ہے امت مسلمہ قران سے دور ہو چکی ہے وہ آپس میں اس بات پر لڑرہے ہے کہ وہ شیعہ ہے سنی ہے عربی عجمی ان چکروں میں پڑی ہے اس لیے مار کھا رہے ہیں !!
Please watch & share this interview my boys Sulaiman & Kasim did about their father, Imran Khan, who has been held in solitary confinement for almost 2 years despite the UN ruling that his detention is arbitrary & unlawful. Proud Amma.
انڈیا سمجھتا تھا کہ پاکستان پر حملہ کر دیتے ہیں، پاکستانی عوام اب پاک آرمی کے خلاف ہے، وہ بیچارے یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ ہم پاکستانی قوم ہیں، ہم سوچتے کچھ ہیں، بولتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں..
#IndiaPakistanWar#PakArmedForcesZindabad#JF17#war
ہوا کی گونج میں اُڑتا ہوا شہباز دیکھیے،
علم و ہنر کا اپنے یہ اعجاز دیکھیے،
دیکھیے آسمان پر شیروں کی دیدہ دلیری،
سُرخرو ہوتا ہوا معراج دیکھیے،
لُطف و عطاءِ ربِ جہاں ہم میں ہے،
ٹھنڈر کی آسمان میں پرواز دیکھیے،
#JF17#IndiaPakistanWar#PakistanArmy#PakistanAirForceZindabad
شہادت کی تڑپ کا رقص دیکھیں ❤️نہ ڈر،،نہ خوف رتی بھر پرواہ نہیں ❤️ہمارے شاہینوں کا رقص تو دیکھے دنیا۔۔ جب ایمان کی طاقت سینوں میں ہو تو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔۔۔۔
Pakistan Zindabad 🇵🇰
اردو ورثہ کی یہ کاوش پسند آئے تو ریٹویٹ ضرور کیجیے گا۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو غیر مسلم شعرا کا خراجِ عقیدت
.....
اور غم زمانے کے دور دور رہتے ہیں
اک حسین ؑ کا غم ہے جب سے مہرباں اپنا
جو شہیدوں نے لہو سینچا نہ ہاتا بے تاب
یہ جو اسلام کا گلشن ہے بیاباں ہوتا
پرتپال سنگھ بیتاب
...
غم ہے مری فطرت میں تو غم کرتا ہوں ماتھرؔ
ہندو ہوں مگر دشمنِ شبیرؑ نہیں ہوں
(منشی دیشو پرشاد ماتھر)
....
خمارؔ اپنے مسائل کا حل ہے کرب و بلا
غمِ حسینؑ پہ ہم انحصار کرتے ہیں
(ست نام سنگھ خمار)
....
ہے حق و صداقت مرا مسلک ساحرؔ
ہندو بھی ہوں شبیر کا شیدائی بھی
(رام پرکاش ساحر)
....
وہ دل ہو خاک نہ ہو جس میں اہلِ بیت کا غم
وہ پھوٹے آنکھ جو روئی نہ ہو محرم میں
(رائے بہادر بابو اتار دین)
....
رکھتے ہیں جو شبیر سے کاوش پنڈت
ایسے تو مسلمانوں سے ہندو اچھے
(پنڈت ایسری پرشاد دہلوی)
...
جے سنگھ پناہ مانگے گی مجھ سے نرگ کی آگ
ہندو تو ہوں مگر ہوں میں شیدا حسینؑ کا
(جے سنگھ )
....
گلشنِ صدق و صفا کا لالۂ رنگیں حسین
شمعِ عالم، مشعلِ دنیا، چراغِ دیں حسین
بادۂ ہستی کا ہستی سے تری ہے کیف و کم
اٹھ نہیں سکتا ترے آگے سرِ لوح و قلم
(کنور مہندر سنگھ بیدی)
....
رہے گا رنج زمانے میں یادگار ترا
وہ کون دل ہے کہ جس میں نہیں مزار ترا
(چکبست)
....
لیا خیال کا جب تیرے آسرا میں نے
ہوا یقین کہ منزل کو پا لیا میں نے
خدا کرے کہ مجھے خواب میں حسینؑ ملیں
تمام رات اندھیروں میں کی دعا میں نے
(چرن سنگھ چرن)
....
حسینؑ حوصلۂ انقلاب دیتا ہے
حسین شمع نہیں آفتاب دیتا ہے
(سنت درشن سنگھ)
...
سلامی کیا کوئی بے کار ہے جی سے گزر جانا
حیاتِ جاوداں ہے شاہ کے ماتم میں مر جانا
نہیں آتا جنہیں راہِ حقیقت سے گزر جانا
حسین ابنِ علی سے سیکھ لیں وہ لوگ مر جانا
(حکیم چھنو مل دہلوی)
...
حسین ابنِ علی ہیں فرد یکتا
کوئی مظلوم ایسا تھا نہ ہوگا
دیا سر آپ نے راہِ خدا میں
کِیا دینِ نبی کو دین اپنا
ولائےں سبطِ پیغمبر ہے نعمت
یہ نعمت ہو عطا ہر اک کو مولا
(سرکش پرشاد)
....
ہے آج بھی زمانے میں چرچا حسینؑ کا
چلتا ہے ملک ملک میں سِکہ حسینؑ کا
بھارت میں گر وہ آتا تو بھگوان کہتے ہم
ہر ہندو نام پوجا میں جپتا حسین ؑ کا
مذہب کی کوئی بات نہیں دل کی بات ہے
ہر حق پرست دل سے ہے شیدا حسینؑ کا
مسلم تو پڑھتے آئے ہیں کلمہ رسولؐ کا
ہم ہندوئوں نے پڑھ لیا کلمہ حسینؑ کا
ساحل سے سر پٹختی ہیں پیاسوں کی یاد میں
لے لے کے نام گنگا و جمنا حسینؑ کا
اس میں نہیں کلام کہ ہم بُت پرست ہیں
آنکھوں سے اپنی چومیں گے روضہ حسینؑ کا
(دیوی روپ کماری)
....
متاعِ زیست کو اس پر نثار کرتے ہیں
نہ ہم سے پوچھیے کس غم سے پیار کرتے ہیں
رواں ہے شام و سحر چشم ِ درد سے ساگر
غم ِ حسین ؑ سے ہم بھی تو پیار کرتے ہیں
ڈاکٹر امر جیت ساگر
....
یہ معجزہ بھی پیاس جہاں کو دکھا گئی
آنکھوں میں آنسوئوں کی سبیلیں لگا گئی
کرب و بلا میں دیکھیے شبیر ؑ کی ’’ نہیں‘‘
ہر دور کے یزید کو جڑ سے مٹا گئی
سورج سنگھ سورج
....
کم جس کی خیالیں ہوں‘ وہ تنویر نہیں ہوں
بدعت سے جو مٹ جائے وہ تصویر نہیں ہوں
پابند شریعت نہ سہی گو لچھمن
ہندو ہوں مگر دشمن شبیرؑ نہیں ہوں
منشی لچھمن داس
....
نکلیں جو غمِ شہ میں وہ آنسو اچھے
برہم ہوں جو اس غم میں وہ آنسو اچھے
رکھتے ہیں جو حسینؑ سے کاوش پن
ایسے تو مسلمانوں سے ہندو اچھے
پنڈت ایسری پرشاد پنڈت دہلوی
....
ظالموں کے اتنے جھانسوں میں بھی تو آیا نہیں
دیکھ کر طاقت کو تیرا دل بھی گھبرایا نہیں
دولت ِ دنیا کے آگے صبر جھک پایا نہیں
زندگی ٹھکرائی تو نے عزم ٹھکرایا نہیں
دوسروں میں ایسی جرات کی فراوانی کہاں؟
سارے عالم میں بھلا تیری سی قربانی کہاں؟
پرتپال سنگھ بیتاب