ھمیں بلدیاتی انتخاب ضرور کرانے چاہئیں لازم ھے۔ مگر ان انتخابات کے نتیجے میں ایسے ادارے وجود میں آنے کی ضرورت ھے جو با اختیار ھوں۔ جو صوبائی حکومتوں کے مرہون منت نہ ھوں۔ جسمیں مئیر اور نمائندے بلدیاتی نظام پہ تہمت نہ ھوں۔ عوام کے ووٹ کی قدروقیمت سمجھتے ھوں ۔ ورنہ اس گناہ بے لذت کی ضرورت نہیں۔ ۔
جادوگری 2018 کے انتخابات میں ہوئی تو وہی جادوگری 2024 کے الیکشن میں بھی ہوئی تھی۔۔۔۔ اگر یہی جادوگری سے حکومت لانی ہے تو الیکشن پر اتنا پییسہ کیوں برباد کیا جاتا ہے!
Legend Of The Fall
بہت ساری معذرت کے ساتھ آپ جو عوام میں اہم ایشوز پر کہتی ہیں یا ٹوئٹر پر ٹوئٹ لکھتی ہیں، اس سب کے الٹ آپ کمیٹی اجلاسوں میں پوزیشن لیتی ہیں بلکہ حکومتی وزراء اور بابوز اور افسران کو مشکل وقت میں بڑے آرام سے bail out کرتی ہیں۔
میں آپ کا ماضی میں فین رہا ہوں کہ آپ نے بہت مشکل اور اہم ایشوز بہادری سے اٹھائے جس کے ہم مداح رہے ہیں۔
لیکن پچھلے کچھ عرصے سے آپ کی پبلک پوزیشن اور بند کمروں میں پوزیشن میں خود دیکھی ہے جس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس کے بعد آپ کی ان باتوں پر یقین نہیں رہا۔
آپ کو یاد ہے سابق چیرمین محمد علی رندھاوا نے جو اسلام آباد کی خوبصورتی اور 40 ہزار درختوں کو تباہ برباد کیا تھا اس پر آپ نے بیرون ملک سے ٹوئٹ کیا تھا کہ وطن واپسی پر آپ سب کا حشر نشر کر دیں گی کیونکہ آپ سینٹ ماحولیاتی کمیٹی کی چیرپرسن ہیں۔ ہم سب کو امید پیدا ہوئی۔ لیکن آپ نے کمیٹی اجلاس والے دن کیا کیا؟
آپ نے اجلاس سے دو دن دن پہلے سینٹ داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر طلال چوہدری اور رندھاوا کو تسلی دی کہ پریشان نہ ہوں میں سی ڈی اے چیرمین کو اجلاس میں ٹف ٹائم نہیں دوں گی۔ ہم صحافی یہ باتیں سن رہے تھے۔
میں نے آپ کو اجلاس کے بعد ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے افسوس سے کہا کہ کیا یہ ہمارا ذاتی مسلہ ہے سی ڈی اے یا رندھاوا سے؟
میں نے کہا آپ کو رندھاوا کو شہر کی ماحولیاتی بربادی ٹف ٹائم دینا چاہئے جس پر آپ نے مجھے کہا آپ یہ بات مجھے نہیں کہہ سکتے۔
میں نے جواب دیا تھا آپ ہمارے نمائندے ہیں ہم کہہ سکتے ہیں۔ اس بیس گریڈ افسر نے تباہی بول دی اور اپ سب چپ رہے۔
پھر آپ نے اس ماحولیات اجلاس میں کیا کیا تھا جس کی آپ چیرپرسن ہیں؟
میں دیگر صحافیوں کے ساتھ موجود تھا۔ آپ نے کمال مہربانی سے سی ڈی اے اور رندھاوا کو ٹف ٹائم نہیں دیا جس کا وعدہ طلال چوہدری سے آپ نے کیا تھا۔ اسلام آباد کی بربادی کرنے والا رندھاوا آپ کے اس اجلاس میں “حسن سلوک “ کی وجہ سے سب کو چڑاتا ہوا آپ کے اجلاس سے خوش خوش گیا تھا۔
ابھی بھی اس ٹیلی کام بل پر آپ وہی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ آپ کی پبلک اور اندر کھاتے پوزیشن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
آپ کی پوری پارٹی جانتی ہے آپ اور نوید قمر کی اس بل پر حکومت کو پوری سپورٹ تھی جس وجہ سے اسمبلی سے پاس ہوا۔ آپ نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ آپ کی سب مزاحمت یہاں ٹوئٹر پر ہے، اجلاس میں آپ حکومتی وزراء اور افسران کے ساتھ ہوتی ہیں۔ خود شزا فاطمہ نے جیو کو انٹرویو میں بتایا کہ پی پی پی کی ساری مرضی اور تعاون کے ساتھ بل پاس ہو۔
افسوس ہوتا ہے آپ جیسی کبھی کی بہادر اور ذہین سینٹر دھیرے دھیرے اس سیاسی رنگ میں رنگی گئی ہیں جو ہمارے جیسوں کے لیے مایوس کن ہے جو آپ کو کبھی آپ کے زبردست ہیرالڈ کے دنوں کے بیک گراونڈ کی وجہ سے بہت امیدیں باندھے ہوئے تھے کہ آپ کبھی سیاسی یا کارپوریٹ مفادات کی مصلحتوں کاشکار نہیں ہوں گی۔ آپ عوامی مفادات پر بیوروکریٹس اور وزیروں یا کارپوریٹ ورلڈ کے مفادات کو اہمیت نہیں دیں گی۔
لیکن ہم سب غلط نکلے۔ آپ بھی اب وہی سیاست کرتی ہیں جو دیگر عام سیاسی لوگ کرتے ہیں۔ وہ فرق مٹ گیا کہ کوئی آپ کی طرح پڑھے لکھے اربن بیک گراونڈ سے تعلق رکھتا ہو فارن کوالیفائڈ ہو وہ اس ایم این اے یا سینٹر سے مختلف اور بہتر ہوگا جو عام دیہاتی پس منظر سے عام تعلیم کے ساتھ محض کسی پارٹی کو بڑا فنڈ دے کر پارلیمنٹ پہنچ گیا ہو۔
آپ پھر اس ٹیلی کام بل پر بھی سب کو وہی پرانی آزمودہ گولی دے رہی ہیں جو آپ نے اسلام آباد کی ماحولیاتی بربادی پرٹوئٹ کر کے دی تھی کہ کس کو نہیں چھوڑیں گی۔ پھر ہم سب نے دیکھا آپ نے اپنی کمیٹی اجلاس میں محمد علی رندھاوا سمیت سب کو کلین چٹ دی تھی۔ آپ اپنی سیاسی ساکھ کھو چکی ہیں۔آپ پر اب کون اعتبار کرے۔
What a fall
@BBhuttoZardari@sharmilafaruqi@ShaziaAttaMarri@A_Qadir_Patel@PalwashaKhan18@naveedqamarmna@SyedAghaPPP@HinaRKhar@Ali_MuhammadPTI@SyedAliZafar1@SenatorSaleem@Nabilgabol@ninoqazi@najamsethi@SyedaAyeshaNaz1@murtazasolangi@AyazSadiq122@BilalAKayani@DrTariqFazal@CMShehbaz@MIshaqDar50@MohsinnaqviC42
وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا ماننا ہے سینئر صحافیوں نے ایشو بنایا ہے ورنہ یہ ٹیلی کام بل والی اتنی بڑی بات تھی نہیں۔ان کے کہنے کا مطلب ہے سینئر صحافیوں کے پاس خبر نہ تھی تو بنالی. انہیں یہ صحافیانہ شرارت لگتی ہے۔
یہ وہ کلاسک سیاسی سوچ ہے کہ اس کلپ میں وزیرقانون اپنی غلطی مان بھی رہے ہیں اور نہیں بھی مان رہے۔ بل کے سنگین اثرات کا پاکستانی عوام کی جائیدادوں ذکر بھی ہے لیکن اسے کوئی بڑا ایشو بھی نہیں مانتے۔ ہر اعتراض مان بھی رہے ہیں لیکن انکاری بھی ہیں۔
ان کا مطلب ہے ٹیلی کام بل سینٹ نے روک دیا لیکن یہ کوئی اتنی بڑی خبر یا بات نہیں ہے۔سینر صحافیوں کی شرارت ہے۔
بل پر وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لیا اور گیارہ رکنی کمیٹی بنا دی کہ غلطیاں دور کریں لیکن وزیرقانون کے نزدیک یہ کوئی اتنی بڑی خبر ہے نہیں۔
وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ صاحبہ نے تسلیم کیا اس بل میں غلطیاں ہیں جنہیں دور کریں گے ، اس بل کی زبان ٹھیک ہونے والی ہے لیکن وزیرقانون فرماتے ہیں یہ اتنی بڑی خبر ہے نہیں۔
پی پی پی کا کہنا ہے ہم اس بل کو موجودہ شکل میں سینٹ میں سپورٹ نہیں کریں گے لیکن بقول وزیرقانون یہ کوئی بڑی خبر یا بات نہیں ہے جسے سینئر صحافی رپورٹ کرتے۔
وزیرقانون کہنا چاہ رہے ہیں ہم نے بل میں ان غلطیوں کو دور کرنے کے لیے اب تک وزیراعظم کی ہدایت پر دو میٹگینز کر لی ہیں اور کل تیسری میٹنگ کریں گے لیکن یہ کوئی اتنی بڑی خبر نہیں ہے۔ بس سینئر صحافیوں کی شرارت لگتی ہے۔
پچیس کروڑ لوگوں کی جائیدادوں کے حقوق کا مسلہ تھا لیکن یہ کوئی اتنی بڑی خبر یا بات نہیں تھی کہ یہ خبر بنتی یا سینئر صحافی اس پر پروگرام کرتے۔۔ یہ صحافیانہ شرارت ہے۔۔
پورا ملک اس بل پر خوفزدہ ہے لیکن وزیرقانون مانتے ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔۔ صحافیوں کے پاس خبر نہ تھی تو اسے بنا لیا۔۔ 😎
@PalwashaKhan18@sherryrehman@naveedqamarmna@A_Qadir_Patel@AzamNazeerTarar@AyazSadiq122@najamsethi@SyedaAyeshaNaz1@BilalAKayani@DrTariqFazal@HinaRKhar@ShaziaAttaMarri@sharmilafaruqi@SyedAghaPPP@Nabilgabol@SyedAliZafar1@CMShehbaz@MIshaqDar50
جنابِ اسپیکر! پارلیمنٹ لاجز کو ان ’ویگو ڈالوں‘ سے بچائیے۔ ہمارے ارکان اور ان کے اہلِ خانہ وہاں چہل قدمی کر رہے ہوتے ہیں، جبکہ سبز نمبر پلیٹ والی ویگو گاڑیاں اس طرح گزرتی ہیں جیسے کہیں آگ لگی ہو اور یہ اسے بجھانے جا رہی ہوں۔
اس پر پابندی لگنی چاہیے۔ جو شخص ویگو ڈالے کی اسٹیئرنگ پر بیٹھتا ہے، لگتا ہے اس کے دماغ کو کچھ ہو جاتا ہے۔ خواجہ آصف
موصوفہ وزیر کو عہدے سے ہٹا کر تحقیقات کی جائیں کہ 'ٹیلی کمیونی کیشن بل' کس کے کہنے پر فوری فوری قومی اسمبلی سے منظور کروایا گیا، کس کے مفادات اس بل سے جڑے ہیں اور کیا اسمبلی میں اندھے اور کانے لوگ بیٹھے ہیں!
#shazafatima#moitofficial#nationalassembly
ٹیلی کم کمپنیوں نے پیسے کھلائے ہیں اور یہ بل پاس کروانے کی کوشش کررہے تھے۔
مجھے شزا فاطمہ پر غصہ آیا۔ میں شاکڈ ہوں کہ اس قسم کی خاتون انھوں نے رکھی ہوئی ہے۔اس کو فوری ہٹانا چاہیے۔ نجم سیٹھی
شزا فاطمہ کی توجیہات کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہیں. انڈرگراؤنڈ فائبر ہر جگہ بچھائی جا رہی ہیں، وہ کوئی پرائیویٹ سوسائیٹی ہو یا حکومتی جگہ ہو.
ہماری سوسائیٹی میں سٹارم فائبر کی فائبر آپٹک بچھی ہوئی ہے اور وہ فائبر آپٹک کا ہم سے ہر مہینے 150 روپے سوسائیٹی کیلئے بل میں شامل کرتے ہیں.
معاملہ یہ ہے کہ اگر میں اپنے گھر پر ٹاور نہیں لگوانا چاہتا تو ٹیلی کام کمپنی مجھے دھمکائے گی کہ مان جاؤ ورنہ ہم ٹاور بھی لگائیں گے اور پانچ کروڑ روپے جرمانہ بھی حکومت سے کروائیں گے.
ایسا فضول اور غیرآئینی بل خواجہ آصف کی بھانجی نے منظور کروایا ہے اور ساری اسمبلی نے اسے پاس کردیا ہے. یہی وہ اراکین اسمبلی ہیں جو کہتے ہے کہ انہیں عوام کے ٹیکس سے دس دس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے تاکہ یہ عوام کے گھروں کو تڑوائیں اور انہیں پانچ کروڑ روپے جرمانہ بھی کریں.
حیرت ہے اتنے دن گزرنے کے باوجود بھی خواجہ آصف نے اس بل پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کیونکہ وہ خود بھی اس بل کو پاس کرنے والوں میں شامل ہیں.
یہ بل عوام کے حقوق پر دن دیہاڑے ڈاکہ ہے. اسے فوراً منسوخ کرنا چاہئے اور شزا فاطمہ سمیت جنہوں نے بھی یہ بنایا ہے انہیں عہدوں سے فارغ کر دینا چاہئے.
How can anyone still support this Israeli govt when psychopathic monsters like Ben Gvir are ministers in it, advocating genocide in Lebanon? Disgusting.
Ju wada kiya usko pura kiya!
What I had promised, what our government had promised regarding the oil and petrol announcement, that when a price reduction comes, we will return every single penny back to the nation, so today, God willing, a significant reduction will be announced.
ُُپاکستان کی قومی اسمبلی کا معاملہ یہ ہے کہ نکمے نمائندے بغیر پڑھے بل کی منظوری دے دیتے ہیں۔۔۔۔ بعد میں پتا چلتا ہے کہ بل میں لکھا کیا ہے۔۔۔ تف کے سیاست دانوں پر
بل کےمتن میں شامل الفاظ کےحوالےسےجن تبدیلیوں کی ضرورت ہےوہ ضرور کی جائیں گی ۔ 5 کروڑ تک کا جرمانہ اُسی صورت میں عائد ہو گا کہ جب باہمی رضامندی سے معاہدہ ہونے کے بعد زمین یاجائیداد کے مالک کی جانب سے خلاف ورزی کی جائے گی،وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ