اسٹبلشمنٹ کہتی ہے اصل میں ہم یہ ملک ٹھیک کرنا چاہتے ہم ملک کے سگے ہیں میں اسٹبلشمنٹ کے اتحادی دیکھتا ہوں میں کہتا ہوں یہ ان کا اس ملک کے ساتھ اخلاص اور محبت ہے کہ رؤف عطا پچھلا سپریم کورٹ بار کا صدر تھا وہ بندہ سہی لکھ نہیں سکتا بول نہیں سکتا وہ بلوچستان ہائی کورٹ کا اڈیشنل جج لگ گیا ہے
ان کا ایک وکیل رہنما ہے وہ ججوں کے نام پر پیسے لے کر کیس لگواتا ہے
یہ کہتے ہیں ملک میں چوری کرو لوٹ مار کرو لیکن رہو ہمارے ساتھ جس دن دوسری طرف جاؤ گے ہم تم پر توشہ خانہ بنا دیں گیں ہم تم پر القادر کیس بنا دیں گیں لیکن ہمارے ساتھ رہ کر تم کئی توشے خانے لوٹ جاؤ ہمیں پرواہ
نہیں ہے
اسدطور
مولانا جب بھی بولتے ہیں قیمت وصول کر کے خاموش ہو جاتے ہیں
لیکن اس بار مولانا نے ٹائمنگ غلط چنی ایسے وقت میں یہ کہنا کہ یہ کراے کی فوج ہے
یہ اگلے دو سے تین ہفتے میں واضع ہو جاے گا مولانا کے پیچھے کون تھا
پٹرول کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ دیکھ کر موت کی چکی میں بیٹھا شخص یاد آجاتا ہے جس نے کرونا جیسی بیماری میں بھی پٹرول 15 روپے سستا کرنے کا اعلان کیا تھا۔
مختصر تھا لیکن خوبصورت دور تھا 💔
گزشتہ چار روزکے دوران ڈیزل کی قیمت میں 44روپے اضافہ کیا گیا۔ایک ساتھ اتنا اضافہ ہوتا تو خبر بنتی لیکن اس اضافے پر زیادہ بات نہیں ہوئی۔ آپ بھی دیکھیں کیسے موجودہ حکمرانوں کو اپوزیشن میں 150کا پٹرول، چینی ، آٹا،مہنگا لگتا تھا،قیمتوں میں دو سےتین گناہ اضافہ ہوچکاہے،اب خاموشی کیوں؟
مطیع اللہ جان نے ایک ساتھ سارے بدیانت ججوں کو تن دیا!
موجودہ ججز انتہا کے بزدل اور نااہل ہے, یہ ججز صرف اپنی تنخواہوں کے لیے نوکری کر رہے ہیں!!
ان ججوں کے پاس کوئی اختیار نہیں, انکو شرم آنی چاہیے خود کو ججز کہتے ہوئے ہیں!!
اس سال ہمارا ٹارگٹ لیوی کی مد میں 1700 ارب ہے، وزیر پٹرولیم
آپ سارے شارٹ فالز یہی سے پورا کر رہے ہیں، ایف بی آر کی نالائقی لیوی سے پورا کر رہے ہو، وہ کوئی وضاحت تو نہیں ہے،تو پھر لوگوں کو کہیں نہ 12،12 بلین کے جہاز نہ خریدیں،ابھی آپ کو لوگوں نے 1.2 بلین بیوروکریسی کیلئے سپیشل الاونس کی منظوری دی ہے، کس بات کا انعام دے رہے ہیں بیوروکریٹس کو، ساری نالائقی اور کرپشن بیوروکریسی کی بجائے ان کو رگڑا دینے کے آپ پٹرول لیوی سے ان کو پورا کر رہے ہیں، محمد ملک
یہ دہلی کے نہیں بلکہ مرید کے کے مناظر ہیں، وہ ٹاوٹس جن کا انڈیا کے مظاہرین کا بڑا دکھ ہے بے شرموں پہلے اس ظلم پر تو بات کر لو، ان مظلوموں کیلئے تو آواز اٹھا لو
فیض احمد فیض کہ یہ اشعار آج بھی relevant ہے
پاکستانی نظام کی تصویر کشی زبردست انداز میں کی گئی ہے اس نظم میں ❤
جس دیس میں آٹے چینی کا
بحران فلک تک جا پُہنچے
جس دیس میں بجلی پانی کا
فقدان حَلق تک جا پُہنچے
جس دیس سے ماؤں بہنوں کو
اغیار اٹھا کر لے جائیں
جس دیس سے قاتل غنڈوں کو
اشراف چُـھڑا کر لے جائیں
جس دیس کی کورٹ کچہری میں
انصاف ٹکوں پر بکتا ہو
جس دیس کا منشی قاضی بھی
مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو
جس دیس کے چپے چپے پر
پولیس کے ناکے ھوتے ہوں
جس دیس میں جان کے رکھوالے
خود جانیں لیں معصوموں کی
جس دیس میں حاکم ظالم ہوں
سسکی نہ سنیں مجبوروں کی
جس دیس کے عادل بہرے ہوں
آہیں نہ سنیں معصوموں کی
جس دیس کی گلیوں کوچوں میں
ہر سمت فحاشی پھیلی ہو
جس دیس میں بنت حوا کی
چادر بھی داغ سے میلی ہو
جس دیس کے ہر چوراہے پر
دو چار بھکاری پھرتے ہوں
جس دیس میں روز جہازوں سے
امدادی تھیلے گرتے ہوں
جس دیس میں غربت ماؤں سے
بچے نیلام کراتی ہو
جس دیس میں دولت شرفاء سے
نا جائز کام کراتی ہو
جس دیس کے عہدیداروں سے
عہدے نہ سنبھالے جاتے ہوں
جس دیس کے سادہ لوح انساں
وعدوں پہ ہی ٹالے جاتے ہوں
اس دیس کے ہر اک لیڈر پر
سوال اٹھانا واجب ہے
اس دیس کے ہر اک حاکم کو
سولی پہ چڑھانا واجب ہے _
#خان_قید_نہیں_یرغمال_ہے
@TeamiPians
اگر کوئی سیاسی جماعت آپ کو پسند نہیں تو آپ اسے دشمنوں کیساتھ نتھی کر دیتے ہیں، جس عمل میں آپ کے عوام شامل نہ ہوں وہ سونے کا بھی بنا ہو تو بالآخر ناکام ہو جاتا ہے، کیا ایوب، ضیا اور مشرف ہماری آنکھیں کھولنے کیلئے کافی نہیں؟ جن کے ہاتھ میں معاملات ہیں وہ جو بھی کرنا چاہتے ہیں خدارا جلدی سے کر لیں تاکہ انہیں جلد احساس ہو جائے کہ یہ سب ناکام کیسے ہوتا ہے، اگر لگام کسی کے بھی ہاتھ میں نہ ہو تو گھوڑا اپنی مرضی سے چلتا ہے اور اسے بہت دیر بعد احساس ہوتا ہے کہ وہ غلط راستے پر ہے، ساڑھے چار سال بعد بھی آپکو یہ احساس نہیں کہ آپ نے اپنی غلطی سدھارنی ہے، اتنے عرصہ بعد بھی آپ یہ تجزیہ نہیں کر سکے کہ جو کچھ میں نے کیا ہے وہ ملک و قوم کو فائدہ دے رہا ہے یا نقصان، اگر آپ کو یہ بتایا جا رہا ہو کہ ہر طرف پھول ہی پھول ہیں اور جدھر سے بو آ رہی ہے اس کا گلا دبا دیں تو یوں حالات بہتر نہیں ہوتے
جنرل (ر) @naeemlodhi53 کی بے لاگ گفتگو
@DRTPakistan
https://t.co/pnbEGi7Nbn
سمجھدار کیلئے اشارہ کافی ہے🚨
1990۔۔بھٹو غدار تھا
2010۔۔۔بھٹو ایک عظیم رہنما تھے
1997۔۔بینظیر سیکورٹی رسک تھی
2012 ۔۔بینظیر قومی اثاثہ تھی
2011 ۔۔۔زرداری ایک قومی چور ہے
2022۔۔زرداری ہمارے صدر ہیں
2017 ۔۔۔۔ووٹ کو عزت دو
2026۔۔۔فارم 47 بہترین ہے
مسلم لیگ ن کو 10-20 سال بعد احساس ہوتا ہے، ایم این اے پی ٹی آئی رانا عاطف👉
پہلے ایک ہفتے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت 25 روپے بڑھاتے تھے تو شور مچ جاتا تھا کہ حکومت نے اتنی قیمت بڑھا کر بڑا ظلم کردیا۔ اب حکومت نے اسے زُود ہضم بنا دیا ہے۔ روزانہ چار روپے، پانچ روپے بڑھا دینگے اور مجموعی اثر وہی اۤئے گا۔۔ مجموعی قیمت بڑھتی چلی جارہی ہے: اسداللہ خان
@AUKhanOfficial1