🚨🚨@CMShehbaz 🙏🤦♂️
An independent think tank has termed the first quarter's economic growth rate of 3.7% a result of "methodological artefacts" and manipulation, observing that growth existed only on papers without any real production expansion. https://t.co/7lEEjiH8NZ
انصار عباسی اگر آپ نے حلال کا ایک لقمہ بھی کھایا ہے یا پھر آپ کی رگوں میں حلال خون کا ایک قطرہ بھی ہے تو جنرل باجوہ پر سٹوری کرو کہ جب وہ ریٹائر ہوۓ انہیں کتنی مراعات ملیں ان کے خاندان کے پاس کیا کیا ہے
فیض حمید پر ہی کر دو آپ تو آجکل ان کے مخالفین کے بوٹ پالش کرتے ہو
اسد طور
And our disparities grow at a pace that’s unbelievable , with 49% people below poverty line and millions of children out of school , it’s all about the elite for the elite by the elite.. it’s about cat cafes, high end eateries and grocery stores catering to 0.002
ہماری نہ سنئے اوروں کی سن لیجئے
ہم گناہگارو ں کی بات کس نے سننی ہے لیکن جب اسی ادارتی صفحے پر لکھنے والے ہمارے کولیگ خورشید ندیم‘ جو بہت معاملہ فہم انسان ہیں‘ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ ملک میں ایک ہی ذکر یعنی ذکرِ عمران رہ گیا ہے جس میں لوگوں کی دلچسپی ہے تو مملکتِ خداداد کے تمام حلقوں کو بات سمجھ جانی چاہیے کہ معاملات کہاں تک پہنچ چکے ہیں۔ کب سے آپ براجمانِ اقتدار ہیں‘ کچھ قابلیت کی جھلک دکھائی دیتی تو طلسمِ عمران کو اب تک ٹوٹ جانا چاہیے تھا۔ حقیقت البتہ یہ ہے کہ ٹوٹنے کی بجائے تبدیلیٔ اقتدار کے ساڑھے تین سال بعد طلسم مضبوط ہو چکا ہے اوراگلوں کے اعصاب کا وہ حال ہو گیا ہے جس کی صحیح جانچ کوئی حکیم لقمان ہی کر سکتا ہے۔
حلقۂ اختیار کہتے نہیں تھکتے کہ یہ تو ایک کلٹ ( cult) ہے جس میں اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کے نوجوان مبتلا ہوچکے ہیں۔کلٹ ہی سہی لیکن آپ میں کچھ ہوتا‘ آپ کچھ کر دکھاتے‘ تو کلٹ کی کشش میں کمی آ جانی چاہیے تھی۔ لیکن غریبوں کا جینا دوبھر ہو جائے اور آپ کے طرف سے صرف بیانات ہی رہ جائیں تو اس ملک کے لوگوں نے آپ کی طرف تو نہیں دیکھنا ۔ اور اگر کوئی کلٹ تھا تو نالائقیوں کے ایک لمبے سلسلے سے اُس کو تقویت پہنچ رہی ہے۔بااختیار حلقوں کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آ رہی کہ اڑھائی سال کی گرفتاری اور جماعت پر صعوبتوں کے بعد چراغِ مندر کی روشنی اندھیروں میں زیادہ شدت سے جگمگا رہی ہے۔ کارکردگی آپ کی یہ کہ ٹھیہ بانوں اور ریڑھی والوں کے پیچھے آپ پڑے ہوں‘ کسان اور کسان مزدور کی دنیا تباہ حال کر دی گئی ہو اور آپ سمجھیں کہ عوام نعرے آپ کے لگائیں گے اور کوئی طلسم تھا تو اُسے بھول جائیں گے۔
کس دنیا میں آپ رہ رہے ہیں؟ 2024ء کے الیکشن میں کون سا حربہ دبانے کا اختیار نہیں کیا گیا تھا لیکن پھر بھی مصدقہ اطلاعات کے مطابق لاہور میں 14نشستوں میں سے معتوب جماعت 10نشستیں جیت گئی تھی۔ یہ سب جو پتا نہیں اپنے آپ کو کون سی توپ سمجھتے ہیں پِٹ کے رہ گئے تھے۔ جتنا چاہیں یاسمین راشد کو قید میں رکھیں لیکن لاہور سے ایک گواہی تو ڈھونڈ نکالیں کہ یاسمین راشد نے قائدِ محترم کو عبرتناک شکست نہیں دی تھی۔ خود فریبی کا اپنا مزہ ہے لیکن اس کی کوئی حد توہونی چاہیے۔ جب خود کو بھی معلوم ہے کہ اقتدار میں بٹھائے گئے ہیں تو پھر گھمنڈ کیسا؟
البتہ تکلیف کا اندازہ لگانا ضروری ہے۔ اصل تکلیف یہ کہ اتنی مصیبتوں کے بعد قیدی نمبر فلاں جیل جوانمردی سے کیوں کاٹ رہا ہے۔ چیخ وپکار سلاخوں کے پیچھے سے کیوں نہیں آ رہی جیسا ایک زمانے میں پلیٹ لیٹس (Platelets)کی کمی کا طوفان برپا تھا۔ حلقۂ اقتدار میں کتنے ہی ایسے تھے جو کہتے نہیں تھکتے تھے کہ نشے کا عادی ہے‘ دو دن محرومیٔ نشہ برداشت نہیں کر سکے گا۔ ایسے طرم خانوں کو شر م کیا آنی ہے بس ناقابلِ برداشت تکلیف لاحق ہے کہ قیدی ٹوٹ کیوں نہیں رہا‘ منتوں اور ترلوں پر کیوں نہیں آ رہا۔
قیدی کی غلطی نہیں‘ غلطی آپ کی ہے کہ اپنے اور قیدی میں فرق سمجھنے سے آپ یکسر قاصر ہیں۔ اس حقیقت سے کیا انکار ممکن ہے کہ جب آج کے سرخیل کہیں کے بھی نہ تھے تو کرکٹ کی کامرانیوں کی وجہ سے قیدی عالمی شہرت کی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ جب ہم کچھ نہ تھے وہ بہت کچھ تھا۔ یہ حقیقت آج کے نوابزادوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ نہ وہ یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ اقتدار گیا یا چھین لیا گیا‘ مقدمات قائم ہوئے‘ گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں‘ سزائیں سنائی گئیں اور طلسم ٹوٹنے کی بجائے وہاں تک پہنچ چکا ہے کہ نہ چاہنے والے بھی کہنے پر مجبور ہیں کہ عمران خان کے علاوہ کوئی موضوع نہیں رہا جس میں لوگوں کی دلچسپی ہو۔
ہمارے سمجھدار اتنی بات کیوں نہیں سمجھ سکتے کہ زور زبردستی کی ایک حد ہوتی ہے‘ اُس کے بعد غالب والی بات آ جاتی ہے کہ مشکلیں مجھ پر اتنی پڑیں کہ آساں ہوگئیں۔ آئین کا کھلواڑ کر دیا‘ اُس سے کیا حاصل ہوا؟ عدلیہ کے ساتھ جو کرنا تھا کر دیا‘ کیا ایسا کرنے سے کچھ عزت کمائی گئی ہے؟ محترم وزیر قانون کو سوچنا چاہیے کہ جتنا تخلیقاتِ ترامیم میں وہ ہنر دکھا رہے ہیں اس سے کون سا مقصد حاصل ہو رہا ہے؟ قیدی کا طلسم ٹوٹ جاتا پھر ہم بھی آپ کے ہنر کی داد دیتے۔ داد کیا آپ کے ہاتھ پر بیعت ہو جاتے۔ لیکن اتنا تو دیکھیں کہ قیدی اپنی کوٹھڑی میں بند ہے‘ اُس سے ہر قسم کی ملاقات پر پابندی ہے‘ اور پھر بھی ساری کی ساری قومی گفتگو اُس کے گرد گھوم رہی ہے۔ اگر ایک طرف کلٹ ہے تو دوسری طرف فوبیا ہے اور یوں لگتا ہے کہ سارے کے سارے پردھان اس وقت اس فوبیا میں مبتلا ہیں۔
ان سب میں سے سمجھدار شخص ہمارے دوست رانا ثنا اللہ ہیں۔ منجھے ہوئے اور سیاسی سوچ رکھنے والے۔ جہاں ان کے اردگرد بہت سے پہلوان سیاسی سوچ سے بالکل عاری ہیں لیکن رانا صاحب سے بھی کوئی پوچھے کہ جب بھی آپ گفتگو فرماتے ہیں سوائے قیدی نمبر فلاں کے کوئی اور موضوع آپ کے لبوں پر نہیں آتا۔ سچ تو یہ ہے کہ کتنے وزیر ہیں جو اس موضوع کو نہ چھیڑیں تو اُن کے پاس کہنے کو کچھ نہیں رہتا۔ گزارش ہی کر سکتے ہیں کہ ایسا کب تک چلے گا۔ ساڑھے تین سال کی تھانیداری ہم نے دیکھ لی‘ کیا حالات بہتر ہوئے ہیں‘ کیا حالات آپ کی گرفت میں ہیں؟ ہم پنجاب والے ایک بلبلے میں رہ رہے ہیں کیونکہ ہم شورش زدہ علاقوں سے دور ہیں‘ ہمیں کوئی صحیح اندازہ نہیں کہ پختونخوا اور بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے۔ کون ہم پنجاب والوں کو بتائے کہ بلوچستان کے وسیع علاقے نو گو ایریا بن چکے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے کتنے جنوبی اضلاع ہیں جہاں کی سکیورٹی صورتحال مخدوش سے کہیں زیادہ آگے ہے۔ معیشت کا جو حال ہے کسی معاشی دانشور سے مت پوچھیں دیہاڑی دار مزدور سے پوچھیں۔ بڑے بڑے عہدیدار معتوب جماعت کے لیڈر پر کبھی ایک لیبل چسپاں کرتے ہیں کبھی دوسرا۔ ان لیبلوں سے عوامی رائے میں ذرا برابر بھی تبدیلی آئی ہے؟ زبردستی نہ ایوب خان کی رہی نہ ضیا الحق کی نہ پرویز مشرف کی۔ زبردستی کی داستانیں کبھی ہمیشہ کے لیے رہی ہیں؟
زیادہ زعم اس وقت ٹرمپ کی تھپکی کا ہے۔ وہاں سے آشیرباد مل گئی تو فکر کاہے کی۔ ٹرمپ کی چار سالہ مدت کا ایک سال تو گیا۔ اگلے انتخابات کی تاریخ آئے گی تو ٹرمپ جا چکے ہوں گے۔ پر چھوڑیں ان دو رکی کوڑیوں کو۔ یہ پچھلا سال ختم ہوا ہے اور اگلے سال کے تخمینے اور اندازے لگائے جا رہے ہیں۔ کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ جو مسائل 2025ء میں حل نہیں ہو سکے اس آنے والے سال میں حل ہو جائیں گے؟ معیشت بہتر ہو جائے گی‘ باہر سے پیسے آنے لگیں گے‘ ایکسپورٹ ہماری بڑھنے لگے گی۔ کیا ہم دیکھ نہیں سکتے کہ ہر چیز ہر شعبہ منجمد ہوکے رہ گیا ہے۔ قومی زندگی جمود کا شکار ہے۔ فیصلہ ساز مخصوص قیدی کے سائے سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پا رہے۔ تاہم قوم کو نوید سنائی جارہی ہے کہ پاکستان کی عالمی حیثیت بہت بڑھ گئی ہے اور ادھر اُدھر کے ممالک اپنے مسائل کے حل کے لیے پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں۔ ایاز قدرِخود بشناس۔ جیسے عرض کیا خود فریبی کا اپنا لطف ہے لیکن اس کی کوئی حدتو ہونی چاہیے۔
جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا توامریکہ جنگ میں کودا پڑا ۔اس وقت پاکستان کا سربراہ ایک خود مختار اور باغیرت وزیراعظم عمران خان تھا جس نے امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا تھا ،مگر جنرل باجوہ نے اس کے خلاف بیان دیا اور پھر امریکہ سے ایک سائفر کی آمد اور سازش نے عمران خان کو ایک رجیم چینج آپریشن سے بدل دیا گیا ۔ آج امریکہ نے پھر ایک آزاد ملک وینزویلا پر حملہ کردیاہے ۔ دیکھتے ہیں آج کون خود مختار اورباغیرت ہم پر حکمران ہے
آپ میرے لیے بہت قابل ا احترام ھیں لیکن مجھے کچھ کیہنے کی اجازت دیں ۔آپ ملک مجبوراً چھوڑ کر جانے کی وجوہات پر بات نہیں کرتے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ھے کہ آپ مظلوم کی داد رسی کی بجائے ظالم کی گود میں بیٹھ گیے ھیں۔۔🙏🙏
I was briefed this morning on the U.S. military capture of Venezuelan President Nicolás Maduro and his wife, as well as their planned imprisonment in federal custody here in New York City.
Unilaterally attacking a sovereign nation is an act of war and a violation of federal and international law.
This blatant pursuit of regime change doesn’t just affect those abroad, it directly impacts New Yorkers, including tens of thousands of Venezuelans who call this city home. My focus is their safety and the safety of every New Yorker, and my administration will continue to monitor the situation and issue relevant guidance.
Deeply concerned. 'Trial in absentia' on charges of 'waging war against state' hugely problematic, unlikely to withstand judicial scrutiny. Instead of striking fear in media persons & social media activists it might increase anger, hatred, polarisation https://t.co/9NPBNdzt5h
#بلوچستان، جو پاکستان کے ماتھے کا چمکتا ہوا جوہر کہلاتا یے، آج بھی چھ دہائیوں سے ملک کی صنعت اور گھروں کو توانائی فراہم کر رہا ہے۔ مگر #کوئٹہ، #مستونگ، #قلات، #زیارت اور دیگر سرد علاقوں کے لوگ ابھی بھی گیس اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ بلوچستان کبھی ترجیح نہیں رہا — اور شاید اپنے حقوق کے لیے کبھی نہیں ہوگا۔
یہ محض سردیوں کی ٹھنڈ کی بات نہیں، بلکہ #تعلیم، #صحت اور بنیادی ڈھانچے میں مسلسل نظراندازی کی کہانی ہے۔ #پاکستان کا حصہ ہونے کے باوجود یہاں کے عوام وہ سہولتیں نہیں پا رہے جو باقی ملک کے شہریوں کے لیے معمول بن چکی ہیں۔
بلوچستان کے لوگوں نے صبر کی انتہا کر دی، لیکن یہ ناانصافی ختم ہونا چاہیے۔
1985 میں خواجہ آصف کے والد خواجہ صفدر ضیاء الحق کے سپیکر کیلئے امیدوار تھے،مقابلے میں فخر امام تھا، فخر کی حمایت کیلئے عابدہ حسین نے احسن اقبال کی والدہ نثار فاطمہ سے بات کی تو انہوں نے جواب دیا کہ میں ضیاء الحق کو ناراض نہیں کرسکتی.
Chief of Army Jen Datuk Muhammad Hafizuddeain Jantan placed on leave as investigations into allegations linked to him continue. Previously, three individuals had been called in by the Malaysian Anti-Corruption Commission to have their statements recorded. https://t.co/TImfXntzAa