PAKISTAN: 10 days since the enforced disappearance of six Pashtun Tahafuz Movement (PTM) members, Noorullah Tareen, Hanif Pashteen, Syed Irfanullah, Farman Wazir, Adnan Wazir and Habib Wazir, their whereabouts remain unknown. The activists were taken from Peshawar city on 12 November. These enforced disappearances are part of a disturbing pattern of targeting dissent inside the country, particularly in provinces such as Khyber Pakhtunkhwa and Balochistan.
Amnesty International calls on Pakistani authorities to:
✅ Immediately disclose the whereabouts of the disappeared activists and ensure their safe return
✅ Conduct prompt, independent and effective investigations into their disappearance and prosecute those suspected to be responsible
✅ End the practice of enforced disappearances
#EndEnforcedDisappearances
Pashtun politician and leader of the National Awami Party in Pakistan, Mehmood Khan Achakzai, wrote on X that the current rulers are following in the footsteps of the British and have made three demands from Afghanistan.
According to him, the first is that Afghans should recognize the Durand Line as an official border.
The second is that Afghanistan’s foreign policy should remain under Pakistan’s influence.
And the third is that the central government in Kabul should operate under Pakistan’s orders.
Achakzai described the current rulers as "ignorant" and "incompetent", adding that they do not know the art of friendship.
#TOLOnews_English
پختونخوا امن جرگہ ….نمائشی تماشہ بے نقاب!
پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کے وفد نے جرگے کا دوٹوک بائیکاٹ کر دیا۔
نورالله ترین نے واضح اعلان کیا:
“ہم احتجاجاً جرگہ ہال سے نکلے، کیونکہ ہم جعلی امن، اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈوں اور نمائشی ڈراموں کا حصہ نہیں بن سکتے۔”
ذرائع کے مطابق، خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کے منعقدہ امن جرگہ میں پی ٹی ایم کے وفد کو صاف کہہ دیا گیا کہ “اوپر سے پریشر ہے، آپ کو تقریر کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔”
اگر پی ٹی آئی اتنا بھی دباؤ برداشت نہیں کر سکتی، تو پھر وہ حقیقی عوامی اور مزاحمتی تحریکوں کو بلانے کی جسارت ہی نہ کرے۔
یہ امن نہیں، بلکہ عوامی آواز کو دبانے کی ایک اور ناکام کوشش ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلي پی ٹی ائی امن جرگہ میں پی ٹی ایم کے وفد کو کہا گیا کہ ہم پر اوپر سے پریشر ہے لہذہ آپ لوگوں کو تقریر نہیں دے سکتے ہیں۔
اگر پی ٹی آئی جرگے میں پریشر نہیں برداشت کر سکتے ہیں تو پھر حقیقی مزاحمتی تحریکوں کو دعوت نہ دے۔
کیا انکا انقلاب اتنا تھا ؟
پی ٹی ایم کے رہنما نور اللہ ترین اور حنیف ہشتین پی ٹی آئی خیبر ہشتونخواہ صوبائی اسمبلی کے امن جرگہ سے واپسی پر کے ایف سی کے سامنے سے چار گاڈیوں میں آئے سادہ کپڑوں میں مبلوس افراد نے اغوا کرلیا ہیں
پی ٹی ایم کے دوستوں کو کچھ بھی ہوا تو زمہ وار وزیراعلی سہل افریدی ہونگے
#WhereIsNoorUllahTareenHanifPashteen
لوي مذهب انسانيت دي
محبت لويه سجده دا
ایک سچا لیڈر رنگ ،نسل، مذہب سے بالاتر ہوکر سب کے دکھوں کا درد رکھتا ہے. مشر #محمود_خان_اچکزئی کا بونیر میں سکھ برادری کے مذہبی عبادت خانے گوردوارے جاکر ان سے ہمدردی کا اظہار کیا.
#MKAchakzaiOurLeader#bunerflood
په دي څو ورځو کي د استعمار ګر ریاست لخوا په پښتونخوا وطن کښي د ډرون بریونو له امله په سلګونه ماشومان او زنانه شهیدان او ټپيان شوه
#PashtunsRejectDroneTerror
#PashtunsRejectDroneTerror
Pashtuns children are under attack of quad copter bombing of punjab army.
The so called champion like England, America and China should humanity. And take a serious steps to the brutalities of punjab army.
@UNHumanRights@amnesty@IndianExpress@AP
مشر منظورپښتین !!
له سوات ځخه تر چمن ټول پښتونخوا وطن کي چي پوځي عملیات شوي دي ددي
څومره پښتانه چي شهیدان شوي دي د دي حساب به هتمن کیږي
#PashtunsRejectDroneTerror
تین بھائیوں کی شہادت کے بعد ایک معذور بچہ اپنی ماں سے بار بار پوچھتا ہے، “میرے بھائی کہاں ہیں؟” ماں بہلانے کی کوشش کرتی ہے، مگر آخرکار سچ بتا کر خود بے ہوش ہو جاتی ہے۔ یہ لمحہ ایک ماں کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ باپ کی خاموشی اور آنکھوں میں چھپی بے بسی پوری کہانی بیان کرتی ہے۔
پاکستانی فوج کے جانب سے 17مئی 2025 سے 18 مئی 2025 تک زخمی و شہداء کتنے ہیں؟
17مئی 2025
جنوبی وزیرستان تحصیل سراروغہ گاؤں شابوزئ میں پاکستانی فوج کی مقامی پشتون آبادیوں پر مارٹر شیلنگ سے تین بچیاں زخمی۔
۱۔ سلمہ عمر 8 سال
۲۔عافیہ عمر 9س
۳۔ایمان عمر 10 سال
18 مئی 2025
میرعلی نارتھ وزیرستان میں پاکستانی فوج کی کاڈ کاپٹر ڈرون بموں سے چار کمسن بچے ایک خاتون شہید جبکہ تین خواتین زخمی۔
شہدا ۔
1مغاذ ولد شفاعت عمر 8سال
2 مغیز ولد شفاعت 7سال
3: سالم ولد شفاعت 7سال
4: عمر ولد ندر 5 سال
5:بدسمینه 30 سال
زخمی
1: ایمن 35 سال
2: بختمینه 36 سال
3: باله جان 40 سال
اور اس طرح 22 اپریل 2025 کو جنوبی وزیرستان کے علاقے ترِیخ تالائی میں پاکستانی فوج کی عام پشتون آبادی پر مارٹر شیلنگ سے ایک بچی اور ایک خاتون شہید، جبکہ تین بچیاں اور دو عورتیں زخمی ہوئی تھیں۔
منافقین پہلے تو پشتونوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت نہیں کرتے ہیں، اور اگر کبھی کریں بھی، تو ان بچوں اور عورتوں کے قاتل "پاکستانی فوج" کا نام نہیں لیتے۔
#PashtunsRejectDroneTerror