پٹرولیم لیوی زیرو کر دیں !!!
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان می�� احتجاج اور دھرنوں سے معیشت کو یومیہ 120 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔ معاشی سرگرمیوں میں تعطل پاکستان کے لیےخود اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا ہوا نقصان ہو سکتا ہے، معاشی تعطل سے سروسز سیکٹر کو یومیہ تقریباً 86 ارب، صن��تی شعبے کو یومیہ تقریباً 25 ارب روپے نقصان کا خدشہ ہے جبکہ17 ارب روپے کے ریوینیو نقصان کا بھی امکان ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی فرق ہے اور وہ ریاست اور سیاست بچانے کا فرق ہے۔ یہ بات ان کے لئے اہم نہیں بلکہ خوشی کا باعث ہو گی جو آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑ کے پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار کر سکتے ہیں۔ تارکین وطن کو ترسیلات زر نہ بھیجنے کی کال دے سکتے ہیں اور تحریک عدم اعتماد جیسے آئینی جمہوری عمل پر پاکستانیوں پر ایٹم بم گرانے کی بات کر سکتے ہیں۔
سیاست کی بجائے ریاست بچانے کی ذمہ داری ہمیشہ مسلم لیگ کے پاس ہی آتی ہے اور وہ اپنی مقبولیت اور مخالفین کی تنقید کی پرواہ کئے بغیر اس میں ڈٹ جاتی ہے۔ پٹرولیم لیوی اس وقت تنقید کی بڑی وجہ ہے مگر کیا وہ حکمرانوں کی جیب میں جا رہی ہے یا ملک کے خزانے میں؟ یہاں عمران خان ہوتا تو کہتا ملک جائے بھاڑ میں، مجھے سیاست بچانی ہے اور آپ کو یاد ہے کہ اس نے یہی کیا تھا۔
کوئی بھی حکومت نہیں چاہتی کہ اس پر عدم مقبولیت اور عوام کو مشکلات دینے کا الزام لگے۔ کیا انہیں شوق ہے کہ گالیاں کھاتے رہیں؟ وہ پٹرولیم لیوی کچھ شاہ دولہ کے چوہوں کے مطالبے پر زیرو کیوں نہیں کر دیتے؟ کیا یہ ملک صرف شہبازشریف اور نوازشریف کی ذمے داری ہے؟ کیا مولانا فضل الرحمان، عمران خان، حافظ نعیم مریخ کے باشندے اور سیاستدان ہیں؟ ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے وطن کے لئے جان دینے کو تیار ہیں لیکن جب بھی جیب سے دمڑی جانے لگے تو ردعمل جان دینے سے بھی سخت ہوتا ہے۔
میرا مشورہ ہے کہ آپ پٹرولیم لیوی زیرو کر دیں۔ دوست ملکوں سے منت محتاجی سے مانگے کئی ہزار ارب ڈالر واپس کر دیں۔ ملک ڈیفالٹ ہو گا تو کیا صرف مسلم لیگیوں کے لئے ہو گا؟ برآمدات اور درآمدات صرف مسلم لیگیوں کی بند ہوں گی؟ فیکٹریاں کارخانے بند صرف مسلم لیگیوں کے ہوں گے؟ بجلی پیداوار کا خاتم�� اور پٹرول کی عدم دستیابی صرف مسلم لیگیوں کے لئے ہو گی؟
آپ نے تین سے چار برس میں ٹیکس کلیکشن دوگنا کر دی مگر اس کا فائدہ اگر یہ مقبولیت کی بجائے تنقید دے، 18 ویں ترمیم کے بعد وفاق کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس میں بھی اگر 90 ارب ڈالر جنگی جنوبی بجٹ والے ہندوستان کے مقابلے میں دس بارہ ارب ڈالر بھی پاکستان کی فوج کے پاس نہیں ہو گا تو کیا صرف نون لیگ والے بھارت کے میزائلوں کی زد پر ہوں گے؟ کیا قرضوں کی ادائیگی صرف آپکی ذمے داری ہے کہ آپ انہیں جی ڈی پی کے 77 فیصد سے 68 فیصد پر لے آئیں اور جب دوسرے اپنے ساڑھے تین برس کی حکومت میں 70 برس کے قرضوں کا ستر فیصد لے کر جا چکے ہوں۔ زہریلی تنقید آخر کیوں کروائی جاتی ہے؟ پٹرول مہنگا کر کے کیا آپ پیسے گھر لے جاتے ہیں کہ اس پر چڑھائی برداشت کریں؟
میرا پرزور مطالبہ ہے کہ آپ پاکستان کے مامے ہیں نہ ٹھیکیدار، سب برابر کے سٹیک ہولڈر ہیں۔ بلائیں ٹیکس کو غنڈہ ٹیکس کہنے والوں کو ایوان وزیراعظم اور آج ہی پٹرولیم لیوی زیرو کر دیں بلکہ کوشش کریں کہ ہر لیٹر پٹرول کے ساتھ قومی خزانے سے بھی کچھ دیں تاکہ آپکے بھی زندہ باد کے نعرے لگ سکیں۔ آپ کئ دریا دلی پر بھی ٹی وی پروگرام ہو سکیں۔ کیا ساری گالیاں کھانے کا ٹھیکا آپ نے ہی لے رکھا ہے؟
نجم ولی خان
یہ وہی پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر ہیں جن کے خلاف 2018 میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سو موٹو نوٹس لیکر پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ بند کروا دیا تھا، عدالت نے ہسپتال کو بند کرنے کی وجہ یہ بتائی تھی کہ ہسپتال پر 25 سے 30 ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں لیکن اسے آپریشنل نہیں کیا گیا اور ڈاکٹروں کو بھاری تنخواہیں دی جارہی ہیں، جو قومی خزانے پر بوجھ ہے، جبکہ بعد میں ہسپتال بند کرنے کی سیاسی وجہ بھی سامنے آئی تھی کیونکہ یہ ہسپتال ساب�� وزیراعلٰی پنجاب @CMShehbaz کی حکومت کا فلیگ شپ منصوبہ تھا، @pmln_org نے ثاقب ثاقب نثار پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اس منصوبے کو بدنام کرنے اور ن لیگ کو سیاسی نقصان پہنچانے کے لیے اسے نشانہ بنایا، ثاقب نثار کی جانب سے PKLI کے خلاف سو موٹو نوٹس کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سمیت دیگر میڈیکل ایسوسی ایشنز اور عالمی تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر پاکستان کے مایہ ناز یورولوجسٹ (ماہرِ امراضِ گردہ و مثانہ) اور ٹرانسپلانٹ سرجن ہیں، پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر (PKLI) کے بانی اور بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ہیں، آپ نے امریکہ سے یورالوجی اور پیوند کاری (Transplant) کی اعلیٰ تربیت حاصل کی۔ وہ امریکن بورڈ آف یورالوجی کے ڈپلومیٹ اور ییل یونیورسٹی سے (MPH) کیا ہوا ہے، انہوں نے لاہور کے بعد اب راولپنڈی کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹیٹیوٹ کو بھی فعال کردیا ہے، اور یہاں سے دو لیور جبکہ ایک کڈنی ٹرانسپلانٹ ہوچکے ہیں، جسے ماہرین صحت بڑا سنگ میل قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس علاج کیلئے لوگوں کو چند سال قبل انڈیا یا پھر کسی دوسرے ملک جانا پڑتا تھا، اچھی بات یہ ہے کہ PKLI راولپنڈی سے جو تین ٹرانسپلانٹ ہوچکے ہیں وہ بلکل مفت کئے گئے ہیں اور تینوں ٹرانسپلانٹس پر تقریبا ڈیڑھ کروڈ روپیہ اخراجات آئے ہیں، پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر کے مطابق راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی کو PKLI کے سپرد کرنے سے ایک تاثر ابھرا ہے کہ شاید سرکاری ہسپتال کو نجی شعبے کو منتقل کردیا گیا ہے جو درست بات نہیں، یہاں جو ادائیگی کرسکتا ہے اسکا بھی علاج ہوتا ہے جو نہیں کرسکتا اسکا بھی علاج ہوتا ہے، لیکن مریض کی باقاعدہ تشخیص، اسکریننگ اور استطاعت دیکھی جاتی ہے، ادارہ عطیات پر چلتا ہے، وزیراعلٰی پنجاب @MaryamNSharif ٹرانسپلاٹ فنڈ سے بھی مستحق افراد کا علاج کیا جاتا ہے، پروفیسر سعید اختر کا کہنا تھا راولپنڈی میں PKLI کو فعال کرنے میں کافی وقت لگا لیکن یہ ایک بڑی کامیابی ہے، اسے شمالی پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخواہ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی عوام مستفید ہوگی، علاج میں کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی.
ایک اسپتال میں فون کی گھنٹی بجی تو نرس نے ریسیور اٹھایا۔
کوئی کہ رہا تھا : "کیا آپ کمرہ نمبر باون کے مریض کا حال بتا سکتی ہیں۔ اس کا آپریشن پچھلے ہفتے ہوا تھا"
نرس نے فون کرنے والے کو دو منٹ رکنے کا کہا پھر بتایا۔
"میں نے ریکارڈ میں مریض کا چارٹ دیکھا ہے،ان کی حالت ٹھیک ہے اوروہتیزی سے روبہ صحت ہیں۔ آپریشن کامیاب رہاہے اور اب یہ بیماری انہیں کبھی نہیں ہوگی۔وہ تو اس وقت سو رہے ہونگے۔ صبح کو میں ان کو آپ کا کیا نام بتاؤں؟
فون کرنے والے نے جواب دیا:"میں کمرہ نمبر باون کا مریض ہی بول رہا ہوں۔
آپ کو اس لئے زحمت دی کہ میرے ڈاکٹر تو مجھے کچھ بتاتے نہیں ہیں"۔۔
😝
نماز پڑھتے ہوئے پورے یقین اور دھیان کیساتھ دو سجدوں کے درمیانی وقفہ یعنی جلسہ کی حالت میں یہ انتہاہی مختصر دعا پڑھنا معمول بنا لیں اور دیکھیں کہ اللہ سبحان و تعالیٰ کیسے آپ کے رزق کو فراخ کرتے ہیں اللہ اکبر 💚
ریاضى میں کمزور دو دوست انٹرویو کیلئے تیار بیٹھے تھے، پہلے کا نمبر آیا تو وه اندر داخل ہُوا....
آفیسر: آپ ٹرین سے سفر کر رہے ہوں اور اچانک آپ کو گرمى لگے تو کیا کرو گے؟
امیدوار: میں کھڑکى کھول دُوں گا۔
آفیسر : بہت خُوب، اَب بتاؤ کہ اگر وه کھڑکى 1.5 اسکوئر میٹر ہے اور ڈبے کا رقبہ 12x90 فٹ ہے اور ٹرین 80 کلومیٹر فى گھنٹہ کى رفتار سے جنوب کى طرف جا رہى ہو اور ہوا جنوب سے 5 میل فى سیکنڈ کی رفتار سے ڈبے میں داخل ہو رہى ہو تو پُورا ��به ٹھنڈا ہونے میں کتنا وقت درکار ہو گا؟
امیدوار نے کوشش کى مگر جواب نہ دے سکا اور وه فیل ہو گیا۔
باہر آ کر اُس نے وہ سوال اپنے دوست کو بتایا
اب اس کى بارى آئی۔۔۔
آفیسر : آپ ٹرین میں سفرکر رہے ہوں، اچانک آپ کو گرمى لگے تو کیا کرو گے ؟
امیدوار : میں اپنا کوٹ اُتار دُوں گا۔۔
آفیسر : پھر بھى آپ کو گرمى لگے تو کیا کرو گے؟
امیدوار : میں اپنی شرٹ اُتار دُوں گا۔
آفیسر : (چڑ کر) پھر بھى آپ کو گرمى لگے تو کیا کرو گے؟
امیدوار : میں اپنی بُنیان اُتار دُوں گا۔
آفیسر :(غُصے میں) اگر پھر بھى گرمى لگے تو؟
امیدوار : توں پاویں مینوں قتل کر دے میں کھڑکی نئیں او کھولنی.😜😜
یہ دنیا کے مختلف ممالک کی بہترین کہاوتیں:
"جو اپنے پڑوسی کے گھر کو ہلاتا ہے، اس کا اپنا گھر گرجاتا ہے" (سوئس کہاوت)
"اگر کوئی شخص پیٹ بھر کر کھا لے تو اسے روٹی کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا" (اسکاٹ لینڈ کہاوت)
"اگر تم مسکرانا نہیں جانتے تو دکان نہ کھولو" (چینی کہاوت)
"اچھی شکل سب سے مضبوط سفارش ہے" (انگلش کہاوت)
"نیکی کرنا احسان فراموش کے ساتھ ایسا ہے جیسے سمندر میں عطر ڈالنا" (پولینڈ کہاوت)
"اگر تم کسی قوم کی ترقی دیکھنا چاہتے ہو تو اس کی عورتوں کو دیکھو" (فرانسیسی کہاوت)
"ہم اکثر چیزوں کو ان کی حقیقت سے مختلف دیکھتے ہیں کیونکہ ہم صرف عنوان پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں" (امریکی کہاوت)
"دوسروں کی غلطیاں ہمیشہ ہماری غلطیوں سے زیادہ واضح ہوتی ہیں" (روسی کہاوت)
"تمہاری قناعت تمہاری نصف خوشی ہے" (اطالوی کہاوت)
"ہر انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے" (انگلش کہاوت)
"اپنے د��اغ کو علم سے لیس کرو، بہتر ہے کہ جسم کو زیورات سے سجاؤ" (چینی کہاوت)
"خود پسندی جہالت کی پیداوار ہے" (اسپین کہاوت)
"وہ محبت جو تحفوں پر انحصار کرے، ہمیشہ بھوکی رہتی ہے" (انگلش کہاوت)
"اس عورت سے ہوشیار رہو جو اپنی فضیلت کے بارے میں بات کرتی ہے اور اس مرد سے جو اپنی دیانت داری کے بارے میں بات کرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)
"اپنی بیوی کو محبت دو اور اپنی ماں کو اپنا راز بتاؤ" (آئرلینڈ کہاوت)
"پانچ سال تک اپنے بچے کو شہزادہ بناؤ، دس سال تک غلام کی طرح اور اس کے بعد دوست بن جاؤ" (ہندی کہاوت)
"انسان ہونا آسان ہے، مگر مرد بننا مشکل ہے" (روسی کہاوت)
"میرے خاندان نے مجھے بو��نا سکھایا، اور لوگوں نے مجھے خاموش رہنا سکھایا" (چیکوسلوواک کہاوت)
"جو لوگوں کو علم کی نظر سے دیکھتا ہے ان سے نفرت کرتا ہے؛ اور جو انہیں حقیقت کی نظر سے دیکھتا ہے انہیں معاف کرتا ہے" (اطالوی کہاوت)
"غصہ ایک تیز ہوا ہے جو عقل کے چراغ کو بجھا دیتا ہے" (امریکی کہاوت)
"جو لوگ دیتے ہیں انہیں اپنے دینے کی بات نہیں کرنی چاہیے، جبکہ جو لوگ لیتے ہیں انہیں اس کا ذکر کرنا چاہیے" (پرتگالی کہاوت)
"��ڑا درخت زیادہ سایہ دیتا ہے مگر کم پھل دیتا ہے" (اطالوی کہاوت)
"اپنی فکر کو پھٹی ہوئی جیب میں ڈال دو" (چینی کہاوت)
"زیادہ کھا لینا بھوک سے زیادہ نقصان دہ ہے" (جرمن کہاوت)
"ہر دن بوئے، ہر دن کھاؤ" (مصری کہاوت)
"اے انسان، موت کو نہ بھولو کیونکہ یہ تمہیں نہیں بھولے گی" (ترکی کہاوت)
"انتقام کی لذت ایک لمحے کی ہے، مگر معافی کا سکون ہمیشہ کے لئے رہتا ہے" (اسپین کہاوت)
"محبت اور خوشبو کو چھپایا نہیں جا سکتا" (چینی کہاوت)
"جس کی جیب خالی ہو، اسے اپنی زبان کو میٹھا بنانا چاہیے" (ملائیشیائی کہاوت)
"پانی کے چھوٹے قطرے بھی ندی بنا سکتے ہیں" (جاپانی کہاوت)
"اللہ پرندوں کو رزق دیتا ہے مگر انہیں اسے پانے کے لیے پرواز کرنا پڑتا ہے" (ہالینڈ کہاوت)
"محبت تب تک باقی رہتی ہے جب تک پیسہ ہوتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)
"جو اپنے دوست کو قرض دیتا ہے، وہ دونوں کو کھو دیتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)
"جو کوئی خوبصورت عورت سے شادی کرتا ہے اسے دو آنکھوں سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے" (انگلش کہاوت)
"جس کی پشت پر تنکا ہوتا ہے، وہ ہمیشہ آگ سے ڈرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)
"جس نے منزل تک پہنچنے کا عزم کر لیا، اس نے ہر رکاوٹ کو معمولی سمجھا" (فرانسیسی کہاوت)
"جو خود کو بھیڑ سمجھتا ہے، ��ھیڑیا اسے کھا جائے گا" (فرانسیسی کہاوت)
#قومی_زبان
صرف شادی شدہ مرد اسے انجوائے کریں
دفتر میں کام کرتے ہوئے ایک صاحب کا موبائل چوری ہوگیا ...
دن بھر کی مصروفیت کے بعد تھکے ہارے صاحب بہادر نے جونہی گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تو اگلا منظر دیکھ کر چونکے بنا نہ رہ سکے ...
��ھر میں ساس اور سسر ... اپنی بیٹی کا سامان پیک کئے ان کے منتظر تھے ... بی��م اور ساس کی آنکهیں رو رو کر سرخ ہوچکی تهیں ... جبکہ ان کے داخل ہونے پر سسر کے ماتھے پر نفرت کی لکیریں بهی عیاں ہونے لگی تهیں ...
"کہاں لیکر جارہے ہیں میری بیوی کو ؟؟ خیریت تو ہے ؟؟ "
انہوں نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں دریافت کیا تو سسر نے آگے بڑھ کر ان کی بیوی کا موبائل ان کے سامنے کردیا ....
"میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں" ....
بیوی کو ان کے نمبر سے میسج آیا تھا ...
میسیج دیکھ کر صاحب نے ایک ٹهنڈی آہ بھری اور بتایا کہ ان کا موبائل تو صبح سے چوری ہوگیا تھا ....
انہوں نے اپنی جیبیں الٹ کر سب کو یقین دلایا ... تو ان کی بیگم اپنی ماں سے لپٹ کر رونے لگیں ... اور سسر صاحب نے اپنی ٹانگیں بیٹھے بیٹھے دراز کرلیں ....
"لیکن چور نے میری بیوی کو طلاق کا میسیج کیوں کیا ؟؟؟"
الجھن کے مارے انہوں نے اپنا نمبر ڈائل کیا تو چور نے فون اٹھایا ... صاحب چهوٹتے ہی پهٹ پڑے ... " کمینے انسان !! فون چرایا سو چرایا ... میری بیوی کو طلاق دینے کیا ضرورت تھی ... ؟؟
چور نے اطمینان سے ان کی بات سنی اور کہنے لگا ...
"دیکھئے صاحب ! صبح ... جب سے آپ کا فون چرایا ہے ... مجھے آپ کی بیوی کے چھتیس میسیج موصول ہو چکے ہیں ...
کہاں ہو ؟؟؟ .... کیا کر رہے ہو .؟؟ .... کب آؤ گے ؟؟ .... آتے ہوئے یہ لے آنا ... اور ہاں یہ بھی ... !! .... جلدی آنا !!! .... دیکھو فلاں چیز ختم ہوگئی ہے !!! ... میں پاگل ہوگیا ... تب میں نے طلاق بھیجی
دن��ا میں سب سے نایاب انسان وہ ہے جس کے پاس بیٹھ کر کسی کو اپنے چھوٹا یا بے بس ہونے کا احساس نہ ہو۔ جن لوگوں کے اندر رب کا خوف اور دل میں نرمی ہوتی ہے ان کا لہجہ ہی دوسروں کے بوجھل دلوں کے لیے مرہم بن جاتا ہے۔
ہمیں لوگوں کی نیتیں ٹٹولنے کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ اپنے دلوں کی اصلاح کا حکم دیا گیا ہے۔
حکمت کہتی ہے:
"لوگوں کے ساتھ اُن کے ظاہر کے مطابق معاملہ کرو، اور اُن کے باطن کو غیب ��اننے والے اللہ کے سپرد کر دو۔"
یہ ایک عظیم اصول ہے۔ اگر ہم اسے صحیح معنوں میں سمجھ لیں تو ہمارے دل سکون پا جائیں، بہت سے جھگڑے ختم ہو جائیں، اور بدگمانیوں کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے اُسامہ بن زیدؓ سے اس وقت فرمایا جب انہوں نے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا جس نے آخری لمحے میں "لا إله إلا الله" پڑھ لیا تھا:
"کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟"
صرف ایک جملہ... مگر ایسا جملہ جس نے ایک عظیم صحابیؓ کے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
آپ ﷺ نے صرف یہ نہیں پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا، بلکہ ایک ابدی حقیقت یاد دلائی:
تم بندے ہو، اور دلوں کا حال جاننا تمہارا اختیار نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو۔"
بدگمانی دراصل اُس نیت کو جاننے کی ناکام کوشش ہے جس کی کنجی ہمارے پاس نہیں۔
جو شخص لوگوں کی نیتیں ٹٹولنے میں لگ جاتا ہے، وہ بدگمانی کے جہنم میں زندگی گزارتا ہے۔ ہر بات کا مطلب نکالتا ہے، ہر خاموشی کی تاویل کرتا ہے، ہر تاخیر کو الزام بنا دیتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ خود بھی بے سکون رہتا ہے اور دوسروں کو بھی بے سکون کر دیتا ہے۔
عاقل انسان کا وقت بہت قیمتی ہوتا ہے۔ یا تو وہ اپنی خامیوں کی اصلاح میں لگاتا ہے اور کامیاب ہو جاتا ہے، یا دوسروں کی خامیاں ڈھونڈنے میں ضائع کرتا ہے اور خود ہلاک ہو جاتا ہے۔
حسن بصریؒ فرمایا کرتے تھے:
"جس بندے کی نیکی بڑھتی ہے، اس کے دل میں یہ خوف بھی بڑھ جاتا ہے کہ کہیں اس کا عمل قبول ہی نہ ہو۔"
ہر صبح اپنی نیت کو تازہ کرو اور دعا کرو:
"اے اللہ! میں تجھ سے اخلاص عطا کرنے کی دعا کرتا ہوں۔"
انسان کے دل میں روزانہ بے شمار خیا��ات آتے ہیں۔ تم اُن کے آنے کو نہیں روک سکتے، لیکن یہ ضرور تمہارے اختیار میں ہے کہ اُن پر عمل کرو یا نہیں۔
اگر حسد کا خیال آئے تو استغفار کرو اور اپنے بھائی کے لیے برکت کی دعا کرو۔
اگر غیبت کا خیال آئے تو اپنے ہونٹ بند کر لو اور اللہ کا ذکر کرو۔
ہم خیالات کے آنے پر نہیں، بلکہ اُنہیں اپنے عمل کا حصہ بنانے پر جواب دہ ہیں۔
لوگوں کے ساتھ ہمارا اصول یہی ہونا چاہیے کہ ہم اُن کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کریں، اور اُن کے باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں۔
حسنِ ظن اختیار کرو، اور لوگوں کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو۔
حضرت عمر بن خطابؓ فرمایا کرتے تھے:
"اپنے بھائی کی کسی بات کو بُرے معنی پر محمول نہ کرو، جب تک اس کے لیے کوئی اچھا مطلب نکالنے کی گنجائش موجود ہو۔"
اے میرے دوست!
لوگوں کی نیتیں کھنگالنا تھکا دینے والا کام ہے، اُن پر فیصلے صادر کرنا دل کو سخت کر دیتا ہے، اور آخر میں ہاتھ کچھ نہیں آتا۔
لیکن اپنے دل کی اصلاح کرنا سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس کا پھل سکونِ قلب ہے، اور اس کا انعام اللہ کی رضا۔
اپنے دل کی فکر کرو؛
اسے پاکیزہ بناؤ،
اسے نور سے بھر دو،
اور ہر لمحہ اس کا محاسبہ کرتے رہو۔
لوگوں کے دل اُن کے خالق کے سپرد کر دو۔
اللہ کی قسم! کامیاب وہ نہیں جس کے اعمال زیادہ ہوں، بلکہ کامیاب وہ ہے جو اللہ کے حضور سلیم القلب بن کر حاضر ہو۔
"مگر وہی کامیاب ہوگا جو اللہ کے حضور پاکیزہ دل لے کر آئے گا۔"
(شادی سے پہلے)
تُم جَو ہَنستی ہَو تَو پُھولُوں کی اَدا لَگتی ہَو،
اَور چَلتی ہَو تَو اِک بادِ صَبا لَگتی ہَو،
دَونُوں ہاتُھوں میں چُھپا لیتی ہَو اَپنا چَہرہ،
مَشرِقی حُور ہَو دُلہَن کی حَیا لَگتی ہَو،
کُچھ نہ کَہنا مَیرے کَندھے پہ جُھکا کَر سَر کَو،
کِتنی مَعصُوم ہَو،تَصوِیرِ وَفا لَگتی ہَو،
بات کَرتی ہَو تَو ساگَر سے کَھنَک جاتے ہیں،
لَہَر کا گِیت ہَو،کَوئل کی صَدا لَگتی ہَو،
کِس طَرف جاؤ گی زُلفُوں کے یہ بادَل لے کَر،
آج مَچلی ہُوئی ساوَن کی گَھٹا لَگتی ہَو،
تُم جِسے دَیکھ لَو،اُسے پِینے کی ضَرُورَت کَیا ہے...؟
زِندگی بَھر جَو رَہے،اَیسا نَشہ لَگتی ہَو،
مَیں نے مَحسُوس کِیا تُم سے یہ باتَیں کَر کے،
تَم زَمانے میں زَمانے سے جُدا لَگتی ہَو...!
*(شادی ک�� بعد)*
تم جو ہنستی ہو تو آسیب زدہ لگتی ہو
اور روتی ہو تو اس سے بھی بُرا لگتی ہو
دونوں ہاتھوں میں چھپا لیتی ہو بٹوا میرا
تم نِری چور ہو، چوروں کی سبھا لگتی ہو
کچھ نہ کہنا مِرے کاندھے پہ جھکا کر سر کو
بات کرتے ہوئے ایک بھونپو پھٹا لگتی ہو
کس طرف جاؤ گی یہ زہر بھرا پھن لے کر
آج مچلی ہوئی ناگن کی ادا لگتی ہو
ساتھ گر تم ہو تو دشمن کی ضرورت کیا ہے
بلکہ ایذا میں تو دشمن سے سِوا لگتی ہو
میں نے محسوس کِیا ساتھ تمہارے رہ کے
پڑ گئی سر مِرے تم ایسی بلا لگتی ہو😜😜😜
اگر آپ نے ابھی تک ستلج نہیں دیکھی، تو شاید آپ اس سال کی سب سے اثر انگیز فلم مس کر رہے ہیں۔
یہ صرف ایک فلم نہیں، بلکہ جذبات، قربانی، حقیقت اور انسانیت کی ایسی کہانی ہے جو آخری منظر تک آپ کو اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔
بغیر کسی اسپائلر کے اتنا ضرور کہوں گا: ایک بار دیکھنا شروع کریں، پھر بیچ میں چھوڑنا مشکل ہو جائے گا.
جو شخص ۳بار
“بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ”
کہے تو اسےصبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی،اور جو شخص تین مرتبہ صبح کےوقت اسےکہے تو اسےشام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی۔
(ابوداؤد ،۵۰۸۸)
دینو مسجد میں داخل ہوا ت�� مولوی صاحب خطبہ دے رہے تھے. وہ چپ چاپ سنتا رہا معمولی پڑھا لکھا تھا کچھ سمجھ آیا کچھ نہ آیا لیکن جب مولوی صاحب نے بتایا کہ ہمیں چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی حقیر نہیں سمجھنا چاہیے .
اور کچھ ایسے واقعات بھی سنائے جب کسی معمولی سے عمل کی بنیاد پر اللہ نے بےحساب اجر دیا تو اس نے سوچا کہ یہ کوشش تو میں بھی کرسکتا ہوں بس جناب نماز ختم ہوتے ہی وہ مولوی صاحب کے پاس پہنچا اور ان سے کوئی آسان سی کتاب مانگی جس پر عمل کرکے وہ بھی ثواب کما سکے. انہوں نے اسکا شوق دیکھتے ہوئے اسے ایک آسان سی حدیث کی باترجمہ کتاب تھما دی.
دینو کو نیا مشغلہ مل گیا تھا روز کھیتی کے کام سےفارغ ہو کر کتاب پکڑتا اور ہجے کر کر کے پڑھتا. سردیوں کے دن تھے. اسکے بیوی بچے اپنے میکےبرابر والے گاؤں میں گئے ہؤے تھےاس نے باہر جھانکا. ہر طرف خاموشی تھی کبھی کبھی کبھی کسی چرند پرندکی آواز سنائی دے جاتی یا کوئی اکا دکا دیہاتی گزرتا نظر آجاتا وہ اپنے بستر پر بیٹھ گیا اور مولوی صاحب کی دی ہوئی کتاب نکال کر پڑھنے لگا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا
قیامت کے دن اللہ عزوجل ایک شخص سے فرمائیں گے اے ابن آدم، میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہیں کی۔
دینو چونک گیا اور حیرت کے عالم میں آگے پڑھنے لگا.
اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔
دینو مزید پریشان ہوگیا اسے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ اللہ کو بھی یہ سب چاہیے ہوتا ہے. اس نے اٹک اٹک کر آگے پڑھنا شروع کیا.
اے ابن آدم، میں نے تم سے پانی مانگا تھا تم نے مجھے پانی نہیں پلایا...
دینو کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے. اس نے کتاب بند کردی . سب سے پہلے تو اس نے رو رو کر اللہ سے اپنی لا علمی کی معافی مانگی اور پھرمولوی صاحب کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق دعا مانگنی شروع کردی. اور اللہ سے التجا کی کہ وہ اسے توفیق دے کہ وہ اس کے گھر پہنچ سکےیا اللہ کو جب ضرورت ہو خود اسکے گھر آئے وہ اسے کھانا بھی دیگا اور اسکی پوری دیکھ بھال بھی کریگا.
اگلے دن دینو صبح سویرے اٹھ گیا. اور جلدی جلدی گھر صاف کرنے لگا اسے بہت امید تھی کہ اللہ نے اسکی التجا سن لی ہوگی اور وہ ضرور اسکے گھر آکر اسے خدمت کا موقع دیگا
تب ہی اسے باہر کسی کے کھانسنے کی آواز سنائی دی. اسنے جلدی سے دروازہ کھول کر باہر جھانکا لیکن.... باہر تو رحمت چاچا کھڑا تھا. وہ موچی تھا پورے گاؤں کے جوتے وہی بناتا تھا. دینو نے اس سے علیک سلیک کرنا چاہی مگر وہ کچھ بجھا بجھا نظر آرہا تھا.
" کیا بات ہے تمہاری طبعیت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی" . دینو اسے گھر کے اندر لے آیا بےچارہ رحمت بخار میں پھنک رہا تھا. دینو نے جلدی سے اسے چائے بنا کر پلائ اور اس سے علاج کے بارے میں پوچھا.
"چھوڑو بھی کیا دوا لینی ہے کب سے ایسے ہی چل رہا ہے خود ہی ٹھیک ہو��ائے گا". رحمت نے بے زاری سےجواب دیا.
دینو سمجھ گیا کہ رحمت کے پاس علاج کے پیسے نہیں ہیں. وہ اندر گیا اور کچھ رقم اسے زبردستی تھمادی. اپنا علاج ٹھیک سے کرواؤ اور اگر مزید ضرورت ہو تو مجھے بتا ضرور دینا. رحمت ہکا بکارہ گیا اسکی آنکھوں میں خوشی کے آنسوتھے. وہ اسے دعائیں دیتا ہوا رخصت ہوگیا.
دوپہر ہوچکی تھی دینو نے جلدی جلدی کھانے کی تیاری شروع کی. اسنے کھانے کی مقدار زیادہ رکھی تھی تا کہ جب اللہ آئے تو کھانا کافی ہو جائے وہ بار بار باہر جھانکتا لیکن اللہ کہیں نظر نہیں آیا. وہ تقریباً مایوس ہوچکا تھا کہ اسے کریم نظر آیا جو صبح سے شام تک مزدوری کرتا تھا کریم نے اسے بتایا ��ہ اسے کئی دن سے مزدوری نہیں ملی گھر میں اسکے بچے بھوکے ہیں اور وہ آج بھی مایوس گھر جارہا ہے. دینو کو یہ سب سن کر سخت افسوس ہوا اسنے کریم کو اپنے کھانے میں شامل کرلیا اور جب وہ جانے لگا تو راشن اور کھانے کا پارسل بنا کر اسے تھمادیا. کریم اسے تشکر بھری نظروں سے دیکھتا اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا.
دینو کو رحمت اور کریم کی مدد کرکے بہت اچھا لگ رہا تھا لیکن اندر ہی اندر وہ کچھ اداس ��ور مایوس بھی تھا پورے دن انتظار کے بعد بھی اللہ اسکے پاس نہیں آیا کہیں اللہ اس سے ناراض تو نہیں. یہ سوچ کر وہ کچھ پریشان ساہوگیا اسنے جلدی سے اپنی حدیث کی کتاب نکالی پہلے پچھلا سبق دہرایا اور پھر آگے پڑھنا شروع کیا.
وہ شخص حیران ہوکر کہے گا کہ اے میرے رب، میں آپ کی عیادت کیسے کرتا حالانکہ آپ تو رب العالمین ہیں.
ا للہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اگر تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے اس کے پاس پاتے۔
👇بقیہ