ہنگو حملہ: خوارج کی حقیقت ایک بار پھر سامنے آ گئی
دہشت گرد عناصر نے 29 جولائی کو ہنگو میں پولیس پر گھات لگا کر حملہ کیا جس میں ڈی ایس پی سمیت 9 اہلکار شہید اور 28 زخمی ہوئے۔ یہ حملہ انہی لوگوں پر ہوا جو روزانہ عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جان کی بازی لگاتے ہیں۔
حملے کے بعد ان خارجی دہشت گردوں نے زخمی پولیس اہلکاروں میں رقم تقسیم کر کے ہ��دردی حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی۔ یہ واضح طور پر ایک پراپیگنڈا سٹنٹ تھا تاکہ اپنی وحشت اور بزدلی چھپائی جا سکے۔
خیبر پختونخوا پولیس ��ے دہشت گردی کے خلاف مسلسل قربانیاں دی ہیں۔ 2001 سے اب تک 2,413 پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں جبکہ 1970 سے کل تعداد 2,659 تک پہنچ چکی ہے۔ صرف 2026 کے پہلے سات مہینوں میں 150 پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت کانٹیبلز، ہیڈ کانٹیبلز، اے ایس آئی، ایس آئی اور انسپکٹرز کی ہے۔
عوام ان خوارج کے جھوٹے بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور اپنی بہادر پولیس کے ساتھ کھڑی ہے۔
#HanguAttack
#SupportOurPolice
#KhwarijPropagandaExposed
@missiontakmeel Facebook per ik page hai syedi murshdi k Naam s .. wo apk Naam per Palestine k Liya aid lety hen... Kiya unko dyen.. Kiya wo apka page hai..?
@waseemAli0007 ھر بار آپ کے پٹرول کی قیمتوں کے بڑھانے کا دفاع کیا کیونکہ عالمی مارکیٹ میں ھی قیمتیں ذیادہ تھیں اس بار جو قیمتیں بڑھائی ھیں نا اس کی کوئی وجہ سمجھ آتی ھے اور نا ھی ھوگی۔خود پر تھوڑا رحم کھائیں۔