ایسے ہی گیلے تیتروں اور مشیروں کی وجہ سے سیاسی رہنما آج جیل میں اُن کے آس پاس بہتر لوگ ہوتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔ موجودہ حالات میں یوٹیوب کانٹینٹ بنانے میں یقیناً مشکل پیش آرہی ہونگی لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کیا جائے ۔ میر�� طرف سے جھوٹے پراپوگینڈہ کا یہ آخری جواب ہے کیونکہ آپ کو جھوٹ بول کر اور بار بار میرا نام لے کر یو ٹیوب پر ڈالر کمانے ہیں جبکہ مجھے اپنی فاونڈیشن سے کیے جانے والے فلاحی کاموں کی دیکھ بال کرنی ہے ۔ اتنا وقت نہیں کہ ہر ٹرول کو جواب دیتا رہوں #Troll
ذندگی جس رسول اللہﷺ کے دین کی خاطر پہاڑوں اور غاروں میں گزاری، ذندگی میں پہلی دفعہ جب انکے روزہ پہ حاضری نصیب ہوئی تو آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا
خلیفہ سراج الدین حقانی
@Zabehulah_M33
صحابہ کرام کی عزت کی بات کرنا عزت دار لوگوں کا کام ہے اور صحابہ کی عزت سن کر خوش ہونا معزز لوگوں کا کام ہے
پہرہ جاری رہے گا ان شاءاللہ
✍️ مفتی ابو محمد عفی عنہ
مولانا فضل الرحمان کا مظفر گڑھ میں تاریخی پاور شو ۔مولانا اسعد محمود نےملین مارچ لوٹ لیا ۔اسٹیبلشمنٹ پر تابڑ توڑ حملے ۔ن لیگ اور پی پی پی پر ڈرون حملے ۔یہ کمپنی چلنے والی نہیں ۔نیا سیاسی اتحاد ۔۔؟
#مظفرگڑھ_عوامی_اسمبلی
جس دن ہم کوہاٹ میں گرمی کی شدت سےتڑپ رہے تھے،پنجاب کی جمعیۃ نے50سینٹی گریڈگرمی میں اپنے پختہ عزائم کی ثبوت پیش کر دی۔صرف جذباتی نعروں سےایسا ممکن نہیں۔ اس سے تحریکی شعور کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔
ویلڈن جمعیۃ علماءاسلام پنجاب
#مظفرگڑھ_عوامی_اسمبلی
عوام نے قائد محترم کے بیانیہ کو ویلکم کہہ دیا ہے..
جے یو آئی پنجاب کے زیراہتمام مظفر گڑھ کے تاریخ ساز عوامی اسمبلی کے فضائی مناظر.
#مظفرگڑھ_عوامی_اسمبلی
وفاقی حکومت @GovtofPakistan کے نمائندے کے طور پر وفاقی وزیر اطلاعات @MoIB_Official عطا تارڑ @TararAttaullah کی آمد۔ ان کے ساتھ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد @dcislamabad ، ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس @ICT_Police ، ایس پی اسلام آباد پولیس اور دیگر حکام تھے۔ سیو غزہ کی طرف سے فاؤنڈر ٹیم لیڈ حمیرا طیبہ @humairatayyaba ، بلال ربانی، بلال ہمدانی اور فاروق شاہ خان نے مذاکرات میں حصہ لیا۔ ہم نے سیو غزہ @SaveGazaPK کی طرف سے مطالبات کی فہرست وفاقی حکومت کے سامنے رکھ دی۔ وفاقی وزیر نے لاء ڈیپارٹمنٹ @ministry_law ، وزارت خارجہ @ForeignOfficePk اور وزیر اعظم @PakPMO سے مشورے کے لیے وقت مانگ لیا۔
یہ رکشہ ڈرائیور نہیں بلکہ مدینہ منورہ سے فاضل مولانا اور مفتی صاحب ہیں۔جی ہاں تصویر میں نظر آنے والی شخصیت مفتی جنید اقبال صاحب ہیں، آپ پاکستان کے نمایاں اداروں سے علم حاصل کرنے کے بعد عالم اسلام کی سب سے معروف یونیورسٹی ’جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ’ سے فارغ التحصیل ہیں۔
مدینہ میں رہتے ہوئے انہوں نے مسجد نبوی اور جامعہ اسلامیہ میں کئی ایک اہم ذمہ داریاں سنبھالیں اور دعوت و تبلیغ کے حوالے سے کئی اہم فرائض سر انجام دینے کی سعادت حاصل کی۔
حضرت پاکستان میں ایک عرصے سے مسجد، مدرسہ، میڈیا، سوشل میڈیا جیسے روایتی اور جدید ذرائع اختیار کرتے ہوئے تدریس، دعوت و تبلیغ، افتاء و کونسلنگ کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
لیکن یہ حضرت رکشے میں بیٹھے کیا کر رہے ہیں؟ اس کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ کسی نے اگر یہ منظر کیمرے میں محفوظ نہ کیا ہوتا تو شاید کسی کو یقین نہ آتا۔
آئیے اس تصویر ��ی کہانی جانیے!
حضرت اپنے آفس میں موجود تھے کہ کسی کا فون آیا۔ یہ صاحب ایک رکشہ ڈرائیو تھے، جن کا اپنی بیوی کے ساتھ طلاق کا مس��لہ چل رہا تھا، اس سلسلے میں وہ حضرت مفتی صاحب سے ملنا چاہتے تھے۔
لیکن اتفاق یہ ہوا کہ حضرت کے آفس میں رش تھا، جبکہ یہ جوڑا ایمرجنسی میں ملنا چاہتا تھا۔ بڑا آسان کام تھا، کہہ دیا جاتا کہ کل آئیں، فلاں وقت آئیں، انتظار کریں، ادھر آفس میں آ کر مل سکتے ہیں تو مل لیں، ورنہ ممکن نہیں ہے... وغیرہ وغیرہ!
لیکن یہ امت کا درد رکھنے والے عالم دین اور سائلین کی مشکلات کا احساس کرنے والے مفتی صاحب تھے لہذا تمام پروٹوکول اور ادب و آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، سڑک پر آئے اور تسلی سے میاں بیوی کی بات سنی اور ان کی آپس میں صلح کروائی!
یہ دوپہر بارہ بجے شدید جھلسا دینے والی گرمی ہے، جس میں ایک عالم دین اپنے ٹھنڈے آفس سے نکل کر سڑک پر کھڑے رکشے کو آفس بنا کر، میاں بیوی میں صلح کروا رہا ہے، نہ فیس کا مطالبہ، نہ کوئی اور پروٹوکول۔
اگر یہ کسی آفیسر کا پلان شدہ وزٹ ہوتا تو اب تک سوشل میڈيا پر و��ئرل ہو چکا ہوتا!
کتنے ہی ایسے علمائے کرام ہیں، جو ہر وقت معاشرے کی خدمت اور ان کے مسائل سننے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں!
جنہیں سردی کی پرواہ ہوتی ہے نہ گرمی کا کوئی خطرہ۔ جن کے ہاں دن اور رات کا کوئی فرق نہیں، آرام اور کام کے لیے کوئی خاص نظام الاوقات نہیں ہوتا، جو پروٹوکول چاہتے ہیں نہ کوئی رسمی فیس اور نذرانے!
اللہ تعالی امت کے ان محسنین کی قربانیاں اور خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں ان کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔(منقول)
*وہی مولانا فضل الرحمٰن جس کو آپ ڈیزل ڈیزل کہتے تھے آج دڑا دھڑ اُن کے دربار گئے...*
*تعریف تو وہ ھے جو مخالفین کریں👇🏻
*`پی ٹی آئی صحافی عُمر ریاض کی زبان میڈیا`
@ImranRiazKhan