🚨HEARTBREAKING: During Israel’s genocidal war on Gaza, little Shaima lost her father, Ali Al-Qreinawi, in an Israeli airstrike. Just one week later, an Israeli strike hit her grandfather’s house, killing little Shaima and her mother.
An entire Palestinian family wiped out in stages during the genocide in Gaza.
At this very moment, a child in Sudan is crying from hunger.
They haven’t eaten for days… and they don’t know when help will arrive.
Millions of children there are facing the worst famine they have ever known. Their little bodies are becoming too weak to fight hunger as they wait for food, clean water, and medicine
شکر گڑھ پنجاب سے ایک ضعیف اور کمزور ماں جی نے رابطہ کرکے کہا کہ
"بیٹا میرے دو بیٹے گونگے بہرے ہیں ۔ بڑا بیٹا 23 سال کی عمر میں آج سے 18 سال قبل گم ہوا تھا۔ آج تک وہ نہیں ملا ۔ میں چھوٹی سی دوکان لگاکر بچوں کی چیزیں بیچتی ہوں۔ بہت پریشان رہتی ہوں۔۔مرنے سے پہلے اس اس بچے کو گلے لگنا چاہتی ہوں"۔
ماں جی کا بیٹا بول اور سن نہیں سکتا جسکی وجہ سے شاید کہیں موجود ہو لیکن اپنا پتہ بتا نا سکتا ہوں۔ اسکی نشانی یہ ہے کہ ہونٹ پر چوٹ لگی تھی زخم کا نشان ہوگا ۔
برائے مہربانی اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ ایک بےبس ماں کو اسکے لخت جگر سے ملانے میں مدد کریں۔
آپکا ایک شئیر بہت بڑی نیکی کا سبب بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
7 oct 2026
#waliullahmaroof
Do you remember him?
The heroic director of Kamal Adwan Hospital, Dr. Hussam Abu Safiya — a historic symbol of courage, resilience, and humanity, shaped by the days and the hardships he endured.
They besieged him, injured him, pursued him, and threatened him.
His son, Ibrahim, was killed in an attempt to force the evacuation of Kamal Adwan Hospital. Dr. Hussam buried his son in the hospital courtyard, refused to abandon his patients, and returned to continue his medical and humanitarian duty.
He even refused to leave Gaza, despite holding another nationality along with his family.
He stood with a strength that even mountains could not withstand.
A kind heart.
An icon of resilience and integrity.
He was arrested and subjected to abuse after his voice grew hoarse from pleading with a silent world until the very end.
Free Dr. Hussam Abu Safiya.
This is a photograph of imprisoned doctor Hussam Abu Safiya beside his son Ibrahim, who was killed while we were under siege inside Kamal Adwan Hospital.
Today, Dr. Hussam remains detained in Israeli custody, facing ongoing allegations of torture and abuse. His family and supporters say this is the price he has paid for refusing to abandon his patients and continuing to provide medical care despite the siege, bombardment, and danger.
He was a doctor who carried a mission — and he paid for his commitment to that mission with his freedom, his safety, and the life he devoted to serving others.
His wife has made an urgent appeal to the world:
“Save my husband before it is too late. His only ‘crime’ was saving the wounded and treating the injuries of children.”
🔹 Dr. Hussam Abu Safiya, a doctor of humanity, behind bars for carrying out his humanitarian duty.
Do you remember Dr. Hussam Abu Safiya?
The director of Kamal Adwan Hospital, who remained beside his patients despite the siege, bombardment, and danger. He lost his son Ibrahim, then returned to continue his medical duty.
Dr. Hussam was detained in December 2024, and since then, there have been continued calls for transparency regarding the conditions of his detention and for his release.
A doctor who chose to stay beside his patients paid a heavy price with his freedom and safety.
Freedom for Dr. Hussam Abu Safiya.
Safety and protection for all doctors and patients in Gaza.
#HussamAbuSafiya #KamalAdwan #Gaza #DoctorOfHumanity #Palestine
A 7-year-old girl was riding her bike when a stranger pulled up, grabbed her and forced her into his car.
Her aunt, Alecia Swejkoski, saw it happen and sprinted toward the vehicle.
Alecia threw herself halfway through the driver’s side window and started fighting him while her niece was still trapped inside. The man punched her, grabbed for the wheel and violently jerked the car forward and backward, trying to throw her off and get away.
But Alecia kept one hand on the steering wheel and the other fighting to get his grip off the little girl.
Then another driver, Scott Van Luven, saw what was happening and pulled his vehicle in front of the car to block the suspect in. He rushed over, helped pull the man out and held him there until police arrived.
Alecia was hurt, but her niece got out safely.
Because Alecia refused to let go and Scott chose to stop and help, that little girl made it safely back to her family.
🚨 EXCLUSIVE…
محمد رضوان پر انکوائری میں عدم تعاون کا الزام سامنے آیا ہے… ٹاؤٹ صحافیوں کے ذریعے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ رضوان تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں… رضوان کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ رضوان کو تاحال NCCIA کی جانب سے کوئی نیا نوٹس موصول نہیں ہوا، رضوان کو پہلا نوٹس بھی گھر کے ایڈریس پر نہیں بلکہ واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہوا تھا، رضوان کا تو موبائل بھی اب اُنکے پاس نہیں ہے… دوسری جانب رضوان نے پیش ہونےکےبعد NCCIA سے چند سوالات پوچھے تھے کہ مجھے کیوں بلایا جارہاہے؟ مجھ پر کیا الزامات ہیں؟ لیکن تاحال رضوان کو کوئی جواب نہیں موصول ہوا… لاہورہائیکورٹ نے رضوان کو ہراساں کرنے سے روکا ہے… رضوان کہیں نہیں بھاگے جا رہے بلکہ قانونی طور پر NCCIA کا نوٹس موصول ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور نوٹس موصول ہونےپر NCCIA میں پیش ہو جائیں گے۔ #Rizwan #PakistanCricket
جیو سمیت مختلف چینلز پر بیٹھےاور میڈیا میں اکثر نظر آنے والے سابق کرکٹرز اور ایکسپرٹس محمد رضوان کا دفاع نہ کریں لیکن یہ تو کہیں کہ شفاف تحقیقات کرو اور اگر جوا ثابت ہو جائے تو رضوان کو مثال بنا دو۔
باقی جو جوے یا جواریوں کی کھلے عام نمائندگی کرتے ہیں اُن پر بے شک نہ بولیں۔
وینزویلا کے بارے میں پہلے کہا گیا کہ صدر میدورو ڈرگ ڈیلر ہیں اور اس ملک میں رجیم چینج کی ضرورت ہے اور اب پتہ چل رہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے وہاں کی آئل انڈسٹری اپنے قبضے میں لے لی گئی ہے، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی یو این جنرل اسمبلی اجلاس میں خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو
یہ فلسطینی بچہ صیہونی درندوں کی بمباری میں اپنے ماں باپ کھو چکا ہے اور خوف کے مارے خود اس کی حالت دیکھیں۔ اگر یہ بچہ یوکرینی ہوتا تو شاید نام نہاد مہذب دنیا سے کوئی آواز اٹھتی مگر کیا کریں، یہ فلسطینی ہے۔
ڈی آئی خان حملے میں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے والے ایمبولینس پر درابن کے مقام پر طالبان کا گھات لگا کر حملہ کیا ہے، جس میں 1122 کا ایک اہلکار قتل جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ ان جاہل اور جانور نما غنڈوں طالبان کی انسانیت اور اسلام ہے۔ ایمبولینس تک کو حملہ کرنے سے محفوظ نہیں۔
اس نے اپنا کھلونا نہیں، بلکہ اپنے اعضاء کھو دیے ہیں۔
وہ جائے نماز پر بیٹھا ہے. اس کا چھوٹا سا جسم جنگ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، نہ تھامنے کے لیے کوئی ہاتھ ہے اور نہ ہی دوسرے بچوں کی طرح دوڑنے کے لیے پاؤں۔
جنگ نے غزہ کے بچوں کے جسموں پر یہی نشان چھوڑے ہیں. ایک کٹا پھٹا بچپن اور خاموشی میں لہو لہان ہوتے خواب۔
اور اس تمام تر کرب کے باوجود، وہ بڑوں جیسی صبر و استقامت کے ساتھ بیٹھا ہے.
تو بھلا اسے اس کا بچپن کون واپس لوٹائے گا ؟ ؟ ؟
ڈاکٹروں نے صرف تین ماہ پہلے اس کے سینے
میں پیس میکر لگایا تھا اور بیوی جانتی تھی کہ سینے
پر ایک زور دار ضرب بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے
اسی لیے جب نوید اسلم ایک حملہ آور کی طرف بڑھا تو بیوی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکنے کی کوشش کی مگر سامنے دو معصوم بچے تھے۔
اور شاید اس لمحے نوید کو اپنے سینے میں لگا ہوا آلہ یاد نہیں رہا ۔۔۔ اسے صرف اپنی ماں کی دی ہوئی تربیت یاد رہی۔
39 سالہ نوید اسلم اٹلی کے شہر بریشیا میں ڈلیوری رائیڈر ہے۔ 19 جون 2026 کو وہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک پارک میں بیٹھا تھا کہ اچانک ایک شخص نے وہاں موجود چار سالہ بچے کو گردن سے پکڑ کر سائیکل سمیت ہوا میں اٹھا لیا۔
لوگ دیکھ رہے تھے ۔۔۔ نوید اٹھا اور بچے کو چھڑانے کے لیے آگے بڑھ گیا۔ حملہ آور کچھ دیر پیچھے ہٹا، مگر پھر اس نے سات سالہ بچے کو زمین پر گرا کر اس کا بازو مروڑنا شروع کر دیا۔
اب نوید دوبارہ دوڑا۔
بیوی نے یاد دلایا کہ دل کا آپریشن ہوئے صرف تین ماہ گزرے ہیں ۔۔۔ مگر نوید کے سامنے شاید ایک ہی سوال تھا:
اگر آج کسی اور کے بچوں کو بچانے کوئی نہ آیا، تو کل میرے بچوں کو کون بچائے گا؟
حملہ آور نے نوید کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ۔۔۔ اس کے سینے پر مکے اور کہنیاں ماریں مگر نوید نے اسے زمین پر قابو کیے رکھا۔
ایک منٹ نہیں ۔۔۔ دو منٹ نہیں ۔۔۔ تقریباً بیس منٹ تک۔
یہاں تک کہ پولیس پہنچ گئی۔
اس کے بعد نوید کو اسپتال لے جایا گیا۔ ٹیسٹ ہوئے تو سینے کے بائیں جانب دو بڑے زخم سامنے آئے، مگر خوش قسمتی سے پیس میکر محفوظ رہا۔
چار گھنٹے اسپتال میں گزارنے کے بعد نوید پولیس اسٹیشن پہنچا تاکہ مقدمے کی کارروائی مکمل ہوسکے۔ وہاں سے صبح چار بجے نکلا اور صرف ایک گھنٹے بعد دوبارہ اپنی ڈلیوری کی نوکری پر موجود تھا۔
وہ کوئی فلمی ہیرو نہیں تھا ۔۔۔ نہ اس کے پاس وردی تھی، نہ ہتھیار اور نہ کوئی سکیورٹی ٹیم۔
وہ صرف ایک پاکستانی مزدور تھا ۔۔۔ جسے اگلی صبح گھر چلانے کے لیے دوبارہ کام پر جانا تھا۔
بریشیا کی میئر نے نوید کو شہری بہادری کی تختی پیش کی اور اس کی زیرِ التوا اطالوی شہریت کا عمل تیز کرنے کا اعلان کیا۔
تقریب کو پاکستان کے شہر گجرات میں بیٹھی اس کی ماں نے ویڈیو کے ذریعے دیکھا۔ نوید کے لیے اطالوی شہریت اور اعزاز سے زیادہ اہم یہ تھا کہ اس کی ماں اس پر فخر کررہی تھی۔
کیونکہ بہادری اسے کسی تربیتی مرکز نے نہیں سکھائی تھی۔ اس کی ماں نے سکھایا تھا کہ اگر کوئی مصیبت میں ہو تو اس کی مدد ضرور کرنا۔
دنیا نے اس پاکستانی ڈلیوری رائیڈر کو ایک اعزاز دیا مگر نوید اسلم نے دنیا کو اس سے کہیں بڑی چیز دی:
یہ یقین کہ ہیرو وہ نہیں ہوتا جسے اپنی جان کا خوف نہ ہو
ہیرو وہ ہوتا ہے جو خوف کے باوجود کسی اور کے بچے کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہوجائے۔
منقول