آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی آواز میں ایسی بے بسی تھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کام کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے کے پیسے لوں گا، نہ آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ذریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلازہ کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو اس بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریانی یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺
واردات سے 30 منٹ پہلے۔۔۔۔۔
والدین کے اکلوتے بیٹے اور دو بہنوں کے اکلوتے پڑھے لکھے بھائی جنید کا اپنے محلے کے ایک نوجوان سے جھگڑا ہو گیا. ہاتھا پائی ہوئی اور کچھ گالیوں کا تبادلہ بھی ہوا.جنید گھر آیا اور اپنے کمرے میں بیٹھ گیا. اس نے اپنے دشمن کو مارنے کا فیصلہ کر لیا اور الماری سے پستول نکال لیا. اچانک اسے اپنے ایک دوست کی نصیحت یاد آ گئی. دوست نے اسے ایسا کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے 30 منٹ کے لئے واردات کے بعد کی صورتحال تصوراتی طور پر دیکھنے کا کہا تھا.
جنید نے تصور میں اپنے دشمن کے سر میں تین گولیاں فائر کر کے اسے ابدی نیند سلا دیا. ایک گھنٹے بعد وہ گرفتار ہو گیا. گرفتاری کے وقت اس کے والدین اور دو بہنیں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں. اس کی ماں بے ہوش ہو گئی. مقدمہ شروع ہوا تو گھر خالی ہونا شروع ہو گیا. ایک کے بعد ایک چیز بکتی گئی. بہنوں کے پاس تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہو گیا اور ان کے ڈاکٹر بننے کے خواب مقدمے کی فائل میں خرچ ہو گئے.بہنوں کے رشتے آنا بند ہو گئے اور ان کے سروں میں چاندی اترنے لگی. جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہر ہفتے والدین اور بہنیں ملاقات کے لئے جاتے. بہنوں کا ایک ہی سوال ہوتا کہ بھیا اب ہمارا کیا ہو گا؟ ہم اپنے بھائی کے بستر پر کسے سلائیں گی؟ ہم بھائی کے ناز کیسے اٹھائیں گی؟ بھائی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا. فیصلے کا دن آیا اور جنید کو سزائے موت ہو گئی. سزائے موت کی تاریخ مقرر ہو گئی. 25 منٹ گزر چکے تھے اور جنید کے جسم پر لرزہ طاری ہو چکا تھا. جیل میں وہ اپنی موت کے قدم گن رہا تھا اور گھر میں والدین اور بہنیں اپنے کرب اور اذیت کی جہنم میں جھلس رہے تھے. جنید کی آنکھوں پر کالی پٹیاں باندھ دی گئیں اور اسے پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا گیا. 29 منٹ ہو چکے تھے. پھانسی گھاٹ پر پیر رکھتے ہی 30 منٹ پورے ہو گئے. جنید پسینہ پسینہ ہو چکا تھا. اس کے جسم میں کپکپی طاری تھی. اس نے پستول واپس الماری میں رکھ دیا. اس نے میز سے اپنی بہنوں کی دو کتابیں اٹھائیں اور بہنوں کے پاس گیا. بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری پیاری بہنو تمہارے پڑھنے کا وقت ہو گیا ہے. خوب دل لگا کر پڑھو کیونکہ تمہیں ڈاکٹر بننا ہے.
چند ماہ بعد جنید ایک بینک میں اچھی پوسٹ پر ملازم ہو گیا. جنید کی دونوں بہنیں ڈاکٹر بن گئیں. وہ ایک کامیاب اور بھرپور زندگی گزار رہے ہیں. ان 30 منٹ کی تصوراتی واردات اور 30 منٹ کے مقدمے کی کارروائی نے ایک پورے گھر کو اجڑنے سے بچا لیا. آپ اپنی زندگی میں یہ 30 منٹ اپنے لئے ضرور بچا کے رکھئیے گا، یہ 30 منٹ کی تصوراتی اذیت آپ کو زندگی بھر کی اذیت سے بچا لے گی ۔
منقول
عمران خان سےآپکی دوستی تھی؟وکرانت گپتا
عمران اور ہم پنجابی بولتےتھےتوبات کرنا آسان ہوتاتھاورنہ اسکےلائف سٹائل کوہم چھوبھی نہیں سکتے،کپل دیو
آپ نےانکےوزیراعظم بننےکی پیشگوئی کی،وکرانت
اس نے20سال بہت محنت کی،اسکےاندر کچھ تھا جو وہ اپنےملک کودیناچاہتاتھا،کپل دیو
فاسٹ بولر نسیم شاہ کا اپنے تازہ انٹرویو میں کہنا ہے کہ ایک سال پہلے میرے والد صاحب کو ہم بھائیوں نے ملکر کہا آپ کو سوزئرلینڈ بیجھتے تین ماہ کیلئے آپ وہاں جاکر گھومے جس پر میرے والد صاحب نے کہا جو پیسے تم میرے سوزئرلینڈ پر لگاؤ گے وہ پیسے اپنے علاقے میں ایک بیوہ خاتون ہے جس کا شوہر دبئی میں محنت کرتا تھا اپنے بچوں کیلئے اور وہاں فوت ہوا تھا اس کی تین چھوٹے بیٹے اور دو بیٹیاں ہے اللہ کے علاوہ ان کا کوئی سہارا نہیں ہے ان کے پاس رہنے کیلئے گھر نہیں ہے یہ رقم ان کے حوالے کرو سمجھ لو میں سوزئرلینڈ گیا اور واپس آگیا پھر ہم نے حساب لگایا اور کچھ پیسے ساتھ اور ملاکر والد صاحب نے ہماری اپنی زمین میں سے چار مرلے کی زمین ان کو دیدی اور پھر ہم نے دو کمروں پر مشتمل گھر ان کو بناکر دیا اس سے ہمارے والد صاحب اتنے خوش ہوئے کہ اسکے خوشی سے آنسو آگئے اور کہا کہ ہم نے غریبی دیکھی ہے آج اگر اللہ کا ہمارے اوپر بہت زیادہ فضل ہے یہ ان لوگوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے
#cricket #PakistanCricket #Naseemshah
سابق بھارتی کپتان سارو گنگولی نے شعیب اختر کے نام اپنے تعزیتی میں پیغام میں کہا کہ شعیب اختر کیساتھ تعلقات کرکٹ کے زمانے سے لیکر اب تک ہے اور دبئی میں کھبی کھبار مل جاتے ہے شعیب کے بھائی کی وفات پر دلی افسوس ہوا جب ہم 2004میں پاکستان کے دورے پر گئے تھے میری کپتانی میں تو راولپنڈی میں ون ڈے میچ سے دو دن پہلے شعیب اختر نے اپنے آبائی شہر میں ہماری پوری ٹیم کیلئے اپنے گھر پر ڈنر کیا تھا اس سمے مجھے یاد ہے شعیب اختر کے بڑے بھائی بھی موجود تھے جس میں پاکستان کے پوری ٹیم اور ہماری ٹیم جس میں سچن ٹنڈولکر راہول ڈریوڈ بھی تھے وہ اس موقع پر موجود تھے مضبوط رہو شعیب حوصلہ رکھو
#PakistanCricket #cricket
چند دن قبل فوڈ پانڈا سے کھانا آڈر کیا
رائڈر کھانا دینے آیا بتانے لگا کہ میری ماں جی بھی گھر میں کھانا بناتی ہیں کبھی ٹیسٹ کیجئے گا
آپ ڈائیریکٹ مجھے آڈر دے دیجئے گا میں پہنچا دوں گا
میں نے بھائ کا نمبر محفوظ کر لیا
ایک دو بار مختلف ڈشز آڈر کیں
کھانے کا ذائقہ بہت ہی عمدہ اور لاجواب تھا
اوپر سے گھر کا بنا ہوا کھانا ہو تو کیا ہی کہنے
آج کھانا آڈر کیا تو سامان کچھ زیادہ محسوس ہوا میں نے پوچھا تو بتانے لگا کہ لگا ماں جی آپ کو دعائیں دے رہی تھیں۔ آج آپ کے گھر کے لئے کچھ ایکسٹرا چیزیں بھیجیں ہیں۔ اسکے چہرے کی مسکراہٹ ابھی تک محسوس ہورہی ہے
آپ کوشش کیجئے لوگوں کو اپنی خوشیوں میں شریک کر لیں
آپ کا رزق پردہ غیب سے پورا ہونا شروع ہو جائے گا
#لائف
ایک طیارہ غیر آباد جزیرے میں گر کر تباہ ہوا اور صرف ایک شخص ہی زندہ بچا۔ وہ بے چین تھا اور خدا سے دعا کرتا تھاکہ کوئی اسے بچانے آئے مگر کوئی نہ آیا۔
خدا نے اسے بچایا، اور ہر امید تھی کہ کوئی نہ کوئی مدد کے لیے آئے گا، لیکن کوئی آنے والا نہیں تھا۔ تھک کر ہار مانی اور آخر کارخحفاظت کے لیے لکڑیاں اور گھاس سے ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنائی۔
ایک دن کھانی کی تلاش میں جھونپڑی سے باہر نکلا، موسم خراب تھا، واپس آیا تو جھونپڑی کو آگ کے شعلوں میں دیکھااور دھواں اُٹھ رہا تھا۔
کافی زیادہ دھواں پھیلا اور آسمان کی طرف جارہا تھا۔ یہ دیکھ کر غصہ آیا اور خدا سے شکایتکرنے لگا،
“خدایا، تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو؟” بہت رویا، اور روتے روتے سو گیا۔
اگلے صبح ایک جہاز کی آواز سے بیدار ہوا، وہ جہاز اسے لینے آرہا تھا۔
جہاز کے کپتان سے پوچھا “تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں یہاں ہوں؟ کس نے بتایا؟”
کپتان نے کہا “ہمیں آپ کے دھواں کا سگنل ملااورہم آپ کو لینے آگئے”
جب حالات خراب ہو رہے ہوں تو حوصلہ شکنی کرنا آسان ہے، لیکن ہمیں
ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ درد اور تکلیف کے درمیان بھی۔
بھائی جان شاہد اختر کی نمازِ جنازہ جمعرات 25 جون (9 محرم) کو نمازِ عصر کے بعدH-8 قبرستان اسلام آباد میں ادا کی جائے گی۔ وقت شام 5:30 بجے ہوگا۔
تمام احباب سے گزارش ہے کہ انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کریں۔
یاد دہانی: یہ کل ہے، آج نہیں۔
— شعیب اختر
عورت نے پوچھا: "ڈاکٹر، شادی کے 10 سال بعد پہلی بار ایسا کیوں ہوا کہ مجھے شوہر سے دوری محسوس ہونے لگی؟"
"مجھے خود سمجھ نہیں آ رہا ڈاکٹر صاحب، میں اپنے شوہر سے محبت کرتی ہوں، وہ میرا خیال بھی رکھتے ہیں، لیکن پچھلے چند مہینوں سے ایسا لگتا ہے جیسے میرے دل میں ان کے لیے پہلے جیسا جذبہ نہیں رہا۔"
عورت کی آنکھوں میں پریشانی صاف نظر آ رہی تھی۔
اس کی شادی کو دس سال ہو چکے تھے۔
دو بچے تھے۔
گھر خوشحال تھا۔
شوہر ذمہ دار اور محبت کرنے والے تھے۔
باہر سے دیکھنے والا ہر شخص یہی کہتا کہ یہ ایک خوش قسمت خاندان ہے۔
لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس عورت کے اندر ایک عجیب سی جنگ چل رہی تھی۔
کچھ ماہ پہلے تک سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔
پھر آہستہ آہستہ اس نے خود میں تبدیلی محسوس کرنا شروع کی۔
وہ پہلے جلدی خوش ہو جاتی تھی۔
اب ہر بات پر غصہ آ جاتا تھا۔
پہلے شوہر کے گھر آنے کا انتظار رہتا تھا۔
اب وہ ان سے بات کرنے سے بھی کترانے لگی تھی۔
اسے لگتا تھا شاید اس کی محبت ختم ہو رہی ہے۔
یہ خیال اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا۔
ایک رات اس نے اپنے شوہر کو سوتے ہوئے دیکھا۔
اس کے دل میں عجیب سی اداسی بھر گئی۔
وہ جانتی تھی کہ شوہر نے کوئی غلطی نہیں کی۔
پھر آخر ایسا کیوں ہو رہا تھا؟
کئی دن سوچنے کے بعد اس نے ڈاکٹر سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔
ڈاکٹر نے اس کی بات غور سے سنی۔
پھر سوالات شروع کیے۔
"نیند کیسی آتی ہے؟"
"بہت خراب۔"
"تھکن رہتی ہے؟"
"ہر وقت۔"
"سر درد؟"
"اکثر۔"
"دل کسی کام میں لگتا ہے؟"
"بالکل نہیں۔"
ڈاکٹر نے چند ٹیسٹ تجویز کیے۔
عورت کو یقین تھا کہ رپورٹس بالکل نارمل آئیں گی۔
لیکن جب نتائج سامنے آئے تو وہ حیران رہ گئی۔
اس کے جسم میں آئرن کی شدید کمی تھی۔
وٹامن ڈی خطرناک حد تک کم تھا۔
اور کچھ ہارمونز میں بھی تبدیلیاں دیکھی گئیں۔
ڈاکٹر نے رپورٹ میز پر رکھتے ہوئے کہا:
"آپ کے رشتے میں مسئلہ نہیں، آپ کی صحت میں مسئلہ ہے۔"
یہ سن کر عورت خاموش ہو گئی۔
ڈاکٹر نے سمجھایا کہ جب جسم مسلسل کمزوری، غذائی کمی اور ہارمونل تبدیلیوں کا شکار ہو تو دماغ بھی متاثر ہوتا ہے۔
انسان جلد غصہ کرتا ہے۔
اداسی بڑھ جاتی ہے۔
دل کسی چیز میں نہیں لگتا۔
حتیٰ کہ اپنے قریبی لوگوں سے بھی جذباتی دوری محسوس ہونے لگتی ہے۔
عورت کو پہلی بار لگا جیسے کسی نے اس کی کیفیت کو صحیح سمجھا ہو۔
اس نے اعتراف کیا کہ پچھلے ایک سال سے وہ اپنی صحت کو نظر انداز کر رہی تھی۔
ناشتہ اکثر چھوڑ دیتی تھی۔
بچوں اور گھر کے کاموں میں اتنی مصروف رہتی کہ خود پر توجہ ہی نہیں دیتی تھی۔
رات دیر تک جاگتی تھی۔
صبح جلدی اٹھ جاتی تھی۔
آرام تقریباً ختم ہو چکا تھا۔
ڈاکٹر نے اسے متوازن غذا لینے کا مشورہ دیا۔
دالیں، چنے، انڈے، گوشت، سبز پتوں والی سبزیاں اور پھل روزانہ خوراک میں شامل کرنے کو کہا۔
ساتھ ہی وٹامن ڈی کے لیے دھوپ اور مناسب علاج شروع کیا گیا۔
چند ہفتوں بعد اس نے خود میں تبدیلی محسوس کی۔
توانائی واپس آنے لگی۔
نیند بہتر ہو گئی۔
چڑچڑاپن کم ہونے لگا۔
اور سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ شوہر کے ساتھ تعلقات بھی پہلے جیسے ہونے لگے۔
ایک شام جب شوہر کام سے واپس آئے تو اس نے کئی ماہ بعد مسکرا کر ان کا استقبال کیا۔
شوہر نے فوراً محسوس کیا کہ کچھ بدل گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
"آج تم پہلے جیسی لگ رہی ہو۔"
یہ سن کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
کیونکہ اب وہ جان چکی تھی کہ مسئلہ محبت ختم ہونے کا نہیں تھا۔
مسئلہ اس کی صحت کا تھا۔
ماہرین کے مطابق خواتین میں آئرن، وٹامن ڈی، وٹامن بی 12 کی کمی، تھائرائیڈ کے مسائل، مسلسل ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور ہارمونل تبدیلیاں جذبات اور ازدواجی تعلقات پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
اسی لیے اگر کسی خاتون کو اچانک شوہر سے دوری، بے رغبتی، اداسی یا غیر معمولی چڑچڑاپن محسوس ہو تو صرف رشتے کو قصوروار نہ ٹھہرائیں۔
کبھی کبھی جسم مدد کے لیے خاموش اشارے دے رہا ہوتا ہے۔
اور اگر ان اشاروں کو وقت پر سمجھ لیا جائے تو نہ صرف صحت بلکہ رشتے بھی سنور سکتے ہیں ۔
#موناسکندر
بےشک اللہ جیسے چاھے اپنی طرف بلا لے۔ اپنا قرب عطا فرمائے۔
ماشاءاللہ مبارک ہو وسیم بھائی آپ نے صحیح راہ چنی ،
ہدایت کی راہ۔
ساری زندگی آپ کو ثواب ملتا رھے گا
👇
حج نے سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کی پوری زندگی بدل ڈالی کراچی میں 5 سٹار ہوٹل کیلئے الگ کیا ہوا پانچ کنال زمین مسجد کے نام وقف کردیا رپورٹ کےمطابق حج سے واپسی کے بعد وسیم اکرم نے اپنی پانچ کنال زمین مسجد اور مدرسے کیلئے وقف کردیا گزشتہ روز اسی زمین پر ایک عالی شان مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا اس موقع پر پاکستان کے لیجنڈ کرکٹر انضمام الحق سعید انور محمد یوسف اور مشہور عالم دین مولانا طارق جمیل موجود تھے اس موقع پر وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ اس جگہ پر حج سے پہلے میرا ارادہ تھا ایک 5 سٹار ہوٹل بنانے کا لیکن حج نے میرا اردہ بدل لیا اور اسکی وجہ سعید انور بھی ہے میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش ڈال دی کہ میں ایک عالی شان جامع مسجد کی تعمیر کروں گا اور ساتھ میں ایک مدرسہ بھی بناوں تاکہ یہ میرے والدین کیلئے بخشش کا زریعہ بن جائے اس مسجد کیلئے میں نے پانچ کروڑ روپے الگ کرلی ہے اور جتنا بھی اس پرخرچہ آئے گاوہ میں ادا کروں گا اس مسجد کی ڈائزان ترکی میں بننے والی مساجد کی طرز پر ہوگا جس میں نمازیوں کیلئے تمام سہولتیں میسر ہوگی میں کچھ نہیں ہوں یہ اللہ تعالیٰ کاکرم اور سعید انور کی محنت ہے جس نے مجھے اس راستے کی طرف کھنچ لایا جہاں صرف سکون ہے
@wasimakramlive
دل موہ لینے والا منظر
سعودی عرب مہبطِ وحی اور نبی آخر الزماں کی سرزمین ہے۔ خیر و بھلائی کا مرکز۔ جہاں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے عرب معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا اور لاکھوں لوگوں کی آنکھیں نم کر دیں۔ یہ واقعہ قحطان قبیلے کے ایک شخص سے متعلق ہے، جنہوں نے اپنے جوان بیٹے کے قاتل کو قصاص سے صرف چند گھنٹے قبل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے معاف کر دیا۔
10 فروری 2019 کو جدہ شہر کے مشرقی علاقے الحمدانیہ میں ایک اجتماعی جھگڑے کے دوران پیش آیا، جس میں نوجوان احمد القريقري الحربي جاں بحق ہوئے تھے۔ عدالتوں میں مقدمہ چلا، شواہد اور گواہوں کی روشنی میں قاتل مترك عایض المسردي القحطاني کو قصاص کی سزا سنائی گئی اور برسوں کی قانونی کارروائی کے بعد بالآخر سزائے موت کے نفاذ کا وقت مقرر ہو گیا۔ قاتل کے اہل خانہ اور قبائلی عمائدین مسلسل مقتول کے والد سے رابطے میں رہے اور انہیں قصاص معاف کرنے کے لیے مختلف مالی پیشکشیں کی جاتی رہیں۔
جدہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ مترك القحطانی کی جانب سے حميد القريقري کو لاکھوں ریال کی پیشکش کی گئی، لیکن انہوں نے ہر قسم کی مالی ترغیب کو مسترد کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بیٹے کے خون کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔ جب قصاص کے نفاذ میں صرف چند گھنٹے باقی رہ گئے تو وہ خود چل کر قاتل کے گھر پہنچ گئے اور اعلان کر دیا کہ وہ قاتل کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے اجر کی امید میں معاف کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں ایک ریال بھی قبول نہیں کریں گے۔ یہ سن کر قاتل کی ماں ان کے پاوں میں گر گئی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ قاتل اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا ہے۔
اس واقعے کو مزید غیر معمولی اس لیے سمجھا گیا کہ انہوں نے نہ صرف قصاص کا حق چھوڑا بلکہ وہ مالی معاوضہ بھی قبول نہیں کیا جو شرعی اور قانونی طور پر مقتول کے ورثاء کو دیا جا سکتا تھا۔
سعودی عرب میں قتل عمد کے مقدمات میں اگر اولیائے دم قصاص سے دستبردار ہو جائیں تو دیت وصول کی جا سکتی ہے۔ موجودہ عدالتی نظام کے مطابق قتل عمد میں دیت کی مقدار تقریباً چار لاکھ (400,000) سعودی ریال سمجھی جاتی ہے، جبکہ قتلِ خطا کی دیت تین لاکھ (300,000) سعودی ریال ہے۔ لیکن مترك القحطانی نے نہ قصاص لیا، نہ دیت لی اور نہ ہی کسی قسم کا مالی معاوضہ قبول کیا۔ انہوں نے قاتل کی جان بخشی کو اپنی آخرت کا سرمایہ بنا لیا۔
اسے عربی روایات میں مروّت، نخوت، حلم اور عفو و درگزر کی ایک نادر مثال سمجھا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب ایک باپ اپنے جوان بیٹے کے قاتل کو تختۂ دار پر دیکھنے کا پورا حق رکھتا تھا، اس نے انتقام کے بجائے درگزر کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں اس واقعے کو شہامت، اخلاق اور اسلامی تعلیماتِ عفو کا ایک روشن نمونہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بلاشبہ اپنے بیٹے کے قاتل کو معاف کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں، لیکن جو لوگ ایسا کر گزرتے ہیں وہ معاشروں میں صرف ایک فرد کو زندگی نہیں دیتے بلکہ رحم، درگزر اور انسانیت کی ایسی مثال قائم کر جاتے ہیں جو نسلوں تک یاد رکھی جاتی ہے
عورت سب کچھ اپنے لیے نہیں پکاتی, مرد سب اپنے لیے نہیں کماتا ۔ خوشیاں اور آسانیاں بانٹنا ہی اصل محبت اور زندگی ہے۔
ملتان میں یہ دونوں معذور میاں بیوی حلال رزق کما رہے ہیں، وہاں رہنے والے ایک دفعہ ضرور جائیے گا۔
@EcoVibeExplorer مجھے فخر ہے کہ میں نے منصور صاحب کے ساتھ کرکٹ اور فٹبال بہت کھیلی تھی۔یہ ہر کھیل کے بہت ماہر تھے اور اپنے نانا جان کے بہت چہیتے تھے۔
بہت اچھا وقت گذرا تھا منصور اور اس کے بھائی کے ساتھ۔
اللہ تعالی منصور صاحب کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں بلند درجہ عطا فرمائے۔