رمیز راجہ نے بالآخر کھل کر وہ بات کہہ دی جو ہم پچھلے ساڑھے چار سال سے کہہ رہے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہر شخص یہ بات کھل کر کہے اور اپنے ملک کی تقدیر بدلنے کیلئے خود عملی طور پر کردار ادا کرے، انشاءﷲ۔
ہمارے بزدل ہونے کی وجہ سے ہمارے یہ حالات ہیں۔ بڑی سیدھی سی بات ہے۔
قاسم عمر نے 1996 میں انٹرویو میں کہا تھا مرشد ایک دن پاکستان اور اسکی فوج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا ،ڈاکٹر اسرار احمد اور حکیم سعید بھی یہی پیشنگوئی کر چکے ہیں
قاسم عمر نے 1996 میں انٹرویو میں کہا تھا مرشد ایک دن پاکستان اور اسکی فوج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا ،ڈاکٹر اسرار احمد اور حکیم سعید بھی یہی پیشنگوئی کر چکے ہیں
پاکستانی اخلاقی طور پر مردہ قوم بن چکی ہے۔
جاوید میانداد نے نیوز ویک کے انٹرویو میں عمران خان کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک پر آبدیدہ ہو گئے۔ ان کے سوا کوئی سابق کپتان یا کرکٹ لیجنڈ کھڑا نہیں ہوا، حالانکہ ان میں سے کئی ایک کے کیریئر عمران خان کے مرہونِ منت ہیں۔
فروری میں 14 سابق کپتانوں نے میڈیکل کیئر اور عزت کے لیے اپیل کی تھی، لیکن پاکستان میں پھر بھی خاموشی برقرار رہی۔
یہ "میمنوں کی خاموشی silence of the lambs" پورے ملک کے اخلاقی زوال کی علامت ہے۔
عوام اور بااثر طبقات نے اپنے بنیادی حقوق ایک آمرانہ نظام کے سپرد کر دیے ہیں۔ مزاحمت صرف جسمانی نہیں ہوتی، اخلاقی موقف زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور حال ہی میں بھارت کی تحریکیں ہمارے سامنے ہیں، مگر ساڑھے چوبیس کروڑ لوگ گھروں میں بیٹھے آسمانی مداخلت کا انتظار کر رہے ہیں۔
بات صرف عمران خان کی ذات کی نہیں، بلکہ اس علامت کی ہے جو وہ بن چکے ہیں۔ تین سال کی سخت ترین قید نے اس خیال کو جھوٹا ثابت کر دیا کہ وہ "ڈیل" کر لیں گے۔
آسٹریلیا کے موجودہ کپتان پیٹ کمنز سمیت 24 بین الاقوامی کرکٹرز نے ان کے ساتھ انسانی سلوک برتنے کی اپیل کی، مگر فہرست میں ایک بھی پاکستانی کرکٹر کا نام نہیں۔ وسیم اکرم، وقار یونس، انضمام الحق، رامیز راجہ، معین خان، سعید انور اور عامر سہیل جیسے لوگ جنہوں نے خان کی مدد سے کیریئر بنایا، آج انہیں بھول گئے ہیں۔
میڈیا اینکرز جو نواز شریف کے خلاف فوجی دباؤ پر عدالت گئے تھے، آج عمران خان پر ہونے والے ذہنی اور جسمانی تشدد پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں بلکہ غلط بیانی میں بھی شریک ہیں۔
شوبز کی شخصیات اندرونی طور پر تعریف کرتی ہیں مگر کھل کر خان کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتیں۔ روزگار کا خوف اگر اتنا غالب ہے تو اجتماعی طور پر پریس کانفرنس، احتجاجی پروگرام یا ریاستی ایوارڈز بھی واپس کیوں نہیں کیے جا سکتے؟
عمران خان نے سیاست سے پہلے شوکت خانم ہسپتال بنائے جہاں غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے، دور دراز علاقے میں یونیورسٹی قائم کی، اور دو دہائیوں تک قوم کو کرکٹ کی خوشی دی۔ انہوں نے اپنی تمام جائیداد پاکستان کی ریاست کے نام وصیت کر دی ہے۔
اگر اس قوم کے ہسپتال میں ایک بھی انسان کینسر سے بچ گیا تو یہ قوم ان کی مقروض ہے۔ پاکستان ان کا اتنا مقروض ہے کہ الفاظ لکھتے ہوئے کم پڑ جاتے ہیں۔
اگر ہم خان کی جان نہیں بچا سکتے تو کم از کم تاریخ کے صحیح رخ پر کھڑے رہنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں۔
خاموشی اب اخلاقی موت بن چکی ہے۔
(کامران رحمت کے مضمون کا خلاصہ)
عمران کے بیٹے مغربی میڈیا پر جو جھوٹ بول رہے حکومت پاکستان ان کو برطانیہ کی عدالت لے جائیں وہاں اس چینل اور ان کو فریق بنائیں یہ معاملہ اس طرح کلئیر ہو سکتا ہے
پچھتر سال کی عُمر میں نئے نئے یُوتھیا ہونے والے جاوید میانداد نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ عمران خان اُس سے کتنی شدید نفرت کرتا تھا اور بات تک کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔
@Sikande79744561@bisma80466172 Behan ka L, Fouj ka kaam dushman ka khilaf larna hota ha,,,,, jin ka tax ka paiso sa tankhawh mil rahi hoti ha un pa goliyan chalana nai hota..... Ganduuuu
اوریا مقبول جان نے کیا کمال جملہ کہا ہے کہ :
“عمران خان کے کردار نے ہر باضمیر کا ساتھ حاصلُ کر لیا اور ہر بے ضمیر کو رسوا کر دیا ہے۔”
“عمران خان قومی ہیرو ہے وہ پاکستان کو کہاں سے کہاں لے گیا ہم ساتھ رہے اس کا سوچ کے تکلیف ہوتی کیا فرق پڑے گا اس کو باہر نکالیں گے تو۔”
بالآخر جاوید میانداد نے بھی روتے ہوئے اپنی ضمیر کی آواز سب تک پہنچا دی ۔💔🥹
عمران اور ہم لوگ کیونکہ کاؤنٹی بھی ساتھ کھیلتے تھے، ہمارا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا چھ مہینے وہاں پر ہوتا تھا ساتھ اور اس کے بعد پاکستان ٹیم میں میں نے کپتانی انہیں دی۔
افسوس ہے، عمران کا اللہ کرے ساری چیزیں سولو ہو جائیں۔
Unnecessarily وہ بھی کسی کا بیٹا ہے، میرے تو ذہن میں بہت جلتا ہے کہ وہ بیچارہ بہت کام کر رہا تھا۔
ہم بہت کلوز رہے ہیں۔ کاؤنٹی ساتھ کھیلتے تھے، ہمارا اٹھنا بیٹھنا ساتھ تھا اور ایک دوسرے کو بہت سمجھتے تھے۔
وہ پاکستان کو کہاں سے کہاں لے کے گیا ہے، پھر بھی اس کے ساتھ یہ کرنا
میرے اندر بہت جذبات ہیں، کیونکہ جو غلط ہے وہ غلط ہے!
کیا فرق پڑ جائے گا؟ اگر انہیں باہر نکالیں گے تو، مجھے یہی سمجھا دیں۔
پاکستان کھا جائے گا کیا؟؟
دیکھنا چاہیے، سب کو سمجھنا چاہیے، ہم سب پاکستانی ہیں۔
پاکستانی ہونے کے ساتھ آگے جا کے پتہ نہیں کیا ہوگا پھر۔
اللہ کرے مسئلہ حل ہو جائے، ہمارے پاکستان گورنمنٹ کو بھی میں کہ ہی سکتا ہوں، ان کے ساتھی کے طور پر۔ ہم نے ساتھ کھیلا ہے، مجھے پتا ہے عمران کے بارے میں کہ وہ honest آدمی ہے۔
وہ کھانے پینے والا نہیں تھا، ورنہ وہ بہت کچھ کر سکتا تھا۔
اللہ سے بھی دعا یہی ہے کہ یا اللہ جو صحیح ہے وہ صحیح ہے۔
میرے لئے کوئی کام ہو میں کروں گا، بس یہ مسئلہ سولو ہو جائے۔
مجھے رولا دیا آپ نے لیکن یہ باتیں میرے دل سے نکلی ہیں۔
جاوید میانداد کا انتہائی جذباتی انٹرویو
میرا بھتیجا پمز میں پیدا ہوا تو میں وہیں موجود تھی ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے بتایا کہ اوپر آگ لگ گئی ہے میں فوراً اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے بھتیجے کو اٹھا کر وہاں سے نکالا وہاں پمز کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا
میں جلدی سے اپنے بھتیجے کو لے کر نیچے آئی تو دیکھا کہ پمز کے عملے نے ہمیں ہی ایک کمرے میں بند کر دیا تھا میں نے ان سے کہا کہ اوپر آگ لگی ہوئی ہے مگر انہوں نے جواب دیا کہ آپ باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ بات پھیل جائے گی
اس وقت بھی ان بے حس لوگوں کو اپنی بدنامی کی فکر تھی انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں یہ خبر باہر نہ پہنچ جائے
شرم آنی چاہیے ایسے بے حس لوگوں کو
بچی کہتی ہے کہ میں نے عملے سے کہا کہ اوپر جائیں اور بچوں کو بچائیں مگر پمز کا کوئی اہلکار اوپر نہیں گیا وہ ان معصوم بچوں کو آگ میں جلتا ہوا دیکھتے رہے اور کسی نے انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی
اس پورے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور غفلت کے مرتکب تمام ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے
کمانڈر فاروق کی گفتگو سنیں!!
اب تو یقین ہوگیا ہے, مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے لڑنے والے بہادروں کو ایک منصوبے کے تحت مارا جارہا ہے, جو بندہ کرنل شیر خان سے متاثر ہو, جو مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی بات کرتا ہو, اسکو ٹارگٹ کرنا پاکستان سے دشمنی کے مترادف ہے!!
یہ پاکستان سے دشمنی ہے
🚨⚠️مجھے نہیں معلوم اسد طور کو کہاں سے عمران خان کی صحت کے بارے میں معلومات ملیں لیکن میرے پاس جو معلومات پہنچیں ہیں وہ بہت credible ہے۔ وہ ساری نہیں بتاؤں گا لیکن عمران خان کا blood pressure شدید shoot کر رہا ہے ۔ کیا انکو کھانے میں کسی قسم کا نمک دیا جا رہا ہے جسکی وجہ سے انکا بلڈ پریشر شوٹ کر رہا ہے۔ اگر بلڈ پریشر بہت دیر تک اسی طرح رہے تو برین ہمیرج، اسٹروک، ہارٹ اٹیک، کڈنی فلئیر ہو سکتا ہے ۔ کیا انکا بلڈ پریشر اس لیے شوٹ کر رہا ہے کہ وہ بہت ذیادہ اسٹریس میں ہیں؟کئی مہینوں سے انھیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے ۔ عمران خان کی عمر 74 برس ہونے والی ہے اور انکو زندگی کی رمق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ آنکھ کا مسئلہ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں انکو بلڈ پریشر کا مسئلہ اس اسٹریس کی وجہ سے ہے
سہیل آفریدی کو عمران خان نے عزت بخشی سپیل آفریدی کی یہ زمہ داری ہے کہ وہ ملٹری سے negotiate کرے۔
نعرے مارنے، رہائی فورس بنانا فضول باتیں ہیں ۔ اس وقت عمران خان کو بنیادی صحت کی سہولت مل سکے جو ہر قیدی کا حق ہے۔ پاکستان میں لوگوں نے کہا تھا کہ جو محمد مرسی کے ساتھ ہوا وہ عمران خان کے ساتھ ہو گا۔ مجھے فوج پہ اعتماد تھا کہ وہ ایسا نہیں کرے گی۔وہ مصر کی طرح گھٹیا فوج کی طرح نہیں ہو گی۔ لیکن جو کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے وہ مصر کی طرح ہے۔ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو ملک اور فوج کا ادارہ اسکا نقصان نہیں اٹھا سکے گا۔ پاکستان میں پہلے ہی تین جگہوں میں ریاست کے خلاف مزاحمت ہو رہی ہے یہ وزن ریاست برداشت نہیں کر سکے گی ۔