جب مرضی سے گھر سے باہر قدم رکھتی ہیں تو مار مرا کے نکلتی ہیں حب حقیقت سے آنکھیں چار ہوتی ہیں تو پتہ چلتا اس دنیا میں رہنا آسان نہیں بہت سے خوبصورت دھوکے ہوتے جن کے پیچھے انسان لوٹ جاتا ہے
عرصہ پہلے کی بات ھے ایک دکان پر لسی کا آرڈر دینے کے بعد ہم سب دوست آرام سے بیٹھے ایک دوسرے کو چھیڑ رہے تھے اور ہنسی مذاق کر رہے تھے کہ ہمارے سامنے ایک 70-75 سال کی بزرگ خاتون آ کھڑی ہوئی اور ہاتھ پھیلا کر بھیک مانگنے لگی ۔
اس کی کمر جھکی ہوئی تھی،
بھوک چہرے کی جھریوں میں تیر رہی تھی
آنکھیں اندر ہی اندر دھنسی ہوئی تھیں لیکن جاندار تھیں۔
اسے دیکھ کر پتہ نہیں میرے ذہن میں کیا آیا کہ میں نے جیب میں سکے نکالنے کے لیے جو ہاتھ ڈالا تھا اسے واپس کھینچتے ہوئے پوچھا: دادی آپ لسی پئیں گی؟
اس بات سے دادی تو کم حیران ہوئی لیکن میرے دوست زیادہ کیونکہ اگر میں انہیں پیسے دیتا تو میں صرف 5 یا 10 روپے دیتا لیکن لسی 120 روپے کی تھی۔
اس لیے میرے لسی پی کر غریب ہونے اور اس بوڑھی دادی کے دھوکے سے امیر ہونے کے امکانات بہت بڑھ گئے تھے۔
دادی نے ہچکچاتے اور ڈرتے ہوئے ہاں میں گردن ہلا دی اور 6-7 روپے جو انہوں نے بھیک مانگ کر اپنی جھولی میں جمع کئے تھے کانپتے ہاتھوں سے میری طرف بڑھائے۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا تو میں نے ان سے پوچھا یہ کس لیے ہے؟
بیٹا...........، میری لسی کے دام میں یہ پیسے ملا کر چکا دینا ۔
میں پہلے ہی انہیں دیکھ کر جذباتی ہو گیا تھا -
جو کچھ ادھورا رہ گیا،
اس کی کمی اس چیز نے مکمل کر دی۔
اس غریب خاتون کی خودداری دیکھ میری آنکھیں نم ہو گئیں میری آواز رندھ گئی بھرے گلے سے میں نے دکاندار کو لسی کا گلاس لانے کو کہا۔
وہ اپنے پیسے دے کر پاس ہی زمین پر بیٹھ گئی۔
اب مجھے اپنی بے بسی کا احساس ہوا کیونکہ وہاں موجود دکاندار،
میرے دوست اور بہت سے دوسرے گاہکوں کی وجہ سے میں انھیں کرسی پر بیٹھنے کے لیے نہیں کہہ سکتا تھا۔
مجھے ڈر تھا کہ کہیں کوئی ٹوک نہ دے ۔
ایسا نہ ہو کہ کسی غریب بھکارن عورت کو اپنے پاس بٹھانے پر لوگوں کو یا دکاندار کو اعتراض ہو۔
لیکن جس کرسی پر میں بیٹھا تھا وہ مجھے کاٹ رہی تھی۔
جیسے ہی کلڑوں میں بھری ہوئی لسی ہم سب دوستوں اور بوڑھی دادی کے ہاتھ میں آئی،
میں اپنی کرسی سے اٹھ نیچے اس بوڑھی دادی کے پاس زمین پر بیٹھ گیا اور یہ میرا اٹل فیصلہ تھا کیونکہ میں ایسا کرنے کیلئے آزاد تھا۔
اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا تھا۔
ہاں، آس پاس بیٹھے کچھ لوگ اور میرے دوست ایک لمحے کے لیے مجھے گھورتے رہے،
اور عجیب نظروں سے مجھے دیکھتے رہے
لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے،
دکان کے مالک نے آگے بڑھ کر دادی کو اٹھا کر کرسی پر بٹھایا اور ہاتھ جوڑ کر میری طرف مسکراتے ہوئے کہا:
بیٹھیں جناب..........!
میری دکان پر بہت سے گاہک آتے ہیں،
لیکن انسان کبھی کبھار ہی آتے ہیں۔ ❤️
یہ قوم غیرسنجیدہ، عقل سے عاری اور چُوتیا اوصاف کی مالک ھے۔ جس قوم کے رول ماڈل ایسے ھوں وہاں تباھی ھی تباھی، زوال ھی زوال ھے۔
قوم کے شعور کا لیول چیک کریں کہ جتنے بھی جاہل اور چول ہیں وہ پاکستان کے بڑے بڑے ٹک ٹاکرز ہیں اور جو باقی کے بچتے ہیں وہ انکے فینز۔ اس جلسہ کو دیکھ کر مجھے افسوس ہوا کہ یہ ہیں ہماری ترجیحات، ڈوب مرنے کا مقام ھے۔ یہ لوگ کچھ سیکھنے کے لئے کسی تعلیمی اخلاقی یا ادبی اجتماع میں کبھی نہیں جائیں گے۔ یہاں کنجر پن کو پسند کیا جاتا ھے۔
دنیا کے دوسرے ملکوں کی نسبت اس خطے کے لوگ زیادہ ابنارمل ہیں۔ یہ ابنارملٹی ان کے سماجی رویے میں ہر جگہ دیکھی جا سکتی ھے۔ تقریباً ہر فرد احساس برتری میں مبتلا ھے۔ یہ برتری کبھی مذہب، کبھی مسلک، کبھی ذات پات، کبھی جاگیر، کبھی مال و دولت میں یہ دکھاتے رہتے ہیں۔ ایسی پسماندہ سوچ کی وجہ سے عوام کو ایک معمولی پجاری ساری زندگی آگے لگائے رکھتا ھے۔💔🥺
کیا رونالڈو کو جان بوجھ کر سائیڈ لائن کیا گیا؟
-
رونالڈو پرتگال کے ساتھ کیوں نہیں جیت پا رہے جبکہ میسی ارجنٹائن کے ساتھ مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، اس کی وجہ اسی ویڈیو میں موجود ہے۔
اسی لیے Cristiano Ronaldo دنیا بھر میں لاکھوں دلوں پر راج کرتے ہیں۔
ان کی شخصیت، عاجزی اور رویہ انہیں صرف ایک عظیم کھلاڑی ہی نہیں بلکہ بہت سے لوگوں کے لیے قابلِ احترام بھی بناتا ہے۔
بالٹی کو چھت پر الٹا کر وائپر سے پھیلا دیں
اس مکسچر کی تہہ زیادہ موٹی نہ ہونے دیں بلکہ باریک ہی رکھیں
جب دوسرا کوٹ خشک ہو جائے تو پھر اس پر دو کلو D18 کمپاؤنڈ (یہ بھی بلڈنگ میٹیریل یا کنسٹرکشن کیمیکل والی شاپ سے مل جائے گا) پانی میں مکس کر کے وائپر سے لگا دیں تاکہ اس پر تہہ
3👇
آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ بعض اوقات ایک سادہ سی خوشبو بھی سانس لینے میں تازگی کا احساس پیدا کر دیتی ہے؟
الائچی کا قہوہ صدیوں سے گھریلو مشروب کے طور پر استعمال ہوتا آ رہا ہے، اور بہت سے لوگ اسے سردی، کھانسی اور گلے کی خراش کے دوران پسند کرتے ہیں۔
الائچی میں ایسے قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں جو سانس کی نالیوں کو آرام پہنچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے قہوہ پینے کے بعد بعض افراد کو سانس لینے میں ہلکا پن اور سکون محسوس ہوتا ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ الائچی صرف خوشبو کے لیے نہیں، بلکہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹس بھی موجود ہوتے ہیں جو جسم کو نقصان پہنچانے والے فری ریڈیکلز کے خلاف کام کرتے ہیں۔
اگرچہ الائچی کا قہوہ صحت بخش مشروب ہو سکتا ہے، لیکن یہ کسی بیماری کا علاج یا ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا کا متبادل نہیں ہے۔
سرد موسم میں ایک کپ گرم الائچی قہوہ نہ صرف مزہ دیتا ہے بلکہ جسم کو بھی خوشگوار احساس بخشتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی الائچی کا قہوہ آزمایا ہے؟ اور آپ اسے کس چیز کے ساتھ پینا پسند کرتے ہیں؟