چیچہ وطنی: فارسٹ ایریا سے لاوارث بچی برآمد، وارثان کی تلاش*
تھانہ صدر چیچہ وطنی کی حدود میں فارسٹ ایریا سے ایک لاوارث بچی ملی ہے۔
بچی اس وقت متعلقہ پولیس کی تحویل میں ہے۔
بچی کے وارثان یا اسے پہچاننے والے افراد سے اپیل ہے کہ فوری طور پر تھانہ صدر چیچہ وطنی سے رابطہ کریں تاکہ بچی کو اس کے اہلِ خانہ تک پہنچایا جا سکے۔
اگر کوئی شخص بچی کو پہچانتا ہو تو یہ اطلاع زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
فارسٹ ایریا سے لاوارث ملی ہے وارثان تھانہ صدر چیچہ وطنی اس نمبر پر رابطہ کریں۔
03014915211.. N. Muharar
❤🌹🌹❤
الحمدللہ تقریبا 4 دہائیوں بعد آسیہ بی بی اپنے خاندان سے ملنے جارہی ہیں۔
والد بھی الحمدللہ زندہ ہے بہن بھائی بھی موجود ہیں ۔ والدہ وفات ہوچکی ہیں۔
#waliullahmaoof
ماں سن اور بول نہیں سکتی تھی۔ ملتان یا آس پاس کسی شہر سے دونوں کو ایک شیلٹر میں لایا گیا پھر کراچی منتقل ہوگئے۔
ماں دو سال قبل وفات پاگئی ۔ بیٹا اب باہر کسی کے پاس رہ رہا ہے۔
پنجاب بھر کے تمام دوست اللہ کی رضا کے لئے اس ویڈیو کو خوب زیارہ شئیر کریں آپکا ایک شئیر کسی لاوارث انسان کو اسکے اپنوں سے ملا سکتا ہے۔
زیارہ سے زیادہ شئیر کریں
WhatsApp
03162529829
23 sept 2026
#waliullahmaroof
شئیر کریں شاید کوئی اس کو جانتا ہو۔
یہ جو معصوم سی بچی نظر آرہی ہے اس کا نام روقیہ ہے یہ کراچی طارق روڑ ایک گھر میں کام کرتی تھی
نہ اس کو راستوں کا پتا ہے نہ کچھ جن کے گھر کام کرتی تھی ان کے نا مناسب رویہ کی وجہ سے وہاں سے بھاگ نکلی
یہ بچی پہلے پہلوان گوٹ کراچی میں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہ رہی تھی
اس کے چہرے پہ پریشانی اور خوف نظر آرہا ہے یہ تو شکر ہے کہ
یہ سیف ہاتھوں میں ہے ۔
اپنا شہر رحیم یار خان بتا رہی ہے اور دوسری بات تین بہنیں ایک بھائی ہیں یہ ۔
بچی چاہے پندرہ سال کی ہی کیوں نہ ہو بیٹی تو بیٹی ہوتی ہے ہم اپنی بچیوں کو ایسے گھروں میں بھیج دیتے ہیں
جہاں ان کا رویہ انتہائی غلط ہوتا ہے اس ہی وجہ سے یہ بھاگ نکلی لیکن سڑکوں پہ پریشان پھر رہی تھی
نہ راستوں کا پتا نہ کسی کا موبائل نمبر یاد
اس کو ایدھی شلٹر ہوم دے دیا گیا ہے اس کے والدین رحیم یار خان ہیں اگر کوئی جانتا ہو تو پلیز مدد کریں
سوات کے دوست مدد کریں۔۔۔۔
ممبئی انڈیا سے ایک خاتون نے رابطہ کرکے اپنے والد کے خاندان کی تلاش کے لئے کہا ہے۔انکا کہنا ہے کہ:
"میرا نام ریحانہ ہے۔ میں ممبئی، بھارت میں مقیم ہوں اور اپنے والد کے خاندان اور آبائی رشتے داروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
میرے والد شیبر لالا (Shebar Lala) سوات کے پٹھان تھے۔ وہ قیامِ پاکستان سے پہلے سوات سے ممبئی، بھارت آئے اور پھر وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ الحمدللہ، ہمارا خاندان ممبئی میں اچھی طرح آباد ہے۔ ہمیں اپنے سوات والے خاندان سے کسی قسم کا مالی فائدہ یا کوئی چیز نہیں چاہیے۔ ہماری صرف یہ خواہش ہے کہ ہمیں اپنے والد کے خاندان، اپنے آبائی گاؤں اور اپنے رشتہ داروں کے بارے میں معلوم ہو سکے اور اگر ممکن ہو تو ایک مرتبہ اپنے خاندان کے لوگوں سے ملاقات بھی ہو جائے۔
والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہمیں جو معلومات بتائی تھیں، ان کے مطابق:
آبائی گاؤں: بور (Bur)، سوات (شاید بر سوات بتایا ہے والد نے انکو)۔ کاسٹ یوسفزئی۔
شیبر لالا کے والد کا نام: محمد علی
والدہ کا نام: خان تولی
محمد علی کی تین شادیاں تھیں۔شیبر دوسری بیوی سے تھے۔
شیبر لالا کی ایک بہن بھی تھیں، جن کا نام: گیرانہ (ہمارے مطابق شاید گرانہ ہو ) بتایا جاتا ہے، جن کی شادی کے بعد وہ بیحا (Biha)، سوات چلی گئی تھیں۔
شیبر لالا کے بھائیوں میں سے ہمیں فی الحال صرف ان تین ناموں کا علم ہے:
• امیر خان
• دولت خان
• دلاور خان
شیبر کے مطابق وہ کل 11 بھائی اور ایک بہن تھے۔
انکے دودھ کا کاروبار تھا۔
والد صاحب غالباً 1930 سے 1940 کے درمیان ممبئی آئے تھے، تاہم یہ بات یقینی ہے کہ وہ قیامِ پاکستان سے پہلے ہی بھارت آ چکے تھے اور بعد میں ممبئی میں مستقل آباد ہوگئے۔
والد صاحب کی ایک خاص پہچان یہ بھی تھی کہ ان کے ہاتھ میں، پنجے کے اوپر ایک داغ/نشان بنا ہوا تھا۔
یہ تمام معلومات ہمیں والد صاحب نے اپنی زندگی میں خود بتائی تھیں۔ ہمارے پاس اس وقت مزید تفصیلات موجود نہیں ہیں، لیکن ہم انہی معلومات کی بنیاد پر اپنے والد کے خاندان اور اپنی خاندانی جڑوں (Family Roots) کو تلاش کرنا چاہتے ہیں۔
اگر سوات، بالاکوٹ، یوسفزئی برادری، بور گاؤں یا بہا سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو ان ناموں یا خاندان کے بارے میں کوئی معلومات ہوں، یا کوئی شخص اس خاندان کو پہچانتا ہو، تو براہِ کرم ہم سے رابطہ کریں۔
ہم صرف اپنے والد کے خاندان کو جاننا اور اپنے آبائی رشتوں سے دوبارہ جڑنا چاہتے ہیں۔"
براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، شاید کسی تک یہ معلومات پہنچ جائیں اور ایک بچھڑا ہوا خون ایک ہوجائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
23 sept 2026
#waliullahmaroof
یہ باباجی ضلع منڈی بہاؤالدین کے ایک میں پچھلے تین ماہ سے موجود ہے۔
بظاہر ٹھیک ہے، بھوک پیاس سمجھتا ہے، ایک دو باتیں ٹھیک کرتا ہے لیکن پھر بچوں جیسا رویہ اختیار کر لیتا ہے۔
اپنا نام بنیامین ولد عبد الستار بتا رہا ہے اور زبان ہندکو اور پشتو بولتا ہے، اور جب حویلیاں اور ہری پور کا نام لیا جاتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے اس کا تعلق ہزارہ ڈویژن (ہری پور، حویلیاں، ایبٹ آباد) سے ہے۔
برائے مہربانی اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
22 sept 2026
#waliullahmaroof
ایبٹ آباد سے یہ بابا جی اپنے بیٹے کی تلاش کے لئے آئے ہیں ۔ انکا بیٹا گوجرانوالہ کام کے لئے گیا تھا ایک ماہ کام کیا گھر آیا۔ دوبارہ گیا چند روز بعد رابطہ منقطع ہوگیا۔ پانچ سال اور سات ماہ ہوگئے بیٹا گم ہے۔
بیٹے کا نام مجاہد ہے۔ گوجرانوالہ کی سبزی منڈی میں کام کرتا تھا۔
برائے مہربانی شئیر کرکے بابا جی کے بیٹے کو تلاش کرنے میں مدد کریں۔
03162529829
20 Sept 2026
#waliullahmaroof
صوابی مینئ سے
جاگ صوابی جاگ
مینی جوناخیل اس شخص کو پہنچاننے میں مدد کریں پہچان کرنے والوں کو انعام دیا جائیگا کل 3:45 منٹ پر واردات نہ جانے اس نے اور کتنے واردات کئے ہوئے ہیں اگاہی کے لئے شئیر کری آس پاس جہاں بھی کیمرے لگے ہیں وہ دیکھیں اور خدا کے لئے ابھی بھی وقت پے ان جیسے بے غیرتوں کو پہچانے ہر محلے میں ایرے غیرے شخص سے لازمی پوچھے ۔۔ خدا نہ کرے آیت نور اور زینب کی طرح ہمارے بچیوں کو اغوا کر کے لاشیں کہیں پھینکے پھر کون زمہ دار ہوگا اس کو سیریس لے اور جہاں جہاں بھی کیمرے لگے ہیں اس شخص کی کلئیر فوٹیج چاہئے ۔۔۔۔
اور مدد نہیں کر سکتے تو کم سے کم شئیر تو کر سکتے ہیں اور جس کی بھی طاقت ہو اپنے اس پاس کیمرے لازمی لگائے حالات بہت خراب ہیں۔۔۔
#
یہ شخص سن سکتا ہے لیکن بول نہیں سکتا
پندرہ سے بیس سال قبل سیلاب کے دنوں چنیوٹ کے ایک علاقے میں آیا تھا آج تک واپس گھر نہیں لوٹ سکا۔ مقامی لوگوں نے بہت کوشش کی خاندان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔
پاؤں مڑے ہوئے ہیں۔ جب آیا تھا جواب تھا اٹھارہ بیس سال کا تھا چل ہھر سکتا تھا۔ لیکن اب کمزور ہونے کی وجہ سے چل پھر نہیں سکتا۔
جب والد کے پیشے کا پوچھتے ہیں تو قصائی کی طرح کاٹ*نے کو اشارہ کرتا ہے ۔ اور ماں کا کپڑے سینے کا اشارہ کرتا ہے۔
سابقہ تصویر موجود نہیں ہے لیکن مقامی لوگوں کا کہتا ہے کہ چہرے میں خاص فرق نہیں ہے۔ گھر والے دیکھ کر پہچان سکیں گے۔
برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ آپ کا ایک شئیر کسی ماں کو اسکا لخت جگر ملوا سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
11 sept 2026
#waliullahmaroof
لاہور والوں آج آپ نے انسانیت کا علم بلند کرنا ہے۔۔۔!!
اس نوجوان کو اپنا نام یاد نہیں ہے ۔ والدین اور بہن بھائیوں کے نام بھی بھول چکا۔ شیلٹر میں اسکا نام علی چاند رکھ دیا تھا۔
اسکا کہنا ہے کہ بچپن میں مجھے کسی نے اٹھاکر شیلٹر میں ڈالا دیا تھا۔۔ میں بار بار ادارے کو کہتا رہا کہ میرا گھر بکرمنڈی کی طرف ہے لیکن وہ مجھے لیکر نہیں گئے۔ ادارے میں جوان ہوا تو 18 سال ہونے کے بعد مجھے نکال دیا گیا۔ اب میں ایک جگہ کام کررہا ہوں۔
علی چاند کا کہنا ہے کہ اسکا گھر بکرمنڈی کی طرف تھا۔گھر کے پاس کے پاس ایک بیکری تھی اور بیکری کے ساتھ ہی ایک مذبح خانہ تھا جہاں قصائی کام کرتے تھے۔
برائے مہربانی اس کیس کو کامیاب کریں ۔ ان شاءاللہ آپ کی یہ محنت درجنوں لاوارث بچوں کو انکے خاندان والوں سے ملنے کا سبب بنےگا۔ اللہ کا نام لیں اور خوب زیادہ شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
11 sept 2026
#waliullahmaroof
2003 میں لاپتہ ہونے والے بچے کی تلاش میں مدد کریں۔۔!!
اس بچے کا نام اسامہ ہے اور والد کا نام عابد ہے۔ والدہ کا نام عاصمہ ہے۔ دادا کا نام صابر ہے جو اسٹامپ فروش تھے۔ اکلوتا بیٹا تھا۔ اسامہ اپنے والد کا "پاہ عابد" بولتا تھا۔(والد کی دوکان تھی محلے کے بچے چیز لینے آنے تھے تو وہ پاہ عابد بولتے تھے)۔
4 مئی 2003 کو اسامہ گھر کے قریب سے لاپتہ ہوگیا آج تک نہیں ملا۔ انکا گھر وزیرآباد پنجاب میں تھا۔
اسامہ کی اہم نشانی یہ تھی کہ زبان میں لکنت تھی۔
اُس وقت وہ کم عمر بچہ تھا۔ آج کئی سال گزر جانے کے باوجود اس کے اہلِ خانہ اپنے پیارے کی واپسی کے منتظر ہیں۔ ماں باپ آج تک اسامہ کے لئے روتے ہیں ۔ عید کے دنوں میں سب عید مناتے ہیں لیکن اسامہ کے ماں باپ ایک کمرے میں بیٹھ کر روتے رہتے ہیں کہ انکا لخت جگر کس حال میں ہوگا۔
اسامہ کے بارے میں اگر کسی بھی شخص کو کوئی معلومات ہوں تو براہِ کرم اس کو خاندان تک پہنچانے میں مدد کریں۔
ممکن ہے آپ کی ایک شیئر یہ پوسٹ اسامہ تک یا اسکو جاننے والوں تک پہنچا دے۔ اسامہ اپنی تصویر دیکھ کر بھی شاید خود کو پہچان لے۔ برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
9 Sept 2026
#MissingPerson #MissingChild #HelpFindUsama #WaliullahMaroof
اس لڑکے کا نام گھر میں شاید دانش تھا (کنفرم یاد نہیں) اور شیلٹر میں شان ہے۔۔۔والد کا نام عامر ہے۔ والدہ کا نام یاد نہیں ۔ والد نے دوسری شادی کی تھی۔ دو بھائی اور ایک بہن تھی انکے نام یاد نہیں ہیں۔ والد ویلڈنگ کا کام کرتا تھا۔
شان کے بقول انکا گھر خانیوال میں تھا۔ محلے کا نام یاد نہیں ہے۔۔۔خانیوال میں دس نمبر مچھلی مارکیٹ سے ذرا آگے گھر تھا۔
سوتیلی ماں کا رویہ ٹھیک نہیں تھا۔
ایک پڑوسن اپنے ساتھ بازار لیکر گئی ۔ چیز لیکر دیا اور کہا یہاں بیٹھ جاو میں آتی ہوں۔۔۔ چلی گئی اور دوبارہ نہیں آئی۔ پھر لوگوں نے سینٹر میں جمع کروادیا۔۔شیلٹر میں آئے 18 سے 19 سال ہوگئے۔
خانیوال کے تمام دوست اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔
شان اب بڑا ہوچکا ہے ۔ تنہائی نے اسکی زندگی پر بہت گہرا اثر کیا ہے۔ وہ روز اپنوں کو یاد کرکے روتا ہے۔
یہ تصویر پرانی ہے امید ہے اسکا خاندان یا پڑوسی دیکھ کر ضرور پہچان لیں گے۔
زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ۔ آپ کا ایک شئیر کسی انسان کو اپنوں سے ملانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
7 Sept 2026
#waliullahmaroof
اللہ پر توکل کرکے اندھیرے میں تیر ماریں۔۔۔ ان شاءاللہ شکار تک پہنچ جائےگا۔۔۔
"وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی"
اس نوجوان کا نام اعجاز ہے ۔ اعجاز نام شاید شیلٹر میں رکھا گیا ہے۔۔ اعجاز کا کہنا ہے کہ مجھے نا میرا اصلی نام یاد ہے ۔ نا والدین اور نا اپنے شہر کا کچھ یاد ہے۔ میرا ریکارڈ میں نے بہت کوشش کی لیکن نہیں ملی/یا نہیں دی گئی۔
آپ میرے بچپن کی اور ابھی کی تصویر لیں پوسٹ لگائیں۔ لوگ شئیر کریں گے ۔۔ اللہ چاہےگا تو میرے خاندان میں سے ضرور کوئی دیکھ کر پہچان لیگا۔
برائے مہربانی تمام قارئین صرف اور صرف اللہ کے لئے اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ کیا پتہ آپکا ایک شئیر اعجاز کے کسی پیارے تک پوسٹ پہنچادے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
4 Sep 2026
#waliullahmaroof
My name is Harmeet Singh.
I am the first Sikh anchor in Pakistan’s 79-year history
My only “crime” is that I work as a journalist in Pakistan, ask questions and try to speak the truth.
I appeal to journalists organizations, press freedom groups, and human rights organizations around the world to take notice of what is happening to journalists in Pakistan.If a journalist’s only crime is asking questions and speaking the truth then the world must ask: When did journalism become a crime?
@pressfreedom@FreeThePressNow@RSF_inter@IFJGlobal
@IPI_Global
@rorypecktrust
#HarmeetSingh #JournalismIsNotACrime #PressFreedom #JournalistSafety #Pakistan #FreedomOfPress #JournalistsInDanger
سینٹرل جیل فیصل اباد میں قید پاکستان تحریک کے انصاف کے ورکرز میں سے ایک ورکر کا میرے نام خط میں ان لوگوں کے لیے پہلے بھی بہت دفعہ اواز اٹھا چکی ہوں ۔۔ بارہا درخواست کی کہ ان لوگوں کی دادرسی کی جائے ان کی فیملیز کی دیکھ بھال کی جائے جیل میں موجود لوگوں کی جو صورتحال ہے وہ اپ خط پڑھ سکتے ہیں میری پاکستان تحریک انصاف کی لیڈرشپ سے درخواست ہے کہ ان کو اچھے سے اچھے وکیل دیں اور ان کی فیملیز کی دادرسی کریں
اس ننھی کلی کو اپنے گھر پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
یہ معصوم بچی، جس کی عمر تقریباً 1 سے ڈیڑھ سال ہے، 26 اگست 2026 کو لاری اڈا بس اسٹاپ، لاہور میں لاوارث حالت میں ملی ہے۔
ممکن ہے یہ بچی اپنے خاندان سے بچھڑ گئی ہو، یا (اللہ نہ کرے)کسی نے اسے اغوا کرنے کے بعد بس اسٹاپ پر چھوڑ دیا ہو۔
اگر کوئی شخص اس بچی کے والدین یا اہلِ خانہ کو جانتا ہے تو براہِ کرم فوری طور پر میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کرے۔
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ معصوم بچی جلد از جلد اپنے والدین تک پہنچ سکے۔
جزاک اللہ خیراً
Contact: 03090000015
یہ وہ معصوم زندگیاں ہیں جن سے ان کا بچپن، ان کی مسکراہٹ اور ان کا سکون چھین لیا گیا۔
کب تک ہماری بچیاں اور بچے ظلم کا نشانہ بنتے رہیں گے؟
کب تک مجرم دندناتے پھریں گے اور مظلوم انصاف کے منتظر رہیں گے؟