قومی اسمبلی میں میری تقریر کے چند نکات جس کے نشر کرنے پر پابندی لاگو کی گئی 1
جب ہم ریاستی دہشتگردی ، مسنگ پرسنز کا ذکر کرتے تھے تو ملک کے دوسرے حصے کے لوگ اور سیاسی پارٹیاں اس مسلے کو مزاق سمجھ کر ہم پر طنز کرتے تھے لیکن وقت اور حالات نے اُن کو بھی اس بات پر متفق کرلیا کہ یہ مسلہ نہایت ہی سنجیدہ مسلہ ہے
میں میری تقریر کے چند نکات جس کے نشر کرنے پر پابندی لاگو گئی
5
ہمیشہ الیکشن نتائج کے بعد سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگاتی رہتیں ہیں یا آر او پر یا عدلیہ پر کبھی آر ٹی ایس سسٹم کو کبھی مقامی انتظامیاں کو مورزِالزام ٹہرایا جاتا ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس ملک کا کونسا وہ الیکشن ہے جو متنازعہ نہ رہا ہو ؟
چاہے وہ محترمہ فاطمہ جناح کا الیکشن ہو یا 1970اور 1977یا اس کے بعد کے الیکشن
مشرقی پاکستان کے لوگوں کا مینڈیٹ تسلیم نہ کرتے ہوئے ملک کو دولخت کرنا منظور مگر اقتدار دینے کے لئے تیار نہیں
ووٹ کو عزت دینے والوں نے اس بار ووٹ کو وہ عزت دی جو حج کے دوران شیطان کو کنکر مار کر دیجاتی ہے
میری تقریر کے چند نکات جس کے نشر کرنے پر پابندی لاگو گئی
6
آئین ہمیں اجازت نہیں دیتا کہ فوج کو ہم تنقید کا نشانہ بنائیں،
ڈپٹی سپیکر
میرا جواب: بہت شکریہ ڈپٹی سپیکر صاحب، آئین کی وہ شق بتا دیں جس میں یہ لکھا ہے کہ فوج ہماری پگڑیاں اچھالیں،
میں میری تقریر کے چند نکات جس کے نشر کرنے پر پابندی لاگو گئی
4-
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس الیکشن یا اس سے پہلے کے الیکشن جیت گیا ہے تو یہ اس کی بھول ہے
ان سب میں جیت جمہوریت کی نہیں بلکہ عسکریت کی ہوئی ہے ، عسکریت نے ہمیشہ جمہوریت کو شکست دی
ایم آر ڈی ، اے آر ڈی ، پی ڈی ایم کو شکست بھی عسکریت نے دی
ملک کے خفیہ اداروں کی ذمہداری دشمن ممالک کے اداروں کو مفلوج اور شکستِ فاش دینا ہے مگر افسوس کہ جب اپنے ہی ادارے ملک کے سیاسی ، تعلیمی ، عدالتی اداروں کو تیس و نیس کردیں تو پھر گلا کس سے کیا جائے
میں میری تقریر کے چند نکات جس کے نشر کرنے پر پابندی لاگو گئی 2
پرائم منسٹر شہباز شریف اکثر مجھے کہتے تھے کہ ہاتھ ہلکا رکیں بھائی لوگ ناراض ہوجائیں گے اگر میں بھی اُن کی بات مان لیتا تو شاید ہماری نشستیں ایک کے بجائے پانچ یا چھ ہوجاتیں مگر،
وہ ناراض ہیں تو ناراض ہونے دو غالب
کسی کے قدموں میں گر کر جینا ہمیں نہیں آتا
میں اصطلاح استعمال کرتا ہوں ایکسپائر بابے۔
کوئی خواتین کی شمولیت نہیں، کوئی جوانوں کی شمولیت نہیں۔ اور تو اور درمیان میں کرسی پر لاش بھی رکھی ہوئی گجرات سے لا کر
PPP leadership has always been a mess.
Creating environment for massacring Baloch in 1970s , agitating violence in Balochistan in 2008s and now given place to criminals and death squads in the party .
They have won through rigging and would represent Baloch in assemblies
shame.
تم بہت عجیب قسم کے انسان ہو تم نے زندگی مے اتنے سانس نہیں لیے جتنا بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے لاپتہ افراد کے لیے بولا اور احتجاج کیا آج تم اور تماری پارٹی سرکاری پیسوں پر اسلام آباد کا چکر لگا کے ہائے ہو بلوچستان کے لوگوں پہ احسان جتانا چاتے ہو
جبری طور پر غائب ہونے والا ناصر دینارزئی أپ سے أپ کے اندر کے انسان سے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کا جواب مانگ رہا ہے کہ أپ کی ایک سیٹ چلی جاتی ہے توأپ پاگلوں کی طرح چیخنے چلانے لگتے ہیں لیکن ہم پر اور ہمارے خاندانوں پر جو گزرتی ہے اس پر بات کرنے سے أپ کو موت پڑتی ہے۔