درست فرمایا
یہاں تو پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام کے ڈیزائنر"دانیال عزیز"صاحب نے اک TV چینل پر فرمایا تھا کہ میرے فنڈز آنے پر متعلقہ XEN نے بلا کر 6٪ دینے کی کوشش کی ۔
ان کے پیسے لینے سے انکار پر ایکسین صاحب نے کہا "اپ فنڈز کہیں اور ٹرانسفر کروا لیں ہم نے اپنا ریٹ خراب نہیں کرنا"
ایک دوست تعلیمی اداروں کو سپلائی کا کام کرتے ہیں. ایک دفعہ ان کے دفتر گیا ہوا تھا. وہاں تین ٹائپ رائٹر دیکھے تو حیرت ہوئی. پوچھا کہ یہ کیوں؟ اب تو ایک کمپیوٹر ہی کافی نہیں؟
جواب ملا، جس جگہ سپلائی کیلئے ہمارا مک مکا ہوچکا ہوتا ہے، انہیں تین کوٹیشنیں ہم نے ہی فراہم کرنی ہوتی ہیں. اس کیلئے ایک سے زیادہ فرمز بھی بنائی ہوتی ہیں اور ایک دوسرے سے بھی تعاون کرتے ہیں. مارکیٹ کے کسی اور دکاندار کو پتہ ہے کہ آرڈر تو ہمیں ہی ملنا ہے تو وہ ہماری مرضی کے نرخوں کی کوٹیشن بھیج دیتا ہے. اس کے کہنے پر ہم بھی بنا دیتے ہیں... لیکن ہم نے تین فرمز بنائی ہوئی ہیں. تینوں کے الگ الگ لیٹر ہیڈ اور لفافے موجود ہیں. یہ طے ہے کہ کس کمپنی کے لیٹر یا کوٹیشن کیلئے کون سا ٹائپ رائٹر استعمال کرنا ہے. مزید یہ کہ تینوں لفافے الگ الگ ڈاک خانے سے رجسٹری کرائیں گے. ہر فرم کا ڈاک خانہ بھی طے ہے. مزید یہ کہ پوسٹ بھی مختلف دنوں میں کریں گے.
یہی نہیں جب کسی اور کی کم ریٹ والی کوٹیشن بھی آجائے تو مک مکا والے ہمیں کوٹیشن بدلنے کا بھی موقع دیتے ہیں. "تمام لفافے ہمارے سامنے کھولے گئے" کی تحریر پر ان ماتحت افسروں نے دستخط کرنے ہوتے ہیں، جن کی اے سی آر مک مکا افسر نے لکھنی ہوتی ہے... ملک صاحب! کوئی کھانا کمانا چاہتا ہے تو اسے کوئی پیپرا رولز نہیں روک سکتے. بہت سے افسر ایماندار بھی ہوتے ہیں لیکن وہ بھی یہ سوچ کر یہ طریقہ قبول کرلیتے ہیں کہ وہ نہیں تو کوئی کلرک ان کے نام پر وصولی کرلے گا. سپلائیر نے یہ کھاتہ ذہن میں رکھ کر ریٹ لگائے ہوتے ہیں. ایماندار افسر کمیشن کی وہ رقم خود نہیں کھاتے، اس سے ادارے کی ضرورت کی کوئی ایسی چیز منگا لیتے ہیں جس کیلئے سرکاری فنڈز مہیا نہیں ہوتے. مثلاً ٹوٹے پھوٹے سامان کی ری پلیسمنٹ، ساؤنڈ سسٹم، ہینڈ پمپ، اضافی الماریاں، مائیکرو ویو، اے سی، فرج، فلٹر واٹر کولر.
وہ پڑے ہیں آپ کے پیپرا رولز
#رہے_نام_اللہ_کا
یادش بخیر
اک حکومت نے اپنے حکمنامہ کے ذریعے پاکستان کے تمام پیٹرول پمپ کو پابند کیا تھا کہ وہ ناصرف اپنے واشروم عام پبلک کے لیے کھلا رکھیں گے بلکہ اس کی صفائی کا خاص خیال رکھیں گے
باقائدہ اوگرا کی جانب سے فون نمبر لکھا ہوتا تھا کہ اگر واشروم گندہ ہے تو اس نمبر پر شکایت کریں
مساجد اللہ کا گھر اور عبادت کی جگہیں ہیں ۔ وہاں کے ٹوائلٹس بھی عام طور پر زیادہ تر وضو(استنجے) کے سلسلے میں استعمال ہوتے ہیں، اور ان ٹوائلٹس کو بھی وہی لوگ استعمال کرتے ہیں، جو وہاں نماز کی نیت سے جاتے ہیں ۔
میرے خیال میں مساجد کے ساتھ ٹوائلٹس صرف کمرشل بیسز پر بنانا مناسب آئیڈیا نہیں ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ لوگ مساجد میں نماز پڑھنے کے لئیے جانے کی بجائے ،ان کے ساتھ ملحقہ ٹوائلٹس میں صرف رفع حاجت کے لئیے جایا کریں گے۔ بطور مسلمان مجھے تو یہ سوچتے ہوئے ہی تکلیف ہوتی ہے ، تو جو صاحب یہ آئیڈیا/فیزیبیلٹی دے رہے, انہوں نے ایسا کیوں نہیں سوچا؟
ٹوائلٹس کے ذریعے پیسہ کمانے کا آئیڈیا مساجد کے ساتھ منسلک کرنا انتہائی نامناسب ہے، خواہ اس سے کتنی ہی زیادہ آمدن کیوں نہ ہو۔
پاکستان ایک مسلمان ملک ہے اور اس میں لاتعداد مساجد ہیں ۔ الحمدللہ ان مساجد کے اخراجات بھی پورے ہو رہے ہیں ۔ میرے خیال میں مساجد کے اخراجات کے لئیے ٹوائلٹس کی کمائی کا یہ آئیڈیا انتہائی نامناسب ہے
یادش بخیر
اک حکومت نے اپنے حکمنامہ کے ذریعے پاکستان کے تمام پیٹرول پمپ کو پابند کیا تھا کہ وہ ناصرف اپنے واشروم عام پبلک کے لیے کھلا رکھیں گے بلکہ اس کی صفائی کا خاص خیال رکھیں گے
باقائدہ اوگرا کی جانب سے فون نمبر لکھا ہوتا تھا کہ اگر واشروم گندہ ہے تو اس نمبر پر شکایت کریں
@qQFwIxBe7F37lHQ ارشاد بھای اپ غلط طرف لے گئے ہیں مساجد مدارس چندوں پر چلتے ہیں اگر یہ مساجد کے ٹائلٹ کے ساتھ اک دو وی ای پی صاف ستھرے ٹائلٹ پیڈ پبلک کیلے بنا دیں تو اس میں نہ دینی قدغن ہے نہ اخلاقی اور مدارس کا نظام بہترین چل سکتا ہے
@saleemspeaks2 لوگوں کی 10 روپے دیتے جان جاتی ہے آپ 10پ روپے کا حساب لگائے بیٹھے ہیں۔ یہ کاروبار کسی پوش ایریا میں تو چل سکتا ہے لیکن مڈل کلاس یا نیچے نہیں۔
درست فرمایا
یہاں تو اک وفاقی وزیر صاحب فرماتے ہیں کہ انہوں نے 180 روپے میں لنچ کر لیا ہے اور آپ چلے ہیں ٹوائلٹ استعمال کے 150 روپے چارج کرنے ۔
اگر ایسا ہو بھی گیا تو سارے دن میں مشکل سے 10 لوگ آئیں گے جبکہ 24 گھنٹے میں جن 3 لوگوں کی ڈیوٹی ہو گی ان کی دھاڑی 3000 ہزار
@saleemspeaks2 جی۔ایسا نہیں ہو سکتا۔کیونکہ لوگ 5 یا 10 روپےدیتے ہوئےلڑتے ہیں
تو کون 100 روپےدے گا۔ پارکنگ پر 20 روپے کے لئےلڑتے ہیں۔آپ خود سوچیں کہ آپ شاپنگ مال میں ہزاروں کی شاپنگ کرتے ہیں۔کیا آپ ٹوائلٹ کے لئے پیسے دیں گے؟ جذباتی ہو کر نہیں حقیقت میں سوچیں۔
بھائی جی آپ کس دنیا میں رہتے ہیں؟
یہاں لوگوں کے پاس ٹوائلٹ استعمال کرنے کے 20 روپے نہیں ہوتے وہ بس اڈے پر ٹوائلٹ کے باہر بیٹھے بندے سے لڑ رہے ہوتے ہیں کہ باقی تو 10 روپے لیتے ہیں یا یہ تو بچہ ہے اس کے بھی پیسے لیں گے ۔
اک آپ ہیں کہ 100 اور 150 کی بات کر رہے ہیں
پاکستانی کی مشہور کاروباری شخصیت میڈیا انفلوئنسر ریحان اللہ والے نے اک زبردست کاروباری ائیڈیا شئیر کیا ہے کیسے اک پیڈ ٹائلٹ بنا کر ہم نو لاکھ ماہانہ کما سکتے ہیں ۔۔۔
سنیے انکا ائیڈیا ۔
کیا ایک مسجد صرف ٹوائلٹس سے سالانہ 10 کروڑ روپے کما سکتی ہے؟
آج ایک پوڈکاسٹ ختم کرنے کے بعد مجھے فوری طور پر ٹوائلٹ جانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ہمیشہ کی طرح مجھے کراچی میں صاف ستھرا ٹوائلٹ ڈھونڈنے میں مشکل پیش آئی۔ آخرکار میں جنسوئے (Ginsoy - Extreme Chinese) گیا اور ان سے درخواست کی کہ کیا میں ان کا ٹوائلٹ استعمال کر سکتا ہوں۔
اسی لمحے مجھے ایک ایسا خیال دوبارہ یاد آیا جس پر میں کئی سالوں سے کام کرنا چاہتا ہوں۔
آج میں نے ChatGPT سے کہا کہ اس کی بزنس فزیبلٹی نکال کر بتاؤ۔
نتائج حیران کن تھے۔
ذرا تصور کریں کہ ایک VVIP ٹوائلٹ ہو، جہاں صفائی کا بہترین معیار ہو، ہر وقت عملہ موجود ہو، اور صرف 100 یا 150 روپے ایزی پیسہ، جاز کیش یا بینک کارڈ سے ادا کرکے اندر داخل ہوا جا سکے۔
اگر کسی مصروف کاروباری علاقے میں موجود ایک بڑی مسجد کے صرف ایک VVIP ٹوائلٹ کو روزانہ 300 افراد استعمال کریں اور ہر شخص 100 روپے ادا کرے تو صرف ایک ٹوائلٹ سے تقریباً 9 لاکھ روپے ماہانہ اور 1 کروڑ 8 لاکھ روپے سالانہ آمدنی ہو سکتی ہے۔
اب ذرا آگے سوچیں۔
اگر وہی مسجد 3 VVIP ٹوائلٹ بنا دے تو تقریباً 27 لاکھ روپے ماہانہ یعنی 3 کروڑ 24 لاکھ روپے سالانہ آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔
اگر 5 ٹوائلٹ ہوں تو تقریباً 45 لاکھ روپے ماہانہ یعنی 5 کروڑ 40 لاکھ روپے سالانہ۔
اور اگر کسی بہت بڑی مسجد یا مصروف مقام پر 10 VVIP ٹوائلٹ ہوں تو تقریباً 90 لاکھ روپے ماہانہ یعنی 10 کروڑ 80 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ صرف اندازے ہیں۔ اصل آمدنی استعمال کرنے والوں کی تعداد، قیمت اور اخراجات پر منحصر ہوگی، لیکن یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ماڈل مالی طور پر قابلِ عمل ہو سکتا ہے۔
اس آمدنی سے مسجد کے بجلی، پانی، صفائی، سیکیورٹی، مرمت، ملازمین کی تنخواہیں، دینی و تعلیمی منصوبے اور فلاحی سرگرمیاں بغیر چندوں پر مکمل انحصار کیے چلائی جا سکتی ہیں۔
ساتھ ہی درجنوں نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی، کیونکہ ہر ٹوائلٹ کو صاف رکھنے اور چلانے کے لیے عملہ درکار ہوگا۔
میں نے ترکی میں اس طرح کے پیڈ پبلک ٹوائلٹس دیکھے ہیں، جہاں مسجد کے نمازیوں کے لیے الگ راستہ اور عوام کے لیے الگ داخلی راستہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس ماڈل کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ نافذ کیا جا سکتا ہے۔
یہ صرف ایک ٹوائلٹ نہیں ہوگا۔
یہ صفائی، روزگار، عزت، ٹیکنالوجی اور مسجد کی مالی خودمختاری کا ایک نیا ماڈل ہوگا۔
میں کئی سالوں سے اس منصوبے پر کام کرنا چاہتا ہوں۔
میری خواہش ہے کہ https://t.co/XvheVBWxz9 کے نام سے ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی بنائی جائے، جو پاکستان بھر میں مساجد، ریسٹورنٹس، پٹرول پمپس، بازاروں اور ہائی ویز پر صاف، محفوظ اور جدید VVIP ٹوائلٹس کا ایک قومی نیٹ ورک قائم کرے۔
شاید پاکستان کے اگلے بڑے کاروبار کی شروعات کسی ایپ سے نہیں، بلکہ ایک صاف ٹوائلٹ سے ہو۔
اب ایک سوال آپ سے:
اگر آپ کو ایک خوبصورت، انتہائی صاف، خوشبودار، ایئرکنڈیشنڈ اور بہترین معیار کا ٹوائلٹ ملے، تو کیا آپ اسے استعمال کرنے کے لیے 100 سے 150 روپے ادا کریں گے؟
صرف “ہاں” یا “نہیں” میں جواب دیں۔
@soulat_pasha یعنی غلطی میثاق جمہورین کو ختم کرنے کی کوشش کرنا ، بینظیر کا قتل اور نواز شریف کو ثاقب نثار کے زریعے ہٹوانا تھا
پھر اس غلطی سے توجہ یٹانے کیلئے کاں صاحب کو رنگ میں اتارا گیا لیکن جوکر مستی مٰں آکے خود کو وزیر اعظم سمجھ بیٹھا اور چوریوں کے ریکارڈ توڑنے میں لگ گیا سالا ۔ ہیں
@RShahzaddk سر جی دوبارہ پڑھیں انہوں نے دو سال نہیں بلکہ "وہ سال سے زیادہ" لکھا ہے
برائے مہربانی دوبارہ پڑھیں اور امید ہے کہ آپ پڑھ کر اپنے ٹویٹ میں تصحیح کر لیں گے
نوجوانوں سے ایک اہم اپیل!
آج کل ہمارے علاقے میں 40,000 سے 70,000 روپے تنخواہ، مفت ہاسٹل، مفت کھانا اور فوری نوکری کے نام پر جگہ جگہ پوسٹر لگائے جا رہے ہیں۔
میں نے خود اس معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے اسلام آباد جا کر معلومات حاصل کیں۔ میری معلومات کے مطابق پہلے یہ Tiens Company کے نام سے لوگوں کو بیوقوف بنا رہے تھے، بعد میں انہوں نے نام تبدیل کرکے Health & Education رکھا، شاھد اب تیسرا نام بھی رکھا ھو لیکن طریقۂ واردات وہی پرانا ھے۔
یہ لوگ پہلے 6,000 روپے رجسٹریشن کے نام پر لیتے ہیں، پھر دو دن کی ٹریننگ کروائی جاتی ہے اس کے بعد مختلف بہانوں سے 30 سے 40 ہزار روپے یا اس سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کا کہا جاتا ہے۔ بعض متاثرہ افراد کے مطابق جب وہ اپنی رقم واپس مانگتے ہیں تو انہیں مزید سرمایہ لگانے کا کہا جاتا ہے، اور آخرکار وہ اپنی محنت کی کمائی سے محروم ہو جاتے ہیں.
اس نظام میں شامل افراد کو یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ مزید لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کریں اور نئے گروپ بنائیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ جتنے زیادہ افراد وہ لائیں گے، ان کے "اسٹار" یا درجہ اتنا ہی بڑھے گا، زیادہ آمدنی ہوگی، اور مستقبل میں بیرونِ ملک مواقع بھی مل سکتے ہیں۔ انکو سہانے خواب دیکھائے جاتے ہیں جو کہ محض دھوکہ دہی ہے ، اسی امید میں بعض نوجوان اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور جاننے والوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس وقت بھی متعدد نوجوان اس نظام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے قریبی افراد کے مطابق انہیں اس قدر قائل کیا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتے اور ہر تنقید کو غلط سمجھتے ہیں۔
یہ لوگ بہت پروفیشنل ھوتے ھیں وہ آپ کو ایسے مجبور کرتے ہیں کہ آپ کو اندازہ بھی نہیں ھوجاتا کہ وہ آپ کو لٹ رھے ھیں اور یہ اکثر نوجوان طبقے کو نشانا بنا رھے ھیں جن کی عمریں 18 - 30 سال تک ھیں بعض اوقات تو 35 سال تک بھی پھنسا چکے ہیں.
⚠️ اس پوسٹر پر درج نمبر پر رابطہ کرنے سے بالکل گریز کریں، پہلے ضرور تحقیق کریں۔ کوئی بھی ادارہ نوکری کے نام پر رقم یا سرمایہ کاری کا مطالبہ کریں تو انتہائی محتاط رہیں اور فوراً وھاں سے کوئی بہانا کرکے نکل جائیں۔۔
آپ کی ایک شیئر کسی کی زندگی بھر کی جمع پونجی بچا سکتی ہے۔
@MaidahMuhammad امام بخاری رحمہ اللّٰه اور صحیح بخاری کے حوالے سے آپ کے سوالات کے جواب کو ایک عام فہم انداز میں، تاریخی حوالوں کے ساتھ ترتیب وار سمجھتے ہیں۔
1ـ اسفار اور راستوں کا تعین کیسے ہوتا تھا؟
نویں صدی عیسوی میں جدید نقشے نہیں تھے، لیکن راستے بالکل غیر معروف نہیں تھے۔
واہ جناب!
کیا خوب منطق ہے۔ یعنی اگر کوئی سوال پوچھ لے تو وہ "شکوک پیدا کر رہا ہے"، اور اگر آنکھیں بند کر کے ہر بات مان لے تو وہ "ایمان کی حفاظت" کر رہا ہے؟
آپ کی بات سے تو لگتا ہے کہ تحقیق صرف علما کے لیے حلال ہے اور سوال پوچھنا عوام کے لیے حرام!
پہلی بات یہ کہ اگر اس موضوع پر "بہت زیادہ تحقیق موجود ہے" تو پھر پریشانی کس بات کی ہے؟ سوالات کے جواب دے دیجیے۔ سچائی کو سوالوں سے کبھی خطرہ نہیں ہوتا، صرف کمزور مؤقف سوالوں سے گھبراتا ہے۔
دوسری بات، اگر عام لوگوں کے ذہن میں صرف سوال پڑھ کر شکوک پیدا ہو جاتے ہیں تو پھر مسئلہ سوالات میں نہیں، ہماری علمی تربیت میں ہے۔ قرآن بار بار انسان کو غور و فکر، تدبر اور عقل استعمال کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کیا قرآن نے کہیں لکھا ہے کہ "تحقیق صرف وہ کرو جس سے آپ کے پہلے سے قائم عقائد کو کوئی خطرہ نہ ہو"؟
اور یہ بھی بڑا دلچسپ اصول ہے کہ جب کوئی شخص کسی کتاب کے حق میں بیس دلائل لکھے تو اسے "علمی خدمت" کہا جاتا ہے، لیکن جب وہی شخص بیس سوالات پوچھ لے تو اسے "گھٹیا طریقہ" قرار دے دیا جاتا ہے۔
ویسے ایک مشورہ عرض ہے۔ اگر کسی کے پاس سوالات کے جواب موجود ہوں تو وہ جواب دیتا ہے، سوال کرنے والے کے کردار پر حملہ نہیں کرتا۔ "یہ سوال کیوں پوچھا؟"، "لوگ کیا سوچیں گے؟" اور "شکوک پیدا ہو جائیں گے" جیسے جملے عموماً وہاں استعمال ہوتے ہیں جہاں دلائل کم پڑ جائیں۔
سوال پوچھنا جرم نہیں، سوال سے ڈرنا ضرور قابلِ غور بات ہے۔
لہٰذا، اگر تحقیق واقعی موجود ہے تو نعرے نہیں، حوالہ جات کے ساتھ جواب دیجیے۔ ورنہ "عوام کے ذہن خراب ہو جائیں گے" والا ڈائیلاگ علمی دنیا میں دلیل نہیں، صرف خوف کا اظہار ہے۔
آپ کا مؤقف یہ ہے کہ عوام کو اتنا ہی دین بتایا جائے جتنا وہ بغیر سوال کیے ہضم کر لیں۔ معذرت کے ساتھ، یہ دین کی خدمت نہیں، ذہنی سرپرستی (intellectual guardianship) ہے۔ 😄