DISGRACEFUL
The imposition of emergency in KP is the final nail in the demolition of democracy. The one province whose 2/3rd mandate could not be stolen has been taken over by an unrepresentative, fraudulent set-up in Islamabad. Only the people of KP had the right to remove their government, not the unelected, gun-imposed usurpers in Islamabad.
All reports suggest that the only sticking point was a meeting with Mr Imran Khan, the people’s falsely incarcerated leader. Those who cannot bear even his image emerging from the dungeons they hold him in are dragging the country down in their petty spiteful malicious hatred. Personal animosity is consuming Pakistan. Poverty and elite capture are up. Those who collude spinelessly grow richer, and plotocracy, and fascism rise.
Never in Pakistan’s history have children been seized and beaten to force their parents into submission. Destruction of property is the police’s new routine. Elected PTI representatives continue to be tortured and kidnapped by masked regime changers, while the judiciary kneels at the altar of the wicked.
The message to encourage terrorism in Balochistan was that constitutional peaceful protests for missing persons were brutally supressed, their women leaders sentenced for life. The same message was given to Azad Jammu and Kashmir, our heart and soul, whose peaceful massive protests were viciously strangulated, with dozens of killings. Is KP now being given the same message by the destroyers of Pakistan, the PPP, PMLN and their Gods?
I assure you, they won’t succeed because Imran Khan abhors violence. PTI and the people of Pakistan will continue our peaceful struggle come what may.
This is our home. We will protect it. Not through the gun but through the compassionate democratic embrace of the miserable, poor, hungry, and downtrodden of all provinces and entities that constitute Pakistan.
I nominate these despicable usurpers for a Nobel Prize, not for peace, but for the fastest effort to demolish a country and its people.
You do everything to destroy us, but Imran Khan will build from the ashes and the filth that you leave behind as you escape.
WE PROMISE انشاللہ
Either you surrender or you fight for your freedom till death.
What will we do? My belief is La Ilaha Illallah there is no God but one, and we will fight!
What a sad and narrow-minded state of affairs.
Not mentioning the birthday of the greatest ever cricketer to represent Pakistan, yet regularly mentioning the birthdays of players who never achieved anything and players who brought shame on the country
#Cricket#ImranKhan
عمران خان صاحب، سالگرہ مبارک۔
آج کا دن خوشی کا ہونا چاہیے تھا۔ ایک ایسے شخص کی سالگرہ جس نے اپنی زندگی کے بہترین سال پاکستان کے نام کیے؛ جس نے ورلڈ کپ جیت کر قوم کو وہ خوشی دی جسے نسلیں یاد رکھیں گی، شوکت خانم بنا کر غریب انسان کے لیے علاج کے دروازے کھولے، اور نمل بنا کر ان نوجوانوں کے لیے تعلیم کی راہ کھولی جن کے لیے اعلیٰ تعلیم محض ایک خواب تھی۔
مگر آج وہی شخص سلاخوں کے پیچھے ہے۔
اپنے بچوں، بہنوں اور خاندان سے دور؛ اپنے ذاتی معالجین تک مناسب رسائی سے محروم؛ اپنے سیاسی ساتھیوں سے ملاقات اور مشاورت سے محروم؛ اور ایسے مقدمات کا سامنا کر رہا ہے جن کی شفافیت اور انصاف کے بارے میں پورے ملک کے ذہن میں سنگین سوالات موجود ہیں۔
یہ صرف عمران خان کی قید نہیں؛ یہ اس سوال کی قید بھی ہے جو آج پاکستان کے ضمیر کے سامنے کھڑا ہے:
کیا اختلافِ رائے کی قیمت قید، ظلم، زیادتی اور قتل ہونا چاہیے؟
ہمارے مطالبات سادہ ہیں، اور ہر مہذب جمہوری معاشرے میں بنیادی حق سمجھے جائیں گے:
۱۔ عمران خان کی اہلِ خانہ، ذاتی معالجین اور سیاسی ساتھیوں سے باقاعدہ ملاقات کا حق بحال کیا جائے۔
۲۔ مقدمات کی کارروائی کھلی اور شفاف ہو۔
۳۔ ان کی صحت، خصوصاً بلڈ پریشر، ذہنی دباؤ اور عمر کو سامنے رکھتے ہوئے مناسب طبی سہولت کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے۔
۴۔ عوام کے ووٹ اور سیاسی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔
۵۔ آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے۔
ان مطالبات کا جواب مذاکرات، آئین اور سیاسی مکالمے سے آنا چاہیے تھا۔ مگر جواب میں دہشت گردی کا شور مچایا جا رہا ہے اور اصل مطالبات پر حکومت اور مقتدرہ گونگی ہے؟
میں دہشت گردی کی بلاشرکتِ غیرے مذمت کرتا ہوں۔ پاکستان نے اس جنگ میں اپنے سپاہی، پولیس اہلکار اور بے شمار شہری کھوئے ہیں۔
لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پُرامن سیاسی اختلاف کو ایک ہی ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔
اگر دہشت گردی بڑھ رہی ہے تو ہمیں یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ عمران خان کے دور میں دہشت گردی نسبتاً بہت کم کیسے ہوئی؟ اس وقت کون سی حکمتِ عملی، پالیسی اور فیصلے کام کر رہے تھے؟ اگر کوئی چیز اس وقت مؤثر تھی تو آج وہ کیوں نہیں ہے؟ یہ ہارڈ اسٹیٹ کیوں مسلسل ناکام ہو رہی ہے؟
ریاست کا مخالف ہونا اور حکومت سے اختلاف کرنا ایک چیز نہیں۔ حکومت پر تنقید ریاست سے دشمنی نہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کے جرنیلوں سے اختلاف ریاست سے غداری نہیں۔
اور اپنے آئینی و جمہوری حقوق کا مطالبہ دہشت گردی نہیں۔
قیدی نمبر 804 محض ایک نمبر نہیں۔
اس کے پیچھے ایک باپ ہے، ایک بھائی ہے، ایک دوست ہے، ایک شوہر ہے، ایک سیاسی رہنما ہے، اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا پاکستانی ہے جس نے اپنی زندگی کے کئی عشرے اپنے ملک کے لیے وقف کیے۔
عجیب زمانہ ہے کہ بقولِ فیض:
"سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد"
شاید انسان کی اصل طاقت یہی ہے کہ جسم کو قید کیا جا سکتا ہے، مگر خوابوں، ارادوں اور یقین کو نہیں۔
عمران خان نے زندگی میں بہت سے مشکل راستے اختیار کیے۔ کرکٹ میں ناممکن کو ممکن کیا، پاکستان کو ورلڈ کپ جتوایا، شوکت خانم اور نمل جیسے ادارے بنائے، سیاست میں ناممکن سمجھی جانے والی کامیابی حاصل کی، پھر اقتدار سے محرومی، 8 فروری 2024 کے جعلی انتخابات کے بعد کے سیاسی تنازعات اور مسلسل قید کا راستہ بھی دیکھا۔
لیکن ایک چیز ہم نے ہمیشہ دیکھی: عمران خان نے آسان راستہ اختیار نہیں کیا۔
میں اِس پُرامن مارچ کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔ اور یہ بھی یاد دلانا چاہتا ہوں کہ پی ٹی آئی ہمیشہ پُرامن رہی ہے ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹتا ہے، بلکہ اُلٹا پولیس نے پُرامن پاکستانیوں پر ہمیشہ اندوہ ناک تشدد کیئے ہے۔ 9 مئی اور 26 نومبر اس بات کی دلیل ہے۔ سی سی ٹی وی اور سوشل میڈیا پر سب موجود ہے۔ جس نے سی سی ٹی وی چوری کیا، وہی قاتل ہے۔
عمران خان نے ہمیشہ کہا کہ پُرامن رہو۔ آئین کے دائرے میں رہو۔ انسانی جان کی حرمت کا خیال رکھو۔ کسی بے گناہ کو نقصان نہ پہنچاؤ۔ املاک کو نقصان نہ پہنچاؤ۔
کاش کے رینجرز، فوجی اور پولیس والوں کو بھی اس بات پر عمل کرنے کا شعور آئے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک بات میرے نزدیک یہ ہے کہ اقتدار میں موجود چند بااثر لوگوں کو عمران خان سے شدید نفرت ہے، جو کہ انتقام کی شکل اختیار کر چکی ہے اور پورے پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔
جو لوگ متنازع سیاسی بندوبست کے ذریعے اقتدار میں بیٹھے ہیں، وہ عمران خان کو شکست دینے کے بجائے اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاسی کارکنوں کو دبایا جا رہا ہے، اختلاف کو دشمنی سمجھا جا رہا ہے، اور ایک جماعت کو کچلنے کی خواہش نے معاشرے میں غصہ، خوف اور تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اقتدار عارضی ہے۔ عہدے عارضی ہیں۔ حکومتیں آتی جاتی ہیں۔
میرا پاکستان مستقل ہے۔
اس لیے طاقت اور مار دھاڑ کے بجائے مکالمہ کرو، انا کے بجائے برداشت، الزام کے بجائے دلیل، انتقام کے بجائے انصاف، اور تصادم کے بجائے آئین کا راستہ اختیار کیا جائے۔
اور یہ مکالمہ ان لوگوں سے ہونا چاہیے جو کہتے ہیں کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ میری نظر میں پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ طاقت کے اصل مراکز کہاں ہیں۔ اگر یہ مصنوعی سہارے اور بے ساکھیاں چند لمہوں کے لیئے ہٹا دی جائیں تو بہت سے غاصب، ڈکیت اور چور "یہ جا وہ جا"، جہاز پکڑ کر آناً فاناً رفو چکر ہو جایں گے۔
عمران خان صاحب،
آپ کی سالگرہ پر میری سب سے بڑی دعا صرف یہ نہیں کہ آپ جیل سے باہر آئیں۔
میری دعا ہے کہ جب آپ باہر آئیں تو آپ وہ پاکستان بنائیں جس کا خواب آپ نے ریاستِ مدینہ کے تصور کے حوالے سے ہمارے سامنے رکھا اور اور اس پر کام شروع کیا تھا۔
ایک ایسا پاکستان جہاں قانون طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ نہ ہو؛ جہاں تعلیم، روزگار اور صحت سب کے لیئے ہو، جہاں عدالت پر اعتماد ہو؛ جہاں ووٹ کی عزت محض نعرہ نہ ہو؛ جہاں اختلاف جمہوریت کا حصہ سمجھا جائے؛ جہاں صحافت آزاد ہو؛ جہاں سیاسی کارکن کو دشمن نہ سمجھا جائے؛ اور جہاں ریاست اپنے ہی شہری کی آواز سے خوفزدہ نہ ہو۔
آج آپ کے چاہنے والے آپ کو یاد کر رہے ہیں۔ آپ کے خاندان والے آپ کو یاد کر رہے ہیں۔ آپ کے ساتھی آپ کو یاد کر رہے ہیں۔ پاکستان کی بھوکی ننگی لاچار عوام آپ کو یاد کر رہی ہے۔
اور شاید آپ سے اختلاف رکھنے والے بھی، کیونکہ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔
آپ کو قید کیا جا سکتا ہے۔
آپ کی ملاقاتیں روکی جا سکتی ہیں۔
آپ کی آواز محدود کی جا سکتی ہے۔
آپ کے اردگرد دیواریں کھڑی کی جا سکتی ہیں۔
مگر خیالات کو دیواروں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔
میری دلی خواہش ہے کہ آپ کی اگلی سالگرہ جیل کی دیواروں کے پیچھے نہیں، اپنے خاندان، اپنے بچوں، اپنے دوستوں اور اپنے وطن کے لوگوں کے درمیان ہو۔
سالگرہ مبارک، عمران خان۔
اللہ آپ کو سلامت رکھے، اپنی حفظ و امان میں رکھے، صحت، حوصلہ اور استقامت عطا فرمائے، اور پاکستان کو امن، انصاف، جمہوریت، برداشت اور اتحاد نصیب فرمائے۔
قیدی نمبر 804 نہیں بلکہ ایک محبت بھری داستان۔
عمران خان۔
سالگرہ مبارک۔
@fawadchaudhry I feel so bad for you. The amount of torture/blackmail you must have endured. What have they done to you Fawad. U are no longer you. I am wondering what secret crimes must you have committed, must b nasty i guess. Must b. Or you would not have stooped so low underneath pressure
@Nazranausufzai We should all report him . That the only way to stop him from hurting the sentiments of en entire Pashtoon community.
#reportFawadChaudary
@fawadchaudhry@Nazranausufzai Everyone , just report this guy. He is inciting hate and sectarianism. He is trying to abuse a Waste majority of Pakhtoons living in Pakistan and abroad
These buffoons can’t help making blunder after after blunder. According to this logic, neither my mother, nor her parents are Jewish… Incredible levels of stupidity.
The Defence Minister is right. It’s why I have never been considered Jewish by the Jewish community. My mother was a Church of England Protestant. And by this logic, my father was not Jewish either. His mother was a French Catholic. As ever, in attempting to undermine my sons, Pakistan’s Defence Minister has scored an embarrassing own goal.
Breaking news: Anthropic CEO Dario Amodei called for AI companies to slow the pace of development as concerns mount over risks associated with the technology.
“Progress will still seem fast, and we must make wise use of the time we gain,” Amodei wrote. https://t.co/CLkxhWVZ2M