ایک ماہ سے جاری مسلسل ہراسانی کے بعد گزشتہ رات تقریباً ایک بجے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے اہلکار، جو بائیس گاڑیوں میں سوار تھے اور جن کی تعداد تقریباً 60 سے 70 کے درمیان تھی، لیڈی پولیس اہلکاروں کے ہمراہ مجھے گرفتار کرنے کے لیے میرے گھر پہنچے۔
اس وقت میں گھر پر موجود نہیں تھی۔ اہلکاروں نے گھر کے در��ازے توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوئے اور تقریباً پانچ گھنٹے تک گھر کے اندر موجود رہے۔ اس دوران انہوں نے پورے گھر کی تلاشی لی اور گھر میں موجود تمام سامان، بشمول لیپ ٹاپ، کیمرے، موبائل فون، کتابیں، دستاویزات اور زیورات اپنے ساتھ لے گئے۔
اگر ان کا مقصد مجھے گرفتار کرنا تھا تو میری غیر موجودگی کا کنفرم کرنے کے باوجود میرے گھر کے دروازے توڑ کر داخل ہونے کی کیا مقصد تھا؟ میرے گھر میں موجود قیمتی اشیاء کو چوری کرنے، سامان کی توڑ پھوڑ کرنے اور ہمسائیوں کو تشدد اور ہراساں کرنے کا کیا مقصد تھا؟ کس قانون کے تحت یہ سب کچھ کیا جارہا ہے؟
میں متعدد بار یہ واضح کر چکی ہوں کہ اگ�� میرے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو میں اسے قانونی فورمز پر سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تاہم ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کے گھر پر رات کے اندھیرے میں دھاوا بولنا�� ہمسایوں کو تشدد اور دھمکیوں کے ذریعے خوفزدہ کرنا، اور میرے خاندان کو ہراساں کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقصد قانون کا نفاذ نہیں بلکہ مجھے اور میرے اہلِ خانہ کو ڈرانا اور خاموش کرانا ہے۔
میرے گھر کو پہنچنے والے تمام نقصان اور اس کارروائی کے نتائج کی ذمہ داری بغدادی پولیس، لیاری پولیس اور سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔
Mahrang Baloch should not be in prison. Women and girls in Balochistan have suffered for years as their male family members were routinely arrested and forcibly disappeared. They deserve the life that everyone deserves: daughters who can go to school, fathers who come home at night.
I stand with my sisters in Pakistan who face harassment and abuse, who are imprisoned for speaking out. This is not new — throughout our history women like Asma Jahangir, Farida Shaheed, Khawar Mumtaz, Hina Jilani and even Fatima Jinnah suffered persecution for standing up. Today, it is Imaan Mazari and Mahrang Baloch.
Rather than addressing the horror of forced disappearances, the anti-terrorism court is targeting those who speak out against the oppression. Mahrang and her fellow activists must be released.
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
HRCP deplores the conviction of @MahrangBaloch_ and other members of the BYC. Regrettably, the state has continued its policy of dealing with advocacy for fundamental rights in the same way as it deals with militancy, leading to executive and judicial decisions that are lopsided and prejudiced. We demand a review of the ATC's decision at the earliest and the initiation of a political dialogue in Balochistan.
📍Pakistan
🚨 Front Line Defenders condemns the life sentence reportedly handed down to Baloch WHRD Dr Mahrang Baloch and BYC leader Sibghatullah, amid serious concerns over jail trials, video-link hearings, and fair trial standards.
ایک متنازعہ قتل کے مقدمے کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی لیکن کیا اسی راجی مچی کے دوران ایف سی کے اہلکاروں کی براہِ راست فائرنگ سے قتل ہونے والے چار نہتے بلوچوں کے قاتلوں کو بھی کبھی عمر قید کی سزا ملی؟ کبھی ان نہتے سیویلینز کے قتل پر کوئی ایف آئی آر درج ہوئی، کبھی انکے قاتلوں کوکٹھرے میں کسی عدالت نے کھڑا کیا؟ نہیں، کیونکہ ان کے لیے قانون کا معیار مختلف ہے، کیونکہ وردی پہن لینے سے قتل جرم نہیں رہتا، اور قانون صر�� مظلوم کے خلاف طاقتور ہو سکتا ہے۔
جولائی 2024 میں ایک پرامن عوامی اجتماع کو روکنے کے لیے پورے بلوچستان کو عملاً محاصرے میں بدل دیا گیا۔ سڑکیں کھودی گئیں، راستے بند کیے گئے، بسوں پر فائرنگ کی گئی، اور پھر نہتے لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چار افراد اپنی جانوں سے گئے، درجنوں زخمی ہوئے، تین افراد مستقل معذوری کا شکار ہوئے، اور ایک شخص کے سر میں گولی مار کر اسے عمر بھر کی اذیت کے حوالے کر دیا گیا۔
مگر ان قتلوں پر کوئی مقدمہ نہیں۔ ان زخمیوں کے لیے کوئی انصاف نہیں۔ ان معذوروں کے لیے کوئی احتساب نہیں۔ جنہوں نے عوام پر گولیاں چلائیں، جنہوں نے بسوں کے ٹائ�� پھاڑے، جنہوں نے گھروں پر دھاوے بولے، جنہوں نے طاقت کے زور پر ایک عوامی اجتماع کو کچلنے کی کوشش کی، ان میں سے کسی ایک کو بھی قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا، وہ اس لیے کہ اس نظام میں قانون جرم کو نہیں، مجرم کی حیثیت اور طاقت کو دیکھ��ا ہے۔ اگر آپ کمزور ہیں تو الزام ہی سزا بن جاتا ہے، لیکن اگر آپ طاقتور ہیں تو لاشیں بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔
یہاں انصاف کا ترازو برابر نہیں، بلکہ طاقت کے وزن سے جھکا ہوا ہے۔
اور یہی نظام ہیکہ قاتل آزاد ہیں اور مظلوم قید۔
گولیاں چلانے والے محفوظ ہیں اور گولیاں کھانے والے مجرم۔
بندوق والوں کے لیے استثنا ہے اور خالی ہاتھ لوگوں کے لیے عمر قید۔
یہی اس سامراجی اور ہائبرڈ نظام کا اصل چہرہ ہے
اور یہی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انصاف ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ اور صغبت اللہ کو عمر قید کی سزا سنانا پاکستان کی بلوچ قوم کے خلاف نفرت کا اظہار ہے۔
اس فیصلے سے مزاحمت اور جدوجہد کی تاریخی مرحلے کا آغاز ہوگا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
جس طرح ریاست پاکستان پنتالیس سال قبل حمید بلوچ کو بغیر ٹھوس ثبوت اور شواہد کے پھانسی پر چڑھایا گیا، اور وہ مقدمہ آج تک وہ فیصلہ ریاست پاکستان کے پیشانی پر سیاہ داغ ہے۔ اسی طرح یہ مقدمہ بھی جج مبین، ان کے حواریوں، ان کے سرپرستوں، پیپلز پارٹی کی ڈیتھ اسکواڈ حکومت،محکمہ داخلہ اور اس پورے عدالتی بندوبست سمیت پورے ریاست کی پیشانی پر ایک ایسا داغ بن کر رہے گا جسے تاریخ کبھی نہیں بھولے گی۔
اس کیس میں کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔ اگر ایک بھی قابلِ قبول ثبوت موجود ہوتا تو کم از کم یہ کہا جا سکتا تھا کہ مقدمہ چلایا جائے۔ اس ایک کیس پر دو الگ الگ ایف آئی آر موجود ہے، مگر جہاں ایک بھی ٹھوس ثبوت موجود نہیں، جہاں شواہد مشکوک ہیں، جہاں ایف آئی آرز خود ایک دوسرے سے متصادم ہیں، وہاں عمر قید کی سزا سنانا انصاف نہیں بلکہ جبر ہے، اور یہ جبر بھی معمولی نہیں بلکہ کھلا ریاستی و عدالتی جبر ہے۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی ایف سی اہلکار ایک ایف آئی آر کے مطابق 27 جولائی کو مر جائے اور دوسری ایف آئی آر کے مطابق 29جولائی کو بھی مرے؟ ایک انسان دو بار کیسے مر سکتا ہے؟ جب مقدمے کی بنیاد ہی اس قدر متضاد، مشکوک اور غیر معتبر ہو تو اس بنیاد پر عوامی رہنماؤں کو عمر قید دینا قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ قانون کا جنازہ ہے۔
اس جھوٹے فیصلے کو عوامی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ آج طاقت کے بل بوتے پر قانون کو توڑا مروڑا جا رہا ہے۔ آج طاقت کے بل بوتے پر عوامی رہنماؤں کو سزا دی جا رہی ہے۔ آج طاقت کے بل بوتے پر بلوچ نسل کشی جارہی ہے، اورعوام خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگرتاریخ خاموش نہیں ہوگی یہ سب تاریخ میں لکھا جائے گا کیونکہ تاریخ طاقتور نہیں لکھتے، تاریخ عوام لکھتے ہیں۔
ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ بندوقیں عوام کے ہاتھوں میں نہیں تھیں، بندوقیں ایف سی کے کارندوں کے ہاتھوں میں تھیں۔ ۔راجی مُچی کے دوران چار بلوچ شہید کیے گئے، درجنوں زخمی ہوئے، تین لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہوئے، ایک شخص کے سر میں گولی ماری گئی اور وہ آج تک معذوری اور اذیت کی زندگی گزار رہا ہے۔ مگر ان شہیدوں، زخمیوں اور معذوروں کے لیے کسی کو سزا نہیں ملی۔ جنہوں نے عوام پر گولیاں چلائیں، جنہوں نے بسوں کے ٹائر پھاڑے، جنہوں نے لوگوں کے گھروں میں لوٹ مار کی، جنہوں نے عوامی اجتماع کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی، ان میں سے کسی کو سزا نہیں ملی۔
لیکن ایک ایسے ایف سی اہلکار کے قتل کے نام پر، جس کے بارے میں ایف آئی آرز خود متضاد ہیں،جس کے بارے میں شواہد مشکوک ہیں، پرامن عوامی رہنماؤں کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ یہ�� اس نظام کا اصل چہرہ ہے۔ یہی وہ انصاف ہے جو بلوچستان کو دیا جاتا ہے۔ قاتل آزاد ہیں، مظلوم قید ہیں۔ بندوق والے محفوظ ہیں، خالی ہاتھ عوام مجرم بنا دیے گئے ہیں۔
یہ صرف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ صبغت اللہ بلوچ کا مقدمہ نہیں۔ یہ بلوچستان کی عوامی سیاست، عوامی مزاحمت، لاپتہ افراد کے خاندانوں کی فریاد، اور بلوچ قوم کے اجتماعی شعور کا مقدمہ ہے۔ اس فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان میں پرامن رہنا بھی جرم بنا دیا گیا ہے، سوال پوچھنا بھی جرم ہے، اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھانا بھی جرم ہے، اور ریاستی جبر کو بے نقاب کرنا بھی جرم ہے۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ ہماری جدوجہد جمہوری ہے، سیاسی ہے، تاریخی ہے، اور حق پر مبنی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی، اپنی عزت، اپنی زمین، اپنے لاپتہ افراد، اپنے شہیدوں اور اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ ہماری نسل کشی کرے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ ہمارے پرامن اجتماعات کو گولیوں سے جواب دے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ جھوٹے مقدمات کے ذریعے ہماری قیادت کو قید کرے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ جیلیں اس تحریک کو نہیں روک سکتیں۔ سزائیں اس شعور کو ختم نہیں کر سکتیں۔ جھوٹے مقدمات عوامی حقیقت کو دفن نہیں کر سکتے۔ آج وہ طاقت کے نشے میں فیصلے لکھ رہے ہیں، مگر کل تاریخ ان فیصلوں کا حساب لکھے گی۔
ہم حق پر کھڑے ہیں۔ وہ ظلم پر کھڑے ہیں۔ ہم سچ کے ساتھ ہیں۔ وہ جھوٹ، بندوق اور جبر کے ساتھ ہیں۔ ہم اپنے لوگوں کے قاتلوں، اپنے شہیدوں کے ذمہ داروں، اور اس ��ابرانہ نظام کے چہروں کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔
آج کا فیصلہ آخری فیصلہ نہیں ہے۔ آخری فیصلہ عدالتوں کے بند کمروں میں نہیں ہوگا۔ آخری فیصلہ عوام کی تاریخ کرے گی۔
PAKISTAN: Today marks 150 days of unlawful imprisonment of human rights lawyers Imaan Mazari and Hadi Ali Chattha, simply for their social media posts.
Five months on, despite repeated attempts by their legal counsel, their appeal has not been heard yet. The delay in the appeal hearing is in stark contrast to the haste during their trial, which had several procedural irregularities as they were denied substantial time to cross-examine key witnesses against them.
📢 Call for their immediate and unconditional release.
✊ Take action NOW: https://t.co/GSIPYBLnLz
#ReleaseImaannadHadi
Outrageous! Sentencing a peaceful activist to life imprisonment for advocating against enforced disappearances sends a chilling message: even peaceful activism will not be tolerated by a hard state. If peaceful dissent is criminalized, what alternatives are people left with?
These are the people chosen to represent Balochistan--people who could care less about their own people, who are so deluded by power that they treat an abstract state as more worthy of empathy than a mother crying for her lost children. This is how brutality is legitimised.
Why are @BalochYakjehtiC leaders staging a sit-in inside jail? They are opposing faceless trials and judicial secrecy, demanding open court hearings, fair and transparent proceedings, access to lawyers and families.
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders
“Balochistan continued to record the highest poverty incidence, while Punjab remained the lowest among the four provinces, the survey says.”
ECONOMIC SURVEY 2026-27: Poverty surges 7pc, pushing 27m people into financial distress
https://t.co/ITwVn0QEen
ایک لیڈی ڈاکٹر، جو روزانہ 12 سے 14 گھنٹے انسانوں کی جانیں بچانے کے لیے خدمات انجام دیتی ہے، بلوچستان کے سب سے بڑے اسپتال، سول ہسپتال کوئٹہ میں اپنی ہی جان سے تقریباً ہاتھ دھو بیٹھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں ان کے دفتر کے اندر تیزاب سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کا تقریباً 70 فیصد جسم جھلس گیا۔
مگر اس المناک واقعے کے بعد حقائق سامنے لانے اور عوام کے سوالوں کے جواب دینے کے بجائے کہانی ایک اندھیرے میں چلی گئی کہ مبینہ ملزم کو پولیس مقابلے میں ہلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ اس کے قبضے سے ایک پستول اور چار زندہ کارتوس برآمد ہ��نے کی بات کی جا رہی ہے۔ تاہم حقیقت تک پہنچنے سے پہلے ہی ملزم کی موت نے پورے معاملے کو مزید پراسرار اور مشکوک بنا دیا ہے۔
یہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی ہے جو مسلسل اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی شہریوں کے تحفظ، میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک بڑے سرکاری اسپتال کے اندر سکیورٹی کہاں تھی؟ بلوچستان جیسے خطے میں جہاں ہر چند قدم پر سکیورٹی اہلکار تعینات ہوتے ہیں، ایک شخص تیزاب اور اسلحہ لے کر اسپتال کے اندر کیسے داخل ہوا؟ اور اتنا ہولناک حملہ انجام دینے میں کامیاب کیسے ہو گیا؟
اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ انصاف کے عمل کو گولیوں کی آواز میں کیوں دفن کر دیا گیا؟ اگر واقعی مبینہ ملزم کے پاس سکیورٹی اداروں سے منسوب ہتھیار تھا، جیسا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے دعویٰ کر رہے ہیں، تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ تک پہنچا کیسے؟ اس سوال کا جواب کون دے گا؟
مزید افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس پورے سانحے کے دوران حکومت اپنی ائیر ایمبولینس سروس کی تشہیر اور میڈیا بیانیے کو بہتر بنانے میں زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہے۔ بڑے بڑے منصوبوں، ہیلی کاپٹر ایمبولینسز اور تشہیری مہمات کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، مگر اسپتالوں میں برن سینٹرز جیسی بنیادی اور ناگزیر سہولتیں آج بھی موجود نہیں۔ تیزاب حملوں کے متاثرین کے لیے فوری اور خصوصی علاج زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے، مگر بلوچستان میں ایسے مریضوں کو علاج کے لیے کراچی منتقل کرنا پڑتا ہے کیونکہ مقامی سطح پر ضروری طبی سہولتیں ناکافی ہیں۔
یہ صرف ایک خاتون ڈاکٹر پر حملہ نہیں، بلکہ پورے نظام کی ناکامی کا ایک المناک ثبوت ہے، اس پر خاموشی جرم کے برابر ہے۔ اس واقعے کی مکمل، آزاد اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ کسی بھی طاقتور ہاتھ کی پشت پناہی چھپ نہ سکے اور اصل حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔
Enforced Disappearance of Filmmaker and Cameraman Mehrab Khalid
30 May 2026 | Lahore
PAANK strongly condemns the enforced disappearance of Mehrab Khalid, a resident of Turbat, district Kech, a film student at the National College of Arts (NCA) Lahore, and an aspiring filmmaker and cameraman.
According to reports, Pakistani security forces detained Mehrab Khalid during a raid in Lahore on the night of 29 May 2026. Eight of his classmates were also taken into custody but were later released, while Mehrab remains forcibly disappeared and his whereabouts continue to be unknown.
PAANK expresses grave concern for Mehrab’s safety and well-being. The targeting of students, artists, filmmakers, and young professionals through enforced disappearances represents a serious violation of fundamental human rights and freedom of expression.
We demand the immediate and safe release of Mehrab Khalid, disclosure of his whereabouts, and full accountability for those responsible for his unlawful detention and enforced disappearance.
#ReleaseMehrabKhalid #EndEnforcedDisappearances
جبری گمشدگیوں کا شکار ہونے سے کوئی بھی محفوظ نہیں حتیٰ کہ ایک فوٹوگرافر یا فلم میکر بھی نہیں جو اپنےعلاقے کی خوبصورتی اور فطری مناظر کی فوٹوگرافی کرتا ہو۔۔۔