@RShahzaddk غربت ہے انکار نہیں ۔
لیکن اکثر غریب وہ ہیں جو ہمدردی بٹورنے کےلئے پبلک مقامات پر انتہائی مظلومیت کا ناٹک کرتے نظر آتے ہیں لائن لگ کر راشن لیتے ہیں رو رو کے ، قربانی کا گوشت لیتے ہیں دنگل کر کے اور پھر جا کے بیچ دیتے ہیں ۔ آپ کو بازاروں میں اکثریت نظر آئے گی ایسے غربا کی ۔
سر اس سسٹم نے قابل لوگ قبول ہی نہیں کیئے خاص طور پر 2014 سے ۔ ایسے جیسے عوام کو خالص غذا بدہضمی کر دیتی ہے ۔ سسٹم کے اپنے پرزوں (اولادوں ، اعتماد کے رشتہ داروں ) کے علاؤہ قابل ، سلجھے ہوئے ملک کے دوست لوگ نظر ہی نہیں آتے ۔
@miandawoodadv پرائیویٹ سکول سرکاری سکولوں سے کہیں بہتر نتائج دے رہے کم بجٹ میں ۔
ہشتم ہو یا نہم رجسٹریشن نئے سیشن کے شروع میں کرنا ہی عقلمندی ہے ۔ ویسے بھی تعلیمی سال صرف 120 دنوں پر آ چکا ہے ۔ بعد میں آنیوالے طلباء نکمے اور سلیبس سے محروم رہ جاتے ہیں تو شور مچ جاتا کہ پڑھائی نہیں ۔
@MumtazBhattiDin تین سال پہلے i10 میں دو کمروں کا مکمل پورشن بیس ہزار رینٹ پہ مل رہا تھا ، اور تنخواہ تھی پچاس ہزار ۔۔ دوسرے خرچے الگ سو چھوڑ دیا اسلام آباد کو ۔
سرمشرف صاحب نےآغاخان صاحب کوکہاہوٹل کوتوسیع دیں اُنھوں نےکہایہاں ادارےکام نہیں کرنےدیتےمشرف صاحب نےحامدجاویدکانمبردیاکہ کام کریں رکاوٹ آئےتوایک میسج ڈال دیں بس ہھر کام شروع ہواCDAپہنچ گیا اور میسج بھی چلاگیااسکےبعد جوتھرتھلی مچی جوکچھ ہواCDA کیساتھ تاریخ میں کبھی نہیں ہواتھا
اسکےبعد کبھی کسی نےاُدھررُخ نہیں کیااسی سرینامیں الغریرگیگاوالےپردیسی کو ہمارےسامنے مشرف صاحب نے کہاآپ کام کروباقی ذمہ داری نیری ہےکوئی تنگ نہیں کریگاسوگیگامال بن گیاتو یہ مسئلہ ٹاپ مین ہی اس ملک میں کسی طرف لگاسکتاہے
ابھی کچھ دن پہلےکی بات ہےاسلام آباد ہائیکورٹ کےایک جج نےایک بلڈرکمپنی کیخلاف نیب کی تحقیقات روکنےکاسٹے آرڈردیاوہ بلڈردواڑھائی سوارب اکٹھاکرچکالوگوں سےسٹے دینےوالا جج SECPمیں اسی بلڈرکمپنی کا ڈکلئیرلیگل ایڈوائزرہے
زمین اٹک میں ہےاتھارٹی ڈسٹرکٹ کونسل اٹک یا RDAہےنیب پنڈی تحقیقات کررہاتھا سٹے آرڈراسلام آباد ہائیکورٹ کاجج جاری کررہاہے conflict of interest بھی ہے کہ وکیل رہاجورسڈیکشن بھی نہیں بنتی جب لوگ لُٹ جائینگے پےسہ باہر نکل جائیگا پھراگلے بیس سال کیس عدالتوں میں لٹکےگا
اس ون والےمیں اعجازالاحسن انکاپہلےوکیل رہاتھا
اس ملک کیساتھ کیانہیں ہوتا پھربھی چلتارہتاہےیہی کمال ہے
سوال نمبر 9 :- اگر عدت کی مدت 90 دن پوری ہونے سے پہلے شوہر فوت ہو جائے تو کیا بیوی اپنے شوہر کی جائیداد میں وارث تصور ہوگی؟
جواب / سپریم کورٹ کا فیصلہ
سوات کے شاہ بخت راوان نے مورخہ 27 اگست کو اپنی بیوی مُسرت کو طلاقِ بدعت (اکٹھی تین طلاقیں) لکھ کر بھیج دی۔ ابھی تین ماہ کی عدت مکمل نہیں ہوئی تھی کہ 3 اکتوبر کو راوان صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے۔ انتقال کے بعد راون کی والدہ نے اسکے بچوں سمیت سول عدالت میں مقدمہ دائر کردیا کہ مرحوم کا ساری وراثت مسرت کو چھوڑ کر ہمارے نام کی جائے کیونکہ راوان نے اپنی زندگی میں ہی تین طلاقیں دیکر اسے اپنی زوجیت سے نکال دیا تھا لہذا اسکا کوئی حصہ وراثت میں نہ ہے۔
مسرت کو جب اس کیس کا پتہ چلا تو وہ بھی اس کیس میں اس موقف کے ساتھ فریق بن گئی کہ اگرچہ مجھے طلاق دیدی گئی تھی لیکن ابھی عدت مکمل نہیں ہوئی تھی تو میں بھی اسکی بیوہ ہوں لہذا مجھے بھی میرا شرعی حصہ دیا جائے۔ سول عدالت نے مسرت کے موقف کو رَد کردیا۔ مسرت نے اس حکم کیخلاف ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کی وہ خارج ہوگئی، اس فیصلے کیخلاف وہ پشاور ہائیکورٹ چلی گئی۔
ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ وراثت، مرنے والے کی وفات کے ساتھ کھلتی ہے۔ طلاق کو ابھی 90 دن مکمل نہیں ہوئے تھے جبکہ مسلم فیملی لا آرڈیننس 1961ء کی دفعہ 7 کے تحت طلاق کو موثر ہونے کیلئے 90 دن گزرنا ضروری ہیں۔ ہائیکورٹ نے مسرت کا مؤقف درست مانا اور حکم دیا کہ راوان کے ترکہ میں سے مسرت کو بطور بیوہ، شرعی حصہ دیا جائے۔
راوان کے دیگر ورثاء نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ سپریم کورٹ میں گذشتہ سال چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اس اپیل کو سنا اور جسٹس شکیل احمد نے فیصلہ تحریر کیا۔ سپریم کورٹ میں ان لوگوں نے موقف اپنایا کہ چونکہ طلاقیں تین تھیں، لہذا طلاق نامہ 27 اگست کو ہی مؤثر ہوگیا تھا اور عدت مکمل ہونے سے قبل راون کی موت سے صلح و رجوع کے امکانات بھی ختم ہوگئے، لہذا مسرت بی بی راوان کی بیوی نہ رہی اور یوں وراثت میں بھی حصہ دار نہ ہے۔
سپریم کورٹ کے سامنے تصفیہ طلب امر یہ تھا: "کیا طلاق بدعت (تین طلاقوں) کی عدت کے دوران اگر خاوند کی وفات ہوجائے تو بیوی/ بیوہ متوفی کے ترکہ میں حقدار ہے؟"
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اسلام میں نکاح ایک سول معاہدہ ہے، عیسائیت کی طرح فقط ایک روحانی رسم نہیں ہے۔ نکاح سے متعلق قرآنی آیات اشارہ کرتی ہیں کہ نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک ایسا رشتہ ہے جو آپس میں محبت، ہمدردی اور ساتھ دینے کیلئے ہے۔ طلاق کی تین اقسام ہیں، حسن، احسن اور بدعت (تین طلاقیں ایک ساتھ دینا)۔ طلاقِ بدعت کا تصور قرآن و حدیث میں نہیں ملتا اسے تو حضرت عمر رض نے اپنی خلافت میں طلاق کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے اسے تین طلاق تسلیم کیا تھا۔
عدالت نے طلاق کے حوالے سے قرآنی آیات نقل کرکے کہا کہ یہ آیات تقاضا کرتی ہیں کہ طلاق دینے کے بعد فریقین میں صلح و صفائی کروانے کا وقت اور موقع دیا جائے جبکہ طلاق بدعت (بیک وقت تین طلاق) واپسی کا راستہ ہی ختم کر دیتی ہے لہذا طلاق بدعت قرآنی منشاء کے خلاف ہے، اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔
فیصلے کے مطابق فقہ جعفریہ، شافعیہ اور مالکیہ طلاق بدعت کو بالکل تسلیم نہیں کرتیں، فقہ حنبلی بعض صورتوں میں اسے ایک طلاق شمار کرتی ہے۔ فقہاء کے اس اختلاف نے قانون سازوں کو وجہ دی کہ وہ اس پر ایک متفقہ قانون بنا دیں، چنانچہ فیملی لا آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت طلاق (ایک ہو یا زائد) 90 دن سے قبل مؤثر ہی نہیں ہوسکتی، اس تین ماہ کے عرصہ میں نکاح بالکل باقی رہے گا اور صلح صفائی کی کوشش کی جائے گی۔ یہی قرآن کا منشاء ہے لہذا یہ دفعہ قرآنی احکامات کے عین مطابق ہے۔
طلاق کے بعد عدت کا ایک اہم مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر فریقین صلح کرنا چاہیں تو کرسکیں جو طلاق بدعت کی صورت میں ممکن نہیں۔ سپریم کورٹ 'رحمت بی بی کیس 1988ء' میں بھی یہ قرار دے چکی ہے کہ دوران عدت شوہر کی وفات سے بیوی وراثت سے محروم نہیں ہوگی۔
لہذا اس کیس میں بھی شوہر (راوان) کی دی ہوئی تین طلاقیں، قرآنی احکامات اور مسلم فیملی لا آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت 90 دن کی مدت پوری نہ ہونے کی وجہ سے مؤثر نہیں ہوئیں، اس لیے خاتون مُسرت اب بھی قانونا بیوہ اور وراثت کی حقدار ہے۔ سپریم کورٹ نے راون کے دیگر ورثاء کی اپیل خارج کردی۔
#LegalAwareness #MianDawoodLawAssociates
#Inheritance #Dispute #Wife #Husband #Divorce #Marriage #Iddat
🚨🚨جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دو
گل جماس ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے ایران میں ایک نیوز چینل پر کام کرتا ہے اس کی بیگم ایرانی ہے پکا یوتھیا بھی ہے جمی ورک کے نام سے ایران سے اکاؤنٹ چلا رہا اور اس قدر نفرت اور زہر پاکستان کے خلاف فیلڈ مارشل کے خلاف شہباز شریف کے خلاف پھیلا رہا آپ سب ہر گروپ میں یہ ٹویٹ بھیجیں ایرانی سفیر ایرانی ایمبیسی کو ٹیگ کریں اسے کاپی پیسٹ کریں تاکہ یہ اپنے انجام کو پہنچے
صدقہ اور نیکی سمجھ کر پاکستان کے لیے یہ کام لازمی کریں
@najamwalikhan@mazhar_barlas خان کے پاس ملازموں کے دیئے ہوئے اور ادھر ادھر سے مانگے کے کپڑے ہوتے تھے یا پھر موریوں والے ۔ خان کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا ۔
ایران ، سعودی اور روس کا تیل گیس اب یوآن میں اس بلاک کا بھائی پاکستان اور سرپرست چین و روس بن گئے ۔
امریکہ ، سسراعیل ، بھارت ، افغانستان کے فیل شدہ سٹوڈینٹ ایک طرف یورپ ایک طرف ۔
دنیا خود بخود بلاکس میں بٹ گئی ہے اور سب غیر اعلانیہ راضی بھی ہیں ۔
آگے چل کر حالات جو بھی رخ اختیار کریں ۔ پاکستان ،ایران ، مشرق وسطی عرب ممالک اور خاص طور پر چین و روس سب کےلئے مشترکہ تجارت وہ بھی چینی کرنسی میں نارمل ہو گئی ہے ۔
پاکستان مشرق وسطی میں علانیہ پہنچ گیا ہے ۔
یورپ یا امریکہ سے تیل لے یا ہمت کرے ایشیائی گروپ میں شامل ہو ، وقت آئےگا
@AbuHanifa101972@goneneutral نہیں کرے گا ایسی حماقت اور نا ہی کرنے دی جائے گی ۔
یہ ہو سکتا ہے زچ ہو کے پاکستان کو زخمی کرنے کی کوشش کی جائے افغان سائیڈ سے ، تاکہ صیہونیوں اور ہندو جنونیوں کو نادان افغانی مل گئے ہیں ۔
@MumtazBhattiDin سر جی ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ ایران پر سٹرائیک کی کوئی ویڈیو جو جہازوں سے بنائی جاتی ابھی تک سامنے نہیں آئی جیسے تیس پینتیس سال پہلے عراق پر حملے کے وقت دھڑا دھڑ ویڈیوز میڈیا کو دی گئی تھیں ۔