ر و ا فض کی جانب سے اے آئی سے تیار شدہ جعلی تصاویر کے بعد جعلی ویڈیوز بھی منظر عام پر ہیں بعض احباب اصرار کر رہے ہیں تردید کریں تو تردیدی پوسٹ لگا رہا ہوں ورنہ اندھوں کو بھی علم ہے جعلی ویڈیو ہے میں نے اگر کوئی پیغام نشر کرنا ہو گا تو اپنے آفیشل اکاونٹ سے کروں گا یا یہودیوں کے گدھوں کے اکاؤنٹ سے
اڈیالہ جیل میں 8 ہزار قیدی ہیں جن میں سے کم ازکم سینکڑوں ایسے ہونگے جو بلڈ پریشر اور دل کے مریض ہیں اور وہ اپنا پرائیوٹ علاج کا خرچ بھی برداشت کرسکتے ہیں کیا ایسا ریلیف ان کے لیے ہوگا۔
سپریم کورٹ میں کل 17 جیل پٹشنیں سماعت کے لیے لگی تھیں، دو قیدی انصاف کی راہ تکتے جہان فانی سے کوچ کرگئے جبکہ 11 سزائیں ہوتی کرکے رہا ہوچکے، بانی پی ٹی آئی کے لیے جو ریلیف تراشا گیا ایسا ریلیف کبھی عام قیدیوں کو کیوں نہیں ملا؟
محترم سپریم کورٹ سے پوچھنا تھا کہ قیدی کو اسکی مرضی کے ہسپتال سے علاج کروانے کا آئینی حق صرف اشرافیہ کیلئے ہی ہے یا کبھی کسی غریب قیدی کو بھی آپ نے یہ حق دیا ہے؟
یہ بھی پوچھنا تھا کہ ایسی مدت کس قانون میں لکھی ہوئی ہے کہ فلاں تاریخ تک قیدی پرائیویٹ ہسپتال میں رہے گا، مطلب اگر کوئی قیدی 7 دن میں تندرست ہو جائے تو بھی قیدی کو پورا مہینہ ہی پرائیویٹ ہسپتال میں عیاشی کروانا کس آئین، قانون اور رولز میں لکھا ہوا ہے؟؟
مناسب ہوتا اگر عمران خان کے حق میں حکم جاری کرتے ہوئے آئین، قانون کی کسی شق کا حوالہ بھی دے دیتا۔
کیوں عدلیہ ہر مرتبہ عوام میں خود ہی اپنا اعتماد کم سے کم کرنے کے فیصلے صادر فرماتی ہے؟
بی بی سی اردو کی ادارتی ترجیحات کو محض ایک آدھ خبر کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مثالیں سامنے رکھیں تو سوال زیادہ سنگین ہو جاتا ہے۔
کبھی بی بی سی اردو پاکستانی قارئین کو “سوئنگنگ” سمجھا رہا ہے کہ جوڑے کس طرح اپنے جنسی پارٹنر تبدیل کرتے ہیں۔
کبھی ایک ایسی خاتون کی کہانی نمایاں کی جاتی ہے جس کے مطابق اس کا شوہر اسے اجنبی مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات پر آمادہ کرتا تھا اور وہ ایک “سوئنگنگ ویب سائٹ” کو اس صورتحال کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔
کبھی “کیم سیکس” کے عنوان سے جنسی لذت کے لیے آئس جیسی منشیات کے استعمال کی کہانی اردو قارئین کے سامنے آتی ہے۔
کبھی موضوع ہوتا ہے کہ “اچھی سیکس لائف کیسی ہوتی ہے” اور جنسی تعلق میں لطف اور کارکردگی کو کیسے سمجھا جائے۔
اور فروری 2026 میں بی بی سی اردو نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جنسی خواہش میں کمی کو ٹیسٹوسٹیرون سے واپس لایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
ایک لمحے کے لیے اسے ایک عام پاکستانی گھر کے نقطۂ نظر سے دیکھیں۔
ایک 15، 16 یا 18 سال کا نوجوان خبریں پڑھنے کے لیے ایک عالمی نیوز ادارے کا اردو پلیٹ فارم کھولتا ہے۔ وہاں اسے سیاست، تعلیم، معیشت اور سائنس کے ساتھ بار بار پارٹنر بدلنے، اجنبی لوگوں کے ساتھ جنسی تعلق، جنسی لذت، منشیات کے ساتھ سیکس اور جنسی کارکردگی جیسے موضوعات ملتے ہیں۔
پہلی مرتبہ وہ حیران ہوگا، دوسری مرتبہ تجسس پیدا ہوگا، مسلسل exposure کے بعد وہی چیز اس کے لیے اتنی غیرمعمولی نہیں رہے گی۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ بی بی سی کی خبر براہِ راست کسی نوجوان کو جرم یا بے راہ روی پر مجبور کرتی ہے۔
ایک " ؒخود ساختہ معتبر میڈیا ادارہ" جب ایسے طرزِ زندگی کو بار بار پاکستانی نوجوانوں کی سکرین تک پہنچاتا ہے تو کیا وہ ان موضوعات کی normalization میں کردار ادا نہیں کرتا؟
یہ خدشہ اس لیے بھی معمولی نہیں کہ پاکستان پہلے ہی بچوں اور نوجوانوں کے لیے آن لائن جنسی استحصال، ہراسانی اور نامناسب مواد تک رسائی جیسے خطرات سے نبرد آزما ہے۔ UNICEF نے بھی پاکستان میں بچوں کے آن لائن تحفظ اور online sexual exploitation کو ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دیا ہے اور نامناسب آن لائن مواد سے بچوں کو بچانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پھر پاکستان کوئی ثقافتی خلا بھی نہیں۔
یہ ایک اسلامی معاشرہ ہے جس میں نکاح، حیا، خاندان، مرد و عورت کے تعلق اور جنسی حدود کا اپنا واضح اخلاقی تصور موجود ہے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن کسی مغربی معاشرے میں رائج ہر جنسی تجربے کو اردو میں منتقل کرکے پاکستانی گھروں اور نوجوانوں کی سکرینوں تک پہنچانا “عالمی صحافت” کا لازمی تقاضا نہیں۔
صحت، جنسی بیماریوں، استحصال یا جرائم پر ذمہ دارانہ آگاہی یقیناً صحافت کا حصہ ہو سکتی ہے۔ لیکن پارٹنر بدلنے کے تجربات، جنسی لذت، اجنبی افراد کے ساتھ تعلقات اور ایسے طرزِ زندگی کو بار بار دلکش یا سنسنی خیز عنوانات کے ساتھ پیش کرنا ایک الگ ادارتی انتخاب ہے۔
یہاں سوال آزادیٔ صحافت کو دبانے کا نہیں بلکہ پاکستانی معاشرے کو یہ حق دینے کا ہے کہ وہ طے کرے اس کے بچوں اور نوجوانوں تک پہنچنے والے بین الاقوامی پلیٹ فارمز کی کم از کم ثقافتی اور اخلاقی ذمہ داریاں کیا ہوں گی۔
اب محض مذمت کافی نہیں۔
بی بی سی اردو کے اس ادارتی طرزِعمل کا باقاعدہ ریگولیٹری جائزہ ہونا چاہیے، اور جب تک وہ پاکستانی معاشرتی، مذہبی اور عمر کے لحاظ سے حساس حدود کا احترام یقینی نہیں بناتا، پاکستان میں اس کی رسائی پر پابندی ہونی چاہیے۔
مذہبی علماء، ماہرینِ تعلیم، والدین، صحافیوں، سول سوسائٹی اور حکومتی اداروں کو بھی یہ سوال اجتماعی طور پر اٹھانا چاہیے
کیا پاکستان صرف مغربی معاشرتی تجربات کے اردو ترجموں کی منڈی ہے، یا ہماری اپنی مذہبی اقدار، خاندانی نظام اور نئی نسل بھی کسی احترام کی مستحق ہے؟
ناروے کی فی کس آمدنی اور اُن کا وزیر خارجہ اپنا سامان اسلام آباد ائیر پورٹ پر خُود گھسیٹ رہا ہے
پاکستان کی فی کس آمدنی اور اسلام آباد کے کمشنر اور آئی جی کا کروفر ۔۔۔۔ آج کا ایڈیٹوریل 👇
مقبوضہ کشمیر کی بہن کا پاکستان سے محبت کا اظہار
🇵🇰❤️
ایک انڈین نے مقبوضہ کشمیر سے ایک مسلمان بہن سے پوچھا کہ آپ کس طرف ہیں تو جواب ملا کہ:جس طرح تمہارے دل میں انڈیا ہے، اسی طرح پاکستان ہمارے دلوں میں ہے، پاکستان والے ہمارے بھائی ہیں 🇵🇰❤️"
ہم ایک آزاد ملک میں پیدا ہوئے، مگر یہ آزادی ہمیں تحفے میں نہیں ملی۔ ہمارے بزرگوں نے اس کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ یومِ آزادی کی خوشیوں میں اللہ کے بعد اُن کا شکر ادا کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔
ساتھ یہ بھی سوچیں: کیا ہم اُن کی قربانیوں کا حق ادا کر رہے ہیں؟ 🇵🇰
پاکستان کی پلاننگ ایسی کہ دنیا کو چکرا دیا
کچھ افریقی لوگوں نے مل کے اپنے انداز میں پاکستان کی پلاننگ کو پیش کیا
اپ بھی ضرور دیکھیں اور اگے ضرور شیئر کریں
سلام ہے سعودی عرب اور ترکیہ کو
جنہوں نے پاکستان کے لیے
بھارت سے ہمیشہ کے لیے مخالفت پیدا کر لی۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ
وہ دنیا کی چھٹی بڑی معیشت اور دنیا میں تیل کا تیسرا بڑا خریدار ہے۔
پھر بھی یہ دفاعی معاہدہ کیا۔
پاکستان کا دشمن بھارت ہے اور یہ دشمنی ہمیشہ رہے گی۔
اور
ان کی جنگ کبھی بھی دوبارہ ہو سکتی ہے۔ اور
اس میں ان کو پاکستان کے ساتھ ملکر بھارت سے لڑنا ہو گا۔
سعودی عرب اور ترکیہ کی تو ڈائریکٹ کسی سے روایتی دشمنی نہیں۔ایران کے ساتھ سعودی عرب کے حالیہ مسائل امریکی اڈوں کی وجہ سے ہیں
اور اسرائیل سے تھوڑا سا خطرہ رہتا ہے مگر
پاکستان/بھارت تو روایتی حریف ہیں۔ یہ جانتے ہوئے اور اپنے معاشی مفادات کو پس پشت ڈال کر
ترکیہ اور سعودی عرب کا حالیہ دفاعی معاہدہ"میثاق مکہ"
(ایک پر حملہ دوسروں پر حملہ تصور ہو گا)
ایک ایسا غیر معمولی اور قابل تحسین فیصلہ ہے
جس کا کسی کو کبھی گمان تک نا تھا۔
(اسد آر چوہدری)
بھٹو کے زندہ ہونے کے فضائل-
سندھ کے ضلع عمرکوٹ کے سول اسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سائیکل کے پمپ سے مریض کو آکسیجن دی جارہی ہے-
یہ بیوقوف لوگ ووٹ پھر بھی بھٹو کے نام کا چورن بیچنے والے ڈاکوؤں کو ہی دینگے اور نجانے یہ چورن کب تک بکتا رہیگا-
کوئی تنخواہ کیلئے پتھریلے پہاڑوں پر گھر والوں سے دور اپنی جان داؤ پر لگانے نہیں جاسکتا ۔ یہ صرف وطن سے محبت ہے یہ وطن کی حفاظت کا وہ جزبہ ہے جو ہر فوجی کے دل میں اس کی رگوں میں خون کی طرح گردش کرتا ہے ۔ ہم صرف اللہ کی راہ میں اپنے وطن کی حفاظت کیلئے جیتے اور مرتے ہیں ۔
کرسی سے منہ کے بل گرنے کی دیر تھی وہ پی پی جس نے بطور حکومت ایکشن کمیٹی کو کلعدم کیا تھا وہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ کھڑی ہو گئی وہی مکتی بانی پارٹ 2 نانا نے بنگلہ دیش توڑا تھا نواسے کی کوشش ہے مودی کو کشمیر پلیٹ میں رکھ کر دینے کی۔۔
کرسی کا بھوکا کتا خاندان