A short paper of biography on Mubarik Qazi is published by BSAC. The paper includes Qazi’s life, poetry and his historical role in Baloch history.
You can access the pdf below
https://t.co/HKsW7E6JpP
A documentary video featuring the Baluchistan’s Education Crisis by the Baloch Literacy Campaign.
Note: The video is also available on BSAC’s YouTube channel.
Baloch Students Action Committee
یہ معصوم بچی #بلوچستان کی اُن ہزاروں بچیوں میں سے ایک ہیں جن کی عمر اسکول جانے کی ھے کھیلنے کودنے کی ھے مگر احتجاجی کیمپوں اور سڑکوں پراحتجاج کرتے بڑے ہو رھے ھیں خُدارا ان معصوم بچوں پر رحم کھاؤ
#EndEnforcedDisappearances#Balochistan
ایک بہن کیلئے اس سے بڑھ کر تکلیف کیا ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے سالگرہ منانے کے بجائے ہر سال انکے جبری گمشدگی کے دن ازیت کے ساتھ گزارے،
اس دن ایک احتجاج اور ہاتھ میں ایک پلے کارڈ جس میں ایک سال کے درد اور کرب کا اضافہ تو ہو جاتا ہے مگر اس کے بھائی لوٹ کر نہیں آتے!
زندگی کرنا بھی مشکل ہے اور زندہ رہنا بھی مشکل ہے زندگی کرنے میں زندہ رہنا پڑتا ہے لیکن ہم زندہ ہوتے ہوئے بھی زندہ نہیں ہیں
#ReleaseZubairBaloch#SaveBalochStudents
Baloch students are already facing multiple problems in continuing their studies, and subjecting them to enforced disappearance further worsen their condition, by imposing -ve psychological impacts.
#ReleaseZubairBaloch#SaveBalochStudents
سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام کے تمام مسائل جلد از جلد حل کیے جائیں اور بلوچستان کے طلبہ پر عائد کیے گئے ناجائز کیپیٹیشن چارجز ختم کیے جائیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچستان میں اعلیٰ تعلیمی سہولیات کے فقدان کے باعث زیادہ تر طلبہ بہتر تعلیم کے حصول کی غرض سے دیگر صوبوں (جن میں اسلام آباد، پنجاب اور سندھ شامل ہیں) کا رخ کرتے ہیں، تاکہ وہاں معیاری تعلیم اور بہتر سہولیات حاصل کر سکیں۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ بلوچستان میں جامعات کی کمی اور بہتر تعلیمی نظام کے فقدان کی وجہ سے دیگر صوبے بلوچستان کے طلبہ کے ساتھ رعایت اور سہولت دینے کے بجائے انتہائی غیر منصفانہ سلوک کر رہے ہیں۔ یہ بلوچستان کے طلبہ کے ساتھ صریحاً ناانصافی ہے، جس پر ہم شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام کی انتظامیہ کی جانب سے بلوچستان کے طلبہ سے کیپیٹیشن چارجز (فی فرد فیس) کے نام پر اضافی فیس وصول کرنا اور ہاسٹل سمیت دیگر فیسوں میں اضافہ کرنا طلبہ پر ظلم کے مترادف ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ جہاں ایک جانب طلبہ سے ہر سال ہزاروں روپے اضافی فیس وصول کرتی ہے، وہیں دوسری جانب طلبہ کو ان کے بنیادی حقوق فراہم نہیں کیے جاتے۔ ان میں ہاسٹل کی سہولیات کا فقدان بھی شامل ہے۔ طلبہ کے لیے ہاسٹلز میں نہ پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی صاف ستھرے کمرے میسر ہیں، جبکہ ہاسٹل میس کی صورتِ حال بھی ناگفتہ بہ ہے۔ مزید برآں، گرلز ہاسٹل میں پانی کی قلت سمیت بنیادی ضروریات کے لیے کوئی کیفے یا کینٹین تک موجود نہیں ہے۔ یہ تمام باتیں انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جن کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انتظامیہ ایک طرف تو چھوٹے چھوٹے معاملات پر طلبہ کو شوکاز نوٹس کے نام پر ہراساں کرتی ہے، تو دوسری طرف تعلیمی سہولت کے لیے قائم سینٹرل لائبریری، جو ایک طویل عرصے سے
غیر فعال ہے، کو فعال کرنے میں ناکام ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے یہ تمام اقدامات طلبہ دشمن پالیسی کے زمرے میں آتے ہیں، جو بظاہر قصداً اختیار کی جا رہی ہے تاکہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے معیاری تعلیم کی تلاش میں آنے والے طلبہ کو ہراساں کر کے تعلیم سے محروم کیا جائے۔ ہم بحیثیتِ طلبہ تنظیم اس صورتِ حال کی نہ صرف شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، بلکہ حکومتِ وقت اور تعلیمی حکام سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان طلبہ دشمن پالیسیوں کا فوری طور پر سدِباب کریں۔ ہم یونیورسٹی انتظامیہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ان پالیسیوں پر نظرِثانی کرے، وگرنہ ہم ان ناانصافیوں کے خلاف طلبہ کی آواز بن کر بھرپور احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ بلوچستان کے طلبہ خود کو کہیں بھی تنہا نہ سمجھیں، بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی بلوچستان کے طلبہ، خواہ وہ جہاں بھی زیرِ تعلیم ہوں، اُن کے ساتھ ہر وقت کھڑی رہے گی اور کسی بھی ناانصافی کے خلاف اُن کی بھرپور ساتھ دے گی۔
مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
آصف اور رشید کی جبری گمشدگی کو 31 اگست کو 8 سال مکمل ہونگے، آئیں اس ماں کی آواز بنیں، رشید اور آصف کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائیں۔
#ReleaseAsifAndRasheed
According to reports, nine Baloch youths from the Wadh, Sarona, and Shah Noorani areas of Khuzdar district were allegedly taken into custody by a local “Aman Force” and subsequently forcibly disappeared. Their families have called for their immediate recovery and safe return.
رات کے وہ پہر، جب سب ایک اور صبح کے انتظار میں خود سے بے خبر سو رہے ہوتے ہیں عین اسی وقت وہ خوفناک سائے آتے ہیں اور بلوچ ماؤں کے بچوں کو انکی آنکھوں کے سامنے بے دردی سے گھسیٹتے ہوئے لے جاتے ہیں
#EndEnforcedDisappearances