یہ ہے اس واقعے کی مکمل اور حقائق پر مبنی ویڈیو ۔ ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ پاک فوج کے افسر، لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار اپنی وائف ڈاکٹر آئینہ کے ہمراہ اس شخص کی طرف بڑھتے ہیں جس نے ان کی اہلیہ سے دست درازی کی تھی ۔ وہ وہاں قانون کو ہاتھ میں لینے نہیں، بلکہ محض بات کرنے گئے تھے، لیکن آگے سے اس شخص نے بدتمیزی کا مظاہرہ کیا۔ اس اشتعال انگیز رویے پر، ایک غیرت مند شوہر کے فطری جذبات کے تحت، انہوں نے اپنی اسٹک سے اسے دو بار ہٹ کیا۔
دنیا کا کوئی بھی خوددار اور غیرت مند مرد اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی بیوی کی تذلیل برداشت نہیں کر سکتا، اور کرنل اسفند یار نے بھی وہی کیا جو ایک سچے مرد کا شیوہ ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ وہ اس وقت آن ڈیوٹی تھے اور وردی میں ملبوس تھے۔ وہ وہاں کسی جنگ یا معرکے کے لیے نہیں نکلے تھے، ورنہ ایک فوجی افسر کے لیے اپنے ساتھ مسلح جوانوں کی نفری لے جانا چند منٹوں کا کام تھا اور جہاں تک پولیس کا تعلق ہے، وہ عام طور پر یونیورسٹیوں کے اندرونی معاملات سے دور ہی رہتی ہے۔ ویڈیو کے اگلے مناظر میں واضح ہے کہ جیسے ہی کرنل اسفند یار نے اس شخص کو اسٹک سے ہٹ کیا، ان کی سمجھدار بیوی نے فوراً ان کا ہاتھ روکا اور بیچ بچاؤ کرا کر انہیں وہاں سے واپس لے جانے لگیں۔
اصل معاملہ اس وقت کھڑا ہوا جب وہ پرامن طریقے سے واپس لوٹ رہے تھے۔ ہجوم میں سے ایک شخص نے آگے بڑھ کر سوال کیا کہ "کیوں مارا؟" کرنل اسفند یار نے انتہائی ضبط کے ساتھ اسے حقیقت بتانے کی کوشش کی کہ اس شخص نے ان کی بیوی سے دست درازی کی ہے۔ مگر وہ گروہ کچھ بھی سننے اور سمجھنے کے لیے تیار نہ تھا۔ اسی اثنا میں پیچھے سے ایک نے افسر کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا، اور ساتھ ہی ڈاکٹر آئینہ کو زبردستی پکڑنے کی کوشش کی جانے لگی۔
ویڈیو کا یہ حصہ دل دہلا دینے والا ہے، جہاں ایک تنہا شوہر درجنوں کے ہجوم کے سامنے اپنی بیوی کے لیے فولادی ڈھال بن جاتا ہے۔ اس چھینا جھپٹی اور دھکم پیل میں ڈاکٹر آئینہ زمین پر گر جاتی ہیں، اور ہجوم دانستہ پاک فوج کی مقدس وردی کو تار تار کرتا ہے۔ یہ ہجوم اس افسر کی جان لینے کی تاک میں تھا اور حالات قابو سے باہر ہو چکے تھے۔ اس نازک ترین موڑ پر، کرنل اسفند یار نے اپنی پیشہ ورانہ فوجی تربیت کو بروئے کار لاتے ہوئے کمالِ دلیری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنی پستول نکالی اور طلبہ کو پیچھے دھکیلنے اور اپنی جان کے تحفظ کے لیے ہوائی فائر کیے۔
اگر اس پورے معاملے کا منصفانہ جائزہ لیا جائے، تو افسر کا واحد "جرم" یہ تھا کہ وہ اس وقت وردی میں ملبوس تھے اور حالات کی سنگینی کے باعث انہیں لباس تبدیل کرنے کا وقت نہیں ملا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کوئی قانون شکنی یا خطا نہیں کی۔ ان کا کورٹ مارشل یا کوئی بھی تادیبی کارروائی اس لیے نہیں بنتی کیونکہ وہ طاقت کا ناجائز استعمال کرنے یا لڑائی جھگڑا کرنے نہیں گئے تھے؛ ہاں، اگر وہ اپنے ساتھ سرکاری جوان لے جاتے اور اپنی فوجی طاقت کا رعب جماتے، تو یقیناً وہ قصوروار ٹھہرتے۔
یہ منطق سراسر خلافِ عقل اور مضحکہ خیز ہے کہ اگر پاک فوج کا کوئی جوان ڈیوٹی پر ہو اور اس کی بیوی کی عزت خطرے میں پڑ جائے، تو وہ پہلے جی ایچ کیو سے چھٹی کی درخواست کرے، پھر گھر جا کر وردی اتارے اور پھر اپنی بیوی کی حفاظت کے لیے نکلے۔ دنیا کا کوئی بھی ذی شعور انسان ایسے وقت میں سیکنڈوں کی تاخیر بھی برداشت نہیں کرتا۔ کرنل اسفند یار نے وہی کیا جو تاریخ کے ہر دور میں ایک غیرت مند انسان کرتا آیا ہے، اور ہمیں پاک فوج کے ان غیور بیٹوں سے یہی توقع ہے کہ جہاں وہ سرحدوں پر وطنِ عزیز کا دفاع کرتے ہیں، وہیں اپنی فیملی اور چادر و چار دیواری کی حرمت پر بھی آنچ نہیں آنے دیتے۔
فوج کی مقبولیت کا جنازہ تو پہلے ہی نکل چکا ہے، مگر اس قسم کا رویہ انہیں گلیوں میں چلنے کے قابل بھی نہیں چھوڑے گا۔ سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں دیکھے جانے والے مناظر اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب وردی عزت نہیں بلکہ ذلت کا نشان بن چکی۔ ہم لوگ جو اسے اپنا فخر سمجھ کر پہنتے تھے، اور عوام کا پیار پاتے تھے، جو اب نفرت میں بدل چکا ہے، اس المیے کا قصوروار پاکستانی افواج کی موجودہ کمانڈ اور ان کی خود غرض اور لالچی پالیسیوں کو ٹھہراتے ہیں۔
میں نے مارچ 2023 کے دوسرے ہفتے زمان پارک میں زبردست آپریشن کے دوران عمران خان صاحب سے پوچھا تھا کہ آپ نے لوگوں کو حقیقی آزادی کا نعرہ تو دے دیا ہے اسکا بوجھ اٹھا پائیں گے تو مجھے انکے الفاظ آج بھی یاد ہیں " ہمارے پاس اب اور کوئی راستہ نہیں۔ پاکستان اسکے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا"۔
پھر عمران خان نے وہ بوجھ جوانوں سے بڑھ کر اٹھایا۔
آج جوانوں کی باری ہے۔
"سب عمران خان کے لیے دعا کرو۔ اللہ نے ہمیں ایک درویش لیڈر دیا ہے، میرا ان کے ساتھ بہت قرب ہے۔ اتنا دین کے قریب آدمی میں نے آج تک نہیں دیکھا۔"— مولانا طارق جمیل @TariqJamilOFCL#ImranKhan#PTI#Pakistan
باجوڑ عوامی دھرنے میں نعرے سنیں اور ایک نظر انکی ترجیحات پر ڈالیں پھر بلوچستان میں جو ہو رہا اسکی طرف دھیان دیں
اور سارا زور عمران خان کو فکس کرنے پر ہے
جن لوگوں کو طاقت و اقتدار کے نشے کی لت لگ جائے وہ بہت بڑی تباہی لاتی ہے یہ والا نشہ ہیروئن کوکین افیون سے بھی برا ہوتا ہے
عوام کے دل کی دھڑکن عمران خان کے شفا ہسپتال جانے والے خالی قافلے پر رات بھر پھولوں کی پتیاں نچھاور ہوتی رہیں ، بوڑھے جوان مرد خواتین اور بچے ساری رات سڑکوں کنارے پلوں اور گھروں میں جاگتے رہے ۔ دوسری طرف فارم سنتالیس کے میاں نواز شریف مری مال روڈ اور اندرون شہر لاہور حفاظتی دستے کیساتھ بلٹ پروف گاڑی میں سے لوگوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے ہیں مگر عوام کی آنکھوں میں بیزاری اور غصہ۔ ایک طرف قائد عمران خان سے محبت کا عالم، دوسری طرف میاں نواز شریف اور انکی فیملی سے نفرت کی انتہا۔
I swear you can't miss reading this piece if you really want to know about Pakistan. An independence day master piece:
"How Pakistan’s defenders came to dominate the republic they were created to defend — and what that has cost the country."
"Pakistan came into being on 14 August 1947 as the Dominion of Pakistan. The constitutional title 'Islamic Republic of Pakistan' arrived later, under the 1956 Constitution."
"The road to the first coup was partly civilian — but the coup changed the state
It is convenient to tell Pakistan's history as a morality play in which generals suddenly hijacked an otherwise healthy democracy. It is also wrong. By 1958, parliamentary government had already been damaged by civilian governors-general, senior bureaucrats and judicial reasoning that made extra-constitutional action easier to defend."
Just take some time out and read this⬇️
From Democratic Promise to Security State https://t.co/IPZAUZHawa
یہاں پاکستان میں طاقتور قانون کے نیچے نہیں آنا چاہتا ہے دمکھیاں دیتے ہے لیکن آپ کے سامنے جو بندہ کھڑا ہے جس کا نام عمران خان ہے جب تک میں زندہ ہو کسی کو این آر او نہیں دوں گا ۔ عمران احمد خان نیازی
#ڈٹ_جاو_حسین_کے_انکار_کیطرح
https://t.co/HxA2bLMJOY
ُمبارک ہو! عمران خان شفاء ھسپتال پہنچ گئے! نواز شریف ناکام ! فوج اور سپریم کورٹ کی طرف سے شریف خاندان کو شٹ اپ کال؟ مگر اب آگے کیا ہو گا!