آج کی رات بڑی بھاری ہے دوستو!!
ہم وہ استاد ہیں جنہوں نے کبھی "اسٹوڈنس" نہیں کہا، "بچے" کہا ہمیشہ۔ اپنے بچوں کے سامنے عزت نفس مجروح کر دی ہماری۔
#RemoveEducationMinisterPunjab
پنکھے / ٹوٹیاں چور اساتذہ
کالج اور سکول کیڈر میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنی بھی ریکروٹمنٹ ہوئی ہے کوئی ایک بھی ایسا ٹیچر نہیں ہو سکتا جو کسی چور دروازے سے آیا ہو۔۔۔ایک بھی ایڈہاک ٹیچر نہیں آیا ۔۔۔۔
فارم 47 کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔
سکول کے ٹیچرز بھی 2013 کے بعد سے نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے ٹیسٹ پاس کر کے انٹرویو اور باقاعدہ میرٹ اور اکیڈمک کی بنیاد اور کالج والے پنجاب سروس پبلک کمیشن کے ٹیسٹ انٹرویو دے کر آتے ہیں۔
ایک ایک سبجیکٹ میں ہزاروں ایپلیکیشنز۔۔۔۔ باقاعدہ تحریری امتحان۔۔۔۔بلکہ 2005 تک تو سبجیکٹو پیپر دے کر لوگوں نے انٹرویو کے لیے اپنی اہلیت ثابت کی۔۔۔۔
اس کے بعد شاید پیپر کا موڈ آبجیکٹو ہوا۔۔۔ ۔
ایک طویل انٹرویو۔۔۔۔تعلیمی استعداد کی بنیاد پر میرٹ کیلکولیشن۔۔۔۔ پوائنٹس میں بننے والا میرٹ۔۔۔اور اس کے بعد کہیں جا کے سلیکشن فائنل ہوتی ہے۔۔۔۔
اور پھر پوسٹنگ کا مرحلہ۔۔۔۔۔۔ گھروں سے بیسیوں میل دور۔۔۔روزانہ کی بنیاد پر سفری صعوبتیں برداشت کر کے۔۔۔ اساتذہ کرام اپنے اداروں میں پڑھانے کے لیے جاتے ہیں۔۔۔۔ ایک فخر ہوتا ہے۔۔۔
ہم استاد ہیں۔۔۔۔۔۔۔
بچے پیار سے ملتے ہیں والدین عزت سے پیش آتے ہیں۔۔۔
کوئی پرانا طالب علم شاگرد راہ چلتے مل جاتا ہے۔۔۔۔انتہائی تعظیم سے ملتے ہیں۔۔۔۔۔ افتخار محسوس ہوتا ہے
ہم اساتذہ ہیں۔۔۔ ہم خاتم الانبیاء سرور کونین احمد مجتبیٰ ۔۔۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت۔۔۔۔ پہ عمل پیرا ہیں
میرے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ مجھے معلم بنا کے بھیجا گیا۔۔۔۔
استاد ہونا افتخار کی بات ہے۔۔۔۔
محدود وسائل کے ساتھ۔۔۔۔ میں نے اپنے ساتھی اساتذہ کرام کو سخت موسم میں۔۔۔۔ سردی گرمی کی پرواہ کیے بغیر۔۔۔ اپنا کام کرتے دیکھا ہے۔۔۔۔۔
اتنے سخت کرائٹیریا سے سلیکشن کے بعد کوئی پنکھے نہیں چراتا کوئی ٹوٹیاں نہیں چراتا۔۔۔۔۔
ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنے چوائس سے ٹیچر بنے۔۔۔
سینکڑوں ایسے لوگ ملے ٹیچنگ جن کا عشق تھا۔۔۔۔۔۔
مجھے اس بات پہ حیرت ہوتی ہے کہ لوگ الفاظ کے انتخاب میں۔۔۔۔احتیاط کیوں نہیں برتتے۔۔۔۔
یہ ہماری سوچ اتنی غیر ذمہ دارانہ کیسے ہو گئی ہے؟؟؟
میاں عمران مسعود صاحب سے لے کر۔۔۔۔۔ ہمایوں یاسر سرفراز صاحب تک۔۔۔۔ کالج اساتذہ ایسوسی ایشن کا حصہ ہونے کی بدولت۔۔۔ اکثر وزراء صاحبان سے براہ راست ملاقات ہوئی۔۔۔۔۔ گفتگو ہوئی۔۔۔۔ آج تک کسی کو اتنا ہلکا بولتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔
جتنا موجودہ منسٹر جناب رانا سکندر حیات صاحب بولتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
لفظ انسان کا شناختی کارڈ ہوتے ہیں۔۔۔۔
لفظ خون کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نہیں مانتا کاغذ پہ لکھا شجرہء نسب
بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قبلہ منسٹر صاحب۔۔۔۔۔ اساتذہ پنکھے لگواتے ہیں۔۔۔۔ چوریاں نہیں کرتے۔۔۔۔ جتنے محدود وسائل کے ساتھ سرکاری کالجز اور سکولوں میں اساتذہ پڑھا رہے ہیں آپ کی سوچ ہے۔۔۔اپنی زندگی لگا کر اگر اس ملک کے معمار کو ایسے القابات سے نوازا جائے تو مر جانا بہتر ہے،کہیں سنا کہ کوئی اپنے باپ؟ روحانی باپ کو ایسے القابات دے؟
میں ان سب لوگوں سے کہنا چاہتی ہوں جنہوں نے اپنے اساتذہ کرام سے خیر سمیٹی۔ جنہوں نے آپ کے ذہنوں کی آبیاری کی، آپ کو وہ بنایا جو آج آپ ہیں۔ اس ملک کے استاد کی عزت سرِ عام نیلام کی گئی ہے، وہ بھی ایک ایسے شخص کی جانب سے جس کی اپنی قابلیت سوالیہ نشان ہے۔ آپ سب پر آپ کے اساتذہ کرام کا قرض ہے۔ اپنے الفاظ سے انکا ساتھ دیں۔ یہ سب لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو ہیں۔ وہ سب ننھے ننھے ہاتھ یاد آتے جن کو ہاتھ پکڑ کر لکھنا سکھایا۔ محبت سکھائی۔ خیر بانٹنا سکھایا۔ اس قوم نے اگر آج استاد کو تنہا چھوڑا تو شاید علم اور شعور ہمیشہ کے لیے روٹھ جائیں اس قوم سے!!
#RemoveEducationMinisterPunjab