ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو نوبل پیس پرائز کے لیے دوسری مرتبہ ��امزد ہونا تحریک کی بین القوامی سطح پر پزیرائی کی ایک مثال ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
بلوچ یکجہتی کمیٹی اس بات کی تصدی کرتی ہے کہ تنظیم کی مرکزی رہنما ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو دوسری مرتبہ نوبل امن انعام (Nobel Peace Prize) کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ نامزدگی جنو��ی 2026 میں عمل میں آئی تھی، تاہم تنظیمی پالیسی کے تحت اسے اس وقت منظرِ عام پر نہیں لایا گیا۔
آج اس حقیقت کو سامنے لانا اس لیے ضروری ہے کہ جس شخصیت کو پاکستانی ریاست نے دہشت گردی کے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں سزا دینے کی کوشش کی ہے، اسی شخصیت کو عالمی سطح پر امن، انصاف اور انسانی حقوق کی جدوجہد کی علامت کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی دوسری مرتبہ نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ تنظیم کی جدوجہد مکمل طور پر پرامن، جمہوری اور انسانی حقوق کے اصولوں پر مبنی ہے، جبکہ ریاست کی جانب سے تنظیم کے رہنماؤں کے خلاف اختیار کیے گئے اقدامات سیاسی انتقام اور جبر کی عکاسی کرتے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما اس وقت من گھڑت ایف آئی آرز، بے بنیاد الزامات اور فیس لیس ٹرائل جیسے غیر شفاف عدالتی عمل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان تمام کارروائیوں کا مقصد بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور فوجی آپریشنوں کے خلاف اٹھنے والی پرامن آوازوں کو خاموش کرنا ہے۔
ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور تنظیم کے دیگر رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور فوجی کارروائیوں میں مزید شدت دیکھی جا رہی ہے، جس کے اثرات بلوچ عوام روزانہ اپنی زندگیوں میں محسوس کر رہے ہیں۔
ہم عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور جمہوری قوتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں جاری اس سنگین صورتحال کے خلاف مؤثر آواز بلند کریں او�� ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام رہنماؤں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں۔
For the second time, Dr. Mahrang Baloch has been nominated for the Nobel Peace Prize, a recognition that carries profound significance. As the Pakistani state pursues her through politically driven prosecutions and imposes a life imprisonment sentence, the international community continues to acknowledge her peaceful commitment to human rights and justice.
This nomination reflects more than the courage of one individual. It demonstrates that the world is paying close attention to the voices demanding accountability for enforced disappearances, extrajudicial killings, and the wider human rights crisis in Balochistan. Efforts to suppress these voices have failed to erase their legitimacy.
The contradiction is unmistakable. A state seeks to imprison a peaceful human rights defender, while respected international institutions recognize the value of her work. Such recognition exposes the weakness of attempts to portray peaceful advocacy as a crime.
Baloch Voice for Justice believes this nomination should encourage stronger international engagement with the human rights situation in Balochistan. Symbolic recognition must be accompanied by concrete action to protect human rights defenders, secure the release of those imprisoned for their peaceful activism, and end the cycle of impunity.
#NobelPeacePrizeForMahrang
https://t.co/XXJbQaTnEV
ہم لڑیں گے!
جب ایک مظلوم قوم کی آواز کو دبایا جائے، جب ماؤں کی گود سے ان کے بیٹے اور بیٹیاں زبردستی چھین لیے جائیں، جب ایک قوم کے رہنماؤں کو شہید کیا جائے یا قید و بند میں ڈالا جائے، جب طلبہ، طالبات اور دانشوروں کو جبری طور پر اغوا کیا جائے؛ ہم لڑیں گے!
ہم لڑیں گے!
جب ہماری ماؤں اور بہنوں کو سڑکوں پر روندھا جائے، جب ہماری شناخت مٹانے کی کوشش کی جائے، جب ہمارے گھروں کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جائے، جب ہماری عزت اور وقار کو مجروح کیا جائے، جب ہماری اجتماعی یادداشت ہم سے چھیننے کی کوشش کی جائے؛ ہم لڑیں گے!
ہم لڑیں گے!
ہر اس بچے کے لیے لڑیں گے جس نے آج تک اپنے باپ کا سایہ نہیں دیکھا، جسے بھائی کی محبت نصیب نہیں ہوئی، جس نے اپنی بہنوں اور بھائیوں کو جیلوں اور اذیت گاہوں میں تکلیفیں سہتے دیکھا، جس کی پوری زندگی خوف اور درد میں گزار دی گئی؛ ہم لڑیں گے!
ہم لڑیں گے!
ایسے نظام کے خلاف جہاں قانون اور آئین طاقتوروں کے مفاد کے لیے استعمال ہوں، جہاں قانون مظلوم کے بجائے ظالم کا ساتھ دے، جہاں انصاف صرف کمزور کو دبانے کا ذریعہ بن جائے، جہاں حق مانگنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جائے؛ ہم لڑیں گے!
ہم لڑیں گے!
ہم اس دن تک لڑیں گے جب کسی کا پیارا جبری طور پر لاپتہ نہ ہو، جب کسی کا باپ، بھائی، بہن یا بیٹا اس سے نہ چھینا جائے، جب انصاف سب کے لیے برابر ہو، جب قانون اور آئین مظلوم کو تحفظ دیں، جب ظالم کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ہم لڑیں گے اور آخری دم تک لڑتے رہیں گے۔
For the past 8 days, my sister Dr. Mahrang Baloch and other BYC leaders have been holding a sit-in inside jail against unfair faceless trials and demanding fair and transparent proceedings.
Today, the families of detained BYC leaders staged a sit-in outside Hudda Jail against this injustice and faceless trials. Our demands are clear: end faceless trials, convert proceedings into open court hearings, and replace the biased judge. We will continue our struggle until this oppression ends.
We request people from all walks of life to join this sit-in and be the voice of those who once were your voice.
#EndUnfairTrailOfBYCLeaders
Bsac Quatta zone
Shortlist Candidates are requested to contact the following number for further information or if they need any assistance with forum submission,
For more than fourteen months Dr. Mahrang Baloch and other leaders of the Baloch Yakjehti Committee have remained behind bars. Their only crime was that they chose to become the voice of the voiceless and to demand justice for their people.
#EndUnfairTrialOfBYCleaders
مہرنگ بلوچ ان بے آواز ماؤں کی آواز تھی جن کے بچوں کو ریاست نے سالوں سے لاپتہ کر رکھا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کر کے قانونی طریقے سے سزا دی جائے انہیں غیر قانونی طریقے سے لاپتہ کر کے ظلم نہ کیا جائے۔
#EndUnfairTrialOFBYCLeaders
آج ہم نے ینگ لائرز ایسوسی ایٹس کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر رہنماؤں کے فیس لیس اور ورچول ٹرائل کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس غیر معمولی اور متنازعہ طریقہ کار، یعنی “فیس لیس اور اسپیڈی ٹرائل” کے قانونی، آئینی اور عدالتی اثرات پر بھی گفتگو ہوئی جس میں شرکاء نے اپنی آراء اور قانونی نکات پیش کیے۔
اجلاس میں شریک وکلاء نے بھرپور شرکت کی اور اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان کا عدالتی نظام پہلے ہی انصاف کی فراہمی، شفاف ٹرائل اور بنیادی قانونی اصولوں کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق فیس لیس اور ورچول ٹرائل کا موجودہ طریقہ کار آئین، قانون اور منصفانہ عدالتی عمل کے بنیادی تقاضوں سے متصادم ہے جو عوام کے عدالتی نظام پر اعتماد کو مزید زیادہ متاثر کر سکتا ہے۔
وکلاء نے نہ صرف ایسے اقدامات کی مذمت کی بلکہ اس کے خلاف قانونی اور آئینی جدوجہد جاری رکھن�� کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ ان کا موقف تھا کہ یہ معاملہ صرف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے رہنماؤں تک محدود نہیں بلکہ اگر ایسے طریقہ کار کو جنرلائز کیا گیا تو اس کے اثرات مستقبل میں ہر شہری کے بنیادی حقوق اور منصفانہ ٹرائل کے حق پر پڑ سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں ینگ لائرز ایسوسی ایٹس نے اے ٹی سی ایکٹ میں ��الیہ ترامیم کے خلاف بھی قانونی جدوجہد اور موثر اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ آئینی حقوق، قانون کی بالادستی اور انصاف کے بنیادی اصولوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
یاد رہے کہ اس وقت ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر رہنما جیل میں “فیس لیس اور اسپیڈی ٹرائل” کے خلاف دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے وہ اپنا احتجاج جیل کے اندر جاری رکھیں گے۔ اور آج جب فیملی ممبر ملاقات کرنے جیل گئے تو جیل انتظامیہ نے ملاقات کروانے سے انکار کردیا ہمیں نہیں پتہ جیل میں ڈاکٹر ماہ رنگ اور انکی ساتھی کس حال میں ہے۔
آخر میں، میں ملک کے تمام ��کلاء برادری سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ “فیس لیس اور اسپیڈی ٹرائل”کے اس نظام اور اے ٹی سی ایکٹ میں کی جانے والی ترامیم کے خلاف اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدوجہدکریں۔ یہ معاملہ صرف بلوچستان یا کسی ایک فرد یا گروہ تک محدود نہیں بلکہ اگر ایسے غیر شفاف اور بنیادی حقوق سے متصادم طریقہ کار کو تسلیم کر لیا گیا تو اس کے اثرات مستقبل میں ملک کے ہر شہری، ہر وکیل اور ہر عدالت تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج اگر ہم نے قانون کی بالادستی، منصفانہ ٹرائل اور عدالتی آزادی کے تحفظ کے لیے کردار ادا نہ کیا تو کل یہی نظام کسی بھی ��خص کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔
@EUPakistan @KaroblisR @HRCP87 @UNinPak @amnestysasia @MunizaeJahangir @TIME @UNHumanRights @BBC100women @AusHCPak
@NLinPakistan
@MJibranNasir
@AsadAToor
#ReleaseBYCLeaders
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders
#FairTrailForDrMahrangBaloch
اساتذوں کی جبری ریٹائرمنٹ کرکے انتقامی کاروائی کرنا غیر جمہوری اور افسوسناک عمل ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچستان میں تعلیمی زبوں حالی کی صورتِ حال عرصہِ دراز سے چلی آ رہی ہے، ہر آنے والی حکومت تعلیمی تبدیلی کے دعوے تو کرتی ہے، لیکن عملی اقدامات سے کوسوں دور نظر آتی ہے۔ جہاں ایک جانب حکومتیں بشمولِ موجودہ حکومت، ہمیشہ تعلیمی بہتری، کوالٹی ایجوکیشن اور شرحِ خواندگی کو بڑھانے کی باتیں کرتی ہیں، وہیں دوسری جانب بلوچستان میں کئی ایسے علاقے ہیں جہاں اساتذہ اور معیاری تعلیم تو دور، اسکول تک موجود نہیں ہیں۔ اس طرح کی صورتِ حال بلوچستان میں جاری تعلیمی پسماندگی کی نشاندہی کرتی ہے، جو کہ لمحہِ فکریہ ہے۔
بلوچستان میں سرکاری ملازمین پچھلے ایک سال سے اپنے آئینی حقوق کے لیے احتجاجاً سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں، جن میں اکثریت پروفیسرز اور اساتذہ کی ہے۔ حکومت جہاں ایک جانب تعلیمی بہتری کے کئی دعوے کر چکی ہے، وہیں دوسری جانب اِن اساتذہ کی جائز مطالبات سننے کے لئے تیار نہیں، اور اب پچھلے ک��ھ دنوں سے اساتذہ اور دوسرے سرکاری ملازمین کو جبراً ریٹائر کیا جا رہا ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔ یہ جبری ریٹائرمنٹ کا عمل اُن اساتذہ اور ملازمین کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے دستبردار کرنے کا حربہ ہے جو کہ تشویش ناک ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اقدامات بلوچستان کو تعلیم کے حصول سے دور رکھنے اور یہاں کی شرحِ خواندگی کو کم کرنے کی ایک سازش ہے، کیونکہ بلوچستان میں پہلے سے ہی اساتذہ کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے کئی اسکولز بند پڑے ہیں اور وہ حقیقی اسکولوں کے بجائے “گھوسٹ اسکولز” کہلاتے ہیں۔
اساتذہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اہم جُز سمجھے جاتے ہیں، اور اساتذہ ہی تعلیمی انقلاب لانے کی بنیادی اکائی ہیں۔ اُن کی اس طرح تذلیل ناقابلِ قبول ہے۔ ہمارا اساتذہ کے ساتھ رشتہ فکری اور روحانی ہے، جو اپنی محنت اور خلوص سے طلبہ کو ایک مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں۔ ہمارا بھی یہی ماننا ہے کہ معاشرے کی ترقی، سماجی فلاح و بہبود اور شعوری سفر اساتذہ کے کردار کے بغیر ناممکن ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم بطور طلبہ تنظیم اساتذہ کی جبری ریٹائرمنٹ کے عمل کو نہ صرف مسترد کرتے ہیں بلکہ اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس تعلیم دشمن پالیسی پر نظرِثانی کر کے اس فیصلے کو جلد از جلد واپس لے۔
مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
END UNFAIR TRIAL OF BYC LEADERS!
Rule of Law, fair trial and justice have become myths in Pakistan. More than 14 months have passed since Dr. Mahrang Baloch and her companions have been kept in jail under baseless accusations and unlawfully detained. Despite the absence of evidence, they have been detained, harassed and mentally tortured in jail.
Against these injustices and violations of the rule of law, Dr. Mahrang Baloch and her companions are protesting inside the jail, where they have organised a “Dharna.” If their demands are not met, they will proceed with a “Token Hunger Strike” inside the jail.
The trials have shifted from prison-based hearings to a virtual court system, where faceless trials are being conducted and the judge and other parties participate remotely, while the State seeks a speedy conclusion of the proceedings.
Their demands are simple and clear:
1) End online and jail trials and restore hearings in open court so that judicial proceedings are transparent and accessible to the public.
2) Replace the current judge, Mobin, as he has been biased towards the state regarding the case from day one. The organisation's leaders have filed a court application for the judge's replacement, which should be heard soon and a new impartial judge should be assigned to hear this case.
3) Suspend the case until the judge's replacement and the commencement of open court proceedings.
We once again request all human rights organisations, journalists, politicians, social and political unions, humanitarians and the Baloch nation to raise their voices against state barbarism and spread awareness about the ongoing injustice and online trial of BYC leaders.
@EUPakistan@KaroblisR@HRCP87@UNinPak@amnestysasia@MunizaeJahangir@TIME@UNHumanRights@BBC100women@AusHCPak@NLinPakistan@MJibranNasir@AsadAToor
#ReleaseBYCLeaders
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders
خدیجہ کی باحفاظت بازیابی کے لیے اُس کے والدین پچھلے 28 دنوں سے مسلسل سراپا احتجاج تھےواضح ��ہے کہ یہ تحریک ختم نہیں ہوئی، صرف کچھ وقت کے لیے معطل کی گئی ہے۔ اگر خدیجہ کو فی الفور رہا نہ کیا تو عوام دوبارہ سڑکوں پر آنے کا پورا حق رکھتے ہیں
#ReleaseKhadijaBaloch
#SaveBalochWomen
ADMISSION ARE OPEN
Government Boy's Degree College Khuzdar
For More details open the link 🔗
https://t.co/jIDW5OcSyw
Baloch students Action Committees Khuzdar Zone
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نا ارٹمیکو بنجاہی کمیٹی نا دیوان کماش اُزیر بلوچ نا کماشی ٹی اڈ تننگا۔
بلوچستان ئٹ جتا جتا انگا چاگڑدی گندئی تا برخلاف ”انٹلکچول ڈیبیٹ آن بلوچ سوسائٹی“ نا پن آ مہم، مہر گڑھ کانفرنس و عئید مجلس آک اڈ تننگور۔
”چاگڑدی ویل آتیا بلوچ خوانندہ تے اسہ علمی و دانشوری ڈیبیٹ ئسے نا بکار ءِ تانکہ نن تینا چاگڑد ءِ جتا جتا انگا چاگڑدی گندئی، مورل کرپشن، جان بڈی و لاشعوری آن کشنگ کین۔“
کماش اُزیر بلوچ
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نا ارٹمیکو بنجاہی کمیٹی نا دیوان کماش اُزیر بلوچ نا کماشی ٹی اڈ تننگا۔ دیوان ئٹی مسکوہی رپورٹ، تنقیدی نشست، تنظیم کاری، ہنکینی رپورٹ آتیا جاچ، ہندی و جہانی سیاسی حالیت و بروکا گامگیچ آتا ٹک آک اوار ئسر۔ کل ٹک آتا زی آ اُست جمی ئٹ تران آن گڈ بروکا گامگیج ئٹ جتا جتا ءُ فیصلہ ہلنگا و دیوان مسٹمیکو دے آ ایسر کننگا۔
مسہ دے ئی دیوان نا اولیکو ٹِک مسکوہی رپورٹ آک ئسر ہراٹی تنظیم نا بنجاہی کڑد ئنا رپورٹ، جتا انگا کمیٹی تا رپورٹ و جاچ آک دیوان نا مون آ تخنگار و تیوہ غا کاریم تیا شابیتی ئٹ شرہ آن گڈ دا ٹک ایسر کننگا۔
دیوان نا ارٹمیکو ٹک نغدی نشست ئسک ہرا ٹی دیوان ئٹ ساڑی کل بنجاہی سنگتاک تنظیم نا کاریم، شیفی بڑزی و ہنکین نا کارکڑد آتیا نظر بٹیسہ تینا تنقیدی ڈرافٹ آتے اسٹ اسٹ آ خوانار۔ سنگت آک نغد کریسہ پاریر کہ نغد ہمو سائنسی عمل ءِ ہرا ہر وخت اسہ ادارہ و عمل ئسے نا کمبوتی و نزوری تے نہ بیرہ مون آ اتیک بلکن ہندافتا برخلاف تینے علمی، کڑدی و شعوری وڑئٹ تیار کننگ آ تیار کیک ہرانا سوب آن گچین آ خیال و پالیسیک ودی مریرہ۔ ہندا نغد نا برکت آن ادارہ غاک ہر وخت پوسکن آ خیال، پالیسی، پروگرام و فیصلہ سازی نا کنڈ آ کارہ۔ نغدی عمل ئٹی نہ بیرہ تدوکا نزوریک مون آ بریرہ بلکن اوفتا نزور مننگ نا کل سوب آتیتون اوار بروکا وخت ئٹ اوفتا جوان مننگ کن پوسکنو ترزکار و خیال آک ودی مریرہ ہرا ادارہ غاتے پین سوگو کیرہ۔ تنقید و خود تنقید نا بشخ آتا مفننگ ادارہ غاتے سلفک و اوفتیٹی پوسکنو خیال، تخلیق فکر و شعور ءِ روتہ غاتیان ایسر کیک۔ ہندا خاطران نن خنینہ کہ ہرا ہم ادارہ ٹی نغد نا دود کم مس گڑا او ادارہ غاک وخت ئنا دنز ئٹی اودیم مسر۔ ہندا خاطران ننا ہر سنگت ءِ بنداوی باسک آتیان ہلیس بنجاہی سنگت آتے اسکان تینے دا نغدی عمل آن گدریفوئی تمک تانکہ ہمو عمل و خیال آک ہراکہ تنظیم نا کاریم تا کسر ئٹ ہڑاند مننگ ئٹی ءُ اوفتے توننگ و ایسر کننگ مرے۔
دیوان ئٹ کماش اُزیر بلوچ تران کریسہ پارے کہ اینو بلوچ چاگڑد جتا جتا انگا ویل و جنجال تا گ��اچی مسنے ہرافتیٹی مورل کرپشن، جتا انگا چاگڑدی گندئیک، خوانندہ تا بے شعوری، تعلیمی ادارہ غاتا بھسکاری تون اوار جتا انگا ویل آک ساڑی ءُ۔ ہندا ویل آتا سوب آن بلوچ چاگڑد پِننگ نا گواچی ءِ۔ دا ویل آتے سرپند مننگ و دافتا ایسری نا جاگہ آ ننا خوانندہ غا مخلوق دافتیان پدی نرنگ نا کوشست ئٹی ءِ ہرا کہ ننا چاگڑد کن بدشگونی و بھلو نسخان تروک ءُ خیال ئسے۔ ہندا ہڑاند آتیا مننگ کیک کہ جتا بندغ و جتا جتا انگا ٹولیک زہمی مریر ولے اشتماعی وڑئٹ دا ننا تیوہ غا چاگڑد نا زی آ زہم شاغسا ءِ۔ دے اس کہ نن کل دافتیان زہمی ان گڑا بے شعوری ویل ئنا حل افک بلکن راج ئنا ہر ٹولی ءِ دو پہ دو مرسا ویل آتے ایسر کننگ گواچنی آ کسر ءِ۔ دا رد ئٹ ننے دانشوری و علمی شرہ نا بکار ءِ و ہر ویل آ سیانڑہی و ایمانداری ئٹ ٹک خلنگ و اودے بیان کننگ نا گرج ءِ۔ تانکہ نن تینا چاگڑد آن ہر خراب انگا عمل و بھیم بش کروک آ ویل آتے کشنگ کننگ کین و اسہ گل و بال ءُ چاگڑد اس جوڑ کین۔
کماش مستی پارے کہ ورناک اسہ راج ئسے نا کل ویل آتے ایسر کننگ کن اولیکو چر ئٹی سلوک ءُ ٹولی اس پاننگرہ۔ جہانی دیہاڑ آن ہلیس ساڑی وخت ئنا ورنا تا پ��ریچ اسکان ہرس، ہر دور ئٹی ورناک تینا چاگڑد نا جوڑشت و ہر گندئی تیان رکھنگ کن پاسبان ءُ کڑد سر تسنو۔ دا ساڑی وخت ئٹی جہان نا ہمو ورناک ہرا تینا راج ئنا سیاسی کاریم تیتون اوار است ئٹ اوار ءُ، دا اوفتا سیانڑہی آن پد عمل کننگ نا فطری آ لائخی تا درشانی ءِ۔ ہندا وڑئٹ بلوچ ورنا ہم دا سیانڑہی آن پدی افک بلکن او ہم علمی و دانشوری نا دروشم ئٹ گام ارفسا ءُ و تینا چاگڑد کن جہد کرسا ءُ۔
۱/۲