پہلی ویڈیو کیپٹن صفدر نے کیمرے کے سامنے پی ٹی ائی کے جھنڈے ہاتھ میں پکڑے بچے کو گلے لگایا
دوسری ویڈیو تھوڑی دیر بعد مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے اسی بچے پر تشدد کیا
PTI قیادت اور بشری بی بی وغیرہ کو کو درخواست کرنی چاہیئے کہ بشری بی بی کو جیل منتقل کیا جائے۔ اور بھی بہت سی بے قصور خواتین وفاداری کے جرم میں پہلے ہی کئی ماہ سے جیل برداشت کر رہی ہیں
عمران خان پاکستان کی حالیہ تاریخ کا وہ شخص ہے جس نے اس ملک کے آئین قانون اور سسٹم دونوں پر سب سے زیادہ اعتبار کیا ہے۔
عمران خان پر گرفتاری سے قبل ڈیڑھ سو مقدمے درج ہوچکے تھے۔ گولیاں لگنے کے باوجود عمران خان کو جس بھی عدالت نے جہاں بھی بلایا عمران خان وہاں پہنچا۔ عمران خان کو روزانہ بلایا گیا عمران خان روزانہ پہنچا۔
عمران خان پچھلے پچاس سال میں پہلا سیاستدان تھا جس نے اقتدار کو گھسیٹنے کی بجائے مدت سے پہلے خود اسمبلیاں توڑیں اور آئین کے مطابق الیکشن میں اترنے کا فیصلہ کیا۔
عمران خان پاکستان کا مقبول ترین شخص ہے ہزاروں لاکھوں لوگ اس پر جان چھڑکتے ہیں۔ لیکن اس شخص نے جب کبھی احتجاج کا لفظ منہ سے نکالا ساتھ پر امن کا لفظ موجود تھا۔
عمران خان پاکستان کا واحد قومی سطح کا سیاستدان ہے جس نے امریکہ کی عراق جنگ سے لیکر ملک کے اندر ہونے والی خانہ جنگی تک ، ہمسائے میں طالبان اور بھارت کیساتھ تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔
لیکن یہ سارا نظام ، یہ عدالتیں ، یہ انتظامیہ ، یہ فوج اور پولیس عمران خان کے خلاف ہر وہ حربہ استعمال کررہی ہیں جو غیر آئینی بھی ہے۔ غیر قانونی بھی۔
یعنی ایک پر امن ، قانون پسند رہنما کو توڑنے کے لیے تشدد اور غیر آئینی ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عمران خان تو شاید ابھی بھی اپنی جنگ عدالتوں میں لڑ رہا ہے لیکن پچیس کروڑ عوام کا اعتبار اس نظام سے ان عدالتوں سے اس فوج سے اور اس انتظامیہ سے اٹھ چکا ہے۔
جس ملک میں عوام کی اکثریت کا سسٹم سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اس ملک میں پھر سسٹم بدل جاتا ہے۔ الیکشن سے بدلے یا انقلاب سے بدلے۔ یہ دنیا کی تاریخ کا سبق ہے۔ ہمارے بونے جرنیل اگر خود کو دنیا کی تاریخ کے اسباق سے زیادہ طاقتور سمجھتے ہیں تو یہی انکی ناکامی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ کیونکہ دنیا میں جتنے بھی سسٹم ناکام ہوئے اس سسٹم کے چلانے والے خود کو ناگزیر اور تاریخ کے اسباق سے بالاتر سمجھتے تھے۔
ملک ایسے ٹھیک نہیں ہو سکتا
#دوتصویریں دو کہانیاں ہے۔۔
ایک تصویر سرکاری نوٹیفکیشن کی ہے جس میں اسسٹنٹ کمشنر صاحب کی VIGO گاڑی جو پچھلے سال ان کو ملی تھی اب پرانی ہوچکی ہے اس لئے اب 2.3 ارب روپے آئی ایم ایف سے قرضہ لیکر ان کو REVO گاڑیاں دی جائیں گی جبکی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور
تمام پاکستانیوں خصوصاً اپنے نوجوانوں کو میری دعوت ہے کہ 13 اگست کی رات لاہور میں ہمارےحقیقی آزادی جلسے اورپاکستان کے75 برس مکمل ہونےکےجشن میں ہمارے ساتھ شامل ہوں۔
#حقیقی_آزادی_جلسہ