صبر کرو، ہر رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔
قید جسم کی ہوتی ہے، محبت کی نہیں۔ امید زندہ ہو تو راستے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔
زندگی میں بعض اوقات ایسے حالات پیش آتے ہیں جو انسان کی ہمت، صبر اور استقامت کا امتحان بن جاتے ہیں۔ شوہر کی قید بھی ایک ایسی ہی آزمائش ہے جس کا اثر صرف قیدی پر نہیں بلکہ اس کے اہلِ خانہ، خصوصاً بیوی اور بچوں پر بھی پڑتا ہے۔ جدائی، تنہائی اور مستقبل کی فکریں ایک بیوی کے لیے نہایت کٹھن مرحلہ بن جاتی ہیں۔ ایسے حالات میں ہر کوئی یہی کہتا ہے: "صبر کرو، امید رکھو، دعا کرو۔" بے شک امید اور دعا انسان کا سب سے بڑا سہارا ہیں، لیکن دل کا اصل درد وہی جانتا ہے جس پر یہ آزمائش گزرتی ہے۔
29 مارچ 2025، 29 رمضان المبارک کی رات، جب شاہ جی کو ہمارے گھر سے لے جایا گیا، وہ لمحہ میرے لیے قیامت سے کم نہ تھا۔ میں مسلسل چار دن تک روتی رہی۔ نہ معلوم وہ کس حال میں ہوں گے، کہاں ہوں گے، دوبارہ ملاقات بھی ہو سکے گی یا نہیں۔ مجھے نہ اپنی خبر تھی، نہ اپنے ننھے بچے کی۔ دل میں بس ایک ہی سوال تھا کہ کیا شاہ جی دوبارہ گھر لوٹ سکیں گے؟ اس وقت میرا بیٹا سکندر صرف ایک سال دس ماہ کا تھا۔
پانچ دن بعد ہمیں اطلاع ملی کہ شاہ جی حدہ جیل میں ہیں اور ہم ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ملاقات صرف ٹیلی فون کے ذریعے ممکن تھی۔ میں اپنے ننھے بیٹے کو ساتھ لے کر جیل گئی۔ جب سکندر نے فون پر اپنے ابو کی آواز سنی تو وہ زور زور سے رونے لگا۔ اس کی وہ سسکیاں آج بھی میرے دل و دماغ میں گونجتی ہیں۔
ان پندرہ مہینوں میں ہم ہر روز اسی امید کے ساتھ جاگتے رہے کہ شاید آج کوئی اچھی خبر مل جائے۔ ایک بھی ایسی رات نہیں گزری جب میں اٹھ کر شاہ جی کے لیے نہ روئی ہوؤں اور اللہ تعالیٰ سے ان کی رہائی کی دعا نہ کی ہو۔ میں نے اپنی ہر خواہش کو صرف اس امید پر چھوڑ دیا کہ شاید آج نہیں تو کل شاہ جی آزاد ہو جائیں گے۔
اسی دوران میں روز سکندر کو بھی یہی تسلی دیتی رہی کہ "آج ابو آ جائیں گے۔" لیکن ہر صبح وہ ایک ہی سوال کرتا:
"امی، آج ابو کے پاس جیل جائیں گے؟"
یہ سوال سن کر میرا کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔ صرف تین سال کا ایک بچہ، جس کی ہر خوشی جیل سے وابستہ ہو گئی ہے۔ نہ اسے گھومنے کی خواہش ہے، نہ کسی کھلونے کی ضد۔ اس کی سب سے بڑی خوشی صرف اپنے ابو سے جیل میں ملنا ہے۔
جب بھی میں اس کے لیے کوئی نئی چیز خریدتی ہوں تو وہ فوراً کہتا ہے:
"یہ ابو کو دکھانی ہے۔"
اس کی ہر خوشی، ہر ضد اور ہر ضرورت مجھے اکیلے پوری کرنی پڑتی ہے۔ ایک ماں کے لیے یہ سب دیکھنا اور سہنا قیامت سے کم نہیں۔
درِ زنداں پہ دعا بن کر ٹھہری ہوں میں کب سے
خدا کرے یہ زنجیرِ جدائی ٹوٹے۔
ان دو برسوں میں چار عیدیں گزر چکی ہیں۔ ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ عید کے دن اپنے شوہر کے لیے سجے، سنورے اور خوشیاں بانٹے، لیکن ان چاروں عیدوں میں میں نے نئے کپڑے تک نہیں پہنے۔ یہ احساس میرے لیے ناقابلِ بیان گھٹن کا سبب تھا۔
22 جون 2026، پیر کے دن، میں حسبِ معمول اس تیاری میں تھی کہ سہ پہر تین بجے شاہ جی سے ملاقات کے لیے جیل جاؤں گی۔ میں نے اس دن اپنا فون بھی نہیں دیکھا تھا۔ جب جیل پہنچی تو شاہ جی نے بتایا کہ آج عدالت میں پیشی ہوئی تھی اور انہیں ڈبل 25 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ سنتے ہی مجھے محسوس ہوا جیسے میرے قدموں تلے زمین نکل گئی ہو۔ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ دل نے کہا، کاش زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں، مگر یہ خبر نہ سنوں۔ شاہ جی خود مجھے دلاسہ دیتے رہے۔ وہ بار بار کہتے رہے: "پریشان نہ ہوں، اللہ سب سے بڑا ہے، ان شاء اللہ خیر ہوگی۔" لیکن میرے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے جب میں گھر پہنچی تو ایک طرف سکندر کی ضد تھی کہ اسے دکان لے جایا جائے، دوسری طرف میرا پورا وجود لرز رہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ زور زور سے روؤں، مگر گھر میں لوگوں کا ہجوم تھا۔ جس کندھے پرسر رکھ کر میں اپنی ہر چھوٹی بڑی بات کہہ کر دل ہلکا کرتی تھی، آج وہ کندھا میرے پاس نہیں تھا۔جس پر میں سر رکھ کر رؤں۔ لوگ تعزیت اور تسلی کے لیے آ رہے تھے۔ فون مسلسل بج رہا تھا۔ ہر کوئی یہی پوچھ رہا تھا کہ کیا واقعی یہ خبر درست ہے؟ لوگوں سے ملتے ملتے رات کے نو بج گئے۔بعد میں میں سکندر کو لے کر اپنے کمرے میں آئی، اسے موبائل دے کر سلایا اور خود جائے نماز پر بیٹھ گئی۔ میں دیر تک اللہ تعالیٰ کے حضور روتی رہی، دعائیں مانگتی رہی۔ پھر شاہ جی کے بھائی آئے، میرے والد آئے، سب نے یہی کہا: "ان شاء اللہ خیر ہوگی۔" جب سب لوگ واپس چلے گئے تو میں ایک بار پھر اکیلی رہ گئی۔ پوری رات روتی رہی، دعا کرتی رہی۔ یہاں تک کہ صبح کے چھ بج گئے۔ پھر کچھ دیر کے لیے آنکھ لگی۔ صبح دس بجے میں دوبارہ اپنے والد کے پاس گئی۔ انہوں نے پھر حوصلہ دیا اور کہا:
If Pakistan Army believes that abducting 16-year-old #Baloch girls can extinguish a people's resistance, it understands neither oppression nor history. Every act of repression plants the seeds of greater defiance. You are not putting out the fire, you are feeding it. #Balochistan
آصف جس کے تینوں بہنوں نے اسکے ساتھ وہی رویہ رکھا ہوا تھا جو رویہ، محبت ایک ماں کی اپنے اولاد کیلئے ہوتی ہے، جب وہ اپنے بھائی کو زندان میں تصور کرتے ہونگے تو انگا کیا حال ہوگا یہ بس خدا ہی جانتا۔
#ReleaseAsifBaloch
ایک ہاتھ میں قرآن مجید اور دوسرے ہاتھ میں جبری گمشدگی کے شکار اپنے بیٹے کی تصویر اٹھائے ماں بیٹے کی بازیابی کے لیے احتجاج کررہی ہے۔۔
اس ماں کو کون سمجھائے جنکوں قرآن کا واسطہ دے کر اپنے بیٹے کی بازیابی کا مطالبہ کررہی ہے گزشتہ شب انہی اداروں نے مستونگ میں ایک مسجد پر شیلنگ کی ہے
آصف بلوچ کی بہن سارہ بلوچ نے الزام عائد کیا کہ ان کے بھائی کو 13جولائی کو کوئٹہ شہر میں سمنگلی روڈ سے دوسرے طلبا کے ساتھ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ آصف بلوچ کی والدہ احتجاج کے دوران ہاتھ میں بیٹے کی تصویر اور قرآن مجید تھامے تھیں۔
تفصیل: https://t.co/Nsby7tFFEl
Today, the family of Asif Baloch led a protest rally in Khuzdar, demanding his safe release. Asif Baloch was forcibly disappeared on 13 July 2026. Days have passed, yet there is still no information about his whereabouts. His family continues to seek only one answer.
Where is Asif Baloch?
Enforced disappearance is a continuing crime. It inflicts permanent psychological suffering on families who are forced to live between hope and fear. No family should be left searching endlessly for a loved one.His family deserves truth, justice, and accountability.
#ReleaseAsifBaloch
آصف بلوچ کے لواحقین کی جانب سے ان کی جبری گمشدگی کے خلاف ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
خضدار کے تمام مکاتبِ فکر، سیاسی و سماجی رہنماؤں، طلبا اور باشعور عوام سے گزارش کی جاتی ہے کہ اس احتجاجی ریلی میں بھرپور شرکت فرمائیں۔
تاریخ : 18 جولائی 2026
وقت : شام 4 بجے
مقام: شہید عبدالرزاق چوک
ان کو بس بلوچستان کے زمین کے نیچھے معدنیات نظر اتے ہیں ہمارے ننگے پہروں پر ہمارے قتل وغارات ہمارے لاشوں تو انکا کاروبار چل رہا ہیں اس لیے تو ہم کہتے ہیں کہ بلوچستان کی حقیقی نمائندوں کو اسمبلی سے دور کر کے من پسند لوگوں کو لانے سے ان کے کاروبار تیز ہوگا
ایسے حالات میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا اب بھی یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس ملک میں قانون جمہوری اصولوں کے مطابق چل رہا ہے؟ کیا بلوچ کو واقعی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے؟ جب مقدمات کی شفاف سماعت کے بجائے ایسے طریقہ کار اختیار کیے جائیں
”ایسے حالات میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا اب بھی یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس ملک میں قانون جمہوری اصولوں کے مطابق چل رہا ہے؟ کیا بلوچ کو واقعی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے؟ جب مقدمات کی شفاف سماعت کے بجائے ایسے طریقہ کار اختیار کیے جائیں جو ملزمان اور ان کے وکلاء کو مزید محدود کر دیں، تو انصاف کی فراہمی کے دعوے اپنی معنی کھو دیتے ہیں۔انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں حالیہ ترامیم نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی تبدیلیوں کے تحت محض شک کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو طویل مدت تک قید رکھا جا سکتا ہے۔ انہی قوانین کے تحت نام نہاد انٹرنمنٹ یا ڈیٹنشن مراکز میں میرے کزن سیف اللہ سمیت سینکڑوں بلوچ نوجوانوں اور خواتین کو قید رکھا گیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ قانون کا مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے یا ریاستی طاقت کو مزید وسعت دینا؟”
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
The motion for resolution by Members of the European Parliament (MEPs) also listed my brother, Dad Shah, calling on Pakistan to end his enforced disappearance, alongside Ali Wazir, Hanif Pashteen, Noor Ullah Tareen & BYC Leaders. As his sister, this gives us hope that the
1/2
بلوچ طلبا کا مستقبل بچانے کی خاطر ہمیں جبری گمشدگیوں کے خلاف ایک منظم آواز بن کر ابھرنا ہوگا۔ (ترجمان، بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد)
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں 13 جولائی کو کوئٹہ سے جبری گمشدگی کے شکار ہونے والے آصف، سلمان، نبیل اور زبیر کی جبری گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اُن کی فالفور رہائی کا مطالبہ کیا۔ آصف بلوچ ولد محمد خضدار کے رہائشی ہیں اور وہ یونیورسٹی آف پشاور کے گریجوئیٹ ہیں، جبکہ اپنی طالبعلمی کے دوران وہ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پشاور کے بطور جنرل سیکریٹری اور چئیرمین فرائض انجام دے چکے ہیں۔ آصف کے ہمراہ جن تین دوستوں کو اغوا کیا گیا ان میں سلمان ولد انور پنجگور کے رہائشی ہیں، اور وہ ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور سے ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔ جبکہ زبیر اور نبیل نے خضدار سے اپنی گریجویشن مکمل کی ہے۔ یہ نوجوان بلوچ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں، ہزاروں مصائب اور تکالیف کا سامنا کرنے کے باوجود وہ نہایت دلیری اور ہمت کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں، تاکہ اپنی اور اپنے خاندان کے مستقبل کا سہارہ بن سکیں، لیکن یہ ریاست بے دردی سے اُنہیں اغوا کرکے ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار بناتی ہے۔
بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی شاید پنجاب و وفاق میں بیٹھے لوگوں کے لئے صرف ایک خبر ہو، اور ایسی خبر جو اُن کے مین اسٹریم میڈیا کے کونوں کھدروں میں بھی جگہ بنانے کے قابل نہ ہو، لیکن ہمارے لئے یہ ہماری زندگی اور قومی بقا کا سوال ہے۔ ریاست شاید سمجھتی ہو، کہ وہ تشدد کے بے دریغ استعمال کے ذریعے ہمیں خاموش کرے، اور ہم چھپ سادھ کر یہ ظلم سہیں، لیکن ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہیں خاموشی اس ریاست کے مظالم میں دیدی دلیری کا سبب ہے۔ اور جب تک ہم خاموش رہیں گے، ہر بلوچ نوجوان اسی ڈر اور خوف میں زندگی گزارے گا، کہ شاید کل کے پوسٹر میں اُس کی تصویر ہو۔ یہ کوئی الگ یا نیا واقعہ نہیں، بلکہ بلوچ قوم کا الم ہے، اور اسی غم کے بوجھ تلے آج بلوچ نوجوان اس کالونیل فسطائیت کی دین ہزاروں ذہنی بیماروں کا شکار ہوا جا رہا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اب فیصلہ کرنے کا وقت آ چکا ہے، اور ہمیں بحیثیت ایک زندہ قوم اس ظلم کے خلاف “اب اور نہیں” کا نعرہ بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ بی ایس سی اسلام آباد، بطور ایک طلبا تنظیم اپنی قوم، دیگر طلبا تنظیموں، وکلا برادری، صحافی حضرات اور سول سوسائٹی سے مخاطب ہوتی ہے کہ آج اس ظلم کے سامنے آپ کا فیصلہ تاریخ میں آپ کے مقام کا تعین کرے گی، کہ آپ اپنی مفاد کی خاطر یزیدی لشکر کے ساتھ کھڑے رہے یا حسینی روایت کو زندہ رکھے حق کا نعرہ بلند کرتے ہو۔ کیونکہ ظلم کے خلاف ہماری خاموشی ہمارے اندر کے انسان کا دم گھونٹ دیتی ہے، اور آہستہ آہستہ ہم میں اور جنگل کے جانوروں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ جنگل کے جانوروں کا بھی شاید کوئی دستور ہو، لیکن بلوچ کی خاطر یہ سرزمین اس قدر تنگ کردی گئی ہے، کہ نہ اُس کے لئے کوئی دستور ہے اور نہ ہی اس ملک کا آئین اس پر لاگو ہے۔ ہم اس بیان کے ذریعے حکومتِ وقت اور وفاقی اداروں سے ڈیمانڈ کرتے ہیں آصف بلوچ اور اُس کے ساتھیوں سمیت دیگر گمشددہ افراد کو فالفور رہا کیا جائے وگرنہ ہم اپنے تمام قانونی حقوق کو بروئے کار لاتے ہوئے اس ظلم و بربریت کے خلاف بھر پور مہم چلائیں گے۔ ہماری یہ جدوجہد کسی مفاد یا آسائش کی خاطر نہیں بلکہ بلوچ طلبا کی زندگی کا حق مانگنے کے لئے ہے۔ اور اس ضمن میں ہم اپنی قوم اور اس ملک کے باشعور عوام سے پُر زور اپیل کرتے ہیں کہ ہماری آواز بنیں، کال کھوٹڑی میں بند آصف کی آواز بنیں اور ہمارا ساتھ دیں۔
#ReleaseAsifBaloch
#ReleaseSalmanBaloch
#EndEnforcedDisappearances
روزانہ بلوچستان سے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کی نئی خبریں اس تلخ حقیقت کی گواہی دے رہی ہیں کہ ریاستی جبر مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ہر گزرتا دن یہ ثابت کر رہا ہے کہ بلوچستان میں قانون کی نہیں بلکہ طاقت اور خوف کی حکمرانی مسلط ہے۔
جبری گمشدگیاں، جس میں مرد خواتین نوجوان، بزرگ، حتیٰ کہ بچے بھی ایک منظم پالیسی کے تحت جبری گمشدگیوں کا نشانہ بن رہے ہیں، اور یہ انسانی حقوق کی منظم اور سنگین خلاف ورزیاں ہیں، جن کا مقصد صرف اور صرف بلوچ قوم کو خوفزدہ کرنا، بلوچستان میں موجود سیاسی و مزاحمتی آوازوں کو خاموش کرنا ہے۔
ان سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں پر مسلسل خاموشی، مؤثر احتساب کا فقدان اور ذمہ داروں کو حاصل استثنیٰ نے اس جبر کو مزید بے لگام کر دیا ہے جو کہ بلوچستان خوف، عدم تحفظ اور اجتماعی سزا کی ایک المناک علامت بنتا جا رہا ہے۔
آصف بلوچ اور سلمان بلوچ جو کہ طالبعلم ہیں جنہیں کوئٹہ سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ آصف اور سلمان کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
#ReleaseAsifBaloch
#ReleaseSalmanBaloch