| D E S I G N E R | Imranian | آتنک وادی کہتی ہے سرکار ہمیں😁🫡 | Proud Pakistani 🇵🇰 | عجیب،ضدی، بدتمیز ہوں | IA - Prime Minister Imran Khan Loading...❤️ |
دنیاکی عظیم ترین تہذیب کی بنیادڈالتےہوئےہمارےنبئ پاک جنابِ رسولِ مکرم ﷺ کےریاستِ مدینہ کیلئےوضع کردہ رہنمااصولوں پر ایک نظر! بطورمِلّت و ریاست اپنی صلاحیتوں کےٹھیک احساس و ادراک کیلئےپاکستان میں ہمیں آج خود کو ان اصولوں کیمطابق ڈھالنےکی سعی کرناہو گی
https://t.co/4kun9P6iSf
پی ٹی آئی نے عمران خان کی ناحق قید کو نارملائز کیا
پی ٹی آئی نے عمران خان کی ملاقاتوں کو نارملائز کیا
پی ٹی آئی نے عمران خان کی صحت کو نارملائز کیا
پی ٹی آئی نے خان کی کیسز کو نارملائز کیا
پی ٹی آئی نے خان کی احتجاج کال کو نارملائز کیا
پی ٹی آئی نے خان کی زندگی کو نارملائز کیا
My father, Imran Khan, has now spent over 900 days in a death cell with no family visits and no access to his personal doctors. Credible reports confirm he has been diagnosed with central retinal vein occlusion, a dangerous blockage that can lead to permanent vision loss if not treated through urgent medical intervention in a proper hospital.
Yet authorities continue to block his treatment and deny him the doctors he trusts. I am even denied the right to speak to him. This is not governance. This is authoritarian cruelty.
I call on every defender of human rights to act before it is too late. The world must see that in Pakistan today, democracy is hollow and basic human rights are being crushed.
قرآنِ کریم کی اس آیتِ مبارکہ میں میری ٹیم اور اہلِ پاکستان کیلئے پیغام و ہدایت ہے کیونکہ انہیں اس ظلم و بربریت کا سامنا ہے جس سے آج پوری قوم گزر رہی ہے۔
۲/۲
آخری بات، ”میں اکیلا ہوں“ اُس رات عمران خان کا کہا آخری جملہ نہیں تھا، انہوں نے کہا؛ ”یہ میری کور ٹیم ہے، اگر یہ ہی حق میں نہیں ہے میں باہر والوں کا تو مقابلہ کرسکتا ہوں، میں اپنے لوگوں سے تو نہیں لڑ سکتا“۔ یہاں عمران خان نے خدانخواستہ سرینڈر نہیں کیا، تاریخ دیکھ رہی ہے، عمران خان نے سرینڈر نہیں کیا۔ عمران خان نے اپنی صفوں سے لڑنے سے انکار کیا (مگر ہم کیا کررہے ہیں شب و روز؟)۔ عمران خان نے اپنوں سے لڑنے سے انکار کرکے قوم کے اصل دشمنوں کا پردہ چاک کیا، پھر جو جو عمران خان کے نظریے کا بوجھ اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتے تھے وہ الگ ہوتے گئے۔ آگے بھی ہوتے جائیں گے۔ میں اس وقت اپنی رائے میں غلط نہیں تھا، مگر عمران خان کا حتمی فیصلہ تاریخ نے درست ثابت کیا (اور اسی لیے میں ہمیشہ لیڈر کی فہم اور فیصلے کو اپنی سوچ پر فوقیت دینے پر زور دیتا ہوں، چاہے اس کی پشت پر محرکات اور وقتی اثرات کچھ بھی ہوں)۔
کتابیں، تاریخ، واقعات صرف اس لیے نہیں تحریر اور بیان کیے جاتے کہ حقائق سامنے لائے جائیں ان کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم ان سے سبق حاصل کریں۔ سیکھیں دوسروں کے تجربے سے، ان کے صحیح اور غلط فیصلوں سے۔ میری گزارش ہوگی کہ آپ اس تحریر کو بھی اس تناظر میں دیکھیں۔
ابھی تک عموماً بُک سٹورز کتاب رکھنے پر تیار نہیں ہیں، ماسوائے چند ایک کے۔ ہم اپنے ذاتی نیٹ ورکس کے زریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
اور انشاء اللہ جلد ہی آپ کو اس کا ای ورژن بھی میسر ہوگا۔
زمانہ طالب علمی سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے عام آدمی پر اثرات اور ریاست کے دوغلے کردار پر لکھنا شروع کیا۔ تفصیل میں جائے بغیر، نومبر ۲۰۲۵ میں پرننٹنگ کے لیے روابط کا آغاز کیا تاہم ہر جگہ سے انکار ہوا۔ بلآخر ایک دوست جو اس وقت خود بھی مشکلات کا شکار ہیں نے مدد پر آمادگی ظاہر کی اور بہت تگ و دو کے بعد تقریباً پانچ ماہ کی مکمل رازداری میں کی محنت سے یہ پراسس مکمل ہوا۔ میرے لیے یہ انتظار نہایت تکلیف دہ تھا کیونکہ میرا مقصد ملک کو ایک اور جنگ میں دھکیلنے والوں کے خلاف بروقت تنبیہہ کرکے مزید جنازے روکنا تھا جس کا حتمی آغاز ضلع خیبر کے علاقے تیرہ سے ہونے جارہا تھا۔ تین سال پہلے جس جنگ کی پیشنگوئی کی تھی آج وہ شروع ہوچکی ہے۔ آج اگر ان حالات میں بھی مالاکنڈ نسبتاً پرامن ہے تو الحمدللہ ہماری بروقت امن تحریک اس کا وسیلہ بنی۔آپ کہیں گے پرانی باتیں نہ دہراؤ مگر جب مجھے روپوش ہونا پڑا تو درخواست کی کہ اب اس تحریک کا بیڑہ آپ اٹھائیں اپنے لوگوں کی آواز بنیں۔ آج جب افغانستان کے ساتھ جنگ چھیڑ دی گئی ہے تو میں یاد دلاؤں گا کہ میں نے کہا تھا کہ آپ کی دہلیز تک ایک اور جنگ لائی جارہی ہے اور آپ کی لاشوں پر بیانیے بنیں گے۔
اللہ کے حکم سے اپنے کارکنان کے ساتھ مل کر خان صاحب کی گرفتاری کی پہلی کوشش کی ناکامی سے لے کر کتنی مرتبہ وارن کیا ہے کہ پاکستانیو! اپنا فیصلہ کرو آپ نے مرسی کا مصر بننا ہے یا اردگان کا ترکی؟ آپ نے عمران خان کی زندگی پر ہونے والی ہر اٹیمپٹ کی ناکامی کے بعد تالیاں پیٹ کر میری واہ واہ تو کرلی۔ داد تو دے دی۔ میری بات کو کتنی سنجیدگی سے لیا؟ عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات تین ماہ پہلے سے نہیں ہیں، تین سالوں سے اس منصوبے پر کام ہورہا ہے۔ یہ میں پہلی دفعہ نہیں بتا رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آئی آپ کبھی ایک کے کبھی دوسرے کے بیانات پر شادیانے بجاتے رہے میں نے نہیں جھنجھوڑا کہ عمران خان بین الاقومی طاقتوں کے مفادات کی راہ میں کھڑا ہے؟ ان کی لفظی کاروائیوں پر نہ جائیں، عمران خان ان کے منصوبوں میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ رجیم چینج آپریشن میں شامل کردار اپنی طاقت کو طول دینے کے لیے سب داؤ پر لگانے کو تیار ہیں، اور آپ نے دیکھا سب داؤ پر لگا بیٹھے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۴ میں ڈی چوک میں سامنے سے گولیاں سے ماری گئیں، اکتوبر ۲۰۲۵ میں مریدکے میں قتلِ عام ہوا یہ معمولی واقعات تو نہیں تھے لیکن دیدہ دلیری سے ہوئے کیونکہ بین الاقوامی ایجنڈے پر عمل درآمد کے بدلے مکمل چشم پوشی کی کمٹمنٹ ہوئی تھی۔
اسرائیل کے حوالے سے پالیسی پر آپ کو بارہا بتایا۔ کسی نے تعریف کی کسی نے تنقید کی، کسی نے جلی کٹی سنائیں۔ کسی نے اپنے گریباں میں جھانکے بغیر دشنام طرازی کی۔ رُک کے غور شاید ہی کسی نے کیا۔
نومبر ۲۰۲۵ میں واضح ہوگیا کہ گھر کی دہلیز تک ایندھن پہنچا تو پہلے دیا گیا تھا، اب آگ بھڑکائی جانی تھی۔ تیرہ سے آپریشن کے آغاز کا ارادہ ہوچکا تھا۔ افغانستان کے ساتھ جنگ کی راہ ہموار کی جارہی تھی۔ نظریاتی سرحدوں کا سودا الگ ہورہا تھا۔
یہاں یہ بھی یاد دلا دوں کہ جب مجھ جیسے آباد علاقوں کے پختونوں کو آپریشن کی ہولناکیوں کا اندازہ بھی نہیں تھا عمران خان اس وقت اپنے لوگوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کے خلاف اٹھنے والی اکلوتی آواز تھا۔ یہ مشن میرے لیڈر کا تھا۔ ابسولوٹلی ناٹ کا فیصلہ میرے لیڈر کا تھا، کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی بیرونی طاقت کے مفادات کے لیے کسی ہمسایے کے خلاف نہیں استعمال ہوگی۔
میں نے صرف ان عناصر سے پردہ اٹھایا ہے جنہیں عمران خان کے اس کردار سے تکلیف تھی۔ جو ان کے موقف کے سبب ان کی جان کے درپے ہیں۔ جوں جوں بین الاقوامی قوتوں کی فرمان برداری اور غلامی میں انکے ساتھ کمٹمنٹس پورے ہو رہے ہیں یوں یوں عمران خان کی زندگی کو خطرہ بڑھ رہا ہے۔ یوں یوں پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ رہا ہے۔ میرا کام وارن کرنا تھا میں نے کردیا، ایک مرتبہ پھر۔ فیصلہ کل بھی آپ کو کرنا تھا، فیصلہ آج بھی آپ کو کرنا ہے۔
۱/۲
ہمارے رسول پاک صل اللہ علیہ وسلم رہتی دنیا تک کیلئے عظیم المرتبت انسان اور ہم سب کیلئے مینارہ نور ہیں۔جو بھی انکے نقش پا کی پیروی کرے گا مراد پاجائے گا اور وہ تمام زنجیریں ٹوٹ گریں گی جو اسے پست رکھتی ہیں اور رب العزت کی جانب سے عطا کردہ صلاحیتیں بروئے کار لانےمیں رکاوٹ بنتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ٹاوٹس کے ذریعے ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان میں صرف شیعہ سراپا احتجاج ہیں، ہرگز نہیں، سنی بھی سراپا احتجاج ہیں، امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کرنے کے لیے شیعہ،سنی یا مسلمان ہونا نہیں،صرف انسان ہونا ضروری ہے
ہمارے پاسپورٹ پر لکھا ہے کہ اسرائیل کے علاوہ ہر ملک میں جا سکتے ہیں، یہ لوگ عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہتے تھے۔
اللہ تعالٰی دیکھنے والا ہے جنہوں نے جھوٹے الزام لگائے تھے آج یہ سب لوگ بے نقاب ہو رہے ہیں
علیمہ خان کی گفتگو 🔥
انا للّٰه و انا الیه راجعون
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجالٌ صَدَقُوا ما عاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضى نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَ ما بَدَّلُوا تَبْدِيلاً
(مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچ کر دکھایا۔ ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کر چکے (یعنی جامِ شہادت نوش کر چکے)، اور کچھ انتظار میں ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں ذرّہ برابر بھی تبدیلی نہیں کی۔)