ایمرجنسی ٹرینڈ الرٹ 🚨
انصافینز سب یہ ٹرینڈ #اکتوبر4_آغاز_مزاحمت شروع کریں کیونکہ اس وقت 4 اکتوبر لانگ مارچ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مکمل خاموشی ہیں۔
جوائن کریں اور مخالفین کو اپنی طاقت دکھائیں ✊️
یہ تصویر کسی عام فقیر کی نہیں، بلکہ سندھ کے نامور افسانہ نگار، ناول نویس اور دانشور محترم مشتاق احمد کاملانی صاحب کی ہے۔
وہی مشتاق کاملانی، جنہوں نے “گونگی بارش”، “چپٹا لہو”، “گھٹی ہوئی فضا” اور شہرۂ آفاق ناول “رولو” جیسے شاہکار تخلیق کیے۔
وہی کاملانی صاحب جو سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ذہین ترین طالب علموں میں شمار ہوتے تھے، جن کی انگریزی، اردو، فارسی اور پنجابی پر ایسی گرفت تھی کہ سننے والا دنگ رہ جائے۔
مگر آج…
وقت نے اس عظیم قلمکار کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ دن بھر ٹھٹہ کی گلیوں میں اور رات کو سجاول کے بس اسٹاپ پر زندگی گزارتے دکھائی دیتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ان کے چھوٹے سے گھر پر قبضہ کر لیا گیا، اور ایک عظیم لکھاری خاموشی سے معاشرے کی بے حسی کا بوجھ اٹھاتا رہا۔
کتنا بڑا المیہ ہے کہ جو شخص لفظوں سے نسلوں کی سوچ بدل سکتا تھا، آج خود زندگی کے ظلم سے ہار چکا محسوس ہوتا ہے۔
ان کے چہرے پر ایک عجیب کیفیت دکھائی دیتی ہے… آنکھوں میں نمی، اور ہونٹوں پر انسانیت پر طنزیہ مسکراہٹ۔
مشتاق کاملانی صاحب نے ایک جگہ لکھا تھا:
"اگر خدا نے تمہارے منہ میں زبان رکھی ہے اور اسے سچ کہنے کے لیے استعمال نہیں کرتے، تو ایک احسان کرو، اسے کٹوا لو۔"
آج شاید وقت ہم سب سے یہی سوال کر رہا ہے۔
اگر ہم اپنے ادیبوں، دانشوروں اور سچ لکھنے والوں کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتے، تو پھر ہماری خاموشی بھی جرم ہے۔
خدارا! اس عظیم ادیب کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔
کیونکہ قومیں اپنے لکھاریوں کی عزت سے پہچانی جاتی ہیں، اور جب قلمکار سڑکوں پر آ جائیں تو سمجھ لیجیے معاشرہ اندر سے مر چکا ہے۔
تحریر: نذر چوہان گجر۔
پھر سے ٹرک کی بتی 🤧
خان کی اگر اس ہمجوم نما قوم نے رہا کروانا ہی ہوتا تو کب کا کر چُکے ہوتے
ہر بار غیرب کے بچے مروا کر خاموش ہو جاتے ہیں
اچھا ہوّا مارچ نہیں ہوّا پھر لوگوں کو قتل کرتے اور لاشیں بھی نہیں ملتی
ایک تلخ حقیقت !!