طلاق یافتہ عورت بلکل دوبارہ ایک اچھی بیوی ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ انسان کے کردار اور ازدواجی صلاحیت کا فیصلہ صرف اس کی سابقہ ازدواجی حیثیت سے نہیں ہوتا۔ طلاق کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں اسلیے اصل توجہ اخلاق، مزاج، ذمہ داری، وفاداری اور باہمی سمجھ بوجھ پر ہونی چاہیے۔ بعض اوقات سابقہ تجربہ انسان کو رشتے کی قدر اور ذمہ داریوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی اصول کا اطلاق طلاق یافتہ مرد پر بھی ہوتا ہے۔
یار رکھیں آپ اللہ کے دربار میں نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اے میرے رب میری نوکری تھی مجبور تھا اور نہ یہ بول سکتے ہیں کہ اے میرے رب مجھ پر طاقتور کا پریشر تھا۔
حکمران عوام کے خادم ہوتے ہیں، مالک نہیں۔ اقتدار ایک امانت ہے اور اس کا اصل مقصد عوام کے جان و مال، عزت اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ جب حکمران انصاف، جواب دہی اور عوامی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں تو ریاست مضبوط ہوتی ہے؛ اور جب ظلم، ناانصافی اور بے حسی بڑھ جائے تو عوام کا اعتماد کمزور پڑتا ہے۔
اچھا حکمران وہ ہے جس سے عوام ڈریں نہیں، بلکہ جس پر عوام بھروسہ کریں۔
ایسا ہی ثانیہ نشتر کے ساتھ ہوا
عالمی طور پر اقوام. متحدہ کی قداور شخصیت ہیں وہ.. اکثر ان کی کامیابیاں میری ٹائم لائن تک پہنچ جاتی ہیں.. فخر ہوتا ہے ان پر اار خان. پر کہ. اس نے ہر قداور شخص کی قدر کی
@SaniaNishtar
کچھ لوگوں کی مثال قوال کے پیچھے بیٹھے ہمنوا کی طرح ہے
انکا کام ہی یہی ہےکہ جیسے ہی قوال کا گلا بیٹھے سب نےایک ہی سر میں ہیکہ لگانا ہے۔
بس سکرپٹ کا واٹس ایپ گروپ میں آنا سب کا اندرونی ضمیر ایک ہی وقت پر جاگتا ہے
اور X پر ایک ہی سر، ایک ہی تال میں ٹوئٹس کی قوالی شروع ہوجاتی ہے۔