یہ میرا گھر ہے جس کو تباہ کر دیا گیا قصور یہ کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کو گھر میں رہنے کے لیے جگہ کیوں دی ؟ میرے گھر کی کوئی چیز نہیں چھوڑی قیمتی چیزیں ساتھ لے گئے ہیں
میں کس سے سوال کروں ؟ کونسی عدالت مجھے انصاف دے گی کیا کوئی عدالت پوچھے گی ؟ یہ کس نےکیا ہے ایجنسیوں نے کیا ہے پولیس نے کیا ہے پنجاب حکومت نےکیاہے کس کیا ہے ؟
ہمارے خون پسینے کی کمائی سے بنا گھر آج تباہ کر دیا گیا۔ ہم کہاں رہیں کہاں جائیں؟ کوئی ہے مجھے انصاف دلوانے والا؟
رمیز راجہ کا سینیٹر افنان اللہ کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ۔
سابق چئیر مین پی سی بی رم��ز راجہ نے حکومت کا چیلنج قبول کرلیا رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت کے چند ناسمجھ لوگوں کوغلط فہمی ہے کہ مجھے ان کی حکومت کمنٹری کے پیسے دیتے ہے اور مجھے یہ بھیجتے ہے کمنٹری کیلئے میں ان کو یادہانی کراوں کہ مجھے کمنٹری کیلئے دنیا کے مختلف اسپانسر مدعو کرتے ہے اب میں انگلینڈ میں بی بی سی کے مشہور ریڈیو اور آڈیو پلیٹ فارم کیلئے کمنٹری کررہا ہوں اور انہوں نے ہی مجھے مدعو کیا ہے پاکستان انگلینڈ سیریز کیلئے یہ میری مرضی ہےکہ میں اس میں کس کانام لوں آپ کی اوقات اتنی نہیں ہے کہ آپ مجھے دنیا میں کمنٹری کرنے سے روکے یا میرے رائے کے اظہار پر پابندی عائد کرئے اور نہ ہی ایسا آپ کرسکتے ہے اگر تم ایسا کرسکتے ہو تو میرا آپ کو کھلا چیلنج ہے کرکے دیکھاؤ مجھے روکو کمنٹری کرنے سے میں اپنے رائے کا اظہار کرتا رہوں گا
یادرہے گزشتہ روز حکومتی عہدےدار سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ رمیز راجہ کی کمنٹری پر پابندی لگائی جائے بی بی سی کے مشہور ریڈیو اور آڈیو پلیٹ فارم پرسابق کپتان عمران خان کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت تشویش ہے اس بیماری پر۔۔۔
“He (Imran Khan) has been in isolation for three years… in the dark most of the time… This is not a political thing… This is about human rights. Nobody should be kept in those conditions.”
- Former Australian Cricket Captain, Greg Chappell
#FascismUnderAsimLaw#FreeImranKhan
فوج کی مقبولیت کا جنازہ تو پہلے ہی نکل چکا ہے، مگر اس قسم کا رویہ انہیں گلیوں میں چلنے کے قابل بھی نہیں چھوڑے گا۔ سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں دیکھے جانے والے مناظر اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب وردی عزت نہیں بلکہ ذلت کا نشان بن چکی۔ ہم لوگ جو اسے اپنا فخر سمجھ کر پہنتے تھے، اور عوام کا پی��ر پاتے تھے، جو اب نفرت میں بدل چکا ہے، اس المیے کا قصوروار پاکستانی افواج کی موجودہ کمانڈ اور ان کی خود غرض اور لالچی پالیسیوں کو ٹھہراتے ہیں۔
تندور سے روٹی چوری کرنے کا مقدمہ اور پشاور کی عدالت کا انصاف بھرا فیصلہ دو روز قبل پشاور قصہ خوانی بازار میں عورت کا تندور سے روٹی چوری کرنے کا معاملہ سامنے آیا تندور مالک نے خاتون پے تشدد کیا اور پولیس کے حوالے کر دیا کل پشاور پولیس نے خاتون کو چوری کے الزام میں عدالت میں پیش کیا۔ جج صاحب نے خاتون سے سارا معاملہ پوچھا عورت نے روتے ہوئے بتایا میرا نام گُل بانو ہے ایک حادثہ میں میرے خاوند کا انتقال ہو گیا ہے میرے تین یتیم بچے ہیں جو دو ��وز سے بھوکے تھے گھر میں کوئی کمانے والا نہیں میں نے مجبوری میں تندور سے روٹی اٹھائی۔ گُل بانو کے جسم پے ت شدد کے واضح نشان نظر آ رہے تھے۔ جج صاحب نے سب سے پہلے تندور مالک کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جس نے غریب بیوہ عورت پر ت شدد کیا۔ تندور مالک کو دو سال جیل کی سزا اور 5 لاکھ روپے حرجانہ کا فیصلہ سنایا۔ s.h.o کینٹ کو تبادلے کا حکم دیا۔ اور ڈی-سی پشاور کو پابند کیا کے سرکاری خزانے سے بیوہ خاتون اور اس کے بچوں کی کفالت کی جائے۔
⚠️اگر اپ اسے ری ٹویٹ نہیں کریں گے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوگی جو عمران خان کے لیے باہر نکلے ہوئے ہیں⚠️
عمرکوٹ : مخدوم شاہ محمود قریشی کی غیر قانونی قید کے 1000 دن مکمل ہونے پر اظہار یکجھتی