Statement on Democracy, Political Dynasties, and the Future of Pakistan
Pakistan is presently governed under the banner of democracy by two dominant political families: the Sharif family and the Bhutto family. I contend that the concentration of leadership within these families represents dynastic politics rather than genuine democratic practice, as political power has largely been transferred from one generation to the next instead of being determined through open and equal political competition.
It is my view that both the Pakistan People’s Party (PPP) and the Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) emerged with the support of Pakistan’s military establishment during different periods of the country’s political history.
Following Sir Shah Nawaz Bhutto’s entry into public life, his son, Zulfikar Ali Bhutto, became a leading political figure. Subsequently, Benazir Bhutto, Murtaza Bhutto, and later Bilawal Bhutto Zardari assumed prominent political roles within the party. Likewise, leadership within the Sharif family expanded from Nawaz Sharif to Shehbaz Sharif, followed by Hamza Shehbaz and Maryam Nawaz, illustrating the continued dominance of family-based political leadership.
I further said that both political families have repeatedly benefited from state resources while holding public office. I also claim that members of these families possess significant landholdings and assets in Pakistan and abroad, including properties in the United Kingdom, the United States, Switzerland, and other countries. Allegations regarding the wealth and financial dealings of former President Asif Ali Zardari have also been widely discussed in the public domain over the years.
It is my view that Sir Shah Nawaz Bhutto acquired extensive landholdings in Sindh during the British colonial period due to his loyalty to the colonial administration, and that successive generations of the Bhutto family maintained close working relationships with various military governments.
General Ayub Khan provided Zulfikar Ali Bhutto with the opportunity to enter national politics, and Bhutto served in his government. The Pakistan People’s Party was established during Ayub Khan’s rule and later operated under General Yahya Khan’s administration, with Bhutto serving in senior governmental positions during both periods.
Similarly, Nawaz Sharif rose to national prominence during the rule of General Muhammad Zia-ul-Haq, whose administration supported his political development. Following General Zia’s death, Nawaz Sharif publicly stated his intention to continue what he described as General Zia’s mission.
From my perspective, Pakistan’s political history demonstrates that the military establishment has exercised significant influence over the formation, dismissal, and transition of governments, as well as over the political prominence of influential families, large landowners, and tribal elites.
I believe this political structure has rarely created equal opportunities for individuals from poor, lower-middle-class, or middle-class backgrounds to attain national leadership.
In my opinion, the Awami League of former East Pakistan did not receive equal acceptance because its leader, Sheikh Mujibur Rahman, came from a modest lower-middle-class background rather than a wealthy or feudal family.
Likewise, I contend that the Muttahida Qaumi Movement (MQM) was not accepted because it was not founded by influential feudal or tribal elites. I maintain that its founder, Altaf Hussain, came from an ordinary middle-class family. State institutions took extensive measures to restrict the party’s nationwide growth, imposed limitations on its leadership, and conducted campaigns aimed at damaging its public image.
Similarly, I believe that Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) Chairman Imran Khan, who also came from a middle-class background rather than a traditional political dynasty, encountered comparable obstacles while in government.
1/2
پاکستان میں جمہوریت کےنام پر شریف خاندان اوربھٹوخاندان حکمرانی چل رہی ہے۔ الطاف حسین
پاکستان میں جمہوریت کےنام پر دوخاندانوں شریف خاندان اوربھٹوخاندان کی بادشاہت اور نسل درنسل حکمرانی چل رہی ہے، دو خاندانوں کی حکمرانی جمہوریت نہیں بلکہ نسل درنسل چلنے والی موروثیت ہے اور موروثیت جمہوریت نہیں بلکہ جمہوریت کی ضد ہے۔پیپلزپارٹی اور ن لیگ دونوں جماعتوں کاجنم اورپرورش فوج کی نرسری میں ہوا۔شاہنواز بھٹو کے بعد ان کے بیٹے ذوالفقارعلی بھٹو، انکےبعد انکی بیٹی بینظیربھٹو،مرتضی بھٹو،بینظیر بھٹوکے بعد انکے بیٹےبلاول زرداری اقتدارکے ایوانوں میں پہنچے۔اسی طرح نوازشریف کے بعد ان کے بھائی شہباز شریف،ان کےبیٹے حمزہ شہباز شریف،نوازشریف کی بیٹی مریم نواز اقتدار میں آگئی ہیں۔ان دونوں خاندانوں نے باربار اپنی حکمرانی میں ملک کے خزانے کوجس طرح لوٹاہے، اس کی داستانیں پوری دنیا میں مشہور ہیں، ان کی بے حساب جاگیریں اور جائیدادیں نہ صرف پاکستان میں ہیں بلکہ پاکستان سےباہر برطانیہ، امریکہ، سوئٹزرلینڈ اوردیگر ممالک میں بھی ہیں جن کا کوئی حساب نہیں ہے۔زرداری صاحب کودنیا کس نام سے پکارتی ہے وہ بھی سب کومعلوم ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹوکے والد سرشاہنواز بھٹو نے انگریزوں کی اطاعت وفرمانبرداری کی جس کے صلےمیں انہیں سندھ میں ہزاروں ایکڑ زمینیں ملیں، پھربھٹو خاندان نے جرنیلوں کی خدمت کی۔ذوالفقارعلی بھٹو کا ملک کے پہلے فوجی ڈکٹیٹرجنرل ایوب خان سے کیا رشتہ تھا،وہ انہیں اپنی کابینہ میں لائے، پیپلزپارٹی بھی جنرل ایوب خان نے بنائی جسے بعد میں جنرل یحییٰ خان کی سرپرستی حاصل رہی اوربھٹو دونوں فوجی ڈکٹیٹرز کی حکومتوں میں شامل رہے۔اسی طرح میاں نوازشریف کو فوجی ڈکٹیٹرجنرل ضیاء الحق سیاست میں لائے، جنہوں نے مسلم لیگ ن بنائی اورپھرجنرل ضیاالحق کے جاں بحق ہونے کے بعد نوازشریف نے جنرل ضیاء الحق کامشن جاری رکھنے کا اعلان کیا اورملک کواسی راستےپر لے کر چلے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کے جائزے سے یہ بات ثابت ہے کہ ملک میں حکومتیں بنانے، ختم کرنے،تبدیل کرنے اورخاندانوں، جاگیرداروں، وڈیروں اورسرداروں کواقتدارکے ایوانوں میں لانےاور کرسیوں پر براجمان کرنے اورخاندانوں کی اجارہ داری اورآمریت قائم کرنے کی طاقت کااصل مرکز عسکری قوت ہے۔عسکری طاقت کے اس مرکز نے کبھی بھی غریب،لوئر مڈل کلاس، مڈل کلاس سے جنم لینے والے رہنماؤں کودل سے قبول نہیں کیا۔
سابقہ مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ کو فوج نے قبول نہیں کیا کیونکہ عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن کوئی جاگیردار یاوڈیرے نہیں بلکہ ایک غریب اورلوئرمڈل کلا س گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ عسکری طاقت نے ایم کیوایم کوقبول نہیں کیاکیونکہ ایم کیوایم وڈیروں، جاگیرداروں اورسرداروں کی جماعت نہیں ہے،ایم کیوایم کا بانی الطاف حسین کوئی جاگیردار یاوڈیرہ نہیں بلکہ ایک مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی لئے ایم کیوایم کوپورے ملک میں پھیلنے نہیں دیاگیا اورایم کیوایم کو ختم کرنے کےلئے پوری ریاست کی طاقت استعمال کی گئی،الطاف حسین پرپابندی لگادی گئی اور اس کے خلاف الزامات اور پروپیگنڈوں کاطوفان کھڑا کردیا گیا۔ اسی طرح تحریک انصاف کے سربراہ عمران خا ن بھی کوئی جاگیردار یا وڈیرے نہیں،وہ اپرمڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کوبھی نہیں چلنے دیاگیا۔
بار بارآزمانے اورملک کوباربار لوٹنے کے باوجود آج بھی پاکستان پر شریف خاندان اوربھٹوخاندان کو ملک پر مسلط کیا ہوا ہے۔ میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈمارشل عاصم منیر سے کہتا ہوں کہ وہ پاکستان کو ان دوخاندانوں کے تسلط سے نجات دلائیں اورجن کوجماعتوں کو عوام کی اصل حمایت حاصل ہے،ان کی عوامی حمایت اور مینڈیٹ کااحترام کیا جائے، انہیں سیاسی آزادی فراہم کی جائے۔ ملک میں نئے سرے سے صاف وشفاف، آزادانہ اورمنصفانہ الیکشن کرائے جائیں، جوجماعت کامیاب ہو، اقتدار اس کے حوالے کیا جائے۔
پاکستان کی پالیسیاں بنانے والوں سے کہتا ہوں کہ خدارا ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کریں اورماضی کی طرح ایک بارپھر پاکستان کو دوسروں کے مفاد کے لئے استعمال نہ ہونے دیں اور سوچیں کہ آپ پاکستان کوکس راستے پر لے جارہے ہیں۔ پاکستان بہت مشکل اورنازک دور سے گزررہا ہے، خدارا فوج اپنے پیشہ وارانہ فرائض پر توجہ دے،ہم فوج کے خلاف نہیں، فوج ایک حقیقت ہے، ہرملک کوفوج کی ضرورت ہوتی ہے، فوج ملک کی سرحدوں کا دفاع کرے اور سویلین کوان کا کام کرنے دے، دونوں ایک دوسرے کے وجود کوتسلیم کریں اورمل کرملک کومضبوط کریں۔
میں مطالبہ کرتا ہوں کہ عمران خان اوران کے اسیرساتھیوں کورہا کیا جائے، ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں کوبازیاب کیا جائے، جیلوں میں اسیرایم کیوایم کے کارکنوں کورہا کیا جائے، ایم کیوایم پر عائد غیراعلانیہ پابندی ختم کی جائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 433 ویں فکری نشست سے خطاب
21 جولائی 2026
مہاجروں کے خلاف مظالم اورآمریت کے تسلط میں ذوالفقارعلی بھٹوکاکردار :
الطاف حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان ایک آزاد ملک یا گیریژن اسٹیٹ؟
پاکستان ہمیشہ سے امریکہ، برطانیہ اور مغربی طاقتوں کے مفادات کیلئے ہرطرح کی مدد کرتارہا ہے اوراس کے ہرظالمانہ اور جابرانہ عمل پرامریکہ کاساتھ دیتا چلا آیا ہے۔ پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہے،جس میں یہ کہا گیا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصورکیا جائے گا۔اب پاکستان کایہ مؤقف سامنے آیا ہےکہ سعودی عرب پر حملہ سرخ لکیرہے، اگر سعودی عرب پر ایران یا یمنی حوثیوں نے حملہ کیا توکیا پاکستان بھی اس جنگ میں شامل ہوجائے گا؟ کیا پاکستان سعودی عرب پر حملے کےجواب میں ایران یا یمن کے حوثیوں پر حملہ کرے گا؟کیا اس صورت میں پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں نہیں آجائےگا؟ کیا اس جنگ میں کودنا پاکستان کے مفاد میں ہوگا؟ آج ہرفرد یہ سوال کررہاہے کہ آپ ایسا کیوں کررہے ہیں؟یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سعودی عرب کاڈیفنس امریکہ کے پاس ہےاگر سعودی عرب،اردن، شام، ترکی، مصر اورمڈل ایسٹ میں قائم امریکی اڈوں سے ایران پر حملے ہوتے رہیں تو کیا ایران کو جواب نہیں دینا چاہیے؟پاکستان پہلے بھی غیرملکی طاقتوں کےمفادات کیلئے پہلے بھی گیریژن اسٹیٹ تھا اورآج بھی ہے جس کے باعث پاکستان کا کلچر تباہ ہوگیا، سرد جنگ میں پاکستان میں جہادری مدرسے اور تحریک طالبان کیاMQM نے بنائی؟ یا فوج، مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے بنائی، پیپلزپارٹی کابیان ریکارڈ پر ہےکہ”طالبان ہمارے بچے ہیں “ مسلم لیگ کے سربراہ نوازشریف کہتے تھےکہ ”میں جنرل ضیاء الحق کااسلامی نظام لاؤں گا“۔ یہ عجب مذاق ہے کہ جو لوگ فوج کی نرسری میں پیدا ہوئے وہ آج جمہوریت کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کاجائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ 23، مارچ 1956ء کو اسکندر مرزا کوگورنرجنرل سے پاکستان کا صدربنایا جاتا ہے۔7، اکتوبر1958ء کو انہوں نے ملک میں مارشل لاء لگادیا، اس وقت آرمی چیف جنرل ایوب خان تھا، اسکندرمرز نے جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا۔مارشل کے نفاذ کے محض 20 دن بعد یعنی 27،اکتوبر1958ء کو جنرل ایوب خان نے صدراسکندرمرزا سے بندوق کی نوک پر استعفیٰ لیا اور انہیں جلاوطن کردیا، ا س طرح ملک پر جنرل ایوب خان کی فوجی آمریت کاسلسلہ شروع ہوا۔وہ ملک کے صدر اور فیلڈ مارشل بھی بن جاتے ہیں۔ جنرل ایوب خان نے جب اپنی کابینہ تشکیل دی تو ذوالفقارعلی بھٹو اس فوجی کابینہ میں شامل ہوتے ہیں، انہیں پہلے وفاقی وزیربرائے تجارت اورپھر وفاقی وزیربرائے پانی وبجلی بنایا جاتا ہے۔اب پاکستان کے عوام کیلئے دعوت فکرہے کہ غریب عوام دوست اور روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والا بھٹو کہاں کی پیداوارہیں؟ اسی طرح ن لیگ کے سربراہ نوازشریف کو جنرل ضیاء الحق کی پیداوار کہا جاتا ہے۔
1960ء سے 1962ء تک بھٹو فیلڈ مارشل ایوب خان کی کابینہ میں وزیررہے پھر 1962ء میں بھٹو کووزیرخارجہ بنادیاجاتا ہے۔ اس وقت ذوالفقارعلی بھٹو جنرل ایوب خان یعنی ایک آمر کو ڈیڈی کہا کرتے تھے۔
1957ء میں ذوالفقارعلی بھٹو اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے بھی رہے۔جب 1964ء میں صدارتی الیکشن کاسلسلہ شروع ہوا تو اس وقت ذوالفقار علی بھٹو وزیرخارجہ کے منصب پرفائز تھے، جنوری1965ء میں صدارتی انتخاب ہوئےتو بنگالیوں اورمہاجروں نےقائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کاساتھ دیا لیکن جنرل ایوب خان نے صدارتی انتخاب میں دھاندلی کرکے محترمہ فاطمہ جناح کو ہرادیا، جنرل ایوب خان کو شدید غصہ تھا کہ مہاجروں نے محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا اور انہوں نےیہ کہا کہ ”مہاجروں کیلئے سمندر ہے“ذوالفقارعلی بھٹو مہاجروں سے شدید نفرت رکھتا تھا، اس نے جب دیکھا کہ مہاجروں نے ان کے ڈیڈی کو ووٹ نہیں دیئے توبھٹو نے جنرل ایوب خان سے کہاکہ ” ڈیڈی مہاجروں کو سبق سکھائیں اورجشن فتح مناکر ثابت کریں کہ کراچی اورحیدرآباد سے بھی آپ کامیاب ہوئے ہیں لہٰذا ایوب خان کے بیٹے گوہرایوب کی سربراہی میں قبائلی علاقوں سے سادہ لوح پٹھانوں کویہ کہہ کر کراچی لایا گیا کہ وہاں کافروں سے لڑنا ہے، جشن فتح کی آڑ میں پٹھانوں کے ذریعے مہاجربستیوں پر حملےکرائے گئے۔ جشن فتح کے نام پر کراچی میں جلوس نکالے گئے، مہاجربستیوں پر حملے کرکے نہتے مہاجروں کا قتل کیا گیا۔ جبکہ بعض پوڈکاسٹرز منفی پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ الطاف حسین نے مہاجروں کودوسری قومیتوں کے خلاف بھڑکایا۔ میں سوال کرتا ہوں کہ 1964ء میں کیاالطاف حسین سیاست میں تھا؟ کیاایم کیوایم کاوجود تھا؟
ایوب خان کے دور میں مہنگائی کے خلاف ملک بھر میں جلوس نکالےگئےجن میں ”ایوب کتا ہائے ہائے“ کے نعرے لگاکرتے تھے۔ یہ صورتحال دیکھ کر ذوالفقارعلی بھٹو ایوب خان کی کابینہ سے علیحدہ ہوگئے۔
1/2
سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ایک سازشی منصوبے کے تحت سندھ کے مستقل باشندوں سندھیوں اور مہاجروں کے درمیان نفرتیں پھیلانے کی کوششیں کررہی ہے، اس کے لئےکچھ مخصوص صحافیوں اور یوٹیوبرز میں ایک خطیررقم تقسیم کی گئی ہے اوران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے وی لاگز اور پوڈکاسٹ میں الطاف حسین، مہاجروں اور ایم کیوایم کے خلاف جتنازہراگل سکتے ہو، جتنے الزامات لگا سکتے ہو لگاؤ، نفرت پھیلاؤ تاکہ سندھیوں اورمہاجروں کے درمیان دوبارہ سے نفرتیں پھیلائی جاسکیں، ان کے درمیان نفرتیں اوراشتعال پھیلایا جائےتاکہ انہیں آپس میں لڑایاجائے، سندھ میں پھر سے کشت وخون کرایا جائے۔ یہ وہی عمل ہے جو پیپلزپارٹی نے اپنی سابقہ حکومتوں کے دور میں کیا، جو19جون 1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے دورمیں MQM کوختم کرنے کے لئے کیا گیا تھا، جس کا سلسلہ پیپلزپارٹی کی بینظیربھٹوحکومت نے جاری رکھا اورایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا، ہزاروں کارکنوں کو گرفتارکرکے جیلوں میں قید کیا گیا، سینکڑوں کولاپتہ کیا گیا، آبادیوں کے محاصرے کرکے ظلم وستم کے پہاڑتوڑے گئے، پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت بھی وہی ظلم کررہی ہے، ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں کی گرفتاریاں کررہی ہے، ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنارہی ہے، شہری عوام کوان کے حقوق دینے کے بجائے ان کے خلاف نفرت وتعصب کے اقدامات کررہی ہے۔ جب ہم اس ظلم کے خلاف آوازاٹھاتے ہیں تو پیپلزپارٹی کی حکومت اسے نفرت اورتقسیم کی سیاست قراردیتی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی اپنی تاریخ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کے ساتھ نفرت، تعصب اورحق تلفیوں اور ظلم وبربریت سے بھری پڑی ہے۔ پیپلزپارٹی کی زیادتیوں سے اندرون سندھ کے عوام بھی بے زار آچکے ہیں لیکن پیپلزپارٹی عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ایک بارپھر سندھ کارڈ کھیل رہی ہے لیکن اب سندھ کے باشعور عوام اس کے پروپیگنڈوں میں نہیں آئیں گے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست سے خطاب
جو یہاں پیو تو حلال ہے
جو وہاں پیو تو حرام ہے
کراچی،حیدرآباد اور دیگر شہروں میں MQM کے کارکنوں اور بزرگوں کو گرفتار کرنا، ان پر حراست میں تشدد کرنا،ماورائے عدالت قتل کرنا،دہشت گردی کےجھوٹے مقدمات قائم کرنا جائز اور حلال ہے
مگر
کشمیر میں اپنےایک کارکن پر مقدمہ قائم حرام ہے،کیسے کرلیتے ہیں یہ
@BBhuttoZardari
3/3
مشرقی پنجاب سے موجود پنجاب میں ہجرت کرکے آنے والوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہوا کیونکہ ان کی اور پنجاب میں رہنے والوں کی زبان، ثقافت اورطرز معاشرت ایک ہی تھی جبکہ ہندوستان سے ہجرت کرکے سندھ میں آباد ہونے والے اردواسپیکنگ کی زبان، ثقافت الگ تھی لہٰذا ان کاآنا یہاں کے سندھیوں کو پسند نہیں تھا، ابتدا میں کوئی فساد نہیں ہوالیکن اس کے بعد مہاجروں کے ساتھ ناانصافیوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔
پاکستان میں قائداعظم کےانتقال کے بعد انگریزوں نےفوجی جرنیلوں کے ذریعے سسٹم تبدیل کردیا،ملک کانظام حکومت انگریزی زبان میں کردیا گیا،ملک میں دہرا تعلیمی نظام نافذ کردیاگیا، طبقاتی بنیادوں پرایک طر ف برطانوی اورامریکی طرز کے انگریزی اسکول کالج بنائے گئے جہاں جاگیرداروں، وڈیروں کے بچے ہی تعلیم حاصل کرسکیں جبکہ غریب کے بچوں کے لئے پیلے اسکول بنائے گئے۔اس طرح ملک میں جان بوجھ کردو طبقات پیدا کردیے گئے، ایک وہ جو اعلیٰ طبقہ کی کلاس جوانتظام حکومت میں آئے اور دوسراوہ نچلاطلبہ جوان کا غلام بنے اور جن پر حکمرانی کی جائے۔اسی ظالمانہ نظام کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 80برس میں پنجاب، سندھ،بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے صرف اشرافیہ اور ان کی اولادیں ہی اسمبلیوں میں پہنچتی رہیں جبکہ غریب کسان، مزدور اورلوئر مڈل کلاس افراد قومی وصوبائی اسمبلیوں اورسینیٹ میں پہنچنے کے بجائے محکوم رہے۔ایسے میں ان کے سامنے ایک جماعت متحدہ قومی موومنٹ آئی اورالطاف حسین نے نظریہ دیاکہ پاکستان انگریزوں کی فرمانبردار رولنگ ایلیٹ کا نہیں بلکہ عوام کاہے، پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام ختم ہونا چاہیے، انگریزوں کے فرمانبردار دوفیصد جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں اور بڑے بڑے سرمایہ داروں کاتسلط ختم ہونا چاہیے،انکےقبضےمیں جوہزاروں ایکڑ زمینیں ہیں وہ غریب ہاریوں، کسانوں، مزارعوں میں تقسیم ہوناچاہیے، ملک میں دہرانظام تعلیم ختم ہونا چاہیے، نظام تعلیم ایسا ہونا چاہیے کہ غریب اور لوئرمڈل کلاس کے بچے بھی ترقی کے میدان میں آگے بڑھ سکیں، وہ بھی سی ایس ایس کے امتحانات پاس کرکے اپنی اہلیت، قابلیت اورمیرٹ کی بنیاد پر انتظام حکومت چلانےکےلئے بیوروکریسی میں آسکیں، مسائل کے حل کےلئے نظام ان کے ہاتھ میں ہونا چاہیے جنہوں نے خود مسائل کا سامنا کیا ہو، الطاف حسین نے صرف یہ نظریہ ہی نہیں دیا بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کراچی،حیدرآباد اور سندھ کے تمام شہری علاقوں سے غریبوں، لوئرمڈل کلاس اورمڈل کلا س سے تعلق رکھنےوالے پڑھے لکھے نوجوانوں کوعوامی ووٹوں سے منتخب کرواکربلدیات، صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اورسینیٹ کے ایوانوں میں بھیجا جہاں اس سے پہلے اس کاتصور نہیں کیا جاسکتاتھا۔ ایم کیوایم کے اسی عوامی انقلاب کی وجہ سے ملک کی اقتدارمافیا ایم کیوایم کوختم کرنے کے درپے ہوگئی، اس کے خلاف اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پروپیگنڈے کرائے گئے، اس کے خلاف بار بار ریاستی آپریشن کئے گئے، آج بھی ایم کیوایم کاراستہ روکنے کے لئے اس کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کئے جارہے ہیں اورہربرائی اورخرابی کاذمہ داراس کو قرار دیاجارہاہے،اسے ملک دشمن قراردیا جارہا ہے۔ یہ پروپیگنڈے کرنے والے عناصر ہی دراصل ملک اورعوام کے دشمن ہیں جو نہیں چاہتے کہ پورے ملک میں غریب اور متوسط طبقہ کاانقلاب برپا ہو اور غریب عوام اشرافیہ کی غلام بنے رہیں۔ عوام کو ایسے عناصر کے پروپیگنڈوں میں نہ آئیں اورمتحد ہوکرجدوجہدجاری رکھیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 431 ویں فکری نشست سے خطاب
17جولائی 2026ء
https://t.co/bG1tTRlylt
تقسیم ہند اور تاریخ برصغیر کے ناقابل تردید پہلو :
( اس فکری نشست کو ضرور پڑھئیے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہندوستان کی تاریخ کئی ہزار سال پرانی ہے جبکہ پاکستان کی تاریخ محض 79 برس کی ہے اسلئے پاکستان اور ہندوستان کی تاریخ کا موازنہ نہیں کیاجاسکتا۔ ہندوستان کی تقسیم سلطنت برطانیہ کے طےشدہ منصوبےاور سازش کی تحت کی گئی اوراس تقسیم کیلئے ہندوستان میں مذہب کو ہتھیار بناکرفسادات اور خون خرابہ کرایا گیا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعدبرطانوی سلطنت کیلئے ہندوستان پر اپنا قبضہ جاری رکھنا ناممکن ہوگیا تھا،انگریزوں نے جاتے جاتے ایسے اقدامات کیے کہ ہندوستان تقسیم درتقسیم ہوگیا۔ہندوستان کوتقسیم کرنے کیلئے دوقومی نظریئےدیا گیا،اس نظریئے کوجواز بناکرآج بھی ببانگ دہل کہا جاتا ہے کہ ہندو اورمسلمان الگ الگ قومیں ہیں، ان کی تہذیب، ثقافت، تمدن، کھانے، رہن سہن اورسب سے بڑھ کرمذہب الگ الگ ہیں۔ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ہیں اور ہندو عددی اعتبارسےاکثریت میں ہیں لہٰذا انگریزوں کے جانے کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندوؤں کا غلام بن کررہنا پڑےگا، اس سوچ کو پھیلانے کیلئے انگریزوں نے مذہب کا استعمال کیا تاکہ ہندوستان سے برطانیہ کے جانے کے بعد بھی پورے ساؤتھ ایشیاریجن کو کنٹرول کیاجاسکے۔
کیادوقومی نظریہ حقیقت تھا؟
ہندوستان کی تقسیم کیلئے انگریزوں نے دو قومی نظریہ دیا، دوقومی نظریہ ایک فراڈ تھا، ہندوستان میں ہندو اور مسلمان کا مسئلہ اس لئے اٹھایا گیا کہ اگر انگریز ہندوستان سے چلے گئے تو مسلمان، ہندو اکثریت کے غلام بن جائیں گے اگر ایسا کوئی سلسلہ ہوتا کہ ہندو اورمسلمان الگ الگ ہیں تو انگریزوں نے یہ مسئلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کیوں اٹھایا؟ مسلمان 700 برسوں سے ہندوؤں اورہندوستان کے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ مل کررہ رہے تھے لیکن دوقومی نظریہ کے نام پر کہاگیا کہ ہندوستان میں مسلمان، ہندوؤں کے ساتھ نہیں رہ سکتے اور مسلمانوں کا علیحدہ وطن ہونا چاہیے، اگر یہ مطالبہ صحیح ہوتا تو ہندوستان کی تقسیم اس طرح کی جانی چاہیے تھی برصغیر کے 10 کروڑ مسلمان اس زمین پر آباد ہوتے جہاں پاکستان بنایا گیا اور ایک بھی مسلمان ہندوستان میں نہیں رہتا اور دوقومی نظریئے کی بنیادپر حاصل ہونے والا ملک ہندوستان کے 10کروڑ مسلمانوں کا وطن ہوتا۔
ہندوستان میں بزرگان دین:
اس حوالے سے اگر ہم غورکریں اوربزرگان دین کودیکھیں، یہ تاریخی حقائق ہیں کہ حضرت امیرخسروؒ1253ء میں پیدا ہوئے جبکہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء 1238ء میں پیدا ہوئے،حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ 1142ء میں پیداہوئے جبکہ حضرت علی بن عثمان الہجویری المعروف داتا گنج بخش1009ء میں پیدا ہوئے۔ہندوستان میں ان بزرگان دین میں کوئی 1000ء میں پیدا ہوئےاور کوئی 1200ء میں پیدا ہوئے،یہ تمام بزرگان دین مسلمان تھے، انسانیت کی تبلیغ کیا کرتے تھے اورلوگوں کو دین اسلام کی دعوت دیاکرتے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہندوؤں کی اکثریت نے ان بزرگان دین کو اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ؐ اور دین اسلام کی تبلیغ کی اجازت کیسے دے دی تھی؟ اگر مسلمان اور ہندو ایک ساتھ نہیں رہ سکتے تھے تو پھر آج تک دہلی اور اجمیر شریف میں ان بزرگان دین کےمزارات کیوں ہوتے؟ ان اولیائےکرام نےکبھی ہندو، سکھ، عیسائی یاکسی دوسرے مذاہب کے لوگوں کو مذہبی تفریق کی بنیادپر اپنی محفل سے نہیں نکالا تھا، کبھی مذہب کی بنیاد پر کسی سے نفرت یاتعصب کا درس نہیں دیاتھا۔
ہندوستان پر سب سے پہلے جس مسلمان علاؤالدین خلجی نے1296ء میں باہرسے آکر ہندوستان کو فتح کیااور حکومت کی اوروہ 1316ء تک سلطنت دہلی پر قابض رہا۔ مسلمانوں نے ہندو راجہ، مہاراجہ اور بادشاہوں کو شکست دیکر ہندوستان پر اپنی حکومتیں ضرور قائم کرلیں مگر کیا انہوں نے غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کومسمار کیا تھا؟
یہ ایک تلخ بات ہے لیکن حقیقت ہے کہ دوقومی نظریئے کی بنیادپر صرف ہندوستان کی زمین کوہی تقسیم نہیں کیا گیا بلکہ مسلمانوں کی بھی تقسیم کی گئی، ہندوستان کے مسلمانوں کو پہلے دو اور پھر تین حصوں میں تقسیم کردیا گیا، پورے ہندوستان میں بنگال سےدہلی، دہلی سے بہار، بہار سے حیدرآباد دکن، حیدرآباد دکن سے جوناگڑھ، جوناگڑھ سے راجپوتانہ اور راجپوتانہ سے گجرات تک سب جگہ مسلمان اور ہندو صدیوں سے مل جل کررہتے چلے آرہے تھے پھر اچانک 80 سال پہلےہندوستان کو تقسیم کیوں کردیاگیا؟ اگر دوقومی نظریہ سچا ہوتا آج ہندوستان میں ایک بھی مسلمان نہیں رہتا بلکہ ہندوستان کےتمام مسلمان دوقومی نظریئے کے تحت بننے والے ملک میں ہوتے مگرکیا دوقومی نظریئے کے مطابق ایسا ہوا؟
1/3
ایم کیوایم برطانیہ کی جانب سے بروز ہفتہ 18 جولائی 2026 کو ایم کیوایم کے سینئر وفاپرست کارکن سعید گدی بھائی کے ماورائے عدالت قتل اور جبری لاپتہ کارکنان و ہمدردوں کی گمشدگیوں کے خلاف برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ پر ایک پر امن مظاہرہ کیا گیا.
مظاہرے سے کنوینر مصطفیٰ عزیزآبادی بھائی اور دیگر اراکین رابطہ کمیٹی سمیت ایم کیو ایم برطانیہ کے زمداران نے بات کی۔
#ReleaseAllMQMWorkers
#StopKillingMQMWorkers
ایم کیو ایم، بانی و قائد الطاف حسین اور مہاجروں کےخلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم کون چلوا رہا ہے،مواد کون دے رہا ہے،نام نہاد صحافیوں اور یوٹیوبرز کو کیسے استعمال کیا جارہا ہے، سینئر صحافی مبشر فاروق نے سب بے نقاب کردیا
#کیا_مہاجر_یہودی_ہیں@mfarooq2018 کےسنسنی خیز انکشافات سے بھرپور رپورٹ ضرور سنئیے 👇
https://t.co/1ZaRPpuHbO
بلاول زداری کا آزاد کشمیر میں ایم کیو ایم اور قائد تحریک الطاف حسین کے خلاف زہر اگلنا ان کے خوف کا اظہار ہے۔
بلاول زداری نہیں چاہتا کہ کشمیر کے مظلوم عوام بھی MQM کی طرح متحد ہوکر اپنے حقوق کی جدوجہد کریں اور نوجوان کشمیری رہنما بھی قائد تحریک الطاف حسین کی طرح اپنی قوم کے حقوق کے لئے ڈٹ کر کھڑے رہیں۔
بلاول چاہتا ہے کہ کشمیری عوام بھی لاڑکانہ اور نوڈیرو کے غریب سندھی ہاریوں کی طرح انکے غلام بنکر رہیں اسی لئے پیپلزپارٹی کی آزاد کشمیر حکومت سندھ کی طرح کشمیر میں بھی حقوق مانگنے والوں پر ظلم ڈھا رہی ہے۔
الطاف حسین ظالموں کے خلاف جرات و ہمت اور استقامت کی علامت بن چکے ہیں
@BBhuttoZardari
کشمیر میں لوگ سراپا احتجاج ہیں، بلوچستان میں لوگ میتیں لیکر دھرنا دیے ہوئے ہیں، پختونخوا کی صورتحال سب کے سامنے ہے، انڈیا نے ایٹمی آبدوزیں کھڑی کردی ہیں، پاکستان سنگین مسائل سے دوچار ہےلیکن حکمراں باہر کے مسائل میں مصروف ہیں۔کیا حکمرانوں کا یہ طرز عمل صحیح ہے؟
الطاف حسین
سندھ حکومت کے وزیر محنت سعید غنی خاصخیلی کو فوری طور پر برطرف کیا جاۓاور دیگر تمام زمہ دار ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو تحقیقات کے بعد سخت سزائیں دی جائیں.
ممبر رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم شعیب علی خان.
متحدہ قومی موومنٹ رابطہ کمیٹی کے رکن شعیب علی خان نے آج جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کے وزارت محنت سندھ گورنمنٹ کے زیر انتظام چلنے والے کلثوم بائی ولیکا ہسپتال سائٹ کراچی میں نا اہل ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی مجرمانہ غفلت کی وجہہ سے جو سانحہ پیش آیا جس میں اطلاعات کے مطابق ایک ہی سرنج کے بار بار استعمال کی وجہہ سے تقریبآ 200 معصوم بچے HIV ایڈز کا شکار ہو گۓ ہیں اس بات کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں کے پیرا میڈیکل اسٹاف کے پاس مطلوبہ تعداد میں سرنج کیوں موجود نہیں تھیں وہ کیوں ایک ہی سرنج بار بار استعمال کرتے رہے متلعق ڈاکٹرز اور افسران نے انھیں کیوں نہیں روکا کیا وہ دوائیں اور سرنج بھی پیپلز پارٹی کی لوٹ مار اور کرپشن کی نظر ہو گئی تھیں،
اور اس بات کی مکمل تحقیقات ہونے تک سعید غنی کو وزارت سے برطرف کیا جاۓ تاکہ وہ تحقیقات پر اثر انداز نہ ہوں سکیں
Reference :
https://t.co/6A8SMxDmHA
جنگ آزادی کامقصد: ہندوستان کی آزادی یا قیام پاکستان؟ تاریخی حقائق کیا ہیں۔
(2)
( الطاف حسین )
دوقومی نظریئے کو پاکستان کی اساس کہاجاتا ہے جبکہ ہندوستان پر700 سال تک مسلمان حکمرانوں نے حکومت کی تھی۔ پھرسوال یہ پیداہوتاہے کہ یہ دوقومی نظریہ 700 سال قبل کیوں سامنے نہیں آیا؟
میں پہلے بھی یہ بات بارثابت کرچکاہوں اور آج پھرکہتاہوں کہ 23مارچ 1940ء کولاہور کے منٹوپارک میں آل انڈیامسلم لیگ کےکنونشن میں جوقرارداد منظور ہوئی تھی وہ قرارداد لاہور تھی، اسے قرارداد پاکستان کہناتاریخ کو مسخ کرنا اور سراسر جھوٹ اور فریب ہے۔افسوس کہ ہمارے ہاں قوم کوتاریخ مسخ کرکے پڑھائی جاتی ہے اوربتایاجاتاہے کہ 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی اسی لئے 23مارچ کو یوم پاکستان منایا جاتا ہے۔جب قرارداد پاکستان منظورہی نہیں ہوئی تھی تو پھر 23 مارچ کو یوم پاکستان کیوں منایا جاتاہے؟
دسمبر1906ء میں ڈھاکہ میں سرآغاخان، نواب وقارالملک، نواب سلیم اللہ اوردیگر کی جانب سے آل انڈیا مسلم لیگ کاقیام عمل میں لایاجاتا ہے، اگرآزاد اورخودمختار مملکت کامطالبہ کرنا بھی تھا تو ڈھاکہ میں کرنا چاہیے تھا، موجودہ پاکستان میں قیام پاکستان کی کوئی جدوجہد نہیں ہوئی، یہاں نہ کوئی جلسے جلوس کیے، نہ جانی ومالی قربانیاں دیں اورنہ ہی یہاں کے بڑے بڑے اکابرین نے جیلوں کی سختیاں جھیلیں۔
1600ء میں برطانیہ میں ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کی گئی تھی، 1608ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے انگریز تجارت کی غرض سے ہندوستان آنا شروع ہوئے، انگریز خالی جہاز لاتے اور ہندوستان سے جہازوں میں مال بھربھر کے برطانیہ اور یورپ لاتے تھے۔17 ویں صدی کے آخر تک ہندوستان میں مضبوط ہونے لگے اور وہ اتنے منظم ہوگئے کہ انہوں نے ہندوستان کے حکمرانوں سے کمپنی بنانے کی اجازت اورجگہ مانگی تاکہ وہاں ہندوستان کے چپے چپے سے سامان جمع کرکے پیک کرسکیں اورپھر جہازوں پر لاد سکیں۔لہٰذ ا انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے تجارت کی غرض سے ہندوستان کے ہرعلاقے کا سفر کرنا شروع کردیا، ہندوستان ایک ایسا خطہ تھاجوکہ ہرطرح کی دولت سے مالامال تھا، انگریز جس علاقے میں جاتے وہاں مال ودولت دیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی تھیں۔
آپ نے امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور یورپی ممالک سمیت ہرملک میں چائنیز، اٹالین، ترکش، فرنچ، لبنانی، انڈین، ایرانی،جاپانی، کورین اورتھائی ریسٹورنٹ دیکھے ہوں گے لیکن آپ کو کسی بھی ملک میں انگلش ریسٹورنٹ نہیں ملے گاکیونکہ ثقافتی لحاظ سے انگریز صرف Fish and Chips کھاتے تھے۔ انگریزوں کو کاٹن، ململ، مصالحہ جات اورلونگ الائچی کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔جب انگریزوں نے دیکھا کہ ہندوستان میں انگنت تہذیبوں،ثقافتوں، معاشرتوں اورمذاہب کاخزانہ ہے اوراگر ہندوستان پر قبضہ کرلیا جائے تو برطانیہ کی دولت میں اتنا اضافہ ہوجائے گا کہ وہ پوری دنیا سے سلطنتوں کا خاتمہ کرکے ہرجگہ برطانوی سلطنت قائم کرسکتا ہے۔ بالآخر ایسٹ انڈیا کمپنی تجارتی کمپنی سے جنگی کمپنی میں تبدیل ہوگئی،برطانیہ کی آبادی اتنی نہیں تھی کہ وہ ہندوستان اوراس کی دولت پرقبضہ کرسکے اورانہیں افرادی قوت کی ضرورت تھی لہٰذا انگریزوں نے مقامی افرادکوفوج میں بھرتی کرنا شروع کردیا۔ میں یہ بات چیلنج کے ساتھ کرتا ہوں کہ پورے ہندوستان میں جس خطے سے سب سے زیادہ لوگ انگریزوں کی فوج میں شامل ہوئے وہ اسی علاقے کے لوگ تھے جہاں قرارداد لاہور منظور کی گئی۔
1857ء کی جنگ آزادی میں حریت پسندوں کے خلاف لڑنے اوران کی مخبریاں کرنے والے انہی علاقوں کے لوگ تھے جہاں پاکستان قائم کیاگیا، بعدمیں انگریزوں نے اپنے انہی سب سے زیادہ وفادار اورفرمانبردارفوجیوں کیلئے ہندوستان کو تقسیم کرکے اس خطے میں پاکستان بناکردیا اور اس کیلئے23 مارچ 1940ء کو قرارداد منظورکروائی گئی۔
پہلی جنگ عظیم اوردوسری جنگ عظیم کے دوران موجودہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی انگریزوں کی فوج میں فرنٹ لائن ہواکرتے تھے جنہوں نے عرب علاقوں کوفتح کرنے کےلئے انگریز فوج کاساتھ دیا، حتیٰ جب عرب کوفتح کرنے کے لئے مکہ فتح کرنے کامعاملہ آیا تو فوج میں شامل ہندو، عیسائی، سکھ اور دیگرمذاہب کےفوجیوں نے خانہ کعبہ پر گولی چلانے سے صاف انکار کردیا کہ یہ مسلمانوں کی مقدس عبادت گاہ ہے ہم یہاں گولی نہیں چلاسکتے لیکن برطانوی فوج میں شامل موجودہ پاکستان کے فوجیوں نے انگریزوں کی وفاداری میں خانہ کعبہ پربھی گولیاں چلادیں۔
1/2
1857 ء کی جنگ آزادی کامقصد: ہندوستان کی آزادی یا قیام پاکستان؟ (1)
تاریخی حقائق کیا ہیں؟
(الطاف حسین)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک جائزہ:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
14، اگست1947ء کو پاکستان دنیا کے نقشے پر اُبھرا، قیام پاکستا ن سے آج کے دن تک پاکستان کی معاشی واقتصادی صورتحال، حکومتوں، عدالت، صحافت، سیاست اورپارلیمنٹ کا کردار اورفوجی جرنیلوں کی سیاسی، انتظامی، عدالتی و صحافتی معاملات میں مداخلت کاجائزہ لیا جائے توانتہائی افسوسناک حقائق سامنے آتے ہیں۔
قیام پاکستان کے وقت ملک دو حصوں پر مشتمل تھا، مشرقی پاکستان اورمغربی پاکستان۔
پاکستان کی صحافت ہمیشہ سے فوجی جرنیلوں اورحکومتوں کے زیراثر رہی ہے، 1971ء میں بعض صحافیوں،کالم نگاروں اورسیاسی تجزیہ نگاروں کی جانب سے قوم کو گمراہ کیاگیا کہ مشرقی پاکستان میں ہماری فوجیں ہرمحاذ پر دشمن کو شکست دے رہی ہیں ،16، دسمبر1971ء تک قوم سے جھوٹ بولاجاتا رہا جبکہ حقائق یہ تھے کہ پاکستان کی فوج 16 دسمبر 1971 کو بھارتی فوج کے آگے ہتھیار ڈال چکی تھی۔
پاکستان میں عدالتیں بھی آزاد نہیں ہیں بلکہ فوجی جرنیلوں کے کنٹرول میں رہی ہیں، عدالتوں نے ہمیشہ فوجی مارشل لاز کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قراردیا ہے۔ ججوں کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلے دینے سے قاصر ہیں اور فوجی جرنیلوں کی جانب سے من پسند فیصلے دینے کیلئے ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال فروری 2024ء کے عام انتخابات ہیں جس میں سپریم کورٹ نے پاکستان کی سب سےبڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف سے انتخابی نشان چھینا۔
پاکستان کی صورتحال میں سیاستدانوں کا بھی یہی کردار رہا ہے، اگر سیاستداں انگریزوں کے مقاصد دیکھ لیتے، انگریزوں کی سازشوں اور چالوں کوسمجھ لیتے تو ملک وقوم کوآج یہ دن نہیں دیکھنا پڑتے۔
جب تک ہم ان حقائق کو تسلیم نہیں کریں گے کہ ملک کے سیاستدانوں نے اپنے مفادات کیلئے فوج کے کاندھوں کا سہارا لیا ہے تب تک ہم مسئلہ کے حل کی جانب نہیں بڑھیں گے۔
ہندوستان پر قبضہ اورجنگ آزادی:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوجوان نسل اور Gen Z کو ان تاریخی حقائق سے آگاہ کرنا ضروری ہے کہ جب انگریزوں نے ہندوستان پرقبضہ کیا تو اس وقت پورے ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت تھی اورانگریزوں نے ہندوستان کی حکمرانی ہندوؤں سے نہیں بلکہ مسلمانوں سےچھینی تھی اور مسلمانوں نے 700 سال ہندوستان پر حکومت کی تھی۔1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد پورے ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا اور برطانوی سلطنت نے ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ بہادرشاہ ظفر کے بیٹوں کے سر قلم کرکے طشتری میں رکھ کر بہادرشاہ ظفر کو بھجوائے اورپھرانہیں حراست میں لےکرکالے پانی کی سزا دے کر برما کے شہر رنگون بھیج دیا۔ برما آج میانمار کہلاتا ہے۔رنگون میں آج بھی بہادرشاہ ظفر کی قبرموجود ہے۔ بہادرشاہ ظفر آخری وقت تک انگریزوں کا مقابلہ کرتے رہے۔یہ نہایت افسوسناک حقیقت ہے کہ متحدہ ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ کی قبر پر آج تک پاکستان کے کسی حکمراں نےنہ حاضری دی، نہ ان کی قبر پر پھول چڑھائےاورنہ انہیں سلام عقیدت پیش کیا، بہادرشاہ ظفر کی قبر پر اگر کسی نےحاظری دی تووہ ہندوستان کے وزیراعظم نے دی اورانہیں جاکرخراج عقیدت پیش کیا،یہ ایک وطن پرستی کی بات ہے۔
سچے مؤرخ کو غیرمتعصب اور غیرجانبدار ہونا چاہیے۔اگرتاریخ داں متعصب اورجانبدار ہوجائے تو وہ کبھی صحیح فیصلہ نہیں کرسکتا۔
ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے کے خلاف 1857 ء میں جو جنگ آزادی لڑی گئی تھی اس میں ہندوستان کے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے حریت پسندوں نے حصہ لیاتھا۔وہ جنگ آزادی پاکستان کی آزادی کیلئے نہیں بلکہ ہندوستان کی آزادی کیلئے لڑی گئی تھی۔جب ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا تو ہندوستان کے حریت پسندوں سبھاش چندربوس، بھگت سنگھ، چندرشیکھر آزاداوردیگرحریت پسند وغیرہ شامل ہیں، ان میں ایک اورحریت پسند شاعر عظیم آبادی بسمل کی یہ نظم بہت مقبول تھی۔ ” سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے، دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے۔
برطانوی سلطنت سے ہندوستان کی آزادی کیلئےجدوجہدکرنے والے حریت پسند وں کے خلاف انگریزوں نے شدید کریک ڈاؤن کیا،انہیں درختوں پر لٹکالٹکا کر پھانسیاں دی گئیں۔اگر دوسری جنگ عظیم نہ ہوتی تو ہندوستان پرانگریزوں کا قبضہ برقراررہتا، ہندوستان میں گھمسان کی جنگ ہوجاتی ہے اور حریت پسند ہندوستان کو آزاد کرالیتے اور برطانیہ ہندوستان سے واپس چلا جاتا لیکن دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کو شکست ہوئی ۔اس جنگ عظیم کی وجہ سے برطانیہ معاشی طورپربہت طور پر کمزور ہوگیاتھا لہٰذا اس نے ہندوستان کو آزادی دینے کافیصلہ کرلیالیکن برطانیہ نے خطے میں اپنااثربرقراررکھنے کے لئے جاتے جاتےپاکستان بناکر اسے اپنے وفاداروں کے حوالے کردیا تاکہ ان کے ذریعے وہ خطے کوکنٹرول کرسکے۔
1/2
پاکستان میں سول سپرمیسی جتنی پست آج ہے اتنی پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں تھی، ملک میں جمہوریت ناپید ہے، سول حکومت صرف نام کی ہے، حکومت غیرسیاسی لوگ کررہے ہیں، ملک کی حکومت ہی نہیں بلکہ تمام قومی سویلین ادارے عسکری عناصر چلارہے ہیں،عدالتوں کاجس قدر برا حال ہے اتنا بدتر کبھی نہیں تھا، عوام کو انصاف ملنے کے تمام دروازے بند کئے جارہے ہیں، ملک کی معیشت تباہ حال ہے اور بحیثیت ملک و قوم، ہماراسفر پیچھے کی طرف جارہاہے،یہ صورتحال نہایت افسوسناک اورمایوس کن ہے لیکن حقائق پر مبنی ہے۔اسی مایوس کن صورتحال کی وجہ سے جس شہری کوموقع مل رہاہے وہ ملک چھوڑ کر بیرون ملک جارہاہے۔ میں سمجھتاہوں کہ ایسے حالات سے مایوس ہوکرملک چھوڑ کر جانا مسئلے کاحل نہیں ہے، مسئلے کا حل یہ ہے کہ ہم ملک میں رہ کرجدوجہد کریں تاکہ ملک سے ظلم اورناانصافی کے راج کاخاتمہ ہوسکے، ملک کاموجودہ نظام اورحالات بہتر ہوسکیں۔ یہ کوئی آسان کام نہیں بلکہ بہت مشکل کام ہے، پوری دنیا میں عوام نے ایسے ہی حالات سے تنگ آکر تبدیلی کے لئے میدان عمل میں آکرجدوجہد کی، قربانیاں دیں اور اپنے ہاں موجود اسٹیٹس کو کوختم کیا اور نظام کوتبدیل کیا۔
میں اس بات پر خوش ہوں کہ پاکستان کے عوام خصوصاً نوجوانوں میں شعورتیزی سے پھیل رہا ہے اور میرا پیغام اب ملک بھر میں گھرگھرپہنچ رہا ہے اورجولوگ کل تک ملک کے مسائل کے اسباب کونہیں سمجھتے تھے اب وہ بھی سمجھنے پر مجبور ہیں کہ ملک میں موجود مسائل کی اصل وجہ کیا ہے اور کون لوگ قصور وار ہیں۔آج سب یہی سوچ رہے ہیں کہ اس بچے کچھے ملک کو کیسے بچایا جائے۔
پاکستان میں بدقسمتی سے ایک طرح کی آمریت نافذ ہے، اپوزیشن کوانتقام کا نشانہ بناکر بے اثرکیا جارہا ہے۔ سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کوتین سال سے قید کیا ہوا ہے، عدالت کے احکامات کے باوجود عمران خان کے وکلاء اوررہنماؤں کی ان سے ملاقات نہیں کرائی جارہی ہے، جیل میں ان کے ساتھ جوسلوک کیا جارہا ہے اس کی وجہ سے ان کی ایک آنکھ ضائع ہوچکی ہے، بعض لوگوں میں عمران خان کی زندگی کے حوالے سے بھی خدشات پائے جاتے ہیں کہ کہیں جیل میں ان کی زندگی کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک فوج کے جرنیل انہیں معاف نہیں کردیتے اورجرنیل اس وقت تک عمران خان کومعاف نہیں کریں گے جب تک امریکہ اس کے لئے راضی نہیں ہوگا۔
اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور عمران خان کے تمام چاہنے والوں کو چاہیے کہ وہ عمران خان کی رہائی کیلئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کولاکھوں کی تعداد میں خطوط لکھیں، پرامن احتجاج کریں، اگر ان کی لیڈرشپ مصلحت یاکسی بھی وجہ سے اس کافیصلہ کرنے سے گریز کرتی ہے تو پی ٹی آئی کے کارکنوں کو شہر شہر اپنے گروپ بنا کر خود پرامن احتجاج کرنا چاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 428 ویں فکری نشست سے خطاب
10جولائی 2026ء