یہ مقدمہ ہے یا لطیفہ ہے ؟
ایم کیو ایم لیگل ایڈکمیٹی کے سینئر رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ اور محمد سلمان ایڈوکیٹ کو آج پولیس نے مزید تین مقدمات میں بھی ملوث کردیا ہے۔لطیفہ یہ ہے کہ ان میں ایک مقدمہ وہ بھی شامل ہے جو اصل میں 16 جون 2022 کو لانڈھی میں قومی اسمبلی کےحلقہ NA-240 پر ضمنی الیکشن کے موقع پر تحریک لبیک TLP اور پاک سرزمین پارٹی PSP کے مابین جھگڑے کا ہے جس میں پولیس کی اپنی ایف آئی آر کے مطابق TLP اور PSP کے مسلح افراد کے درمیان فائرنگ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں ایک راہگیر جاں بحق ہوگیا تھا جس پر پولیس نےTLP کے سربراہ سعد رضوی اور PSP کے سربراہ مصطفٰے کمال اور ان کے دیگر افراد کے خلاف مقدمہ قائم کیا تھا، انکے دو افراد گرفتار بھی ہوئے تھے، لیکن طرفہ تماشہ یہ ہے TLP اور PSP کے مسلح تصادم کے مقدمے میں MQM کے وکلا ادریس علوی اور محمد سلمان کو نامزد کردیاگیا ہے جن کا اس واقعہ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ 👇
https://t.co/lICiA2Vnoh
دوسرا مقدمہ جولائی 2023 کو کورنگی میں بعض افراد کے نعرے لگانےکا ہے، یہ مقدمہ تین سال قبل ختم ہوچکا اور تمام لوگ ریلیز ہوچکے۔
تیسرا مقدمہ 28 فروری 2025 کا ہے جس کے مطابق کچھ لوگوں نے کورنگی سنگر چورنگی پر پانی بجلی کی بندش پر احتجاج کیا تھا۔ تینوں مقدمات میں ادریس علوی اور محمد سلمان ایڈوکیٹ کا نام تھا ہی نہیں ۔
ملک کا کوئی اور بھی مقدمہ رہ تو نہیں گیا ؟
اب کہاں ڈھونڈھنے جاؤ گے ہمارے قاتل
آپ تو قتل کا الزام ہمی پر رکھ دو
اصل وجہ یہ ہے جس کے سبب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم نہیں کیا جاتا آٹھ سو سے زائد ارب مالیت کے اس پروگرام میں سامنے آنے والی کرپشن کی ایک کہانی ہے اس جیسی ہزاروں کہانیاں اس پروگرام میں چھپی ہوئی ہیں جو لوگ اس پروگرام کی حمایت کرتے ہیں وہ بھی یہ سب جانتے ہیں کہ اس پروگرام کا مقصد نہ غریب کی مدد ہے اور نہ غربت کا خاتمہ ، وہ اس وکالت کا معاوضہ لیتے ہیں
خبر کا لنک پہلے کمنٹ میں ہے
کرپشن کی غلاظت میں لتھڑی پیپلزپارٹی کی کرپٹ مافیا نے غریبوں کے نام پر بنائی بینظیر انکم سپورٹ کو بھی نہیں بخشا۔ ایک سال میں 25 ارب لوٹ لئے۔
اسی لئے بینظیر اسکیم کو جاری رکھنے پر سارا زور چلتا ہے۔ نجانے ان کی تجوریوں کا جہنم کب بھرے گا
انکو غیر مقامی نہ کہا جائے
تو کیا کہا جائے
کراچی غازی گوٹھ سے آنے والے
دو ڈاکوؤں کو پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کرلیا
ڈاکو شہریوں کو لوٹنے کی نیت سے علاقے میں داخل ہوئے
پولیس کے روکنے پر ڈاکؤوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پولیس نے بھی جوابی فائر کرکے ڈاکؤوں کو زخمی حالات میں گرفتار کرلیا
کراچی کو لوٹ کھسوٹ کا مال سمخھ لیا ہے
اس لئے تو ہم کہتے ہیں
کراچی کو ان چور ڈاکوؤں سے بچانا ہے
الطاف حسین بھائی کی OG ایم کیو ایم کو واپس لانا ہے
#الطاف_حسین_ضروری_ہے
پریس ریلیز 🚨
کراچی: 24 جون 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے متحدہ قومی موومنٹ لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئر ارکان ایڈووکیٹ ادریس علوی اور ایڈووکیٹ محمد سلیمان کو سینٹرل جیل کراچی کے مرکزی دروازے کے باہر سے آج پھر غیر قانونی طور پر اغوا کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ایڈووکیٹ ادریس علوی اور ایڈووکیٹ محمد سلیمان کو 11 جون 2026ء کو سندھ پولیس کے میٹھادر تھانے کی جانب سے گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ عدالتی تحویل میں تھے۔ 20 جون 2026ء کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر دو(ATC-II)، نے ان کی ضمانت منظور کی۔ آج ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد دونوں وکلاء سینٹرل جیل کراچی سے رہا ہوئے، تاہم تقریباً رات 8 بجے سینٹرل جیل کے مرکزی دروازے کے باہر سے سادہ لباس اہلکاروں اور سندھ پولیس نے انہیں اہل خانہ اور وکلاء کے سامنے بغیر کسی وارنٹ کے زبردستی زدو کوب کرکے جبراً اپنے ساتھ لے گئے۔
رابطہ کمیٹی کے مطابق اس کارروائی میں زمان ٹاؤن اور کورنگی انڈسٹریل ایریا کی پولیس موبائلیں بھی موجود تھیں۔ عدالت سے ضمانت ملنے اور رہائی کے فوراً بعد دوبارہ حراست میں لینا قانون، آئین، عدالتی عمل اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ MQM کے بے گناہ کارکنان، ہمدردوں اور قانونی معاونت فراہم کرنے والے افراد کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں سیاسی انتقام، ریاستی جبر اور غیر قانونی طرزِ عمل کا تسلسل ہیں۔ اگر ایم کیو ایم کے کسی بھی کارکن کے خلاف کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے، نہ کہ سادہ لباس اہلکاروں کے ذریعے لاپتہ کیا جائے۔
رابطہ کمیٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، آئی جی سندھ، محکمہ داخلہ سندھ، انسانی حقوق کی تنظیموں، سندھ بار کونسل، کراچی بار ایسوسی ایشن اور وکلاء برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایڈووکیٹ ادریس علوی اور ایڈووکیٹ محمد سلیمان کے غیر قانونی اغوا کا فوری نوٹس لیں اور ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔
رابطہ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ دونوں وکلاء کو فوری طور پر رہا کیا جائے یا قانون کے مطابق کسی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، اور اس غیر قانونی کارروائی میں ملوث عناصر کے خلاف شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️
0+0+0+0+0=0 😂
Project 1: Aafaq/Aamir
Project 2: Kamal/Anis
Project 3: Khalid Mqbool/Sattar
Project 4: Hammad (Upcoming)
Result: Zero+Zero=Zero
(Try, Try, and Try again)
But think about it!!!
No one can takes place of Altaf Hussain Bhai.
GA Altaf Hussain Bhai
SADA GA
@AwazEHaq90
ایم کیوایم کےسینئر رکن نثاراحمد پنہور،
انکے صاحبزادے محسن پنہور،
صحافی تحسین عباسی،
فوٹو گرافر فیصل مجیب سمیت کراچی اور حیدرآباد کے متعدد کارکنان کو اس لئے لاپتہ کردیا گیا ہے کہ وہ مظلوموں کے حقوق کیلئے پرامن سیاسی جدوجہد کررہے ہیں
جرم بس اتنا ہے
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
‼️بریکنگ: ایم کیو ایم لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئر ارکان ادریس علوی ایڈوکیٹ اور محمد سلیمان ایڈوکیٹ کو عدالت کے حکم پر رہا ہوتے ہی سینٹرل جیل کراچی کے مرکزی دروازے سے پولیس اور سادہ لباس اہلکاروں نے دوبارہ گرفتارکرلیا۔
ادریس علوی ایڈوکیٹ اور محمد سلیمان ایڈوکیٹ 11 جون 2026ء کو گرفتاری کے بعد سے عدالتی تحویل میں تھے۔ 20 جون 2026ء کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دیا تھا۔ دونوں ساتھیوں کی گرفتاری میں زمان ٹاؤن اور کورنگی انڈسٹریل ایریا کی پولیس موبائلیں موجود تھیں۔
عدالت کے حکم پر رہائی کے فوراً بعد ادریس علوی ایڈوکیٹ اور محمد سلیمان ایڈوکیٹ کو دوبارہ حراست میں لینا قانون، آئین، عدالتی عمل اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ جنگل کا قانون ہے۔
MQM condemns the alleged unlawful re-arrest & disappearance of Adv Idrees Alvi & Adv M. Suleman outside Central Jail Khi after being granted bail by ATC-II. MQM calls this political victimization, violation of due process & demands their immediate release.
@HRCP87@amnesty
مظہر عباس صاحب!!
کاش آپ اپنےتجزیئے میں مصلحت پسندی سےگریزکرتےاور ادھورا سچ بیان کرنے کےبجائے دیانتداری سےمکمل سچائی کااظہارکرتے
پوراملک جانتاہےکہ شہری سندھ میں سیاسی خلاء صرف اور صرف بانی وقائدالطاف حسین ہی پُرکرسکتے ہیں
لیکن
جانےنجانے گُل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانےہے
“ایسا لیڈر پوری زندگی میں نہیں دیکھا۔”
پاکستان کے عوام کی آواز ہے کہ الطاف حُسین بھائی پر عائد پابندیاں ختم ہونی چاہئیں۔
سُنئے ایک بزرگ کے الطاف حسین بھائی کے حوالے سے جذبات اور خیالات۔
@AltafHussain_90@AwazEhaq90@OfficialMQM
تم شریف نہیں، بےغیرت ہو گئے ہو
— حسان بٹ، رکن رابطہ کمیٹی
ایوانِ سندھ اسمبلی میں کھڑے ہو کر ایم کیو ایم بہادرآباد ٹولے کی جانب سے خود کو “شریف” قرار دینا، جبکہ ساتھ ہی قائد تحریک جناب الطاف حسین کے دور کی ایم کیو ایم کی طاقت اور مقبولیت کی مثالیں دینا، ان کے واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
جناب الطاف حسین نے ایک مضبوط، متحد اور باوقار قوم تیار کی تھی، مگر افسوس کہ اسی طاقت اور مینڈیٹ کو چند مفاد پرست عناصر نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے کمزور کیا۔ آج وہی لوگ خود کو شریف ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قوم کے نزدیک شرافت کا معیار اقتدار نہیں بلکہ وفاداری، اصول پسندی اور نظریے پر ثابت قدم رہنا ہے۔ جو لوگ اپنی ہی تحریک کی طاقت کو نقصان پہنچا کر آج شرافت کے دعوے کریں، ان کا فیصلہ قوم اور تاریخ ان کے اعمال کی بنیاد پر کرے گی۔
حسان بٹ رکن رابطہ کمیٹی
واحد قائد تحریک @AltafHussain_90 تھے جنہوں نے نوٹوں سے بھرا بریف کیس واپس کردیا
ثبوت کیلئے بریگیڈئر امتیاز کا ویڈیو کلپ دیکھں اور اپنی فہرست دیکھں جس میں زیادہ تر تمہارے سندھی لیڈران ہیں جنہوں نے پیسے پکڑ لئیے۔۔۔
جئے الطاف حسین
سدا جئے
آمین
#LiftBanOnAltafHussain
19 جون 1992 کو شروع ہونے والا مہاجر کش آپریشن جو آج تک جاری ہے
اس کے باوجود قوم کے حوصلے بلند ہیں وہ آج بھی اپنے قائد کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے
#یوم_سیاہ_19_جون